کِردار و اَطوار، علم الاخلاق ۔ مغربی نقطہ نظر

میں نے پچھلے ہفتہ اپنے کالم میں امریکی شہری جناب بِل سیلمن کے میرے پچھلے کالم پر مغربی نقطۂ نظر اور تبصرہ کا کچھ حصّہ پیش کیا تھا۔ یہ کالم اُسی سلسلہ کی دوسری کڑی ہے۔ چونکہ موضوع نہایت اہم ہے اس پر تفصیلی ردّ ِ عمل ناگزیر ہے۔ یہ ہم سب کی معلومات کے لئے بہت ضروری سمجھتا ہوں۔ یہاں مُصنف سے میرا اشارہ اپنی جانب ہے۔
مصنف۔ اسلام نے ہمیں تعلیم دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اِنسان کو ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے۔ یعنی اپنی اندرونی صلاحیت کو پہچاننا اور خود کواللہ تعالیٰ کے فرمان و ہدایات کے مطابق ڈھالنا۔ یہ اصول یا ہدایات زمانہ کے ہر پیغمبر کو دی گئیں اور ہم بائبل میں بیان کردہ تمام پیغمبروں پر ایمان لائے ہیں جن میں سب سے آخری یعنی خاتم النبیٗین ہمارے پیارے پیغمبر محمد ﷺہیں۔ قرآن میں تمام پرانی الہامی کتب کا تذکرہ ہے اور وہ ان کی صداقت کی تصدیق کرتا ہے لیکن ان میں انسانوں نے من مانی تبدیلیاں کرلی ہیں۔ تمام اُصول اخلاقیات قرآن میں ہم کو غیرمبہم الفاظ میں بتادیئے گئے ہیں۔ اس میں بلاشبہ انسان کے کردار و اطوار پر کچھ حدود قائم کی گئی ہیں کہ وہ اپنے فطری غیراخلاقی جذبات پر قابو رکھ سکے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو معصوم پیدا کیا ہے اور اس کا اچھے اعمال پر عمل اس کی اپنی مرضی پر منحصر ہے۔ یہاں میں مغربی دنیا کی اس

سمجھ بوجھ یا تاثر کی تردید کرنا چاہتا ہوں کہ کسی بھی فرد کو بزور قوّت مسلمان بنایا جاسکتا ہے۔ کلام مجید میں صاف صاف انتباہ کیا گیا ہے کہ مذہب میں جبر ممنوع ہے اور اگر مسلمان اس پر عمل نہ کرتے تو وہ تمام ممالک اور علاقہ جات جن کو مسلمانوں نے فتح کیا تھا اور سیکڑوں سال ان کے قبضہ میں رہے تھے وہاں کوئی غیرمسلم نہ رہتا۔ کھلی مثال ہندوستان اور اسپین کی ہے جہاں اتنے طویل عرصہ مکمل حکمرانی کے باوجود مسلمان اقلیت ہی رہے۔ انگریز مفکر و سیاست دان لارڈ میکالے (Lord Macaulay) نے 1935 میں انگریزی پارلیمنٹ میں قانون دانوں کو خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کے بارے میں یہ کہا تھا۔ ’’میں نے ہندوستان کے طول و عرض کا سفر کیا ہے اور میں نے وہاں ایک فقیر، ایک چور نہیں دیکھا۔ میں نے وہاں اتنی خوشحالی دیکھی، اتنا اعلیٰ کردار و اطوار دیکھے اور اتنے اہل و قابل افراد دیکھے ہیں کہ میں یقین نہیں کرتا کہ ہم کبھی بھی اس ملک کو مکمل طور پر تسخیر کرسکیں گے جب تک کہ ہم اس قوم کی ریڑھ کی ہڈی نہ توڑ دیں، میرا اشارہ اس کی روحانی اور ثقافتی میراث کی جانب ہے۔ اس لئے میرا یہ مشورہ ہے کہ ہم اس کے قدیم اور قیمتی تعلیمی نظام کو، اس کی ثقافت کو تبدیل کردیں (یعنی تباہ کردیں)کیونکہ اگر ہندوستانیوں کو یہ احساس ہوجائے (دلا دیا جائے) کہ غیرملکی اور انگریزی ثقافت بہتر ہے تو وہ اپنی غیرت و خودداری کھودینگے اور وہ جو ہم چاہتے ہیںیعنی حقیقت میں ہماری غلام قوم بن جائینگے‘‘۔ انگریز اس گندی سازش میں کامیاب رہے اور ایک تعلیمیافتہ، متمدّن، مالدار قوم کو تباہ کرکے غلام بنا لیا۔ تاریخ میں کہیں آپ کو ایسی مثال نہیں ملے گی کہ مسلمانوں نے مذہبی (یا کسی اور بہانے سے)قوانین یا عدالتوں سے غیرمسلمانوں کو تباہ کیا ہو۔
جناب سیلمن۔ لیکن اگر مسلمان اتنے مخیر ہیں اور غریبوں، بوڑھوں اور بچوں کا اتنا خیال رکھتے ہیں تو پھر پاکستان اتنا غریب، مفلس، پھکڑ کیوں ہے؟ کیوں تمام بچوں کو تعلیمی سہولتیں حاصل نہیں ہیں؟ کیوںپاکستانی مسلمان دنیا کے دوسرے غیرمسلمانوں کے ساتھ دشمنانہ رویّہ اختیار کرتے ہیں خاص کر جو اُن کے ہم مذہب نہیں ہیں، ہم رنگ و ہم نسل نہیں ہیں؟
مصنف۔ مجھے اِجازت دیجئے کہ میں بھی جواباً آپ سے ایک سوال کروں۔ امریکی حکومت ان لوگوں اور حکمرانوں کے کیوں اِس قدر خلاف ہے جو اس کے احکامات کی تعمیل اور غلامی قبول نہیں کرتے جبکہ امریکی عوام کی اکثریت امن پسند اور دوستانہ رویّہ پسند کرتے ہیں۔ غربت نہ صرف ہمارے لئے بلکہ کئی دوسرے اسلامی ممالک کے لئے ایک لعنت ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں مثلاً غیر ملکی دخل اندازی۔ اگر غیر ممالک اپنی دخل اندازی اور ریشہ دوانیاں بند کردیں اور فوجی، معاشی اور سیاسی مداخلت و اثر و رسوخ بند کردیں تو ہم یقینا خود کفیل ہوجائیں گے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر ملک کی حالت بدل دینگے۔ کیا پاکستانیوں نے بیرون ملک اپنی کارکردگی سے عزّت و شہرت حاصل نہیں کی ہے؟ کیا میرے محب وطن ساتھیوں نے اور میں نے مل کر آپ کی کوشش اور مداخلت کے باوجود اس ملک کو ایٹمی اور میزائل قوّت نہیں بنادیا جس کی وجہ سے ہندوستان اور پاکستان مہلک اور خونریز جنگوں سے محفوظ ہوگئے ہیں؟
آپ کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کئی عملی اورمشاہداتی سروے یہ ثابت کرچکے ہیں کہ دوسروں کے مقابلہ میں ایک مسلمان زیادہ فراخدل اور مخیر ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ فلاحی کاموں کے لئے پاکستانی چندہ دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان نعمتوں سے نوازا ہے اور اس کے حکم کے مطابق ہمیں کم استعداد والوں کی مدد کرنا چاہئے۔ ہمارے پیارے رسول ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص دوسرے لوگوں کے ساتھ شکر گزاری کا ثبوت نہیں دیتا وہ کبھی بھی اللہ کا صحیح بندہ نہیں ہوسکتا۔ میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہم نا شکرے نہیں ہیں، ہم ان تمام غیرملکی حکومتوں اور اداروں کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں جنھوں نے ہمارے مشکل اوقات میں ہماری مدد کی ہے اور ہم نے ہمیشہ اس کا اعتراف کیا ہے۔ لیکن یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اس طرح کی امداد کسی کو اس بات کا حق نہیں دیتی کہ وہ ہمارے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرے اور ہمارے قومی مفادات کے خلاف سرگرمیوں میں مصروف ہوجائے۔
اب یہ سوال کہ پاکستانی حکومت اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود اور آرام و آسائش کے بارے میں کیوں اتنی بے حس ہے اس کا جواب یہ ہے لاتعداد تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ اس میں بیرونی مداخلت کا بڑا ہاتھ ہے۔ بہت سے واقعات ریکارڈ پر موجود ہیں کہ جہاں تشدّد، دبائو، بلیک میلنگ، معاشی و سیاسی دبائو کے ذریعہ ڈکٹیٹروں اور اپنے غلام نمائندوں کو حکومت کی باگ ڈور دلوائی گئی اور اپنی مرضی کے کام کرا کے ملک کی خودمختاری ختم کردی۔ اس طریقہ کار پر عمل کرکے امریکہ نے مالدار عراق کو مفلس، فقیر اور محتاج بنا دیا، کئی لاکھ بیگناہ شہری ہلاک کردیے اور یہ سب کچھ ایک جھوٹے مفروضہ کو بنیاد بنا کر کہ عراق کے پاس ایٹمی مہلک ہتھیار ہیں۔ اس طرح مصر میں نومولود جمہوریت کو اپنے پروردہ فوجی حکومت سے ختم کرادیا۔یہ حال لیبیا اور افغانستان میں آپ کی حکومت کا مرہون منت ہے۔اس خرابی کی وجہ یہ ہے کہ کئی ممالک غربت، بدامنی کا شکار اس لئے ہیں کہ غیرملکیوں نے ان ممالک میں اپنی فرمانبردار حکومتیں عوام پر مُسلط کردی ہیں۔ ابھی حال ہی میں جناب علی محمود نامی مصنف نے ایک اعلیٰ کتاب (فرشتے اور شیطان) Saints & Sinners کے نام سے شائع کی ہے اس میں انھوں نے بتایا ہے کہ کس طرح مغربی ممالک انتھک کوششوں اور سازشوں سے دنیا کی 80 فیصد آبادی کے معاشی مفادپر قبضہ کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کتاب میں مصنف نے ایک حقیقت پسندانہ تحقیق سے کئی ممالک کی غربت کی وجوہات بتا ئی ہیں۔ اس کتاب میں جناب سیلمن ! مصنف نے آپ کے اپنے ملک میں ایک چونکا دینے والی تحریک کی جانب اشارہ کیا ہے کہ عوام وال اسٹریٹ کی اِجارہ داری کو چیلنج کررہے ہیں۔ آزاد تجارت کی فتح، سرمایہ داری، حکومتی مداخلت سے آزادی وغیرہ کا جشن ابھی 25 سال پیشتر ہی منایا گیا تھا جب روسیوں کو افغانستان میں مجاہدین کے ہاتھوں بُری شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیکن اب کیا ہورہا ہے۔ موجودہ پالیسیاں وہ سب منصفانہ اور آزادانہ تجارت کے اصولوں کی منافی ہیں اور امریکہ پھر ہر جائز اور ناجائز طریقہ سے دنیا کی معاشیات پر قبضہ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
جناب سیلمن۔ مغربی عوام بغیر رنگ، نسل، قوم کے ہر فرد کو اپنے خاندان کا حصّہ سمجھتے ہیں۔ ہم عموماً اپنے آس پاس موجود لوگوں کو قتل نہیں کرتے نہ ہی ان کا مال و اسباب چراتے ہیں، نہ ہی ان پر تشدّد کرتے یا ڈراتے دھمکاتے ہیں، ہم عموماً سب کو یکساں و برابر سمجھتے ہیں۔ ہمارے اکثر لڑکے لڑکیاں ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں، سب ساتھ کام کرتے ہیں اور ساتھ ہی کھیلتے کودتے ہیں۔ ہم عموماً کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کرتے۔ ہم دوسروں کے اعتقاد اور مذہب کی عزت و احترام کرتے ہیں، ان کی مذہبی آزادی اور اپنا مذہب اختیار کرنے کے حق کو مانتے ہیں۔
مصنف۔ دیکھئے، ہمیں حکومتی اور اپنی یعنی انفرادی پالیسیوں میں صاف امتیاز کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا آپ کی حکومت نے ابھی 50 سال پیشتر صدیوں اپنے سیاہ فام شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا؟ ان سے جانوروں جیسا سلوک کیا گیا، کیا آپ کی حکومت نے اسرائیل کو مسلح کرکے کھلی چھٹی نہ دی کہ نہتے فلسطینیوں پر ظلم و ستم ڈھائے؟صدر بش نے 3000 امریکیوں کی ہلاکت کا بہانہ بنا کر (بغیر کسی ثبوت کے) افغانوں پر ایک نہایت ہولناک و تباہ کن جنگ مسلط کردی اور اپنے مغربی ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس ملک کو تباہ کردیا، کھنڈرات میں تبدیل کردیا اور لاکھوں بے گناہ افراد قتل کردیئے جس طرح انھوں نے پہلے عراق اور لیبیا کے ساتھ کیا تھا۔ اور آپ جناب سیلمن! اس کے باوجود کہہ رہے ہیں کہ آپ سب انسانوں کو اپنی فیملی یا خاندان سمجھتے ہیں۔ کیا یہ لاکھوں بے گناہ مقتول آپ کے خاندان کے افراد نہ تھے؟ یہاں میں ایک تعلیمیافتہ نو مسلم جرمن اسکالر کا جواب آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں ۔جب کسی مغربی شخص نے اس سے مسلمانوں کی مفروضہ دہشت گردی کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا۔ ’’پہلی جنگ عظیم کس نے شروع کی؟ آسٹریلیا میں کس نے 2 کروڑ مقامی باشندوں کا قتل عام کیا؟ کس نے ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے؟ کس نے دو لاکھ سے زیادہ بیگناہ لوگوں کو بوسنیا میں قتل کیا؟ کس نے ستّر ہزار عورتوں، مردوں اور بچوں کو صلیبی جنگ میں مسجد اقصیٰ میں قتل کیا؟کس نے شمالی امریکہ میں 10کروڑ سے زیادہ مقامی ریڈانڈینز کا قتل عام کیا؟ کس نے جنوبی امریکہ میں 5 کروڑ مقامی ریڈانڈینز کا قتل عام کیا؟ کون افریقہ سے بزور قوّت 18 کروڑ مقامی باشندوں کو غلام بنا کر امریکہ لے گیا جن میں سے 88 فیصد راستہ میں نہایت تکلیف دہ اور بھیانک حالات قید میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ان کی لاشوں کو بحر اوقیانوس میں پھینک دیا؟۔ یہ جرائم مسلمانوں نے نہیں کئے۔ آپ کو پہلے دہشت گردی کی صحیح تعریف کرنا پڑے گی۔ اگر غیرمسلم کوئی جرم کرتا ہے تو وہ اس نے بُرا کام کیا۔ لیکن اگر کوئی مسلمان اسی جرم کا مرتکب ہوتا ہے تو وہ دہشت گرد کہلاتا ہے۔ پہلے آپ اس دہرے معیار کو ترک کریں اور پھر اس موضوع کی جانب رجوع کریں‘‘۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: