Imran Maqbool

ہفتہ شانِ رحمت اللعالمین، پنجاب حکومت کا عملی و قابلِ تحسین ا قدام از عمران مقبول

ہفتہ شانِ رحمت اللعالمین، پنجاب حکومت کا عملی و قابلِ تحسین ا قدام از عمران مقبول

مالک ارض و سماء اللہ ربّ العزت کی طرف سے نبی کریم ﷺسلم کو رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا گیاہے
حضرت محمد ﷺ سے ہر مسلمان کی بے حد جذباتی وابستگی ہے ، عقیدت اورمحبت ہمارے ایمان کا لازمی حصہ ہے
مسلمان جان قربان کر سکتا ہے لیکن نبی کریم ﷺکی شان اقدس میں گستاخی ہرگز برداشت نہیں کر سکتا
فرانس میں طلبا کو آزادی اظہار کے نام پر گستاخانہ خاکے دکھا کرشر انگیزی پرمبنی فتنے کو ہوا دینے کی کوشش کی ہے
فرانس کے شر انگیز اقدام کا بھرپور جواب دینے کیلئے پنجاب حکومت نے ہفتہ شان رحمت للعالمین منانے کا فیصلہ کیا ہے
ہفتہ شان رحمت کے دوران حضورکی شان بیان کرنے کیلئے پنجاب کے محکموں اور تعلیمی اداروں میں تقریبات ہو رہی ہیں
ہفتہ شان رحمت للعالمین کے دوران 50کروڑ روپے کے فنڈ سے رحمتہ للعالمین سکالر شپ دئے جائیں گے
ہفتہ شان رحمت للعالمین کے دوران 25 کروڑ روپے کی رقم سے پوزیشن ہولڈر طلبہ کو وظائف دئیے جائیں گے
میٹرک پاس نادار طلبہ کو مزید پڑھائی کیلئے 25 کروڑ روپے کے رحمت اللعالمین سکالرشپ بھی دیئے جائیں گے
محسن انسانیت ﷺ کی شان کا بیان وجہ بخشش ہے اور حکومت کا یہ اقدام اس کے محرکین کیلئے توشہ آخرت ثابت ہو گا
ہفتہ شان رحمت ﷺکے دوران ڈویژن، ضلع اور تحصیل کی سطح پر محافل نعت، سماع اور کانفرنسز کا انعقاد ہورہا ہے
ہفتہ شان رحمت اللعالمین ﷺ منانے کا مقصد گستاخانہ خاکوں کی مذمت کرنا اور شرپسندانہ اقدامات روکنے کا مطالبہ ہے
نبی رحمت ﷺ کیساتھ محبت سے لبریز پیغام سوشل میڈیا پر انگریزی، فرنچ اور دیگر زبانوں میں نشر کئے جار ہے ہیں
سیرت النبی ﷺ کے حوالے سے حسن قرات، نعت اورمضمون نویسی کے مقابلے کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے
تقریری مقابلے، اسلامی خطاطی نمائش، محفل سماع اور نعتیہ مشاعرے بھی منعقد کروائے جا رہے ہیں
عالمی سیرت کانفرنس، خواتین کی محفل میلاد اور علماء و مشائخ کنونشن کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے
ہفتہ شانِ رحمت للعالمینﷺ کے حوالے سے پی ایچ ڈی سکالرز کیلئے سکالرشپ کے اجراء کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے
ہفتہ شان رحمت اللعالمین ﷺ کے دوران سیرت کانفرنس میں دنیا بھر سے مندوبین شرکت کر رہے ہیں
ہفتہ شانِ رحمت للعالمینﷺ کے حوالے سے صوبہ بھر میں انتہائی جوس و خروش کے ساتھ تقریبات جاری ہیں
خالق کائنات مالک ارض و سماء اللہ ربّ العزت کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری کائنات کے لیے رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا گیا۔ اللہ ربّ العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم محبوب بنا کو سرادر الانبیاء کے مرتبے پر فائز کیا ہے۔اگر سارے جہاں کے جن و انس ملکر بھی خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس اور سیرت طیبہ کے بارے میں لکھنا شروع کریں تو زندگیاں ختم ہو جائیں مگر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کا کوئی ایک باب بھی مکمل نہیں ہو سکے ،کیونکہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے ۔اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کر دیا ہے۔جس ہستی کا ذکر مولائے کائنات بلند کرے،جس ہستی پر اللہ تعالیٰ کی ذات درودوسلام بھیجے، جس ہستی کا ذکر اللہ رحمن و رحیم ساری آسمانی کتابوں میں کرے، جس ہستی کا چلنا ،پھرنا ،اٹھنا، بیٹھنا،سونا، جاگنا،کروٹ بدلنا، کھانا، پینا۔ مومنین کیلئے باعث نجات، باعث شفاء ، باعث رحمت ،باعث ثواب،باعث حکمت، باعث دانائی ہو، اور اللہ رب العزت کی ذات نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کبریا کو مومنین کیلئے باعث شفاعت بنا دیا ہو، اس ہستی کا مقام اللہ ہی جانتے ہیں، اس ہستی کے متعلق سب کچھ لکھنا انسانوں اور جنوں کے بس کی بات نہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بے شمار خصوصیات عطافرمائی ہیں جن کو لکھنا تو در کنارسارے جہان کے آدمی اور جن ملکر گن بھی نہیں سکتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس الفاظ اور ان کی تعبیرات سے بہت بلند وبالا تر ہے۔ آپ کا ئنات کا مجموعہ حسن ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سراج منیرکا لقب دیا یہ لقب صرف آپ کو ہی دیا گیا، جس کا مطلب ہے روشن چراغ ہے مطلب آپ نبوت کا روشن آفتاب ہیں۔ آپ کے آفتاب کی کرنیں سب سے پہلے اصحاب رسول پر پڑی پھرتمام دنیا پر پھیل گئیں۔اور انہی کرنوں کی بدولت دنیا کے تمام خطوں پر اسلام پھیل گیا۔ اور ان کرنوں نے چپہ چپہ پر ہدایت کا نور پھیلایا۔علامہ قرطبی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و جمال میں سے بہت تھوڑا ساظاہر فرمایا اگر سارا ظاہر فرماتے تو آنکھیں اس کو برداشت نہ کرسکتیں۔ غر ض یہ کہ آپ کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہو کر ہی ہم دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں سب سے زیادہ رحمت اللعالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت پیدا فرمائے ، اور ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت و کردا رکو اپنا کر دین اسلام کی تبلیغ و ترویج اور معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنائے،آمین۔
خدائے بزرگ وبرتر نے روئے زمین پر بسنے والے تمام انسانوں پر اپنے بے حساب انعامات و احسانات فرمائے ہیں، اسی طرح امت محمدیہ ﷺ پر لاتعداد نوازشات و مہربانیاں فرمائیں ہیں ـ نیز تا قیامت اور روز محشر میں بھی اسی طرح کے احسانات و انعامات کی بارشیں برساتا رہیگا کیونکہ وہ ذات رحمن و رحیم اور حلیم و کریم ہے، اتنی بے شمار نعمتوں کو عطا کرنے کے بعد بھی کبھی کوئی احسان نہیں جتلایا لیکن ایک نعمت عظمی ایسی تھی کہ وہ اس کو جب بنی آدم کی جانب بھیجا اور اپنی اس نعمت سے نبی انسان کو سرفراز کیا تو اس پر احسان جتلاتے ہوئے فرمایا:بے شک اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہیں میں سے عظمت والا رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انھیں پاک کرتا ہے اور انھیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ وہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے"۔
اللہ تعالیٰ نے امام الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت تک کی عالم گیر انسانیت کو ایک اللہ کی عبادت کا درس دینے کے لیے بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرض ایسی یگانہ بصیرت کے ساتھ انجام دیا کہ تاریخ کا رخ بدل ڈالا اور انتہائی ناموافق حالات میں اصحاب صدق و صفا کی عملی تربیت کر کے ایسی محکم جماعت پیدا کردی جس نے ہر جگہ اللہ رب العزت کی اور محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا پیغام پہنچایا ۔ حضرت محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ کونسی تعلیمات تھیں جنہوں نے صحرائے عرب میں اونٹ چرانے والوں کو معظمات سے آراستہ کر کے ایسا مبلغ اور بہادر مجاہد بنادیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے قیصر و کسریٰ جیسی بڑی طاقتوں کو ساقط کرکے خود غلبہ پا لیا۔ نبی کریم کی یہ تعلیمات نہایت سادہ ہیں جن میں انکو توحید کا درس دیا اور بظاہر ننھی ننھی نصیحتیں فرمائیں کہ انکے اثرات دیکھ کر انسان کی عقل سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ ایسی نصیحتیں کرنے والے لیڈر کو کیا کہا جائے؟
ربیع الاول کے بابرکت مہینہ میں سرور کونین حضرت محمدﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی، اور مشیت الہی کی بناء پر آپ ﷺ اس دنیا سے پردہ بھی اسی ماہ میں فرماگیے۔یہ کوئی امر اتفاقی نہیں تھا بلکہ یہ مسلمانوں کا اللہ رب العزت کی جانب سے ایک امتحان تھا، اور اس امتحان کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب کہ رسول ﷺ کی ولادت باسعادت اور آپ ﷺکی رحلت کا دن ایک ہی ہو، ربیع الاول کا مہینہ آتا ہے تو ملک بھر میں سیرت النبی ﷺ اور میلاد النبیﷺ کا ایک غیر متناہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک تذکرہ اتنی بڑی سعادت ہے کہ اس سے بڑی کوئی اور سعادت ایک مسلمان کیلئے ہو ہی نہیں سکتی ـ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہر مسلمان کی بے حد جذباتی وابستگی ہے۔ اللہ کے نبیﷺ سے محبت اور ختم نبوتﷺ ہمارے ایمان کا لازمی حصہ ہے اور ہر مسلمان اس محبت کو جان و دل سے مقدم جانتا ہے۔ مغرب کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ مسلمان جان تو قربان کر سکتا ہے لیکن پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی ہرگز برداشت نہیں کر سکتا۔ فرانس میں طلبا کو زبردستی آزادی اظہار کے نام پر گستاخانہ خاکے دکھائے گئے او ربلاشبہ یہ دل آزاری کرنیوالے شر انگیز اقدامات ہیں۔ آزادی اظہار کے نام پر کی جانیوالی مذموم حرکتیں قطعی طور پر ناقابل برداشت ہیں ۔فرانس میں ہونیوالی مذموم حرکت اور فرانسیسی صدر کے قابل مذمت بیان نے ہر اہل ایمان کے دل کو چیر کر رکھ دیا جس کا بھرپور جواب دینے کیلئے پنجاب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر سال لاہور سمیت صوبہ بھر میں پہلی مرتبہ سرکاری سطح پرربیع الاول میں ہفتہ شان رحمت للعالمین سرکاری سطح پر منایا جائے اور اس ہفتے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس کو بیان کرنے کیلئے مختلف تقریبات ہوں گی۔ علماء اور مشائخ مقالہ جات پیش کرینگے۔ وزیر اعلیٰ نے پنجاب میں 50کروڑ روپے کے ابتدائی فنڈ سے رحمتہ للعالمین سکالر شپ کے اجراء اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 25 کروڑ روپے کی رقم سے پوزیشن ہولڈر طلبہ کو وظائف دئیے جائیں گے۔ صوبہ بھر میں میٹرک پاس کرنے والے غریب اور نادار طلبہ کو مزید پڑھائی کیلئے 25 کروڑ روپے کے رحمت اللعالمینﷺ سکالرشپ بھی دیئے جائیں گے اوران طلبہ و طالبات کی فیس اور رہائش کیلئے مالی معاونت کی جائے گی۔ہر سال ربیع الاول میں50کروڑ کے ابتدائی فنڈمیں خاطر خو اہ اضافہ کیا جائے گا۔ سیرت النبی ﷺ پر تقریری مقابلے کرائے جائیں گے۔ پنجاب حکومت کا یہ قابلِ تحسین اقدام ہے جو اس کے محرکین کے لئے توشہ آخرت ثابت ہو گا۔
وزیر اعلیٰ پنجابعثمان بزدار کی ہدایت16نومبر تا 21نومبر2020 پرہفتہ شان رحمت اللعالمین ﷺکے دوران ڈویژن، ضلع اور تحصیل کی سطح پر محافل نعت، سماع اور کانفرنسز کا انعقاد ہورہا ہے۔ محسن انسانیت ﷺ کی شان کا بیان ہم سب کیلئے وجہ بخشش بنے گا، ہم شان مصطفی ﷺ بیان کر کے امن و آشتی کا پیغام دیں گے۔ نبی ﷺ سے محبت ایمان کا حصہ ہے، مغرب جان لے مسلمان نبی پاک ﷺکی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا اور سرکاری سطح پر ہفتہ شان رحمت اللعالمین ﷺ منانے کا مقصد گستاخانہ خاکوں کی مذمت کرنا اورعالمی اداروں سے شرپسندانہ اقدامات روکنے کے لیے کردار ادا کرنے کا مطالبہ ہے۔ہفتہ شان رحمت اللعالمین ﷺ کے دوران تقریبات پنجاب کے ہر ڈویژن اور ضلع میں بھی منعقد ہوں گی۔نبی رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ عقیدت اور محبت سے لبریز پیغام سوشل میڈیا کے ذریعے انگریزی، فرنچ اور دیگر زبانوں میں نشر کئے جار ہے ہیں۔سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے حسن قرات، نعتیہ، مضمون نویسی اور تقریری مقابلے، اسلامی خطاطی نمائش، محفل سماع اور نعتیہ مشاعرے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ عالمی سیرت کانفرنس، خواتین کی محفل میلاد اور علماء و مشائخ کنونشن کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے۔ پی ایچ ڈی سکالرز کیلئے رحمت اللعالمین چیئر اور طلبہ کیلئے رحمت اللعالمین سکالرشپ کے اجراء کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے دنیا کو پتہ چلے گا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کتنی شدید محبت کرتے ہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدا ر نے شان مصطفی واک کی قیادت بھی خود کی ہے اور میرے خیال میں فرانس کے توہین آمیز خاکوں کا جواب اس سے بہتر انداز میں نہیں دیا جا سکتا۔ ہفتہ شان رحمت اللعالمین ﷺ کے دوران سیرت کانفرنس میں دنیا بھر سے مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔ لاہور سمیت صوبہ بھر کی ضلعی انتظامیہ اپنے اپنے ضلعوں میں ہفتہ شان رحمت اللعالمین ﷺ کے کامیاب انعقاد کے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہے ہیں اور مکمل جاں فشانی کے ساتھ وجہ تخلیق کائنات سے اپنی محبت اور عقیدت کا ثبوت دے رہے ہیں۔ ہفتہ شانِ رحمت للعالمینﷺ کے حوالے سے صوبہ بھر میں انتہائی جوش وخروش کے ساتھ تقریبات جاری ہیں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

Leave a Comment

%d bloggers like this: