چند نوادرات…سحر ہونے تک

0 2

اس وقت ملک بے حد نازک دور سے گزر رہا ہے۔ روز ہی دہشت گردی کے واقعات، خودکش حملے، تخریبی کارروائیاں، ٹی وی، اخبارات میں کبھی ہی کوئی اچھی خبر ملتی ہے۔ صرف کبھی کبھی ہمارے نوجوان بچے اور بچیاں اسپورٹس میں کامیابی حاصل کرکے خوشی کے چند لمحات پیش کردیتے ہیں۔ آج ان تمام ناخوشگوار باتوں کو نظر انداز کرکے چند نہایت ہی اچھی و انمول کتب کے بارے میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔ یہ کتب ہمارے قیمتی ورثہ کا حصّہ ہیں اور ہمیں اپنے ادب و علمی ورثہ سے واقف ہونا ضروری ہے۔
(1) پہلے نہایت ہی اہم و معلوماتی کتاب ’’معاملات رسول ﷺ‘‘ ہے ۔ اس کو ہمارے سابق سیاستدان، اہل علم و دانشور جناب قیوم نظامی صاحب نے مرتب کیا ہے۔ یہ کتاب ہر مسلمان گھر اور ہر لائبریری کی زینت ہونا چاہئے۔ پچھلے چودہ سو سال سے زیادہ عرصہ سے ہمارے پیارے رسول صلعم کی سیرت طیبہ پر لاتعداد کتب تحریر کی جاچکی ہیں۔ ہر مصنف ایک نئے پہلو سے آپﷺ کی سیرت پر روشنی ڈالتا ہے اور اپنے پیارے رسول ﷺؐ سے والہانہ محبت کا اظہار کرتا ہے۔ جس طرح اللہ رب العزّت کے فرمان کے مطابق اگر دنیا کے تمام سمندر روشنائی بن جائیں اور تمام درخت قلم بن جائیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا پوری طرح نہیں بیان کرسکتے۔ اسی طرح کئی سمندروں کا پانی اگر روشنائی بن جائے اور کئی کروڑ درخت قلم بن جائیں

تو وہ ہمارے پیارے نبی کریم کی سیرت طیبہ کو پوری طرح نہیں بیان کرسکتے۔ جناب قیوم نظامی کی یہ کتاب رسول اللہﷺ کی عملی زندگی پر مشتمل سیرت طیبہ کی منفرد اور مکمل کتاب ہے جو مستند حوالوں پر مبنی ہے۔
اس نادر کتاب کی تقریب رونمائی پچھلے دنوں ٹیک سوسائٹی کلب لاہور میں نہایت پُروقار طریقہ سے کی گئی۔ مجھے اس محفل کے چیف گیسٹ کے اعزاز سے نوازا گیا۔ ہال سامعین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور لاتعداد لوگ کھڑے کھڑے شرکت کرتے رہے۔ خصوصی مہمانان و مقررین میں محترمہ جسٹس ناصرہ جاوید صاحبہ، پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ملک کے مایہ ناز ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران (میرے عزیز دوست بھی ہیں)، برادران لیاقت بلوچ صاحب، مجیب الرحمن شامی صاحب، انجینئر عبدالمجید خان، زبیر شیخ، جمیل گشکوری، نمایاں تھے۔ حاضرین میں عزیز دوست جنرل ضیاء الدین بٹ اور سابق سفیر اور وزیر محترمہ سیدہ عابدہ حسین موجود تھے۔ تمام مقررین نے کتاب کے اعلیٰ مواد پر خوبصورت تبصرے کئے اور جناب قیّوم نظامی صاحب کی محنت اور عشق رسول ﷺ کو بہت سراہا۔
دیکھئے اس مختصر سے کالم میں اس بیش بہا خزینہ معلومات کو ایک کوزہ میں بند نہیں کیا جاسکتا۔اس کتاب کی اہمیت کا صحیح اندازہ کرنے اور اس سے صحیح طریقہ سے استفادہ کرنے کے لئے آپ اس کا مطالعہ کیجئے اور سیرت طیبہ کی روشنی میں اپنے کردار و اطوار کو بہتر بنانے کی کوشش کیجئے۔
(2)دوسری کتاب ، ’’متاعِ ضمیر‘‘ جنرل احتشام ضمیر کی تصنیف ہے۔ آپ اردو ادب میں مزاح نگاری کے شہنشاہ سید ضمیر جعفری کے صاحبزادے ہیں اور بذات خود ایک نہایت کامیاب فوجی اور اچھے ادیب ہیں۔ فوج میں اعلیٰ عہدوں پر رہے ہیں اور نہایت اعلیٰ کالم نگار ہیں اور یہ کتاب ان کے کالموں کا مجموعہ ہے۔ مرحوم ضمیر جعفری صاحب میرے عزیز دوست تھے اور مجھ سے بے حد محبت کرتے تھے۔ انھوں نے میرے لئے بہت روح پرور قصیدے بھی لکھے تھے۔ مشہور ہندو کہاوت ہے ماں پر بیٹا جاتا ہے اور گھوڑا باپ پر جاتا ہے جس کو انگریزوں نے اپنا کر کہا ہے کہ ایک سیب اپنی جڑ سے دور نہیں گرتا یعنی سیب کا درخت سیب دیتا ہے اور گلاب کا پودا گلاب اور ایک اچھے انسان کی اولاد بھی اچھی ہی ہوتی ہے۔ محترم ضمیر جعفری کا فن تحریر اور اردو ادب سے محبت ان کے صاحبزادے جنرل احتشام ضمیر کی رَگ رَگ میں سمائی ہوئی ہے۔ ان کے کالم نہ صرف مزاح سے پُر ہیں بلکہ حالات حاضرہ، خاص طور پر ملکی حالت پر ایک مستند تحریر ہیں۔
اس نہایت دلچسپ کتاب کو نستعلیق مطبوعات، اردو بازار لاہور نے بہت اچھے پیرایہ میں شائع کیا ہے۔
جنرل احتشام ضمیر کی کتاب پر اردو ادب کی قدآور اور دانشور شخصیات جن میں جناب عطاء الحق قاسمی، جناب جمیل یوسف، پروفیسر ڈاکٹر انور نسیم (مایہ ناز سائنسدان و میرے پیارے دوست)، محترمہ روبینہ تحسین بینا، جناب سرمد سالک، سرفراز شاہد صاحب، ڈاکٹر انعام الحق جاوید صاحب، عزیز دوست و مشہور کالم نگار جناب جبّار مرزا صاحب، جناب عامر بن علی صاحب اور مشہور و معروف صحافی جناب الطاف حسن قریشی صاحب نے کتاب کے کالموں کے معیار کے مطابق تبصرے کئے ہیں جو کتاب میں شامل ہیں۔ میں اس میدان میں خود کو طفل مکتب سمجھتا ہوں اور ان انتہائی قیمتی آراء کی موجودگی میں مزید کچھ کہنے کی جسارت نہیں ہے۔ میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جنرل احتشام ضمیر کے قلم میں مزید زور و قوت عطا کرے۔ آمین۔
(3)تیسری نہایت اہم تاریخی کتاب ’’راجگان میوات۔ جادوبنسی راجپوت خانزادہ قبیلے کی تاریخ‘‘ ہے جس کو جناب پروفیسر خانزادہ امان اللہ ’نوشہروی‘ نے مرتب کیا ہے۔ اس کتاب کو نہایت ہی خوبصورت پیرایہ میں عبارت پرنٹنگ پریس حیدرآباد (سندھ) نے شائع کیا۔ اس کا کور یعنی ٹائٹل صفحہ اور فلیپ نہایت ہی دلفریب خاکوں سے مرصع ہیں۔ خاص طور پر راجہ بہادر ناصر خان مورث اعلیٰ خانزادہ والیٔ میوات کی تصویر قابل دید ہے۔ پروفیسر خانزادہ اَمان اللہ نوشہروی نے مرحوم شرف الدین احمد خان ’شرف‘ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انھوں نے مرحوم کی تصنیف کردہ کتاب ’’تاریخ مرقع میوات‘‘ کو آگے بڑھا کر اپنے میواتی ہونے کا فرض ادا کیا ہے۔
آپ کو علم ہے کہ میرا تعلق بھوپال ریاست سے ہے۔ یہ وسط ہند میں نہایت ہی خوبصورت جنگلات، جھیلوں، جنگلی جانوروں، خوبصورت پرندوں، کا علاقہ تھا۔ تمام مسلمانوں کا تعلق تیراہ کے یوسف زئی اور اورکزئی قبائل سے تھا۔ اس ناتے سے بھوپالی پٹھانوں کا ہندوستان کے دوسرے علاقوں کے پٹھانوں سے بہت قریبی تعلقات تھے۔ رامپور، ٹونک، راجستھان، مشرقی پنجاب، جلال آباد، مظفرنگر پٹودی، سہارنپور، میوات کے راجپوتوں، پٹھانوں سے رشتہ داریاں بھی تھیں اور وہاں کے تعلیم یافتہ لوگ بھوپال میں ملازمت کرنے آتے تھے۔ نواب صاحب اور ان سے پہلے بیگمات بھوپال ان کو بھوپال آنے کی دعوت دیا کرتے تھے۔ تقسیم ہند کے وقت جب ان ہندو اکثریت علاقوں میں نسلی فسادات ہوئے تو یہاں کے لاتعداد مسلمان بھوپال آگئے تھے اور جب حالات معمول پر آئے تو پھر یہ لوگ براستہ کھوکھراپار پاکستان چلے گئے۔ اَلور اور مشرقی پنجاب کے علاقہ جات بھوپال سے سینکڑوں میل دور تھے مگر اپنے اقربا کی بھوپال میں موجودگی کی وجہ سے یہ لوگ بھوپال آگئے تھے اور بھوپال کے شہریوں نے حسب اسلامی روایات ان کو کھلے ہاتھوں خوش آمدید کہا اور دیکھ بھال کی۔ راجستھان، الور، گوالیار کے مسلمان مہاجر زیادہ تر سندھ میں آکر بس گئے تھے۔
541 صفحات پر مشتمل یہ تاریخ راجگان میوات ایک انمول کتاب ہے۔ یوں تو ہر میواتی راجپوت کو اسے اپنے گھر میں رکھنا اور اپنے بچوں کو پڑھانا چاہئے مگر ہمارے ملک کے مدارس کی لائبریریوں میں اس کو مناسب جگہ دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ پروفیسر خانزادہ امان اللہ نوشہروی کی یہ کاوش نہایت قابل تحسین ہے۔ ہندوستان کی ریاستوں اور ان کے حکمرانوں اور رعایا کی تاریخ زیادہ انگریز پولیٹیکل ایجنٹوں کی مرہون منت ہے۔ جہاں بھی انگریز افسران تعینات ہوتے تھے وہ اس علاقہ کی تاریخ، وہاں کی آب و ہوا، پھل، سبزیوں اور جنگلی جانوروں اور پرندوں کے بارے میں نہایت مستند ریکارڈ تیار کرتے تھے اور یہ عموماً گزٹیر کے نام سے شائع ہوتے تھے اور ابھی تک انگلستان کی لائبریریوں کی زینت ہیں۔ پروفیسر خانزادہ امان اللہ نوشہروی نے نہایت تفصیل سے راجگان میوات کی تاریخ لکھ کر ایک نہایت قابل تحسین فرض ادا کیا ہے۔ بیگمات بھوپال نے بھی بھوپال کی تفصیلی تواریخ تحریر کی تھیں۔
(4)چوتھی نہایت اعلیٰ غزلیات، نظموں اور ہائیکو پر مشتمل کتاب ’’ایک محفل تنہائی‘‘ ہے ۔ اس کی مصنفہ محترمہ رضیہ فاروقی صاحبہ ہیں۔ اس کو خوبصورت پیرائے میں یادگار پرنٹنگ پریس حیدرآباد (سندھ) نے شائع کیا ہے۔ یہ ہمارے ملک کے مایہ ناز ماہر تعلیم و مفکر ڈاکٹر عبدالوہاب کی شریک حیات ہیں۔ ڈاکٹر عبدالوہاب نے کراچی میں IBA کو دنیا میں شہرت دلائی تھی۔ ان کی سربراہی میں اس ادارے سے جو فارغ التحصیل لوگ نکلے اُنھوں نے دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا۔
آپ کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے ہیں۔ آج کل محمد علی جناح یونیورسٹی کے پریذیڈنٹ ہیں۔ میرے نہایت عزیز دوست ہیں اور جنگ میں شائع ہونے والے میرے کالموں کے مدّاح ہیں اور اکثر تبصرہ کرتے ہیں۔ اردو ادب سے گہرا لگائو ہے اور وسیع معلومات کے حامی ہیں۔ جب گھر کا ایسا ماحول ہو تو قدرتی بات ہے کہ بیگم (محترمہ رضیہ فاروقی) بھی ادب سے دلی لگائو رکھتی ہیں۔ ’’اِک محفل تنہائی‘‘ اعلیٰ غزلوں و نظموں کا مجموعہ ہے۔ کتاب کا پیش لفظ ماہر تعلیم و ادب جناب پروفیسر ڈاکٹر حسنی نے لکھا ہے اور کئی اعلیٰ اشعار اس میں شامل کئے ہیں۔ ایک مختصر سا تبصرہ ہمارے مشہور شاعر جناب عنایت علی خان نے لکھا ہے۔ ڈاکٹر اسلم فرّخی نے مختصر سے تبصرہ میں کتاب کو اور کلام کو چارچاند لگادئیے ہیں۔ بقول ان کے رضیہ فاروقی کی غزلوں میں روایت کی پاسداری کے ساتھ ساتھ تازگی اور رعنائی ہے۔ لہجہ شان الفت کا ترجمان اور بیان میں روانی ہے۔ پروفیسر حسنی نے جن اشعار کی نشاندہی کی ہے ان میں سے دو تین جو مجھے بے حد پسند آئے ہیں دہرانا چاہتا ہوں۔
اے گردش دوراں تو ذرا دیر کو رُک جا
وہ لطف مرے حال پر فرمانے لگے ہیں
لوگ صدیوں کی بات کرتے ہیں
ہم کو لمحوں پہ اختیار نہیں
گہرے سمندروں میں وہ تبدیل ہوگیا
ناداں سمجھ رہے ہیں کہ دریا اتر گیا
نواب مرزا خان داغؔ کا یہ شعر مستعار لے کر محترمہ رضیہ فاروقی صاحبہ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔
خط ان کا بہت خوب، عبارت بھی ہے اچھی
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
(نوٹ) کراچی کے ایک نوجوان شاعرعمیر علی انجم نے کراچی کے حالات سے متاثر ہو کر یہ قطعہ ارسال کیا ہے۔ پیش خدمت ہے۔
خواہشوں کے دیئے جلائے گئے
لوگ نیلام گھر میں لائے گئے
اماں کی گفتگو تھی چاروں طرف
روز جنازے مگر اُٹھائے گئے

Leave a Reply

%d bloggers like this: