پاکستان کا مستقبل

قیام پاکستان کو تقریباً 66 سال ہوگئے ۔اس کے قیام کیلئے جو مقاصد تھے ان کی تفصیلات سے کتابیں اور تاریخ بھری پڑی ہے اور برصغیر کے مسلمانوں نے جو قربانیاں لاکھوں اموات، مال و دولت، جائیداد کی شکل میں دیں وہ بھی ہماری تاریخ کا سنہری مگر دردناک باب ہے۔
چھٹیاں اگر مختصر ہوں تو انسان خوشی خوشی ان کو گزار لیتا ہے لیکن اگر یہ طویل ہو جائیں تو وقت گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی کیفیت عیدالاضحی پر تقریباً 9 چھٹیوں کے دوران رہی ایک جمعہ سے شروع ہوکر دوسرے اتوار تک۔ دو چار دن تو عید کی گرما گرمی میں گزر گئے دوست احباب آتے رہے مگر اس کے بعد سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں۔ اخبارات میں سوائے بُری خبروں کے کچھ نہیں، ٹی وی پر مختلف پروگراموں میں بحث و مباحثہ میں گرما گرمی، شور مچانا، نمبر بنانا اور صبح سے شام تک جانوروں کی منڈیوں میں وزنی سے وزنی بکروں، دنبوں، بیلوں، گایوں کی نمائش، ان کے وزن کے بارے میں اور خوراک کے بارے میں دعوے اور پھر قیمتیں ایسی کہ ایک غریب خاندان دس سال تک گزر بسر کرسکتا تھا۔ میں نے مختلف چینلوں اور نیشنل جیوگرافک پروگرام دیکھ کر وقت گزاری کی۔ اگرچہ میرے نہایت محب وطن اور قابل ترین ساتھیوں اور میں نے ملک کی سلامتی، حفاظت اور مستقبل کی خاطر ایٹم بم اور میزائل بنا دیئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں

بذات خود کبھی چیونٹی یا بھڑ بھی نہیں مارسکتا اور نہ ماری ہے۔ میں نے عید کے تینوں دن کرکٹ یا نیشنل جیوگرافک پروگرام دیکھے۔ نہ ہی میں اور نہ ہی بیگم اور بچے جانوروں کی قربانی دیکھ سکتے ہیں۔ ہم نے دوست سے گائوں میں قربانی کرادی تھی اور گوشت غریبوں میں تقسیم کرادیا تھا۔
اس طویل چھٹی اور فرصت میں بیٹھے بیٹھے مسلسل اپنے ملک کے ماضی، حال و مستقبل کے بارے میں سوچتا رہا۔ جن خیالات و احساسات نے جنم لیا وہ آج آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کرہا ہوں۔
میں نے شروع میں عرض کیا کہ ہمیں پاکستان حاصل کئے 66 سال ہوگئے۔ اس کے حاصل کرنے میں ہم نے بے حد قربانیاں دیں۔ علامہ اقبال ؒ کی نصیحت و رہنمائی اور قائدِ اعظم ؒ اور ان کے ساتھیوں کی انتھک، مخلصانہ اور بے لوث قیادت نے ہمیں پاکستان دلوادیا۔ اس میں ہندوستان کے مسلمانوں نے جو قربانیاں دیں وہ دنیا کی کسی اور قوم نے اپنے ملک کو حاصل کرنے کے لئے نہیں دیں۔ میں نے پاکستان بنتے دیکھا، میں نے بھوپال میں مسلمانوں کی لاشوں سے بھری ٹرینیں آنے کے واقعات اپنے بڑے بھائی سے روز سُنے جو بھوپال آرمی میں افسر تھے۔ ٹرینیں بھوپال کی سرحد کے اندر ہی روک لی جاتی تھیں، لاشوں کی تجہیز و تدفین کردی جاتی تھی، ان ٹرینوں کو دھویا جاتا اور پھر اسٹیشن پر لایا جاتا تھا۔ بھوپال میں آس پاس سے لاتعداد لُٹے پٹے مسلمان آکر پناہ حاصل کرسکے اور بھوپالیوں نے انہیں اسی طرح کھلے ہاتھوں قبول کیا جس طرح مدینہ والوں نے مکہ کے مہاجرین کو قبول کیا تھا۔ ہمارے گھر میں بھی جبلپور کا ایک خاندان بہت عرصہ تک مہمان رہا تھا۔
آج میں وہ چند پیشگوئیاں آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں جو میرے خیال میں آئی ہیں اور جو تاریخ کا حصّہ ہیں۔ سب سے پہلے میں لارڈ میکلے کی 2 فروری 1835 کو پارلیمینٹ میں تقریر کا حوالہ دیتا ہوں کہ اس وقت ہم کتنے مالدار اور تہذیب و تمدن میں کس قدر آگے تھے۔ اس نے کہا تھا ’’میں نے ہندوستان کے گوشہ گوشہ میں سفر کیا ہے اور مجھے ایک بھی فقیر نظر نہیں آیا، کوئی چور نہیں دیکھا اور ملک میں اس قدر دولت اور عوام کا اعلیٰ کردار دیکھا ہے کہ میں خیال نہیں کرتا کہ ہم کبھی اس ملک کو فتح کرسکیں گے جب تک ہم ان کی کمر نہ توڑ دیں، میرا مطلب ان کی اعلیٰ روحانی اور ثقافتی ورثہ ہے۔ میں اس لئے یہ مشورہ دوں گا کہ ہم ان کے اس پرانے تعلیمی اور ثقافتی ورثہ کو اپنے تعلیمی نظام اور ثقافت سے بدل دیں کیونکہ اگر ہندوستانیوں کو یہ یقین ہوگیا کہ غیرملکی اور انگریزی نظام اور ورثہ ان کے نظام اور ورثہ سے بہتر ہے تو وہ اپنی خوداعتمادی اور اپنا ثقافتی ورثہ کھو دیں گے اور وہ وہی بن جائیں گے جو ہم چاہتے ہیں یعنی حقیقتاً ایک محکوم قوم‘‘۔
انگریز اس مُہم میں پوری طرح کامیاب ہوگئے اور ہندوستان میں اپنا ایک خاص غلام طبقہ پیدا کرلیا اور یہی طبقہ آج تک ہم پر مسلط ہے۔ بہرحال ان کی تمام سازشوں اور تدبیروں کے باوجود ہندوستان اور پاکستان کا قیام وجود میں آگیا لیکن اب میں وہ پیشگوئیاں تحریر کرتا ہوں جو مختلف دانشوروں نے پاکستان کے بارے میں کی تھیں۔
(1) سب سے پہلے میں سر ونسٹن چرچل کی پیشگوئی پیش کرنا چاہتا ہوں جو انہوں نے ہندوستان کو آزادی دینے کے خلاف کی تھی۔ ’’اقتدار بے ایمانوں، بدمعاشوں، گھٹیا، غیرذمہ دار، قانون شکن لٹیروں کے ہاتھ میں چلا جائے گا، تمام ہندوستانی لیڈر بدکردار اور بیکار و بے قیمت ہوں گے۔ ان کی زبان چرب و میٹھی ہو گی مگر دل احمقانہ ہوں گے۔ وہ آپس میں اقتدار کی خاطر لڑتے جھگڑتے رہیں گے اور ہندوستان سیاسی کشمکش کی بھینٹ چڑھ جائے گا۔ ایک ایسا وقت آئے گا کہ جب ہوا اور پانی پر بھی ٹیکس ادا کرنا پڑے گا‘‘۔ چرچل ایک نہایت قوی ہیکل ،دانشور اور اپنے وقت کا بہترین لیڈر تھا۔ وہ گاندھی کی عیاری و مکاری سے پوری طرح واقف تھا جبکہ بیچارے 40 کروڑ ہندوستانی اس کے جال میں اندھے تھے۔ اس کی پیشگوئی100 فیصد صحیح ثابت ہوئی اور موجودہ حالات اس کا کھلا آئینہ ہے۔
(2) اب میں آپ کی خدمت میں ہندوستان کے وزیرتعلیم، اعلیٰ دینی عالم اور آزادی ہند کے ممتاز لیڈر مولانا ابوالکلام آزاد کے جناب شورش کاشمیری کو ان کے میگزین چٹان کو اپریل 1946 میں دیئے گئے انٹرویو میں پاکستان کے بارے میں پیشگوئی کے چند اقتباسات پیش کررہا ہوں۔ انٹرویو طویل تھا وہ کبھی آئندہ آپ کی خدمت میں پیش کروں گا۔ آزاد نے کہا ’’ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ نفرت و حقارت پاکستان و ہندوستان کے تعلقات پر غلبہ پالیں گے۔ تقسیم ہند خود ایک بڑی رکاوٹ ہو گی نفرت تعلقات پر غلبہ پا لے گی اور دونوں ممالک کبھی ایک دوسرے کے دوست نہیں بن سکیں گے اور آپس میں مسلسل لڑتے رہیں گے۔ میں جانتا ہوں کہ مشرقی پاکستان زیادہ عرصہ تک مغربی پاکستان کا حصہ نہ رہ سکے گا کیونکہ بنگالی مسلمانوں نے کبھی کسی غیروں کی چوہدراہٹ قبول نہیں کی‘‘۔ چند خاص پیشگوئیاں پیش کرتا ہوں۔ (1) قیام کے فوراً بعد سے ہی پاکستان سخت مسائل کا شکار رہے گا۔ (2) نااہل سیاست داں اپنے اعمال سے ملٹری ڈکٹیٹرشپ کو دعوت دیں گے جیسا کہ کئی دوسرے اسلامی ممالک میں ہوا ہے۔ (3) پاکستان بھاری غیر ملکی قرضوں کے بوجھ تلے دبا رہے گا۔ (4) ہمسایہ ملکوں سے دوستانہ تعلقات نہ رہیں گے اور جنگوں کا امکان ہے۔ (5) ملک کے اندر خلفشار رہے گا اور صوبائی جھگڑے رہیں گے۔ (6) ملکی دولت نئے دولت مند اور صنعت کار لوٹ لیں گے۔(7) مختلف طبقوں میں (لوٹ کھسوٹ سے بنے ہوئے نئے اُمراء اور غرباء میں) سخت تنائو اور جھگڑے فساد ہوں گے۔ (8) نوجوان طبقہ نہایت پریشان و غیرمطمئن ہوکر مذہب سے دور ہوجائے گا اور پاکستان بننے کا اصول ختم ہوجائے گا۔ (9) بین الاقوامی قوتیں سازشیں کرکے پاکستان کو اپنے تسلط میں لے آئیں گی۔ (10) ان حالات میں پاکستان مُسلسل دبائو میں رہے گا اور دوسرے اسلامی ممالک پاکستان کی قابل قدر مدد نہ کرسکیں گے اور دوسرے ممالک بغیر (اپنے مفاد کی) شرائط کے مدد نہ دیں گے اور اس کے لئے پاکستان کو اپنی نظریاتی اور علاقائی سرحدوں پر سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔
یہ مختصراً وہ خدشات یا پیشگوئیاں تھیں جو مولانا ابوالکلام نے پاکستان کے مستقبل کے بارے میں کی تھیں۔ اَب آپ خود ہی فیصلہ کیجئے کہ کیا انہوں نے کچھ غلط کہا تھا۔ ابوالکلام کو ہندوستان کے مسلمانوں کا مفاد عزیز تھا، انہیں یقین تھا کہ تقسیم سے مسلمان بٹ جائیں گے اور بہت نقصان میں رہیں گے اور وہی ہوا۔ انہوں نے بلا خوف و خطر کانگریس و ہندوئوں پر الزام لگایا تھا کہ مسلمانوں کو دور کرنے اور پاکستان بنوانے میں ان کا کلیدی رول تھا۔ مولانا ابوالکلام کا یہ تفصیلی انٹرویو جو اُنہوں نے دو ہفتہ کے دورانیہ میں جناب شورش کاشمیری کو دیا تھا اتنا اہم ہے کہ میں آئندہ اس کو تفصیل سے عوام کے سامنے پیش کروں گا تاکہ اُنہیں تقسیم ہند کے وقت سے آگاہی ہو اور مولانا ابوالکلام کے جو تحفظات تھے ان کو ہم موجودہ تاریخ کی روشنی میں دیکھ سکیں۔
(3) یہ تیسرا تبصرہ پاکستان کے بارے میں پروفیسر ڈاکٹر شُومَن کا ہے جو انہوں نے3جون 1949 کو بروکلین، نیویارک میں ایک لیکچر میں دیا تھا انہوں نے کہا تھا’’ریاست پاکستان جو ابھی ابھی وجود میں آئی ہے اس کے اپنے نہایت ہی غیر معمولی پوشیدہ خطرات ہیں۔ اس کا وجود خطرہ میں ہے اور وقت بتائے گا کہ نصف صدی سے پہلے ہی یہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ اس کے عوام غلاموں کی طرح پیدا ہوئے ہیں ان کے خیالات و تصورات ایک آزاد ملک سے محبت نہیں دیکھ سکتے اور ان کے دماغ خود غرضی کی دنیا کے باہر کام نہیں کرسکتے۔ میری یہ بات نوٹ کرلو کیونکہ میں ان کو اندر سے جانتا ہوں‘‘۔
اگر ہم ان پیشگوئیوں سے بھی کچھ نہ سیکھ سکے اور سیکھ نہیں رہے ہیں تو پھر ہمارا مستقبل واقعی بہت ہی تاریک ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: