پاکستان ۔ خواب سے حقیقت تک

25 دسمبر کو قائدِ اعظم ؒ کا یوم پیدائش منایا گیا۔ اخبارات میں مضامین، ٹی وی پر پروگرام و مباحثہ اور ان کے مزار پر گارڈز کی تبدیلی و سلامی کی رسم بھی ادا کی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ 14 اگست اور 25 دسمبر ہمارے لئے بہت ہی اہم اور مقدس ایام ہیں اور ہماری تاریخ کے سنہری دن ہیں۔ 14 اگست اس لئےاہم ہے کہ اس روز ہم ایک آزاد قوم اور آزاد ملک کی حیثیت سے دنیا کے سامنے آئے اور تقریباً 150 سال کی انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوئے اور 25 دسمبر اس لئے کہ اس روز اس ملک کے اور برصغیر کے مسلمانوں کے نجات دہندہ قائدِاعظم محمد علی جناح ؒ کراچی میں پیدا ہوئے۔ آپ نے نہ صرف تاریخ بدلی، بلکہ نئی تاریخ لکھ دی اور ایک آزاد ملک اور آزاد قوم کی بنیاد رکھ دی۔ تاریخ میں بہت ہی کم لوگوں نے یہ کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ قائدِاعظم ؒ کے دشمن بھی ان کو نہایت ایماندار، راست گو، ذی فہم اور ناقابل خرید مانتے تھے۔ یہ وہ خصوصیات و کردار تھا جو آج کل ہمارے ملک اور قوم میں ناپید ہو چکا ہے۔ انھوں نے تو اس ملک اور قوم کی خاطر اپنی جان قربان کردی اور اس کے بدلے میں اب ہمیں راشی، نااہل، بے ایمان، دروغ گو لوگ ہماری رہنمائی کے لئے ملے ہیں۔انھوں نے کبھی یہ سوچا بھی نہ ہوگاکہ اس ملک جس کے لئے انہوں نے سب کچھ قربان کردیا اور جس کو اللہ تعالیٰ نے لاتعداد نعمتوں سے نوازا ہے

وہاں ایسے بدکردار عوام و حکمراں پیدا ہونگے جو بلاخوف و خطر، اللہ کے احکام کو نظر انداز کرکے عیاشی، بدمعاشی، جھوٹ، بے ایمانی، رشوت ستانی میں مگن ہوجائیں گے۔
ایسی قوم جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی صلعم اور اپنے کلام سے نوازا اس کے کردار و اطوار کو دیکھ کر شرم آتی ہے۔ انگریز ڈرامہ نگار جارج برنارڈ شاہ نے کہا تھا کہ اسلام دنیا کا بہترین مذہب ہے مگر اس کے پیروکار بدترین ہیں۔
جن دو ایّام کا میں نے تذکرہ کیا ہے وہ ہمارے لئے بہت فکرو سوچ کے متقاضی ہیں۔ ان کا تقاضا ہے کہ ہم بیٹھ کر سنجیدگی سے اپنے کردار و اعمال پر غور کریں۔ہماری شرمناک حالت ایک قوم اور ملک کی حیثیت سے، ہماری صلاحیتیں، ہماری کامیابیاں اور قدرتی نعمتیں سب غور طلب ہیں۔ پاکستان کیلئے اس وقت سب سے بڑا چیلنج اپنے گھر کو ٹھیک کرنا ہے۔ بُری عادتیں مثلاً رشوت ستانی، دروغ گوئی، ملاوٹ، چوری، ڈاکہ زنی، دہشت گردی،قتل و غارت گری، فرقہ پرستی، صوبہ پرستی، خواتین کی بے حرمتی و حق تلفی وغیرہ جیسی قابل نفرت چیزوں سے نجات حاصل کرنا ہوگی اور اس کے بعد وہ طویل راستہ جو آسان نہیںبلکہ خاردار ہے اس پر سفر کرکے ہمارے محسنوں اور معماران کے ان وعدوں اور خوابوں کو صحیح شکل دینا ہے جن کا انھوں نے قوم سے پاکستان بناتے وقت وعدہ کیا تھا۔ خوش قسمتی سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہر طرح کی نعمتوں سے نوازا ہے۔ خوب بارش ہوتی ہے، اچھی فصلیں پیدا ہوتی ہیں، محنتی کسان اور مزدور ہیں، اعلیٰ ذہنی صلاحیتیں موجود ہیں جس کی مثال ہم دنیا کو دے چکے ہیں۔اعلیٰ زرعی و معاشی ماہرین موجود ہیں جن کی ملک میں قدر نہیں ہے مگر جو بین الاقوامی اداروں میں اعلیٰ کارکردگی سے نام پیدا کرتے رہے ہیں۔ ہمارے ہاں کثیر مقدار میں سونا، تانبا، کوئلہ، لوہا اور دوسری قیمتی دھاتیں معدنیات کی شکل میں موجود ہیں مگر حکمرانوں کی نااہلی سے ان سے آج تک صحیح طور پر استفادہ نہیں کیا گیا۔ حالانکہ ماہرین بھی موجود ہیں اور غیر ملکی فنی مدد بھی بآسانی حاصل کی جا سکتی ہے۔دنیا کے بہت سے ممالک (چین، جرمنی وغیرہ) اس میں مہارت رکھتے ہیں اور مدد کو تیار ہیں۔ صاف و شفاف پانی کے دریا قدرت کا بڑا تحفہ ہیںجو ہماری زرخیز زمینوں کو سیراب کرتے ہیں اور اچھی فصلیں پیدا ہوتی ہیں۔ لیکن نہایت کربناک حقیقت یہ ہے کہ نااہل حکمرانوں کی وجہ سے کروڑوں ایکڑ پانی ہم سمندر میں پھینک دیتے ہیں، نہ ڈیم بناتے ہیں نہ جھیلیں بناتے ہیں۔ جھیلیں بنانا بہت آسان کام ہے۔ سیلاب سے بہنے والے پانی کے ریلے سے راستہ کاٹ کر جھیلیں بنائی جاسکتی ہیں جو مچھلی کی افزائش اور فصلوں کی باریابی کے کام آسکتی ہیں مگر ایسے کاموں کے لئے عقل و فہم چاہئے جو یہاں عنقا ہے۔
ان تمام نعمتوں کے باوجود ہم دنیا کے بدترین، غریب، پسماندہ، راشی، نااہل، دہشت گرد، خواتین پر مظالم کرنے والے ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔تعلیم و صحت کی فراہمی میں ہم بدترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ باوجود اس کے کہ ہمارے پاس ہزاروں بلکہ لاکھوں تعلیم یافتہ سائنسدان و انجینئر ہیں اور ہم ایک ایٹمی اور میزائل قوت ہیںپھر بھی یہ حالت ہے کہ (1) تقریباً 50 فیصد آبادی غربت کی لائن سے نیچے گزر بسر کررہی ہے۔ (2) 70 فیصد عوام تعلیم سے بے بہرہ ہیں۔ (3) تقریباً 40 فیصد بچے اور بچیاں کبھی اسکول نہ جاسکے ہیں (4) اسکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد تقریباً 50 فیصد ہے۔ (5) تقریباً آدھی آبادی بنیادی سہولتوں مثلاً صحت، پینے کا پانی، ٹائیلیٹس سے محروم ہے۔ (6) تقریباً آدھی آبادی ایک کمرے کے گھر میں رہتی ہے اور بہت بڑی تعداد کو سر چھپانے کی جگہ میسر نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے عوام کو نہ صرف آمدنی کا فقدان ہے بلکہ مواقع کا بھی فقدان ہے، رزق کا فقدان ہے، تعلیم و علاج کی سہولتوں کا فقدان ہے، ملازمتوں کا فقدان ہے اور سب سے بڑھ کر اہل تعلیم یافتہ، ایماندار، خوفِ خدا رکھنے والے، اعلیٰ کردار و اطوار والے سیاستدانوں اور حکمرانوں کا فقدان ہے۔ یہ سب چیزیں ایک خواب، ایک سراب بن کر رہ گئی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ذی فہم اشخاص حکومت اور حکمرانوں کی توجہ مسلسل نہایت گمبھیر اور خطرناک حالات کی جانب مبذول کررہے ہیں، اخبارات میں مضامین لکھ رہے ہیں، ٹی وی پروگراموں میں ان مشکلات و خطرات کی جانب توجہ مبذول کرارہے ہیں، خراب معاشی حالت، بیروزگاری، کرپشن، تعلیم و صحت کی سہولتوں کی کمی کے بارے میں بتا رہے ہیں، سائنس و ٹیکنالوجی کی تعلیمی سہولتوں کے بارے میں، لوڈشیڈنگ ، امن و امان کے فقدان، سرکاری اداروں کی خستہ حالی، بدانتظامی، حکمرانوں کی شاہانہ طرز رہائش اور مغل بادشاہوں اور عباسی خلفاء کی طرح ملکی خزانوں کے منہ کھول دئیے ہیں اور یہ رقم نہایت غیرشفاف طریقوں سے مشکوک اسکیموں مثلاً انکم سپورٹ فنڈ، بیروزگاری فنڈ، یلوکیب، لیپ ٹاپ اسکیموں پر خرچ کی گئی ہے۔ ان سے عوام کو قطعی کوئی دوررس فائدہ نہیں ہوا اور اربوں روپے غائب ہوگئے۔ اگر بینظیر انکم سپورٹ فنڈ، یلو کیب، لیپ ٹاپ وغیرہ پر خرچ کی گئی رقمیں بجلی کی پیداوار پر ہی لگادی جاتیں تو ہمیں فوائد نظر آنے لگتے۔ مثلاً موٹر وے اور میٹرو بس پر کتنی ہی تنقید کیوں نہ کی گئی ہو اس سے لاکھوں بلکہ کروڑوں افراد مستفید ہورہے ہیں۔ پہلے اربوں ضائع کرکے اور اب 100 ارب روپے ضائع کرنے کے بجائے کوئی ایسا تعمیری و ترقیاتی کام کیا جائے جس سے عوام براہ راست مستفید ہوسکیں، مثلاً ریلوے کا ٹوٹل قرض 78 ارب روپیہ ہے اگر اسکی اَدائیگی کردی جائے اور اچھی سہولتیں بہم پہنچا دی جائیں تو ملک کے کروڑوں متوسط اور غریب عوام کو نہایت کارآمد سہولت مل جائے گی۔ راجہ پرویز اشرف نے ایک ہفتہ میں جو 52 ارب روپیہ لٹایا تھا وہ اور یہ100ارب روپیہ سوئی سے ایران تک گیس پائپ لائن بچھانے میں بے حد مددگارثابت ہوسکتےتھے۔ حکومت کو چاہئے یہ شعبدہ بازی چھوڑ کر عملی فوائد کے فلاحی کام کرے۔ مستقبل قریب میں امریکہ نے ایران پر سے پابندیاں اُٹھانی ہیں اور ہمیں چاہیے کہ جلدازجلد سرحد کے اپنی جانب پائپ لائن بچھادیں تاکہ وقت ِ ضرورت فوراً مختصر ترین عرصہ میں کنکشن مکمل کردیا جائے اور ایران سے گیس کی فراہمی شروع ہوسکے۔ پیشگی پلاننگ کا یہاں کوئی تصوّر ہی نہیں ہے۔
یہ ہمارے سیاستدانوں کی، حکمرانوں کی بدبختی ہے کہ اُنھوں نے وہ وعدے پورے نہیں کئے جن کا وعدہ ہمارے قائدِاعظم ؒ اور پاکستان کے معماروں نے کیا تھا۔ جن کا خواب انھوں نے دیکھا تھا، جن کا خواب قربانی دینے والوں نے دیکھا تھا۔ ہم نے قائدِ اعظم ؒ سے اور تمام شہیدوں سے بیوفائی اور غدّاری کی ہے۔عوام بھوکے مررہے ہیں فاقہ کشی کررہے ہیں، رزق، پانی، بجلی ، گیس کی قلّت کا شکار ہیں، بیروزگاری کا شکار ہیں، دہشت گردی کا شکار ہیں، خواتین پر ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ حکمرانوں نے اپنے صوابدیدی فنڈز کے ذریعہ غریبوں کا خون پسینہ کا کمایا ہوا پیسہ غبن کرلیا ہے، عیاشی کررہے ہیں، اپنے عزیز و اقارب کو مالا مال کردیا ہے۔
ایک شعر نئے سال کی مناسبت سے حاضر خدمت ہے۔
لوگو دعا کرو کہ گزر جائے خیر سے
آثار کہہ رہے ہیں بُرا یہ بھی سال ہے

Leave a Reply

%d bloggers like this: