حماقت و متلون مزاجی

آج جب اس موضوع پر کچھ طبع آزمائی کا خیال آیا تو فوراً اپنے پیارے مرحوم دوست مُحسن بھوپالی کی یاد آگئی۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے ان کا تعلق بھی اُسی بھوپال جنت مقام سے تھا جہاں میں پیدا ہوا، پرورش پائی اور میٹرک تک تعلیم حاصل کرکے نئے وطن پاکستان ہجرت کرکے آگیا اور حسب اِستعداد اس کی خدمت کی۔
یہ وہی محسن بھوپالی ہیں جن کے یہ اَشعار ان کو اَمر کرگئے ہیں اور جن کو لوگ غلطی سے جناب سردار عبدالرب نشتر سے منسوب کردیتے ہیں۔ اشعار پیش خدمت ہیں۔
تلقین اعتماد وہ فرما رہے ہیں آج
راہ طلب میں خود جو کبھی معتبر نہ تھے
نیرنگئی سیاستِ دوراں تو دیکھئے
منزل اُنھیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
ان کے جن اَشعار کا اس کالم سے کچھ تعلق بن گیا وہ پیش خدمت ہیں۔
جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے
اس حادثہ وقت کو کیا نام دیا جائے
میخانہ کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہے
کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے
دیکھئے ! حماقت (Idiocy) اور متلون مزاجی (Whims) نے اس دنیا میں اور خاص کر پاکستان میں بڑی تباہی مچائی ہے۔ ان دونوں خصوصیات یا کیفیتوں نے اس ملک کے حکمرانوں پر اس طرح قبضہ کرلیا ہے جس طرح کہاوتوں کے مطابق آسیب یا جن کسی بنی نوع انسان پر قبضہ کرکے اس سے نہایت احمقانہ، غلط اور شرانگیز کام کراتے ہیں۔
میں دوسرے ممالک کے حکمرانوں کی

ایسی حرکات کی جانب تفصیل سے بات نہیں کرنا چاہتا صرف اِشارتاً حوالہ دینا چاہتا ہوں کہ کس طرح نپولین کی روس پر حملہ کی حماقت (غلط فہمی کہ اس کو فتح کرلے گا) اور تباہی، کس طرح ہٹلر کی وہی حماقت اور تباہی، کس طرح روسیوں کی افغانستان پر حملہ اور تباہی، کس طرح امریکیوں کا ویت نام کے معاملات میں دخل دینا اور ذلّت آمیز شکست خواری، امریکہ کا ایران و عراق میں مداخلت اور نہایت بُرے نتائج اور پھر وہی غلطی افغانستان میں اور ذلّت خواری سے پسپائی، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ہمارے ملک اور حکمرانوں کی تاریخ بھی کچھ زیادہ تابناک نہیں رہی ہے۔ اسکندرمرزا کا ایوب خان کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنانا، ایوب خان کا بنیادی جمہوریت کا ڈھکوسلا، یحییٰ خان کو حکومت سونپنا، بھٹو صاحب کا ضیاء الحق کو آرمی چیف بنانا اور صنعتوں اور تعلیمی اداروں کو سرکاری تحویل میں لے لینا۔ جنرل ضیاء کا اسلام کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا، بینظیر اور نواز شریف کا من مانی کرنا اور غلام اسحق خان کے ہاتھوں نکالا جانا، نواز شریف کا ایک نہایت قابل ، شریف النفس اور سینئرموسٹ جنرل علی قلی خان کے بجائے جنرل پرویز مشرف کو جس کا ماضی نہایت داغدار تھا آرمی چیف بنادینا اور زندگی کے دس نہایت قیمتی اور اہم سال ضائع کردینا اور پھانسی سے بال بال بچنا۔ اللہ تعالیٰ نے بھٹو والی تقدیر سے بچالیا۔ غالباً والدین کی دعائیں اور فلاحی کاموں سے مستفید ہونے والوں کی دعائیں کام آگئیں۔
چند اُن اسکیموں کے بارے میں تبصرہ کرنا چاہتا ہوں جن کے بارے میں حکمراں اس غلط فہمی اور خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ اُنھوں نے ایک نہایت ہی اعلیٰ فلاحی کام کیا ہے۔ اوّل تو یہ اسکیمیں ہی متلون مزاجی پر مبنی تھیں اور پھر جس طریقہ سے ان پر عمل درآمد کیا گیا اس میں مناسب پلاننگ کا فقدان تھا ۔ اس میں ایک تو حکمرانوں نے چند مخصوص لوگوں کی خوشنودی حاصل کرنا تھی اور ان کے ماتحت افسران نے صرف اندھے پن سے اس پر عمل کرنا اپنا فرض سمجھ لیا تھا۔
(1) پہلی مثال پیلی ٹیکسیوں کی ہے۔ آپ کو علم ہے کہ اس پر تقریباً 90, 80 کروڑ ڈالر ضائع ہوئے۔ عیّار اور مکار لوگوں نے گاڑیاں بغیر ڈیوٹی کے حاصل کر لیں جس سے ملکی خزانے کو اربوں روپیہ کا نقصان ہوا یہی نہیں بلکہ لوگوں نے مرسیڈیز کاریں اس کی آڑ میں منگوالیں، کچھ دن وہ پیلی رہیں اور پھر لوگوں نے ان کا رنگ کالا کروالیا اور مزے اُڑاتے پھرے۔ کچھ دن پیشتر وزیر اعظم نواز شریف صاحب نے خود اعتراف کیا کہ اس اِسکیم میں بے ضابطگیاں ہوئی تھیں۔ دیکھئے ہونا یہ چاہئے تھا کہ ایسی ٹیکسیوں کے مالکوں پر سفید یونیفارم اور پی کیپ لازمی قرار دینا تھی اور اسکی خلاف ورزی پر گاڑی کی ضبطگی لازمی تھی۔ مناسب پلاننگ کے فقدان سے جو ملک کو نقصان ہوا اسکی تلافی کسی نے نہ کی۔ صرف چھوٹی گاڑیوں کی اجازت ہونا تھی۔
(2) دوسری ایسی ہی اسکیم لیپ ٹاپ کی تقسیم تھی۔ کچھ اسٹوڈنٹس نے کئی عدد حاصل کرلئے اور جیسا کہ خطرہ تھا کہ اس میں گھپلا ہوگا وہی ہوا۔ چند دن بعد وہی لیپ ٹاپ نہایت کم قیمتوں پر بازاروں میں بک رہے تھے ۔ اس سے بہتر تھا کہ مختلف علاقوں میں کمپیوٹر سینٹر بنادیے جاتے اور وہاں دو تین انسٹرکٹر لگا کر طلبأ و طالبات کو استعمال کی اجازت دیدیتے۔ اس اسکیم پر بھی بھاری رقم ضائع ہوگئی۔
(3) پچھلی حکومت نے ایک انکم سپورٹ فنڈ جاری کیا، سینکڑوں ارب روپے ایک ناتجربہ کارمعمولی تعلیمیافتہ خاتون جو کبھی PTV کے ڈراموں میں معمولی سے معاوضہ پر کام کرتی تھیں کے ذریعہ اپنوں کو ہی لٹادئیے گئے۔ کہیں اس کا مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا اور اب ڈینگیں ماری جارہی ہیں کہ اس اسکیم نے غربت دور کردی، مجھے تو غربت میں اضافہ نظر آیاہے۔
(4)ایک نئی ایسی ہی مشکوک اسکیم کا اعلان کیا گیا ہے کہ 100 ارب روپیہ نوجوانوں کو روزگار بنانے کیلئے قرض دیا جائیگا۔ آپ خود ہی سوچئے کہ وزیر اعظم نے اتنی بھاری رقم (پچھلی حکومت کی پیروی میں) اپنی ناتجربہ کار بیٹی کے حوالے کرنے کا عندیہ دیا ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کے شوہر نامدار کا نام ان ممبران پارلیمنٹ میں نمایاں ہے جو ٹیکس وغیرہ نہیں دیتے اور انھوں نے FBR کو تفصیل وغیرہ مہیا نہیں کی ہیں۔ ایسے لوگوں کے ہاتھ میں اتنی بھاری رقم دینے کا وہی نتیجہ نکلے گا جو بینظیر اور زرداری کی پارٹنرشپ میں نکلا تھا اور اربوں روپے غیرملکی بنکوں کی زینت بن جائینگے۔ اس سے بہتر اس رقم کا یہ مصرف ہوتا کہ ایران کی سرحد کی جانب گیس پائپ لائن بچھانے پر لگا دیا جاتا کہ بہت جلد ایران پر سے پابندیاں اُٹھ جائیںگی اور ہم فوراً گیس پائپ لائن کو ملا کر ایران سے گیس لے کر گیس کے بحران سے نجات حاصل کرکے اپنی انڈسٹری کو بھرپور چلا کر قیمتی غیرملکی سرمایہ حاصل کرنے لگتے اور لاکھوں کارندوں کے روزگار کا بندوبست بھی ہوجاتا۔
دیکھئے اگر آپ اس خام خیالی کا شکار ہیں کہ نپولین، ہٹلر، نیرو یا ہمارے سابق حکمرانوں کی احمقانہ حرکتیں تاریخ کا حصّہ بن چکی ہیں تو آپ کو ہمارے موجودہ حکمرانوں کی حرکات کو دیکھ کر یہ خیال بدلنا پڑے گا۔ مثلاً چند دن پیشتر لاہور میں تقریباً 30 ہزار (اسکولوں اور کالجوں کے) طلبأ کو گھیر کر ایک میدان میں کھڑا کردیا گیا کہ جھنڈا بنائیں گے۔ آپ ذرا وقت کا ضیاع دیکھئے۔کتنے ہزار مزید تماش بینوں اور سیکیورٹی افراد کے وقت کا ضیاع ۔ گویا کئی لاکھ قیمتی گھنٹے ایک بے مقصد ڈھکوسلے اور متلون مزاجی کا شکار بن گئے، امتحانات ملتوی کردیئے گئے اور طلبأ کو تعلیمی سرگرمیوں کے بجائے ایک فضول کام میں لگا دیا گیا۔ کیا یہی طریقہ کار ترقی کا ہے۔ کیا کسی ترقی یافتہ ملک میں ایسی احمقانہ حرکت دیکھی ہے۔ مغربی ممالک ہم جیسے احمقوں کو ایسے بے سود کاموں میں الجھا کر اندھیرے میں رکھنا چاہتے ہیں اور کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ابھی یہ احمقانہ عمل گزرنے نہیں پایا تھا کہ چند مزید احمقوں نے ڈیڑھ لاکھ طلبأ و طالبات کو جانوروں کے ریوڑ بنا کر میدان میں اکٹھے کرنے کا پروگرام بنا لیا۔ تمام تعلیمی اداروں میں امتحانات ملتوی کردیئے گئے اور ان کے سربراہوں کو حکم دیا گیا کہ کم ازکم 50 فیصد طلبأ، طالبات کو متلون مزاجی کے اس مظاہرے میں شرکت کو لازمی بنائیں۔ حکمراں طبقہ ملک کی نہایت خراب معاشی حالت سے اسی طرح بے بہرہ ہے جس طرح نیرو روم میں لگی آگ سے آنکھیں بند کرکے بانسری بجا رہا تھا یہی حال ہمارے حکمرانوں کا ہے۔ ہر سمجھدار اور محب وطن پاکستانی حیران ہے پریشان ہے کہ حکمران کیوں شتر مرغ کی طرح سر ریت میں دبا کر آنے والے خطرناک حالات نہیں دیکھ رہے کہ وہ ملک جو لاتعداد مصیبتوں (غربت، بیروزگاری، پسماندگی، امن و امان کا فقدان، گیس و بجلی کی لوڈشیڈنگ وغیرہ) اور پریشانیوں میں گھرا ہے اس کے حکمرانوں کو یہ احساس نہیں کہ نوجوانوں کے لاکھوں گھنٹے ایسی بے سود، بے مقصد سرگرمیوں میں ضائع کرنے کا کیا جواز ہے۔ وقت دنیا کا اہم ترین اثاثہ ہے اس کا ضیاع ہے۔ مولانا روم نے وقت کے ضیاع کو اپنے روایتی نہایت فلسفیانہ اور عقلمندانہ طریقہ سے برف سے تشبیہ دی ہے کہ وہ مسلسل پگھلتی جاتی ہے اور وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ مسلمان مفکرین نے وقت کو ماضی، حال و مستقبل میں تقسیم کیا ہے کہ ہم اس کی اہمیت و قدر کو سمجھ سکیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ماضی اور حال کی بنیاد پر ہمارے لئے ہمارا مستقبل ہی بہت اہم ہے۔ ماضی سے ہم سبق حاصل کرتے ہیں اور مستقبل کی راہ متعین کرتے ہیں، حال تو ایک پلک برابر ہے۔
آنکھ جھپکتے ہی ماضی بن جاتا ہے۔ ہمارے لئے ہمارا مستقبل ہی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ عقلمند حکمراں اور قومیں تمام توجہ مستقبل پر مرکوز رکھتی ہیں اور ترقی کی راہوں پر گامزن رہتی ہیں لیکن اس مملکت خداداد پاکستان میں وقت سب سے اَرزاں چیز ہے اس کوخریدنے یا ضائع کرنے میں حکمران کوئی رقم خرچ ہوتے نہیں دیکھتے بس بے دریغ اس کا ضیاع ایک قومی مشغلہ کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ ہڑتالیں کرانا، دھرنے دینا، بے مقصد و بلا سود لاکھوں لوگوں کے کروڑوں گھنٹے ضائع کرنا ان کے لئے کوئی بُری یا نقصان دہ بات ہی نہیں ہے۔ مصیبت یہ ہے کہ ہر دور میں اور ہر قوم میں کچھ ایسے حکمراں پیدا ہوتے ہیں جو متلون مزاج اور عقل و فہم سے بے بہرہ ہوتے ہیں، احمقانہ اقدامات کرتے ہیں اور اس خوش فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ انھوں نے تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے ۔ ہاں! تاریخی ہوتا ہے مگر جہالت و بیوقوفی کے زمرے میں لکھا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ کہف (آیت ۱۰۴) میں فرمایا ہے۔ ’’یہ وہ لوگ ہیں جن کی سعی دنیا کی زندگی میں برباد ہوگئی اور وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ اچھے کام کررہے ہیں‘‘۔ اے اللہ تعالیٰ ان کو عقل و فہم عطا کر اگر تو ان کو اس قابل نہیں سمجھتا تو ہمیں ان سے بہتر ، اہل، راست گو، ایمان دار اور غیرت مند حکمران عطا فرما۔ آمین!

Leave a Reply

%d bloggers like this: