کردار و اطوار، آداب، علم الاخلاق ۔ مغربی نقطہ نظر

0 2

یہ مندرجہ بالا موضوع پر میرے چار حصوں پر مشتمل کالم پر امریکی مفکر جناب بل سیلمن کے تاثرات و تنقید پر میرے جوابات و تاثرات کا چوتھا حصہ ہے۔
جناب سیلمن۔ ڈاکٹر خان آپ نے لکھا ہے ’’ہمارے کروڑوں افراد غیر ممالک میں نہایت تکلیف دہ اور سخت ماحول میں ملازمت کرکے رقوم گھر بھیجتے ہیں تاکہ اپنے والدین، بیوی، بچوں اور بہن بھائیوں اور عزیزوں تک کی مالی مدد کرسکیں۔ یہ عمل یقیناً مغربی ممالک کے مالدار ترین خاندانوں یا افراد سے بہت بہتر ہے کیونکہ مغربی ممالک میں بدقسمتی سے معاشرے میں انفرادی عمل کو اوّلیت حاصل ہے، ہر فرد اپنے مفاد، اپنی بہتری کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ یہ وہ ضد یا ذہنی ناقابل تبدیل نظریہ آزادی، عمل و خیال ہے جس نے پرانے اعلیٰ خاندانی تعلقات و روابط کے سنہری اصولوں کو تباہ کردیا ہے‘‘۔ میں ڈاکٹر خان آپ سے اتفاق کرتا ہوں کہ لاکھوں پاکستانی غیرممالک میں سخت محنت و مشقت کرکے اپنے خاندانوں کی پرورش کررہے ہیں۔ میں یہ بات بھی مانتا ہوں کہ لاتعداد افراد مثبت انسانی عادات و اطوار کے حامی ہیں۔ میں لیکن اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ مغربی ممالک میں خودغرضی عام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی ممالک میں خودغرضی ایک انہونی چیز ہے۔ آپ دیکھئے کہ کس طرح مغربی ممالک اور اس کے عوام فلپائن میں سیلاب سے متاثرہ عوام کی مدد

کررہے ہیں۔ یہ بہت بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ دیکھئے کہ کس طرح لاتعداد فلاحی ادارے دنیا بھر میں غریب اور ضرورت مندوں کی مدد کررہے ہیں۔ یہ ہمارے یہاں عام رواج ہے۔ آپ کو یادہوگا کہ کس طرح امریکہ نے پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ عوام کی مدد کی تھی اور ایرانی متاثرہ عوام کی بھی چند سال پیشتر مدد کی تھی۔ کیا آپ کو علم نہیں کہ پولیو کے دنیا میں خاتمے کے لئے کس نے رقوم جمع کی تھیں، میں نے خود حصہ لیا تھا۔
مصنف۔ میں بلاجھجک اس کا اعتراف کرتا ہوں کہ قدرتی آفات سے متاثرہ لوگوں کی مغربی اقوام نے مدد کی ہے اور ہم اس کے بے حد شکرگزار ہیں۔ جس طرح عوام نے ان قدروں کو اپنایا ہے اور عمل کیا ہے اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ انسان میں چند کردار و اطوار بنیادی طور پر موجود ہیں اور ان پر نسل، رنگ اور قومیت کا بالکل اثر نہیں ہے۔ میں دوبارہ انتباہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں ہر معاملے میں کسی چیز کو عمومی یا اجتماعی سمجھنے سے گریز کرنا چاہئے۔ یہی وہ جذبہ ایثار پسندی، جذبہ حقوق العباد ہے جو بین الاقوامی امن و یکجہتی کا پیامبر ہے اور اُمید ہے کہ یہ جلد یا بدیر دنیا سے خودغرضی، غلبہ پرستی کے جذبات کو ختم کردے گا لیکن یہ ضرور عرض کروں گا کہ مغربی ممالک کی فلاحی تنظیمیں عموماً اپنے ملک کے جاسوسی اداروں کا کام بھی کرتی ہیں۔ پیس کور (امریکہ) یہی کام انجام دیتی تھی۔
جناب سیلمن۔ اگر آپ نے معاشیات (سرمایہ دارانہ نظام، کمیونزم) کا مطالعہ کیا ہے تو آپ کو احساس ہوگا ہم سب کے انفرادی مفادات ہوتے ہیں، خاندانی مفادات ہوتے ہیں ملکی، مذہبی، اخلاقی اوردوسرے مفادات بھی ہوتے ہیں۔ ہم مسلسل، بغیر توقف کے، اپنے مفادات کے لئے نہیں جدوجہد کررہے ہیں؟ یہ ایک جنون یا ضد نہیں ہے۔ ہم اس طرح نہ ہی اپنی خاندانی زندگی تباہ کررہے ہیں اور نہ ہی دوسری اعلیٰ قدریں۔ یہ آپ کی خام خیالی ہے اور اس سے حقیقت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہاں میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ ہمارے یہاں بھی دوسرے ممالک کی طرح ایسے افراد موجود ہیں جو اپنے مفادات کو دوسروں کے مفادات پر ترجیح دیتے ہیں لیکن یقیناً کچھ مسلمان بھی بعض اوقات اپنے مفادات کو خدا کی خوشنودی کے لئے ترجیح دیتے ہیں اور دوسروں کے مفادات کا خیال نہیں رکھتے لیکن میرا یہ خیال ہے کہ اپنے مفادات کا خیال کرنے کا اخلاقیات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
مصنف۔ جناب سیلمن ! میں آپ کے اس نظریہ سے قطعی اتفاق نہیں کرتا کہ اپنے مفادات کو ترجیح دینے کا اخلاقیات سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ ہمارے نظریہ کے مطابق اخلاقیات ایک بین الاقوامی ضابطہ قوانین کا حصہ ہے۔یہ ایسے قوانین کا مجموعہ ہے جو انسانی خبط یا وہم سےبالاترہے۔تمام انسانی خواہشات، دلچسپیاں اور چاہتیں خواہ وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی ان کو ایک خاص ضابطہ قوانین کا پابند ہونا ضروری ہے۔ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ ایک انسان انسانیت کے دائرہ کار سے باہر ہوجاتا ہے اگر وہ اخلاقیات کے اصولوں کو نظر انداز کردیتا ہے۔ میں آپ کوایک چھوٹی سی مثال کے ذریعہ یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں۔ فرض کیجئے کہ آپ ایک دور دراز ملک میں ایک سیاح کی حیثیت سے جاتے ہیں، آپ اس ملک کی زبان سے ناواقف ہیں اور نہ ہی وہاں کے رسم و رواج سے واقف ہیں لیکن پھر بھی آپ توقع کرتے ہیں کہ وہاں کے شہری ایک ضابطہ اخلاق کے پابند ہوں۔ اگر آپ کسی سے مناسب اور محفوظ جگہ کا پتہ دریافت کرتے ہیں تو آپ کیا توقع کریں گے؟ یہی ناکہ ایک نہایت مناسب اور ہمدردانہ جواب ملے۔ کیوں؟اس لئے کہ آپ ان سے بین الاقوامی اخلاقیات کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی اُمید کرتے ہیں۔ اب فرض کیجئے کہ اس شخص نے آپ کو غلط اطلاع دے دی۔ آپ کو سخت نااُمیدی اور چڑچڑاہٹ ہوگی اور ہر سننے والا حیران ہوگا،کیوں؟ اس لئے کہ اس شخص نے ایک بین الاقوامی اخلاقی اصول کی خلاف ورزی کی ہے اور میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اصول اخلاقیات قرآنی تعلیم کے مطابق ہر مرد اور عورت میں قدرتی طور پر موجود ہیں۔ بنی نوع انسان ایسے اصول اخلاقیات کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ اس میں اور حیوان میں کوئی فرق نہ رہے گا۔اگر چند مسلمان ان اصول یا قوانین اخلاقیات کی خلاف ورزی کے مرتکب ہیں تو آپ اسلام کو اس کا موردالزام نہیں ٹھہرا سکتے بالکل اسی طرح جس طرح ہم غیرفطری جنسی تعلقات کا الزام عیسائیت پر نہیں ڈال سکتے۔
میں دوبارہ یہ عرض کروں گا کہ مغربی دنیا میں ہر سطح پر اور زندگی کے ہر شعبہ میں مادّیت نمایاں نظر آتی ہے خواہ اس کے کیسے ہی نتائج نکلتے ہوں۔ حکمراں طبقہ نے ایک ’’اچھا‘‘ نظام حکومت بنام جمہوریت بنالیا ہے لیکن اس نظام کے فوائد صرف ایک محدود خاص طبقے تک اور وہ بھی اپنے ہی ملک تک محدود ہیں، اس کے نتیجے میں لڑائی جھگڑے پرورش پاتے ہیں۔آپ جانتے ہیں کہ خودغرضی، لالچ، طمع لڑائی جھگڑوں کو جنم دیتے ہیں۔ امریکہ اور یورپ میں سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی نے اسلحہ سازی کی دوڑ کو جنم دیا اور اس نے دو بین الاقوامی جنگوں کی بنیاد ڈالی تاکہ اس کے ذریعہ دوسرے ممالک پر اثر و رسوخ اور غلبہ حاصل کیا جاسکے۔ یہ فوائد اب بھی دنیا کی ایک اقلیت ہی اُٹھا رہی ہے۔ بڑی بڑی جنگوں کے نتیجے میں لاتعداد چھوٹی چھوٹی جنگوں نے جنم لیا اور اس کے نتیجے میں اسلحہ سازی کی تجارت نے دن دگنی رات چوگنی ترقی کی اور اس میں مغرب صف ِ اوّل میں ہے۔ بدقسمتی سے اِنسانیت کو تباہ و برباد کرنے والی اسلحہ سازی کی صنعت سب سے زیادہ منافع بخش ہے۔ ’’امن‘‘ قائم کرنے کے بھیس و بہانے سے پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں دنیا میں ناقابل مثال تباہی و ہلاکتیں کی گئی ہیں۔ اب اقتدار وبالادستی کی جنگ خلا تک پہنچ گئی ہے۔ چند دوسرے اقدامات بھی ہیں جن سے مغربی ممالک معاشی برتری قائم رکھنا چاہتے ہیں ان میں سب سے نمایاں ایسی صنعتیں ہیں جن سے ایسی گیسیں خارج ہوتی ہیں جو زمین کی گرمی کو اوپر نہیں جانے دیتی ہیں مگر سورج کی گرمی کو زمین پر اثرانداز ہونے دیتی ہیں۔
یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس بکثرت پیدا کرتی ہیں جس سے درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے، برف پگھل جاتی ہے نتیجتاً سیلاب زدگی شروع ہوجاتی ہے، ماحول تباہ ہوجاتا ہےمگر مغربی ممالک اپنے مفادکی خاطر اس لعنت یعنی ’’گرین ہائوس اثرات‘‘ کو کنٹرول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔میں جناب سیلمن آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ایک سچا مسلمان اخلاقیات کے اصولوں پر عملی طور پر عمل پیرا ہوتا ہے اور کوشش و جدوجہد کرتا ہے کہ ان اصولوں اور قوانین پر عمل کرے جن کا اس کواللہ تعالیٰ نےحکم دیاہے اور ہدایت فرمائی ہے۔ ایک انسان پر بہت سے فرائض عائد ہوتے ہیں مثلاً ہر قسم کی زندگی کا احترام، ماحولیات کا احترام۔ اس پریہ لازم ہے کہ وہ خالق کے اپنے اوصافِ محبت، رحمدلی اور درگزر کرنے پر پوری طرح عمل پیرا ہو۔…جناب سیلمن۔ دوسرے لوگوں سے محبت کرنا، ان کی غلطیوں کو درگزر کرنا اور فراخدلی اچھے اوصاف ہیں لیکن چند دوسرے اوصاف مثلاً دوسروں کی عزّت کرنا اور دوسروں کے ساتھ محبت و رحمدلی سے پیش آنا اور دوسروں کی مدد کرنا بھی اچھے اوصاف ہیں۔…مصنف۔ میں نے صرف ان چند اوصاف ِ الہامی کا تذکرہ کیا ہے جن پر ہم عمل کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ ان کی تعداد لامحدود ہے اور ان کو بیان کرنا اس کالم میں ناممکن ہے۔ فراخدلی کو اگر آپ وسیع پیمانہ پر دیکھیں تو وہ ان اوصاف پر مشتمل ہے جن کا آپ نے تذکرہ کیا ہے۔ مسلمان ہونے کے ناتے ہم پر فرض ہے کہ ہم ہمیشہ خود سے یہ سوال کرتے رہیں کہ کیا ہمارے اعمال ایسے ہیں کہ ہم روزقیامت اپنے رسول ﷺ کے سامنے پیش ہونے کے قابل ہوں گے۔ یہ اعزاز حاصل کرنے کے لئے ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر کیا کرنا چاہئے؟ اپنے ضمیر کی پوری چھان بین کرنا چاہئے اور ہمارے لاتعداد سوالوں کا حل اس کے جوابوں پر منحصر ہے۔…جناب سیلمن۔ میں اس سے اتفاق کرتا ہوں کہ اپنے ضمیر کی جانچ پڑتال بہت ضروری ہے اور یہ بھی اچھی بات ہے کہ انسان خود سے یہ سوال کرتا رہے کہ کیا وہ جنت میں جانے کا مستحق ہے کہ نہیں۔…مصنف۔ دیکھئے ،قرآن میں نہایت واضح اور غیرمبہم الفاظ میں بنی نوع انسان کو اللہ تعالیٰ نے ہدایات دی ہیں، اس سلسلے میں آپ کی خدمت میں سورہ فرقان کی آیات 63-77 پیش کرنا چاہتا ہوں ’’اور خدا کے نیک اور فرمانبردار بندے تو وہ ہیں جو نہایت انکساری کے ساتھ زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے جاہلانہ گفتگو کرتے ہیں تو وہ ان کو امن کا پیغام دیتے ہیں۔ اور جو اپنے پروردگار کے آگے سجدے کرکے اور عجز و ادب سے کھڑے رہ کر راتیں بسر کرتے ہیں۔ اور جو دُعا مانگتے رہتے ہیں کہ اے پروردگار دوزخ کے عذاب سے ہمیں پناہ میں رکھ کیوں کہ اس کا عذاب بہت سخت اور تکلیف دہ ہے اور (حقیقتاً) دوزخ رہنے اور ٹھہرنے کی بہت ہی بُری جگہ ہے۔ اور یہ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ ہی پیسہ اُڑاتے یعنی فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ ہی بخیلی کا اظہار کرتے ہیں بلکہ اعتدال کے ساتھ خرچ کرتے ہیں یعنی نہ ہی زیادہ اور نہ ہی کم۔ اور وہ خدا کے ساتھ کسی اور کو معبود نہیں پکارتے اور جس جاندار کو خدا نے مارنے کو حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے مگر جائز طریقہ سے یعنی شریعت کے حکم سے اور بدکاری (حرام) نہیں کرتے اور جو یہ کام کرے گا وہ سخت گناہ میں مبتلا ہو گا۔ اور قیامت کے دن اس کو دُگنا عذاب ہوگا اور ذلّت خواری سے ہمیشہ اس میں رہے گا۔ مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھے کام کئے تو ایسے لوگوں کے گناہ خدا معاف کردیتا ہے اور نیکیوں میں بدل دیتا ہے اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے۔اور جو عمل نیک کرتاہے اور توبہ کرتا ہے تو وہ بیشک خدا کی جانب رجوع کرتا ہےاور وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب ان کو بیہودہ چیزوں کے پاس سے گزرنے کا اتفاق ہو تو بردباری سے گزر جاتے ہیں۔اور یہ کہ جب ان کو پروردگار کی باتیں سمجھائی جاتی ہیں تو ان کو اندھے اوربہرے ہوکر نظر انداز نہیں کرتے بلکہ غوروفکر اور سنجیدگی سے سنتے ہیں اور وہ جو خدا سے دعا مانگتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو ہماری بیویوں کی طرف سے دل کا چین اور اولاد کی طرف سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا رہنمابنا۔ ان صفات کے لوگوں کو صبر کے بدلے آرام دہ مکانات دیئے جائیں گے اور وہاں فرشتے ان سے دُعا و سلام کے ساتھ ملاقات کریں گے۔اس میں ہمیشہ رہیں گے اور واقعی وہ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت ہی عمدہ جگہ ہے۔کہہ دو کہ اگر تم اللہ کو یاد نہیں کرتے تو میرا پروردگار بھی تمہاری پروا نہیں کرتا۔ تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا تمہیں ضرور ملے گی‘‘۔ (جاری ہے)

Leave a Reply

%d bloggers like this: