تھر میں قیامت، حکومت کی نااہلی

پچھلے چند ہفتہ عوام کی توجہ تھر کے ریگستانی علاقہ میں قحط سالی اور عوام کی اور مویشی کی مشکلات، پریشانیوں اور مسائل کی طرف مبذول رہی۔ تمام اینکر پرسنز، صحافی حضرات، تبصرہ نگاروں نے وہاں کی مشکلات کے بارے میں پوری قوم کو آگاہ رکھا۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات وہاں معصوم بچوں کی فاقہ کشی کی وجہ سے ہلاکت تھی مگر بے حس، ظالم حکمرانوں نے اتنے حساس و تکلیف دہ واقعے کو سیاسی بلیم گیم بنالیا، ہلاکتوں کو فاقہ کشی کے بجائے بیماریوں پر ڈال دیا۔ گویا بیماری سے بچوں کی ہلاکت قابل قبول ہے فاقہ کشی سے نہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا تھا کہ اگر عراق میں (یعنی مدینہ سے دور دراز علاقہ میں) بھی دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھوک یا پیاس سے مر گیا تو قیامت کے دن عمرؓ سے بازپرس ہوگی اور جواب دینا ہوگا۔ یہاں ایک نہیں سیکڑوں بچے، مرد، عورتیں ہلاک ہوگئے اور سیاست چمکائی جارہی ہے، بہانہ بازی کی جارہی ہے، ایک دوسرے پر ذمّہ داری ڈالی جارہی ہے۔ حضرت عمرؓ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ قیامت کے دن بغداد کے گورنر کا گریبان پکڑا جائے گا۔ آپ کو وہ واقعہ بھی یاد ہوگا جو تاریخ میں درج ہے کہ ایک اوباش منش شخص نے ایک دن ایک بیمار کتا پھرتا دیکھا، اس کو گھر لے آیا، بہت دیکھ بھال کی اور کھلایا پلایا۔ پڑوس میں ایک صاحب بہت مذہبی تھے اور

انہیں یہ وہم تھا کہ یہ شخص جہنم میں جائے گا۔ ایک روز انہوں نے اس شخص کو خواب میں دیکھا ہشاش بشاش، نہایت خوش۔ پوچھنے پر بولا کہ میرے رب نے اس کتے کی دیکھ بھال کرنے کے عوض میرے تمام گناہ معاف کردیئے اور جنت الفردوس عطا فرما دی۔ الحمدللہ۔ ایسا ہی ایک اور واقعہ تاریخ میں ہے کہ ایک ظاہراً غیرمذہبی شخص نے ایک کتے کو ایک کنوئیں کے پاس پیاسا پڑا دیکھا، زبان باہر نکلی ہوئی تھی اور پیاس سے بُرا حال تھا۔ اس شخص نے اپنے کپڑوں کو باندھا، رسی بنائی، کنوئیں میں ڈالی اور اس کے پانی کو نچوڑ کر کتے کو پلایا،کتا سنبھل گیا اور جان بچ گئی۔ ایک مذہبی شخص نے اس کو خواب میں دیکھا اور حال پوچھا تو اس نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کتے کو پانی پلانے اور اس کی جان بچانے کے عوض اس کے تمام گناہ معاف کردیئے اور جنت عطا فرمادی،الحمدللہ۔ یہ فرضی کہانیاں ہوں یا حقیقی واقعات حقیقت یہ ہے کہ اللہ رب العزّت کسی بھی ایک اچھے، نیک کام کے بدلے انسان کو جنت عطا کرسکتا ہے کیونکہ وہ رحیم ہے، کریم ہے، رحمن ہے۔ اسی طرح وہ کسی بھی غلط و بے رحمی کے کام پر مجرم کو عبرت ناک اور نہایت تکلیف دہ عذاب میں مبتلا کرسکتا ہے۔ یہاں سیکڑوں معصوم بچے بھوکے پیاسے مرگئے اور حکمران مطمئن اور آرام سے کھانے پینے میں مزے اُڑا رہے ہیں کہ اللہ کے ہاں ان کی گرفت نہ ہوگی ان کو جواب نہ دینا پڑے گا۔ اللہ کا شکر ہے کہ تمام برائیوں، خرابیوں کے باوجود اس ملک میں ابھی بھی ہزاروں مخیر حضرات موجود ہیں جو ایسی آفات سے نبٹنے کے لئے فوراً میدان میں کود پڑتے ہیں۔ ابھی حکمران بلیم گیم یعنی الزام تراشی میں مبتلا تھے کہ فوج نے، خدمت خلق فلاحی ادارے نے، جیو کے ڈاکٹر عامرلیاقت حسین نے اور تعمیراتی کمپنی کے سربراہ جناب ملک ریاض حسین نے فیلڈ اسپتال، کھانے کا سامان، 20 کروڑ روپے کی امداد اور ہر مرحوم بچہ کے والدین کو 5 لاکھ روپے دینے کا بندوبست کردیا۔ ملک صاحب ہمیشہ فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دولت کے ساتھ بڑا دل بھی دیا ہے اور اللہ ہی اس کی جزا ان کو اور ان کے اہل و عیال کو اور رفقائے کار کو دے گا۔
میں نے اپنے پچھلے تجربہ کی روشنی میں ان کے دست راست اور عزیز و محترم دوست کموڈور محمد الیاس کے ذریعہ ملک صاحب کو مشورہ دیا کہ وہاں پانی کی رسائی کے لئے مستقل طور پر کچھ بندوبست کردیں۔ میں نے بتایا کہ افریقہ میں مالی کا تاریخی اسلامی شہر ٹمبکٹو ریگستان میں واقع ہے اور ہر جانب ریت ہی ریت ہے۔ میرے دوستوں اور میں نے وہاں کے غریب لوگوں کے لئے ایک گیسٹ ہائوس بنوادیا تھا (جس کو مشرف اور مغربی ممالک نے دس ملین ڈالر کی انوسٹمنٹ کے طور پر اُچھالا تھا) جس سے 25, 20 خاندانوں کا روزگار لگ گیا تھا۔ وہاں ہم نے دیکھا کہ عورتیں کئی کلومیٹر چل کر کسی گائوں سے کنوئیں سے پانی لے جارہی تھیں اور بکریوں، بھیڑوں، اونٹوں کے لئے بھی پانی کی قلت تھی۔ میرے پوچھنے پر ہمارے گائڈ (اور گیسٹ ہائوس کے مالک) عبدالرحمن نے بتایا کہ ایک کمپنی 10 ہزار ڈالر میں جہاں کہیں کنواں کھود دیتی ہے اور وافر مقدار میں پانی نکل آیا ہے۔ ایمانداری کا یہ عالم کہ اگر 400 میٹر سے زیادہ گہرائی ہوئی تو کمپنی اضافی رقم نہ لے گی اور اگر 400 میٹر سے کم گہرائی میں پانی نکل آیا تو اسی مناسبت سے رقم واپس کردی جائیگی۔ ہم نے مل کر دس ہزار ڈالر دے دیئے کہ ایک کنواں کھدوا دیں۔ اس نے بیچ ریگستان میں کئی آبادیوں کے درمیان کنواں کھدوایا۔ جانوروں کے پینے کے لئے حوض بنوادیا۔ کچھ دور پاپولر کے درخت لگوادیئے۔ جب ہم دوسرے سال گئے تو طبیعت سب کچھ دیکھ کر باغ باغ ہوگئی۔ ہم نے پھر 10 ہزار ڈالر جمع کرکے اور دے دیئے اور عبدالرحمن نے کئی کلومیٹر دور ایک اور کنواں اسی طرح تیار کرادیا۔ ان دو کنوئوں سے ہزاروں افراد اور مویشی کو پانی ملنے لگا۔ بعد میں جب سینیگال میں ملائیشیا کے سفیر جناب زین العابدین اور ان کی بیگم ٹمبکٹو کی سیر کو گئے اور یہ دو کنوئیں دیکھے اور علم ہوا کہ میں نے اور میرے دوستوں نے کھدوائے ہیں تو انہوں نے بھی دو کنوئوں کے لئے 20 ہزار ڈالر دے دیئے اور ایک ماہ میں یہ دونوں کنوئیں تیار ہو گئے اور ان سے بھی ہزاروں افراد اور مویشی فیضیاب ہو رہے ہیں۔ میں نے ملک ریاض حسین صاحب کو یہی مشورہ دیا ہے کہ وہ تھر میں بہت سے کنوئیں کھدوادیں جو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پانی کی فراہمی کا ذریعہ بن جائیں گے اور عوام کے لئے کاشتکاری اور سبزیاں اور درخت لگانے کی سہولت میسر کردیں گے۔ کموڈور الیاس صاحب نے بتایا کہ ملک ریاض حسین صاحب نے یہ تجویز پسند کی ہے اور اِنشاء اللہ جلد کنوئیں کھدوانے کا کام شروع کرادیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اور ان کے اہل و عیال، عزیز و اقارب اور رفقائے کار کو جزائے خیر دے۔ آمین۔
تھر کے بعد اَب چولستان (پنجاب) میں بھی خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں۔ خوش قسمتی سے میاں شہباز شریف نے حسب عادت بہت تیزی سے وہاں ریلیف کارروائیاں شروع کرادی ہیں اور خود وہاں کے دورے پر فوراً پہنچ گئے ہیں۔ سندھ میں ہزاروں ٹن گندم اور پانی گوداموں میں سڑ گئے۔ اُمید ہے کہ پنجاب میں یہ کام نہ ہوگا۔
ایک اور اہم اور تکلیف دہ حقیقت حکومت کی نااہلی ہے کہ نہایت اہم 19 اداروں کے سربراہوں کی تعیناتی نہیں کر پارہی۔ 9ماہ گزر گئے ہیں اور ٹال مٹول سے (یا پسندیدہ چمچوں کی تلاش ہے) کام لیا جارہا ہے۔ پچھلے دنوں ہمارے کامران خان کے ساتھ وزیر اعظم کے ایڈیشنل سیکرٹری جناب فواد حسن فواد صاحب ان لوگوں کی تعیناتی کے بارے میں ایسی مشکلات کا اظہار کررہے تھے گویا ان لوگوں نے ہائیڈروجن بم اور ہزاروں کلومیٹر مار کرنے والی بلاسٹک میزائل یا چاند پر آدمی کو بھیجنا ہے۔ 19 کروڑ کے اس ملک میں جہاں ہزاروں اعلیٰ تعلیم یافتہ، تجربہ کار لوگ موجود ہیں وہاں ایسے لوگ ایک ہفتہ میں مل سکتے ہیں۔ کیا میرے رفقائے کار اور میں نے 7 سال میں ایٹم بم اور پھر 3 سال میں بلاسٹک میزائل نہیں بنا دیئے تھے؟ کیا ہم نے 3 سال میں غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ نہیں بنادیا تھا؟ کیا میرے ساتھی ڈاکٹر فخرالحسن ہاشمی اور ان کی ٹیم نے دو سال میں پیپلز اسٹیل مل کو دوبارہ ٹوٹے پھوٹے کھنڈرات سے اعلیٰ صنعتی ادارہ نہیں بنا دیا تھا؟ ایڈیشنل سیکرٹری صاحب خود تو عقل کل، ماہر، ہرفن مولا ہیں مگر چند معمولی اداروں کے سربراہوں کے لئے ان کو دو نمبری بھی نہیں مل رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ حکومت پہلے بھی دو مرتبہ نہایت ناکام اور نااہل تھی اور اس مرتبہ اس سے بدتر ہے۔ اس نے اعلیٰ عدلیہ کے ہر حکم، ہر ہدایت کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کے احکامات کو ردّی کی ٹوکری میں ڈال دیا ہے۔ خواہ مختلف اہم اداروں کے سربراہوں کی تعیناتی ہو یا بلدیاتی الیکشن کی ہدایت۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ ایک درباری کے طور پر مغل اعظم کو عرض داشتیں پیش کررہی ہے اور مغل اعظم ان کو ناقابل قبول سمجھ کر رَد کررہے ہیں۔
آپ نوٹ کرلیں یہ حکومت تمام اہم قومی اداروں کو بیچ دے گی اور تمام پیسے کھا جائے گی، آپ کو کم از کم 30 ارب ڈالر مزید قرض میں ڈبو دے گی۔ اس سے نہ ہی معاشی حالت ٹھیک ہو گی اور نہ ہی امن و امان کی حالت۔ جتنے درباری ساتھ لگائے ہوئے ہیں سخت نااہل ہیں اور ان کو مغل اعظم کے سامنے زبان کھولنے کی جرأت نہیں ہوتی ہے، صرف اپنے رتبہ اور مراعات کو بچانے کی فکر رہتی ہے ۔ اس ملک کا مستقبل اچھا نظر نہیں آرہا۔ یہ میری باری، تیری باری اس کو توڑ کر، ڈبو کر چھوڑے گی۔ چند ماہ میں ملک کا یہ حشر ہوگیا ہے۔ آپ دیکھئے چند سال میں آپ خود کو، حکمرانوں کو اور غالباً ملک کو بھی بُرا بھلا کہیں گے۔ یہاں کے دو نمبری، عیار، جھوٹے، نااہل ہی آپ پر حکومت کرتے رہیں گے اور آہستہ آہستہ تباہی کے گھڑے میں لے جائیں گے۔ یہاں پڑھے لکھے، اہل، تجربہ کار لوگوں کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان ملک چھوڑ رہے ہیں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: