کردار و اطوار، علم الاخلاق ۔ مغربی نقطہ نظر

جنگ میں اپنے کالم بعنوان کردار و اطوار، آداب، علم الاخلاق پر ایک امریکی مفکر جناب بِل سیلمن کے تاثرات پر یہ میرا پانچواں اور آخری کالم ہے۔ قارئین سے درخواست ہے کہ غور سے مطالعہ کریں تاکہ جب بھی کسی مغربی نقاد سے بحث و مباحثہ ہو تو ٹھیک سے جواب دے سکیں۔
جناب سیلمن۔ میں ڈاکٹر خان آپ سے اتفاق کرتا ہوں کہ انکساری اور امن (مفاہمت) اچھے اوصاف ہیں۔ یہ بھی ٹھیک ہے کہ فضول خرچی نہ کی جائے، یہ بھی بہت اچھا ہے کہ انسان بخیل نہ ہو۔ میں اس سے بھی اتفاق کرتا ہوں کہ کسی کو بلاجواز ہلاک کرنا بُرا کام و گناہ ہے اور میں اس سے بھی اتفاق کرتا ہوں کہ ہمیں جھوٹ نہیں بولنا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے صداقت سے اپنے خیالات کا اظہار آپ سے کیا ہے۔ میں آپ کے ان خیالات سے بھی مکمل اتفاق کرتا ہوں خاندانی یکجہتی بہت اہم چیز ہے۔ میرے اپنے پانچ بچے ہیں اور دس اُن کے بچے ہیں اور مزید دو کی آمد کا منتظر ہوں۔ ہمارے خاندان میں ابھی تک کوئی طلاق نہیں ہوئی ہے اور ہم ایک دوسرے کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ میں اس سے بھی اتفاق کرتا ہوں کہ دولت کی مقدار ہماری آپس کی محبت کا معیار نہیں ہے۔ مجھے اس کا علم نہیں ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کی کس حد تک مدد کرتے ہیں۔ میں ڈاکٹر خان آپ کے اس بیان سے اتفاق کرتا ہوں کہ آپ کے بہت سے غریب افراد ہمارے امیر ترین لوگوں سے

زیادہ مخیر ہیں لیکن میں پھر بھی آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ طالبان کتنے مخیر اور مہربان ہیں؟ وہ بچوں کے لئے کتنے اسکول تعمیر کررہے ہیں؟ کتنے غریب خاندانوں کی کفالت کررہے ہیں؟ وہ اپنی برادری یا معاشرے کے کتنے افراد کو روزگار مہیا کررہے ہیں؟ اور وہ کتنی خواتین کی غربت کی لعنت سے نکلنے میں مدد کررہے ہیں؟
مصنف۔ جناب سیلمن! مجھے افسوس ہے کہ آپ اسلام کو طالبان کے اعمال و کردار کے معیار سے جانچ رہے ہیں۔ ہم نے آپ کو کبھی فری میسنز Free Masons اور کوکلکس کلان Ku Klux Klan (دہشت گرد امریکی گروپس) کی کارروائیوں سے نہیں جانچا۔ ہمارے محدود ذرائع سے ہم دل و جان سے دہشت گردی کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ جب دشمن آپ کے اندر ہوں تو تاریخ گواہ ہے کہ ان سے نمٹنا بے حد مشکل ہوتا ہے۔ ایک تنہا خودکش حملہ آور تباہی پھیلا سکتا ہے اور یہی روز ہمارے ساتھ ہورہا ہے۔ بدقسمتی سے خبط الحواس انسانوں کی دنیا میں کمی نہیں، خود آپ کے ہاں امریکہ میں اسکول کے بچوں کے اور شاپنگ مالز میں قتل و غارتگری کے دہشت ناک واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن ہمارے یہاں اس کے برعکس فراخدلی، حقوق العباد کا لحاظ ایک نہایت قابل تحسین عمل ہے۔ آپ نے اپنی پچھلی ای میل میں خود میرے کالم میں بیان کردہ سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ اور المصطفیٰ ٹرسٹ کی فلاحی سرگرمیوں کی تعریف کی تھی۔ اس قسم کے ہزاروں فلاحی ادارے پورے ملک میں انتہائی اہم اور قابل تحسین سرگرمیوں میں سرگرم عمل ہیں۔ یہ اسکول، اسپتال، بوڑھے لوگوں کے رہائشی مکانات، کالج اور یونیورسٹیاں چلا رہے ہیں اور غریب اور کم استعداد افراد کے بچوں کو تمام سہولتیں میسر کررہے ہیں۔ درحقیقت ہمارے یہاں تمام خرابیوں کی جڑ ہمارے نااہل، کم تعلیم یافتہ اور رشوت خور حکمرانوں کا ٹولہ ہے۔ ملک میں قدرتی وسائل کی بہتات ہے مگر یہ نااہل حکمراں ان سے استفادہ نہیں کرتے اور نہ ہی عوام کو کرنے دیتے ہیں۔ ہمارے یہاں لڑکیوں کو تعلیم دینا ایک اہم قومی فریضہ سمجھا جاتا ہے۔ ملک کے اکثر اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں مخلوط تعلیم کا رواج ہے لیکن دوسرے ممالک کی طرح یہاں بھی چند تعلیمی ادارے صرف لڑکیوں کے لئے ہیں اور وہ اپنے والدین اور اپنی خود کی مرضی سے ان اداروں میں تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ ہمارے یہاں لڑکیاں تعلیم میں لڑکوں سے بہتر نتائج حاصل کررہی ہیں اور میڈیکل تعلیمی اداروں میں ان کی اکثریت ہے۔ دفتروں، تعلیمی اداروں میں مرد اور خواتین ساتھ ساتھ کام کرتے ہیں۔ میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں کہ دولت کی بنیاد پر تعلیم میں امتیاز نہیں ہونا چاہئے لیکن بدقسمتی سے پوری دنیا میں اب ’’اچھی‘‘ اور ’’معمولی‘‘ یونیورسٹیاں موجود ہیں۔ اگر آپ وہاں ہمارا مشہور TV اسٹیشن Geo دیکھیں تو آپ کا یہ تاثر کہ ہمارے یہاں خواتین کے ساتھ کسی قسم کا امتیازی سلوک کیا جاتا ہے فوراً دور ہوجائے گا۔
جناب سیلمن۔ آپ کہتے ہیں کہ ہمیں دوسرے مذاہب کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں یا دوسری کتابیں یا تحریریں پڑھنے کی ضرورت ہے کیونکہ قرآن میں کردار و اطوار، آداب اور علم الاخلاق پر تمام ہدایتیں و نصیحتیں موجود ہیں۔ درحقیقت اگر 1300 برس گزرنے کے بعد(نزول قرآن مطلب ہے) آپ یہ نہیں دیکھتے کہ دوسروں نے کیا کہا ہے اور کیا لکھا ہے تو لوگ کہیں گے کہ آپ فعال دماغ سے خالی انسان ہیں اور اپنا سر شتر مرغ کی طرح ریت میں چھپا لیا ہے۔ اگر آپ اسلام آباد جارہے ہیں اور کوئی آپ کو کار میں لفٹ دینا چاہتا ہے تو کیا آپ یہ قبول کرنے سے اس لئے انکار کردیں گے کہ قرآن میں کار کا ذکر نہیں ہے۔ ترقی سے کنارہ کشی کرنا یا آنکھیں بند کرنا کھلی بیوقوفی ہوگی یا دوسرا نظریہ پیش کرتا ہوں کہ اگر کوئی دوسروں کو بزور قوّت، دھمکیوں یا بحث و مباحثہ سے دنیا کے واقعات سے محروم رکھ رہا ہے تو اس نے دوسروں کو غلام سمجھ لیا ہے۔ ہم میں سے کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ ہم دوسروں سے یہ کہیں وہ کیا سُنیں اور کیا پڑھیں۔ ہم سب کو یہ حق حاصل ہونا چاہئے کہ ہم جس کو چاہیں سنیں، جو چاہیں پڑھیں، جس سے چاہیں تعلق قائم رکھیں اور اس میں کسی قسم کا دبائو یا خوف نہیں ہونا چاہئے۔ ہر وہ شخص جو خواہ مسلمان ہو، عیسائی ہو، ہندو ہو یا دہریہ ہو اس کو یہ حق نہیں ہونا چاہئے کہ ہمیں دوسروں سے تنہا کردے، جدا کردے اور اس میں مغربی یا مشرقی کی تمیز نہیں ہونا چاہئے اور اگر کوئی ایسا کرتا ہو تو ہمیں چاہئے کہ اس کو باندھ دیں کہ ہم پر اس قسم کا جبر نہ کرسکے۔ پاکستان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے قبائلی علاقوں میں حکومت کا اختیار قائم کرے اور طالبان پر یہ واضح کرے کہ وہ قبائلی علاقوں میں محفوظ پناہ گاہوں میں بیٹھ کر افغانستان میں دہشت گردی نہیں کر سکتے اور دوبارہ ان پر حکمرانی نہیں کرسکتے۔کسی بھی مذہب اور گروپ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنا نظریہ یا سوچ کو زبردستی دوسروں پر تھوپے اور جب کوئی ایسا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو جھگڑے فساد جنم لیتے ہیں۔ میں یہ تصور کرسکتا ہوں کہ میں کمپیوٹر میں رہتا ہوں اور آپ یہ یقین کرسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے اور ہم کو یہ حق حاصل ہے کہ ہم اپنے عقیدہ کا احترام کریں اور نہ مجھے یہ حق حاصل ہے کہ آپ سے کہوں کہ آپ کس چیز پر یقین کریں اور نہ ہی آپ کو یہ حق حاصل ہے کہ آپ مجھ سے کہیں کہ میں کس چیز پر یقین کروں۔ اگر میں آپ کو کسی خاص مذہب کی پیروکاری پر مجبور کروں تو یہ اخلاقی طور پر غلط ہوگا۔ ہم سب کو اپنے کردار و اعمال کی آزادی ہے اور یہ بین الاقوامی حق ہے۔ ہم مغربی لوگ آزادی کی بہت قدر کرتے ہیں اور ہمیں یہ بہت عزیز ہے لیکن ہمیں یہ احساس ہے کہ بعض اوقات ہمارا جذبہ آزادی کی بعض حدود ہیں خاص کر جب اس کا ٹکرائو آپ کی آزادیِ خیال سے ہوتا ہے۔
مصنف۔ جب میں نے یہ کہا تھا کہ ہمیں دوسری کتب یا تحریروں کی جانب دیکھنے کی ضرورت نہیں تو میرا مطلب بالکل واضح تھا کہ میں کردار، اطوار، آداب اور علم الاخلاق کی بات کررہا تھا نہ کہ جدید سائنس و ٹیکنالوجی کی،ایسا کہنا نہایت احمقانہ بات ہوتی۔ کیا ہم ہوائی جہازوں، ریلوں، کاروں میں سفر نہیں کررہے؟ کیا ہم جدید ترین مشینری وکمپیوٹر استعمال نہیں کر رہے؟ کیا ہمارے ہزاروں طلباء و طالبات مغربی ممالک میں اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کررہے؟ اس کے علاوہ قرآن میں سورہ بقرہ کی 256 آیت میں اللہ تعالیٰ نے صاف صاف فرمایا ہے کہ مذہب میں کسی قسم کا جبر نہیں اور سچ جھوٹ پر ہمیشہ برتر ہوتا ہے پھر ہم کس طرح کسی کو یہ ہدایت کرسکتے ہیں یا اس پر جبر کرسکتے ہیں یہ پڑھو وہ نہ پڑھو۔ مطالعہ سے انسان کی عقل و فہم میں اضافہ ہوتا ہے۔قرآن ہمیں ہدایت کرتا ہے کہ علم حاصل کرو، اجتہادکرو۔ یہ ایک ٹھہرا ہوا گندہ پانی نہیں ہے جس طرح آپ مغرب میں عموماً یقین کرتے ہیں۔ کیا زمانہ قدیم میں لاتعداد مفکر اور اصحاب علم مسلمان نہ تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان مفکروں نے یونانی فلسفہ و سوچ کی نہ صرف حفاظت کی بلکہ دوسروں کو بھی دے دیا۔ اگر آپ نے سائنس کی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے تو آپ کو علم ہوگا یورپ میں سائنس وٹیکنالوجی کی ترقی مسلمان سائنسدانوں کی مرہون مِنت ہے۔ میں یہ ہر گز نہیں کہہ رہا کہ ہم دوسری معلومات و علم و فنون سے آنکھیں بند کرلیں۔ کوئی بھی قوم اگر تنگ نظر ہو تو ہرگز ترقی نہیں کرسکتی خاص کر اگر وہ دوسری قوموں کی ترقی و خیالات سے استفادہ نہ کرسکے۔ میں نے آپ سے درخواست کی تھی کہ اپنا پتہ بھیج دیں تاکہ دو چار کتابیں اسلام سے متعلق آپ کو روانہ کردوں مگر اپنے دعوے کے برعکس آپ نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ مجھے کتابوں کے پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ میرا مقصد ہرگز آپ کو مذہب تبدیل کرنے کی رغبت دینا نہ تھا بلکہ صرف اسلام کے اصولوں کے بارے میں معلومات بہم پہنچانا تھا۔
جناب سیلمن۔ آپ ڈاکٹر خان یہ کہتے ہیں کہ اسلام بین الاقوامی مذہب کا نام ہے اور یہ کسی حادثہ یا فانی شخصیت کا مرہون منت نہیں ہے۔ دنیا کی سات ارب آبادی کے بہت سے لوگ آپ کے اس اعتقاد سے متفق ہیں اور بہت سے اتفاق نہیں کرتے۔ دیکھئے ، مغربی عوام کی اکثریت ایک خدا پر ایمان رکھتی ہے بالکل اسی طرح جس طرح کہ آپ کا ایمان ہے۔
میں سخت متعجب ہوں کہ پھر مسلمان اور مغربی ممالک اس کی کیوں قدر نہیں کرتے اور اس کو اہمیت نہیں دیتے۔ کیا ہمارا ایک ہی خدا نہیں ہے؟ کیاہم مختلف خدائوں کے بارے میں بات کررہے ہیں؟ پھر آپ اور دوسرے مسلمان مغربی عوام کو کیوں ملحد اور بے دین سمجھتے ہیں؟
مصنف۔ ہم مسلمان ایک ہی خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ خدا حضرت ابراہیم ؑ، حضرت موسیٰ ؑاور وہی خدا جس کو عیسائی بھی مانتے ہیں اور ہم عیسائیوں کو یہودیوں کی طرح اہل کتاب مانتے ہیں اور قرآن میں ان کے لئے خاص احکامات موجود ہیں۔ ہم صرف شرک کرنے والوں یعنی خدا سے کسی کو رشتہ دار بنانے والے کو نہیں مانتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جہنمی قرار دیا ہے۔ اگر مختلف مذاہب کے درمیان بہتر یکجہتی ہو تو دنیا میں امن و امان قائم ہوسکتا ہے۔
جناب سیلمن۔ سر راہے میں اُمید کرتا ہوں کہ میری صاف گوئی پر آپ مجھے معاف کردیں گے کہ میں نے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کردیا ہے۔
مصنف۔ جناب سیلمن میں آپ کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ آپ نے میرے کالم اتنی توجہ اور دلچسپی سے پڑھے اور میرے خیالات پر اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ مجھے خوشی ہوگی اگر میرے جوابات سے آپ کے سوالوں اور تاثرات کا موزوں جواب مل گیا ہے۔ اگر ہمارے بحث و مباحثہ سے دونوں مذاہب کے درمیان کچھ غلط فہمیاں دور ہوگئی ہیں تو مجھے بے حد خوشی ہوگی اور میں آپ سے معذرت خواہ ہوں اگر میرے بیانات یا تاثرات سے آپ کے جذبات کسی طرح مجروح ہوئے ہوں تو۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: