نصیحت آمیز واقعات

عزیز و مخلص دوست بریگیڈیئر طاہر مُنیر جو اکثر ملک سے باہر ہوتے ہیں مگر مجھے یاد کرتے رہتے ہیں، بہت اچھی باتیں لکھتے رہتے ہیں۔ پچھلے دنوں اُنہوں نے ایک نہایت دلچسپ ای میل روانہ کی اس میں نہایت ہی سبق آموز اور دلچسپ واقعات درج تھے۔ یہ واقعات یا نصیحت آمیز چھوٹی کہانیاں بریگیڈیئر طاہر منیر کی بیٹی نے ان کو روانہ کی تھیں۔ بریگیڈیئر صاحب نے ان کو گوگل (Google) ، سفاری برائوزر (Safari Browser) میں تلاش کیا اور یہ ٹوٹے ہوئے ہار کے ہیروں کی طرح مختلف مقامات پر مل گئیں۔ انہوں نے چھ حوالہ جات دیئے ہیں جو طوالت کی وجہ سے میں درج نہیں کر رہا کیونکہ حوالہ جات سے زیادہ ان کہانیوں کے اندر موجود جذبات و احساسات زیادہ اہم ہیں۔ آپ کی خدمت میں یہ چھوٹی مگر نہایت دلچسپ اور اہم کہانیاں پیش کرتا ہوں۔
(1) آج جب میں گیلے فرش پر پھسلا تو مجھے فوراً ایک لڑکے نے جو وھیل چیئر میں تھا بہت تیزی سے پکڑ لیا اور گرنے سے بچا لیا۔ اگر وہ مجھے نہ پکڑتا تو میرا سر فرش سے ٹکرا جاتا۔ بعد میں اس نے کہا کہ آپ کو یقین آئے یا نہ آئے لیکن یہ حقیقت ہے کہ تین سال پیشتر بالکل اسی طرح گر کر میری کمر میں چوٹ آئی تھی (اور میں اپاہچ ہوگیا تھا)۔2)) آج میرے والد نے مجھ سے کہا، بلا جھجک جائو اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ تم کو ایک کامیاب چیز بنانے کیلئے پیشہ ور ہونے کی

ضرورت نہیں۔ غیر پیشہ ور لوگوں نےگوگل (Google) اور ایپل (Apple) بنائے ہیں۔ پیشہ ور (ماہرین) نے ٹائیٹینک (Titanic) بنایا تھا (آپ کو علم ہے کہ یہ نہایت بڑا اور لگژی مسافر بردار جہاز تھا پہلے ہی سفر پر برف کے بڑے تودے (گلیشئر) سے ٹکرا کر ڈوب گیااورلاتعدادمسافرڈوب کر ہلاک ہوگئے تھے۔3) ) آج میں نے اپنے رہبر سے جو ستّر کے عشرے میں ہیں اور نہایت کامیاب تاجر ہیں یہ سوال پوچھا کہ ان کی اعلیٰ کامیابی کے تین خاص گُر (راز) بتادیں۔ وہ مسکرائے اورکہا۔ وہ پڑھو (مطالعہ کرو) جو کوئی دوسرا نہ پڑھ رہا ہو۔ اس بارے میں سوچو جس کے بارے میں کوئی دوسرا نہ سوچ رہا ہو اور وہ کام کرو جوکوئی دوسرا نہ کررہا ہو۔4) )آج میں نے اپنی دادی (یا نانی۔ انگریزی میں دادا، نانا اور دادی، نانی میں فرق نہیں کرسکتے جب تک کہ یہ نہ لکھا ہو کہ ماں کی طرف سے یا باپ کی طرف سے) سے اپنے نفسیات کے پیپر کی ریسرچ کے مواد کے لئے دریافت کیا کہ وہ کس طرح اپنے الفاظ میں کامیابی کی تشریح یا تعریف کریں گی تو اُنہوں نے جواب دیا کہ جب تم اپنی پچھلی زندگی پر نظر ڈالو اور اس کی یادداشت خوشگوار ہو اور تمہارے چہرے پر مسکراہٹ آجائے تو سمجھ لو کہ یہ کامیابی ہے (یعنی تم نے ایک کامیاب اچھی زندگی گزاری ہے)۔5) ) میں پیدائشی طور پر نابینا ہوں۔ جب میں آٹھ سال کا تھا تو مجھے بیس بال (Baseball) کھیلنے کی خواہش ہوئی۔ میں نے اپنے والد سے پوچھا، ڈیڈی کیا میں بیس بال کھیل سکتا ہوں تو انہوں نے جواب دیا کہ جب تک تم کوشش نہ کرو گے تمہیں کبھی علم نہیں ہوگا۔ جب میں کچھ اور بڑا ہوا تو میں نے پوچھا ڈیڈی کیا میں سرجن بن سکتا ہوں تو انہوں نے کہا بیٹا جب تک تم کوشش نہ کرو گے تمہیں علم نہیں ہوگا۔ میں آج کامیاب سرجن ہوں کیونکہ میں نے کوشش کی اور کامیاب رہا۔6) ) آج جب میں 72 گھنٹوں کی ڈیوٹی کرکے فائر اسٹیشن سے باہر آیا تو ایک خاتون میرے پاس پرچون فروش کی دکان پر دوڑتی ہوئی آئی اور مجھے سینے سے لگا لیا۔ میں نے اس کو نہ پہچانا اور تھوڑا ہچکچایا اور اس کو احساس ہوگیا کہ میں نے اسے نہیں پہچانا۔ اس نے علیحدگی اختیار کی، آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور چہرہ پر نہایت پُرخلوص اور محبت بھرے تاثرات کے ساتھ مجھ سے کہا۔ آپ نے 9 ستمبر 2001ء کو مجھے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جلتے ہوئے ملبے سے نکالا تھا اور محفوظ جگہ پہنچا دیا تھا۔7) ) آج میں کینیا میں سفرکررہا تھا اور راستے میں مجھے زمبابوے کا ایک مہاجر ملا۔ اس نے بتایا کہ اس نے تین دن سے کچھ نہیں کھایاتھا اور بہت ہی لاغر اور کمزور نظر آرہا تھا۔ میرے دوست نے اپنے کھائے ہوئے سینڈوچ کا بقیہ حصّہ اس کو دیا تو اس شخص کی زبان سے پہلے یہ الفاظ نکلے’’ہم مل کر کھا لیتے ہیں‘‘۔8) ) آج میں صبح سات بجے اُٹھا تو بہت بیمار محسوس کررہا تھا مگر مجھے رقم کی ضرورت تھی مجبوراً کام پر چلا گیا۔ شام تین بجے مجھے نوکری سے فارغ کردیا گیا۔ واپسی پر راستے میں میری گاڑی کا پہیہ پنکچر ہو گیا ۔ جب میں نے ڈگی میں اضافی ٹائر دیکھا تو وہ بھی بغیر ہوا کے تھا۔ ایک شخص جو BMW میں گزر رہا تھا رُکا اور مجھے کار میں بٹھا کر اپنی منزل مقصود کی طرف روانہ ہوگیا۔ راستے میں ہم بات چیت کرتے رہے، اس نے مجھے اتارنے سے پہلے ملازمت کی پیشکش کردی اور میں نے دوسرے دن سے اس کے پاس کام کرنا شروع کر دیا۔9) )آج جب میرا والد، تین بھائی اور دو بہنیں میری قریب المرگ والدہ کے بستر کے پاس کھڑے تھے تو والدہ نے آخری الفاظ نہایت پُراثر اور صاف لہجہ میں کہے کہ ہمیں چاہئے تھا کہ اس طرح ہم اکثر اکٹھے ہوجایا کرتے۔
(10) آج میں نے اپنے مرتے ہوئے باپ کی پیشانی پر بوسہ دیا وہ ایک اسپتال میں چھوٹے سے بستر پر لیٹے ہوئے تھے۔ جب ان کی روح پرواز کرگئی تو تقریباً پانچ سیکنڈ بعد مجھے اچانک احساس ہوا کہ میں جب سے جبکہ میں چھوٹا سا بچہ تھا آج پہلی مرتبہ اپنے والد کو بوسہ دیا تھا۔
(11) آج میری آٹھ سالہ بچی نے نہایت ہی پیاری آواز میں مجھ سے کہا کہ ہم کو چاہئے کہ استعمال شدہ چیزوں کو دوبارہ مفید چیزوں کی تیاری کے لئے استعمال کریں یعنی ری سائیکلنگ کریں۔ میں مسکرایا اور پوچھا !کیوں؟ وہ بولی اس لئے کہ ہم اپنی کرہ زمین کو محفوظ کرسکیں۔ میں پھر مسکرایا اور دوبارہ پوچھا کہ وہ کیوں کرہ زمین کو بچانا چاہتی ہے تو وہ بولی یہاں پر ہی تو میں اپنی تمام چیزیں رکھتی ہوں۔
(12) آج وھیل چیئر (معذور لوگوں کی کرسی) میں ایک لڑکے نے مجھے اپنی ٹوٹی ٹانگ کی وجہ سے بیساکھیوں کی مدد سے تکلیف سے چلتا دیکھ کر فوراً پیشکش کی کہ وہ میری کمر پر لٹکا بیگ اور کتابیں اُٹھا کر جائے مقصود تک پہنچا دے گا۔ وہ پورے کیمپس میں یہ سامان لے کر مجھے میرے کلاس روم تک پہنچا کر جانے لگا تو بولا، اُمید ہے کہ اب آپ بہتر محسوس کررہے ہوں گے۔
(13) آج میرا کتا ایک گاڑی کی ٹکّر سے بہت زخمی ہوگیا۔ میں نے اس کو گود میں اُٹھا لیا اور میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوکر گالوں پر بہنے لگے ۔ قبل اس کے کہ میرے کتے کی روح پرواز کرتی اس نے زبان نکال کر میرے گالوں سے آنسو چاٹ لئے۔
یہ آخری واقعہ پڑھ کر خود میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور دو نہایت دلسوز واقعات نگاہوں کے سامنے گھوم گئے۔ آپ نے اخبارات سے اور ٹی وی کے ذریعہ سنا ہوگا کہ مجھے، میری بیگم کو اور بچوں کو جانوروں اور پرندوں سے بے حد پیار و محبت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ میرا تعلق بھوپال سے ہے جہاں گھنے جنگلات، تالاب و دریا تھے۔ لاتعداد جنگلی جانور اور خوبصورت پرندے پائے جاتے تھے۔ بچپن سے ہی والدہ اور والد نے گھر میں بلیاں، کتا اور کبوتر وغیرہ رکھے تھے اور ہمیں ان سے بے حد محبت تھی۔ میری بیگم کی پیدائش جنوبی افریقہ کی ہے اور وہیں پرورش پائی ہے۔ وہاں جانوروں اور پرندوں کی بہتات نے ان کے دل میں ان کیلئے بے حد محبت ڈال دی۔ اس وقت بھی ہمارے گھر میں 14 بلیاں اور ایک کتا ہے۔ گھر کا صحن بندروں، فاختائوں، مینائوں اور چڑیوں سے بھرا رہتا ہے کہ ان کو مونگ پھلیاں، باجرہ،گندم ، روٹیاں اور پھل دیئے جاتے ہیں۔ میں دبئی سے ایک خوبصورت بلی کا بچہ نارنگی رنگ (Ginger) لایا تھا۔ یہ بیگم اور مجھ سے بے حد مانوس ہو گیا تھا اور ہمارے بیڈروم میں بستر کے قریب سوتا تھا۔ میں علی الصبح اُٹھ کر اس کے لئے دودھ گوشت کچن سے لاکر دیتا تھا۔ ایک صبح میں اس کا کھانا لینے کچن گیا اور واپس کمرے میں داخل ہورہا تھا کہ یہ تیزی سے پلنگ پر کودا، میری بیگم کی گود سے لگ کر تڑپا اور اس کی روح پرواز کر گئی۔ یہ منظر، محبت کا،ہم دونوں آج تک نہیں بھولے ہیں۔اس طرح ہم نے (میری بڑی بیٹی دینا نے جو سات برس کی تھی) ایک کتے کا بچہ ایک جاننے والے کے گھر سے لے لیا کہ وہاں اس کے ساتھ نہایت بے رحمی سے سلوک کیا جارہا تھا۔ ہم اس کو گھر لے آئے۔ یہ مقامی دیہاتی کتا تھا ، ہم نے اس کا نام ٹامس رکھ دیا۔ یہ بے حد محبت کرنے اور اعلیٰ سیکورٹی کتا تھا۔ جب بوڑھا ہوگیا تو اس کو چکّر آنے لگے۔ ایک روز اس کی طبیعت خراب ہوئی، میں صوفے پر بیٹھا تھا یہ تیزی سے میرے پاس آیا، پیروں کے پاس بیٹھا، لیٹ کر جاں بحق ہوگیا۔ آج تک میں یہ غم نہ بھلا سکا ہوں۔
(نوٹ) اس ہفتہ کا جوک یعنی مزاحیہ بات وزیر اعظم کا تعلیمی کانفرنس میں دعویٰ تھا کہ حکومت معیاری تعلیم پر خاص توجہ دے رہی ہے۔ وہ ملک جہاں HEC جیسے اہم تعلیمی ادارے کو طویل عرصہ سے لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے وہاں یہ بیان مضحکہ خیز نہیں تو اور کیا ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: