اسلامی تاریخ ۔ حسب خواہش فروگزاشت

میرے نہایت عزیز دوست اور ملک کے قابل قانون داں جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد جاوید اقبال جعفری آف سلارپور نے چند ماہ پیشتر مجھے پاک ٹی ہائوس سے محترمہ ماہ نور خان کا ایک نہایت ہی فکر انگیز آرٹیکل بھیجا تھا۔ میں اس سے بے حد متاثر ہوا کہ کسی نے اس قدر صاف گوئی سے ہمارے تاریخ دانوں کی حسب ِخواہش فروگزاشت کا اسلامی تاریخ سے حوالہ دیا ہے کیونکہ یہ نہایت اہم اور فکرانگیز مضمون ہے میں محترمہ ماہ نور خان، بیرسٹر جعفری صاحب اور پاک ٹی ہائوس کی اجازت سے اس کو عوام کی کثیر تعداد کی خدمت میں پیش کررہا ہوں۔ اس کالم کے ذریعہ نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک پاکستانی بھی استفادہ کرسکیں گے۔ آرٹیکل انگریزی زبان میں ہے اور اس کا عنوان ہے “The Convenient Omissions from Islamic History” اور اس کی مُصنفہ Ms Mahnoor Khan ہیں۔ اردو میں آپ اس کو’’ اسلامی تاریخ میں حسب ِخواہش فروگزاشت‘‘ کہہ سکتے ہیں۔
قبل اس کے کہ میں اس اہم آرٹیکل کو پیش کروں اور کچھ تبصرہ کروں میں اپنے عزیز دوست بیرسٹر محمد اقبال جعفری کی ہمہ گیر شخصیت پر کچھ کہنا چاہتا ہوں۔جعفری صاحب بیرسٹر ہیں، ایک سند یافتہ اکائونٹنٹ ہیں،ایک تاریخ داں ہیں۔ انہوں نے نہایت امتیازی ایوارڈ Biennial بھی حاصل کیا ہے۔ انگلستان کے سر ہربرٹ ریڈ نے ان کو ایک شاندار شخصیت کے خطاب سے نوازا ہے اور لندن ٹائمز نے

ان کے آرٹس کی بے حد تعریف کی ہے اور اسے اعلیٰ قرار دیا ہے۔آپ پنجاب یونیورسٹی، ہارورڈ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف اِلے نائے کے تعلیم یافتہ ہیں۔ امریکہ میں اٹارنی آف لا رہے ہیں، چھ یونیورسٹیوں میں بطور پروفیسر آف لا کی خدمات انجام دی ہیں۔ آپ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے اعلیٰ افسر رہے ہیں اور نہایت معزز رائل سوسائٹی آف آرٹس انگلینڈ کے فیلو ہیں اور آپ نے انگلینڈ کی ممتاز یونیورسٹی ریڈنگ سے ڈاکٹریٹ بھی کی ہے۔ آپ کی ملک میں شہرت عوام کی فلاح و بہبود اور انسانی حقوق کے لئے قانونی چارہ جوئی کی وجہ سے ہے۔ اس نیک کام کے لئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔پاک ٹی ہائوس مال روڈ پر واقع ہے۔ تقسیم سے پہلے یہ ایک سکھ کی ملکیت تھی جس کا بھائی انڈین کافی ہائوس چلاتا تھا اور اس ٹی ہائوس کا نام انڈین ٹی ہائوس تھا۔ تقسیم کے وقت دونوں بھائی دہلی چلے گئے اور وہاں انہی ناموں سے اپنا بزنس شروع کردیا۔ لاہور کے ٹی ہائوس کو مرحوم جناب سراج الدین صاحب نے آباد کیا اور اس کا نام پاک ٹی ہائوس رکھ دیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی حالت خراب ہوتی گئی مگر حکومت کی بروقت ایک کروڑ کی مالی امداد سے یہ ایک نہایت اچھی جگہ بن گئی جہاں لاہور کے مشہور مصنف، ادیب، شاعر، تاریخ داں، دانشور جمع ہوتے ہیں، بحث و مباحثہ اور تبادلہ خیال کرتے ہیں اور باقاعدگی سے مشاعرہ بھی منعقد کیا جاتا ہے۔ جعفری صاحب نے دعوت دی ہے جو میں نے قبول کرلی ہے اور اِنشاء اللہ جلد ہی وہاں جائوں گا اور اس تاریخی مقام میں چائے پینے کی سعادت حاصل کروں گا۔پاک ٹی ہائوس نے اعلیٰ تبصرے کے ساتھ ماہ نور کے آرٹیکل کو پوسٹ کیا ہے۔’’یہ ایک نہایت فکرانگیز اور عقلمندانہ طریقہ سے لکھا گیا آرٹیکل مس ماہ نور نے ہمیں روانہ کیا ہے۔ انہوں نے ایک نہایت اہم نکتہ اُٹھایا ہے کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کی ذہنی عادت یا سوچ اور کسی حد تک دہشت گردی، تاریخ پڑھانے کا موجودہ طریقہ کار ہے۔ ‘‘میں اب ماہ نور خان کے آرٹیکل کے اقتباسات اور ان پر اپنا تبصرہ پیش کرتا ہوں۔
ماہ نور خان۔کیا آپ کو واقعی اسلامی تاریخ کی کچھ سوجھ بوجھ ہے؟ پاکستان میں اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک تاریخ مختلف طریقوں سے پڑھائی جاتی ہے۔ کہیں یہ خود ایک مضمون ہے اور کہیں مختلف مضامین میں شامل کرلی جاتی ہے۔ میرے خیال میں تاریخ ایک اہم مضمون ہے اور تعلیمی نصاب کا لازمی حصّہ ہونا چاہئے۔ اگر اچھے طریقہ سے پڑھائی جائے تو تاریخ ایک نہایت اہم اور دلچسپ مضمون بن سکتا ہے کیونکہ یہ ہمیں گزشتہ دور اور واقعات سے واقفیت میسر کرتا ہے اور ہمارا اس دور اور عوام سے وراثتی رشتہ بتاتا ہے۔ڈاکٹر خان۔مجھے یقین ہے کہ عوام کی اکثریت تاریخ سے بے بہرہ ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح کہ عوامی نمائندے دستور کی بات تو بہت کرتے ہیں مگر نہ ہی دستور پڑھا ہوتا ہے اور نہ ہی اس سے واقف ہوتے ہیں۔ ماہ نور خان بالکل بجا کہتی ہیں کہ ہمیں تاریخ کھچڑی کی طرح پڑھائی جاتی ہے، کہیں خالص مضمون کے طور پر اور کہیں مختلف مضامین میں ڈال کر جس طرح دھنیا مرچ ہر ڈش میں ملا دیئے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ ایک نہایت ہی اہم مضمون ہے جو ہمارے بچوں کو نہایت ایمانداری و سچائی سے پڑھائی جانا چاہئے۔ یہ ہمیں اپنے آبائو اجداد کی ترقی اور زوال کی وجوہات بتاتی ہے، ہماری عزّت و ذلّت کی وجہ بتاتی ہے۔ آپ نے لاکھ بار یہ سنا ہے کہ جس نے تاریخ سے سبق حاصل نہ کیا وہ قوم تباہ ہوگئی۔ بدقسمتی پاکستانی حکمرانوں اور عوام کی یہی حالت ہے۔ ہمارا مستقبل کچھ زیادہ روشن نظر نہیں آرہا ہے۔
ماہ نور خان۔ہمارے یہاں بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تاریخ کو ایک بے ڈھنگے پروپیگنڈے کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ مجھے علم نہیں کہ دوسرے ممالک میں اسکول کے بچوں کو کس طرح تاریخ پڑھائی جاتی ہے لیکن میں یہ ضرور جانتی ہوں کہ پاکستان میں اس کو باربار دہرایا جاتا ہے یہی نہیں بلکہ اپنی مرضی سے اس میں سے وہ باتیں حذف کردیتے ہیں جن سے ان کے بارے میں بُری رائے قائم کی جاسکے۔اس عمل سے یہ تاریخ غیر دلچسپ بن جاتی ہے۔ تمام زور اس پر دیا جاتا ہے کہ نام حفظ کئے جائیں، تاریخیں یاد رکھی جائیں اور ان جنگوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے جو جیتی گئی تھیں تاکہ لڑنے والے لوگوں کی کثرت سے تعریف کے پل باندھے جائیں۔ اس تمام مشق کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ عہد قدیم کے مسلمان فرشتہ خصلت تھے اور مخلص، ہمدرد اور خوش اخلاق تھے۔ یہی نہیں بلکہ ہر اسلامی حکومت کے زوال کا الزام اچھے مسلمان نہ ہونے پر لگایا اور انگریزوں، فرانسیسیوں اور ہندوئوں کے زیراثرو زیرتسلط ہونے کی وجہ بتائی۔خواہ یہ مقامی یا نوآبادیاتی قوتیں ہوں۔ڈاکٹر خان۔ ماہ نور نے ایک ایک لفظ سچ کہا ہے۔پرانے زمانے میں مسلم مورخین بہت مستند مانے جاتے تھے۔آپ پرانی تاریخی کتابیں پڑھیں تو آپ کو ہر واقعہ سے متعلق لوگوں کے نام، حسب و نسب نظر آئے گا۔ انہوں نے ہر واقعہ، اچھا یا بُرا، نہایت صاف گوئی سے تحریر کیا تھا۔تاریخ میں تبدیلی،واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی روایت بہت بعد میں آئی ہے اور وہ بھی جب ڈکٹیٹروں نے اپنا قبضہ جمانا شروع کردیا۔ ہر ایک نے اپنی تعریف میں قصیدے لکھوائے، جنگ ہارنے کے باوجود فیلڈ مارشل بن گئے، خاص طور پر عرب ممالک میں اس لعنت نے بہت تیزی سے جڑیں پکڑلیں اور تاریخ کو مسخ کرنا شروع کردیا۔ یہی کیفیت برصغیر میں بھی جڑیں پکڑ گئی۔یہاں بھی ہر بات کو اپنے نقطہ نظر سے اور اپنی بڑ مارنے کے لئے تاریخ کا حصّہ بنا دیا گیا لیکن میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ لعنت مغربی تہذیب یافتہ ممالک میں بھی رائج ہے۔ آپ امریکیوں، انگریزوں، فرانسیسیوں اور دوسرے ممالک کے لیڈروں کے بیانات پڑھیں تو جھوٹ سے بھرے ہوتے ہیں۔ سب سے بڑی مثال عراق میں مہلک ہتھیاروں کی موجودگی اور افغانستان پر 9/11کے حملہ کا الزام ہے۔جھوٹ بول کر لاکھوں بے گناہ انسان قتل کردیئے گئے۔
ماہ نور ۔ہم یہ چیزبرسوں سے پڑھ رہے ہیں اور غالباً اگلے 100برس بھی یہی پڑھتے رہیں گے۔ یہ مناسب ہوتا کہ یہ ہم کرتے رہتے اگر یہ ایک ایسا طریقہ کار ہوتا جس سے ہمارے عوام کی اکثریت کو اچھا، اُمید افزا احساس ہوتا جن کو آج کل ایک تاریک مستقبل نظر آرہا ہے، خاص طور پر اپنے پرانے دور کے مسلمانوں مثلاً عباسی حکمرانوں کے دور عوام کے مقابلہ میں۔ لیکن پرانی کھوئی ہوئی عزّت و اقتدار کی یاد اور جستجو نے ایک خوفناک رنگ اختیار کر لیا ہے کہ موجودہ دور کے مسلمان اب ہر جائز، ناجائز طریقہ سے وہ کھویا ہوا وقار، عزت، منزلت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس خواہش نے ایک حد پار کر کے طالبان کی شکل اختیار کرلی ہے۔ عام لوگوں میں دل کے اندر یہ تاثر ہے کہ اگر یہودی اور ہندو ہمارے خلاف سازشیں بند کر دیں اور ہمارے معاملات میں دخل اندازی بند کر دیں۔
تو ہم اپنی کھوئی عزّت و وقار حاصل کر سکتے ہیں اور اگر ہم سیاسی، معاشرتی معاملات میں زیادہ مذہب پرست بن جائیں، خاص طور پر اگر قدامت پسند اقتدار میں آجائیں تو ہم اپنے پرانے کھوئے ہوئے سنہرے دور کو واپس حاصل کر سکتے ہیں۔ اس تمام تک بندی کا صرف یہ نتیجہ نکلا ہے کہ (ہمارے دماغ مائوف ہو گئے ہیں) ہم عقل مندانہ و حقیقت پسندانہ طریقہ سے روزمرہ یعنی عصر جدید کے مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل تلاش کرنے سے معذور ہوگئے ہیں، نااہل ہوگئے ہیں۔ڈاکٹر خان۔وہ جو کیل کے سر پر ہتھوڑا مارنے کی کہاوت ہے وہ ماہ نور نے کی ہے۔انہوں نے بہت ہی صاف اور غیر متعصبانہ انداز میں اس خرابی پر بہت اچھی روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے ان لاتعداد برائیوں کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے جن کی وجہ سے ہمارے معاشرہ میں برائیاں سرایت کر گئی ہیں۔ اس کی ایک اہم اور خاص وجہ یہاں جنگلی جڑی بوٹیوں کی طرح ہر فقہ کے مدارس ہیں جہاں ’’اپنا اسلام‘‘ پڑھایا جاتا ہے، جہاں ایک دوسرے فرقے کو کافر، ملحد، منافق کہا جاتا ہے، جہاں انہیں واجب القتل قرار دیا جاتا ہے۔ اس قسم کی تعلیم کے نتیجے میں لاتعداد سیاسی پارٹیاں بن گئی ہیں اور ہر پارٹی اپنے منشور میں اپنی مرضی کے اسلام کا پرچار کرنے لگی ہے۔ ماہ نور اس تجزیہ میں بالکل ٹھیک ہیں کہ اس قسم کی سوچ رکھنے والے مذہبی قدامت پسند علماء اور ان کے پیروکار اس اندھے یقین پر قائم ہیں کہ اگر تمام مسلمان صدیوں پرانے قدامت پسندانہ نظام پر عمل کرنے لگیں اور دور جدید کی ترقی سے آنکھیں بند کرلیں تو ہم پھر اپنی کھوئی ہوئی عزّت و وقار، شان و شوکت و اقتدار حاصل کرسکتے ہیں حالانکہ ہماری تاریخ کے کارنامے، فتوحات، ترقی اس وقت کے حکمرانوں کی دوراندیشی اور اس دور کی ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنے کی وجہ سے تھی۔ یہ دن میں چاند کی روشنی کی خواہش کی طرح بیوقوفی ہے۔ عہد قدیم کے کامیاب حکمراں نہایت عقلمند، حالات حاضرہ سے واقف ٹیکنالوجی میں ماہر تھے اور اس کے ساتھ وہ اللہ کے فرمان و سنت رسول پر عمل کرتے تھے۔ دکھاوا نام کو نہ تھا۔ راست گو، ایماندار، سادگی پسند تھے۔ یہ وہ خصوصیات تھیں جو اب موجودہ حکمرانوں اور مذہبی رہنمائوں میں عنقا ہیں۔ وہ اپنے سے کئی گنا طاقتور اور تعداد میں کئی گنا زیادہ افواج کو شکست دینے میں کامیاب ہو جاتے تھے، مذہب کو وہ ایک ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کرتے تھے اور انہوں نے کوئی جنگ آیت کریمہ کی مدد سے جیتنے کی کوشش نہیں کی۔ہمارے ملک کی ابتر حالت کی ذمّہ داری ان مختلف مذہبی فرقوں اور حکمرانوں پر برابر عائد ہوتی ہے۔ دونوں اپنے فرائض سے غافل رہے ہیں اور ہمیں دنیا کے بدترین ممالک کی فہرست میں شامل کردیا ہے۔ یہ لوگ حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت عمر بن
عبدالعزیزؒ اور ہارون الرشید اور سلطان محمد فاتح جیسے حکمرانوں کی طرز زندگی اور طرز حکومت سے کچھ نہیں سیکھ سکے ہیں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: