’’کِردار و اَطوار، علم الاخلاق ۔ مغربی نقطہ نظر‘‘

پچھلے ہفتہ میں نے اپنے کالم بعنوان، کردارو اطوار، آداب، علم الاخلاق پر ایک امریکی قاری جناب بِل سیلمن (Bill Selman) کے تاثرات کا پہلا حصہ مع اپنے جوابات شائع کیا تھا۔ یہ اسی سلسلہ کی تیسری کڑی ہے۔ آپ غور سے مطالعہ کریں اور معروضات کو یاد رکھنے کی کوشش کریں کہ ممکن ہے کہ آپ کو بھی کبھی کسی مغربی مفکر سے ایسے ہی سوالات کا سامنا کرنا پڑے۔
جناب سیلمن۔ جہاں تک کردار و اطوار کا تعلق ہے تو میں یہ بتلائوں کہ ہمارا رویّہ دوسروں کے ساتھ محبت اور مہربانی و خلوص پر مبنی ہے جبکہ اسلامی رویّہ بے رُخی ، حقارت آمیزی، بے عزتی اور ڈرانے دھمکانے والا ہے خاص طور پر اپنی خواتین کے ساتھ اور ان لوگوں کے ساتھ جو اُن کے اللہ کو اس طرح نہیں مانتے جس طرح وہ مانتے ہیں۔ مجھے اسلامی کردار و رویّہ یہ دکھاتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اسکول میں تعلیم سے روکتے ہیں اور یہ کہ ان بچوں کو کبھی یہ نہیں سکھایا جاتا کہ بڑوں سے کس طرح آداب سے بات کریں اور خاص طور پر غیرمسلمانوں سے ان کا رویّہ نہایت بُرا ہوتا ہے۔
مصنف۔ آپ کا مشاہدہ اور تاثرات کسی حد تک درست ہیں لیکن صرف اس حد تک کہ یہ دہشت گردوں پر لاگو ہوتے ہیں۔ یہ رویّہ یا کردار عام پاکستانی کا نہیں ہے۔ عموماً ہم اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے ہیں۔ صرف نہایت غریب لوگ اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے سے گریز

کرتے ہیں کہ وہ ان سے مزدوری کرانا چاہتے ہیں۔ حکومت ان میں تیزی سے تبدیلی لارہی ہے۔ہم بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتے ہیں اور اپنی خواتین کی بے حد عزت کرتے ہیں اور ہم میں صبر و برداشت کا مادہ بھی ہے۔ اسلامی قدروں اور ہدایات کی تفصیل ہمارے پیارے رسول ﷺ کی سیرت طیبہ اور کلام مجید میں نہایت واضح الفاظ میں موجود ہے۔ اس لئے وہ تمام منفی چیزیں جن کی جانب آپ نے اشارہ کیا ہے ان کو اسلام سے منسوب نہ کریں۔ یہ حرکات گمراہ کن لوگ کرتے ہیں اور ان کو غلط بیانی سے اسلام سے منسوب کرتے ہیں۔ دیکھئے ہم اس قسم کی حرکات کو عام یا عمومی نہیں کہہ سکتے۔ بدقسمتی سے مغربی ذرائع ابلاغ ہمیشہ منفی چیزوں کو اُچھالتے ہیں اور پھر ان کو مسلمانوں کی اکثریت سے منسوب کرتے ہیں۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اگر ٹب میں پانی گندا ہوجائے تو ہم اس پانی کو مع بے بی باہر پھینک دیں۔آپ پیروکاروں کو الزام دے سکتے ہیں اسلام کو نہیں۔ ہمارے پیارے رسول ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر کسی اسلامی مملکت میں کسی غیرمسلم کے حقوق سلب کئے گئے یا اس کے ساتھ زیادتی ہوئی تو وہ خود یومِ قیامت اس کی وکالت کریں گے۔
جناب سیلمن۔ یہ مجھے ایک اچھا ضابطۂ اخلاق لگتا ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ میں نے لاتعداد مسلمانوں کو دیکھا ہے کہ وہ غیرمسلمانوں کے ساتھ بُرا رویّہ اختیار کرتے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ طالبان لوگوں کے سرقلم کررہے تھے، اسکول کی بسیں روک کر چھوٹی بچیوں کو قتل کرنا چاہتے تھے، میں نے دیکھا کہ وہ نہایت بہیمانہ طریقہ سے شیعوں کو قتل کرتے ہیں اور عیسائیوں کو قتل کرتے ہیں اور ان کی بستیوں میں آگ لگا دیتے ہیں۔ میں پاکستان کو ایک ایسا ملک تصور کرتا ہوں کہ وہ طالبان کی مدد کرکے اور ان کی مدد سے پورے افغانستان پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور ان کے شہریوں اور بچوں پر کنٹرول رکھنا چاہتا ہے۔
مصنف۔ جیسا کہ میں نے آپ کی خدمت میں پہلے عرض کیا ہے کہ پاکستان میں ایک گمراہ کن اقلیتی گروپ ہے جس کے رویّے کا اسلام سے قطعی کوئی تعلق نہیں ہے۔ بدقسمتی کہ ایسی غیر اسلامی حرکات کے کرنے والوں کی تعداد خاصی ہے اور اس مسئلے کا حل تلاش کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے خاص طور پر جب یہ گمراہ لوگ یہ پختہ یقین رکھتے ہوں کہ جو وہ کررہے ہیں وہی حقیقی اسلام ہے۔ تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ ہر دور میں، ہر ملک میں کوئی نا کوئی دہشت گرد گروپ قتل و غارت گری کا مرتکب رہا ہے۔ آپ کے اپنے ملک میں فری میسنزاور کوکلکس کلان نامی دہشت گرد گروپ سرگرم عمل رہے ہیں۔ ہندوستان میں راشٹریہ سیوک سنگھ، جرمنی میں نیونازی وغیرہ ایسی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔
مسٹر سیلمن۔ اور میں یہ سوال کرتا ہوں کہ کیوں آپ جیسے عوام کھڑے نہیں ہوتے اور طالبان کی زیادتیوں کی روک تھام کے لئے کام نہیں کرتے جو بے گناہ لوگوں کا قتل عام کررہے ہیں اور افغانستان میں بھی دہشت گردی کررہے ہیں؟ کیا آپ لوگ بزدل ہیں یا گھبراہٹ اور پریشانی کا شکار ہیں؟ کیا آپ خوفزدہ ہیں؟ آپ کیوں باہر نکل کر بچوں کے اسکولوں کے سامنے (قبائلی علاقہ میں) کھڑے نہیں ہوجاتے اور طالبان کے سامنے ڈٹ کر ان کو جرائم سے نہیں روکتے؟
مصنف۔ پوری پاکستانی قوم دہشت گردی کے خلاف صف آراء ہے لیکن جیسا کہ میں پہلے عرض کرچکا ہوں کہ بیرونی مداخلت نے حالات کو بگاڑا ہوا ہے۔ لاتعداد مصدقہ شواہد موجود ہیں کہ امریکن ایجنٹس ہمارے ملک میں لوگوں کو قتل کرکے فرار ہوگئے، ریمنڈ ڈیوس کا کیس ایک مثال ہے ۔ اس وجہ سے عوام میں دہشت گردی اور مزاحمت کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس قسم کے حملے اور وہ بھی خود ہماری حکومت کی دوغلی پالیسی اور شرکت سے، متاثرین کو اس بات پر آمادہ و مجبور کررہے ہیں کہ وہ بھی اپنے بے گناہ عزیزوں کے قتل کا بدلہ لیں۔ جوں ہی مغربی مداخلت ختم ہوتی ہے اور ہماری افواج اپنے ہی بے گناہ عوام کا قتل کرنا بند کرتے ہیں تمام ماحول تبدیل ہوجائے گا۔ تاریخ شاہد ہے کہ اس علاقے میں امریکی مداخلت سے پہلے افغانستان میں،ہمارے ملک میں اور ہمارے قبائلی علاقوں میں امن و امان تھا، دہشت گردی کا نام بھی لوگ نہیں جانتے تھے۔ہم اب تک 40 ہزار شہری اور سپاہی اس جنگ میں قربان کرچکے ہیں۔ میں 77 سال کی عمر اور خرابی صحت کی وجہ سے میدان جنگ میں تو نہیں کود سکتا مگر اپنے قلم کے زور سے دہشت گردی کی مخالفت کرتا رہاہوں اور حکومت اور حکومت مخالف پارٹیوں کو مصالحت و گفت و شنید کے ذریعہ مسائل کو حل کرنے کا مشورہ دیتا رہا ہوں مگر جب تک امریکی فوجی یہاں سے واپس نہیں چلے جاتے امن و امان ناممکن ہے۔ ہمیں شمالی آئرلینڈ کی طرح ایک امن معاہدے کے ذریعے اس جنگ اور قتل و غارت گری سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔
جناب سیلمن۔ ہم سب کا کردار و اطوار، آداب اور علم الاخلاق کے بارے میں مختلف نظریہ ہے۔ میری سمجھ سے یہ بالاتر ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ اسلام میں عمل اور نظریہ میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ کیا طالبان کا علم الاخلاق آپ کے علم الاخلاق سے مختلف نہیں ہے؟ کیا آپ کی خواتین کے کردارو اطوار آپ کے مردوں سے مختلف نہیں ہیں یا ملالہ جیسے بچوں سے؟ آپ کے یہاں بھی اتنے ہی وسیع اختلافات ہیں جتنے ہمارے یہاں۔ دراصل کرّہ زمین پر بسنے والے سات ارب افراد ہزار طریقوں سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن ہم سب کے یکساں مخصوص اوصاف ہیں حالانکہ ہم ایک نسلی سلسلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہمارے اختلافات ہماری قوّت اور کمزوری دونوں کی وجہ بن سکتے ہیں۔
مصنف۔ جناب سیلمن! میں آپ سے اس بات پر مکمل اتفاق کرتا ہوں۔ ہمارے ایک ہی جدّامجد ہیں لیکن ہم ایک دوسرے سے لاکھوں وجوہات کی بنا پر مختلف ہیں اور ان اختلافات سے نمٹنے کے لئے ہم مختلف تصورات رکھتے ہیں۔ مغرب میں تو عوام ذاتی آزادی اور خود کی صلاحیتوں کو استعمال کرکے خود کی ذہنی، قلبی و مالی تسکین حاصل کرتے ہیں جبکہ اسلام میں اِس بارے میں نہایت واضح ہدایات اور قوانین ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شمال جنوب کی تفریق نے جنم لیا جس کے نتیجے میں مغرب کی اقلیّت مالدار سے مالدار ترین اور جنوب کی اکثریت غریب سے غریب ترین ہوتی جارہی ہے اور بنی نوع انسان ایک عذاب کا شکار ہے۔ کیا آپ اس حقیقت سے انکار کرسکتے ہیں کہ آپ لوگ اپنا فاضل اناج غریب ممالک کو دینے کے بجائے جلانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسی طرح بے انتہا مالی فوائد کی خاطر آپ مختلف جماعتوں کو مہلک ہتھیار مہیا کرکے لڑاتے اور قتل و غارت گری کراتے ہیں جس طرح کہ افغانستان، عراق اور صومالیہ میں آپ کر رہے ہیں۔ اس سے پیشتر آپ نے ایران، ویتنام میں یہی گندا کھیل کھیلا تھا۔
اس کے مقابلہ میں اسلام میں خود کے لئے، سوسائٹی یا قوم کے لئے اور تمام بنی نوع انسان کے لئے نہایت واضح ہدایات و احکامات موجود ہیں۔ اگر کہیں ذاتی اور اجتماعی مفادات میں تضاد ہو تو اجتماعی مفادات کو ترجیح ہے اور اسی طرح اگر اجتماعی اور بنی نوع انسانیت کے مفادات میں تضاد ہو تو بنی نوع انسانیت کے مفادات کو فوقیت حاصل ہوگی۔ میں نے جان بوجھ کر خاندانی مفادات کو اس لئے نظر انداز کیا ہے کیونکہ اسلامی نظریہ کے مطابق ایک فرد اپنے خاندان کا حصہ ہے اور خاندان پوری قوم اور بنی نوع انسان کا تسلسل ہے کیونکہ اسلام میں خاندان کو بہت اہمیت حاصل ہے اس لئے جب ہم انفرادیت کی بات کرتے ہیں تو اس کا مقصد خودبخود خاندان سے ہوتا ہے۔ مسلمانوں میں نفاق یا اختلافات اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب وہ قرآن میں صاف صاف بیان کردہ ہدایات اور احکامات کو نظرانداز کرتے ہیں۔ کسی کام کے اچھا یا بُرا ہونے کا معیار قرآنی احکامات پر جانچا جاتا ہے۔ پوری پاکستانی قوم انسانی زندگی کے تحفظ، عزّت اور وقار کو مجروح کرنے کی شدید مذمّت کرتی ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں مسلسل حکومتیں اس لعنت کو کنٹرول کرنے یا ختم کرنے میں ناکام رہی ہیں خاص وجہ ان کی غیرملکی ایجنڈوں پر کام کرنا اور ان کے احکام کی پیروی کرنا اور ان کے مفاد کی حفاظت کرنا ہے۔ کلام مجید میں تو اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ جس نے ایک بے گناہ فرد کو ہلاک کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو ہلاک کردیا۔ خدا جانے آپ لوگوں نے جو کروڑوں بے گناہ لوگوں کا قتل عام کیا ہے کس طرح اپنے خالق کو جواب دے سکیں گے۔ تاریخ مسلمانوں کی رواداری اور برداشت و درگزر کی سنہری مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ ہمارے رسولﷺ پر مکّہ کے لوگوں نے ناقابل بیان مظالم ڈھائے تھے اور شہر سے نکال دیا تھا مگر جب وہاں ایک فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے تو سب کو معاف کردیا، ایک واحد فرد پر بھی غصہ کا اظہار نہیں کیا اور نہ کسی قسم کی سزا دی۔ ایسی ہی مثال صلاح الدین ایوبی ؒ کی ہے جب اس نے یروشلم فتح کیا تو تمام غیرجنگجو مردوں، عورتوں اور بچوں کو معاف کرکے جانے کی اجازت دے دی۔ لڑنے والے قیدیوں کے لئے ایک معمولی سی جرمانہ کی رقم مقرر کی مگر کچھ لوگ جو ادا کرنے کے قابل نہ تھے ان کا جرمانہ صلاح الدین ؒ کے اپنے بھائی نے اپنی رقم سے ادا کرکے ان کو اپنے گھروں کو جانے کی سہولت میسر کردی۔ لیکن اس سے پیشتر جب عیسائیوں نے یروشلم پر قبضہ کیا تھا تو 70 ہزار سے زیادہ مردوں، عورتوں اور بچوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہوکر قتل کردیا تھا، اس کی تمام تفصیل انگریز تاریخ دان کیرن آرمسٹرانگ نے ’’دی کروسیڈز‘‘ نامی کتاب میں بیان کی ہے۔ قوانینِ اسلام کے خلاف تمام جرائم اور اقدامات کی مراکش سے لیکر انڈونیشیا تک تمام مسلمان مذمّت کرتے ہیں اور لعنت بھیجتے ہیں۔ اسی وجہ سے میں نے عرض کیا ہے کہ اسلام میں امتیاز نہیں ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: