سیاہ بادل…سحر ہونے تک

پچھلے چند ہفتوں میں دہشت گردی کے واقعات نے مجھے اپنا پرانا کالم یاد دلا دیا۔ یہ میں نے اسی اپنے ہردلعزیز روزنامہ جنگ میں 30 اپریل 2012 میں ایک کالم بعنوان ’’اجتماعی قبریں‘‘ لکھا تھا۔ اس میں عوام کو بتایا تھا کہ اجتماعی قبریں عموماً دو وجوہات کا نتیجہ ہوتی ہیں یعنی قدرتی آفات جن کے نتیجہ میں کثیر اموات واقع ہوجائیں یا ہولناک جنگیں جن کے نتیجہ میں لاتعداد لوگ ہلاک ہوجائیں۔ دونوں حالات میں انفرادی تجہیز و تدفین ناممکن ہوجاتی ہے اور مُردوں کو اجتماعی قبروں میں دفن کیا جاتا ہے۔ ماضی قریب میں سونامی کی وجہ سے لاکھوں افراد ہلاک ہوگئے تھے، کشمیر میں زلزلہ کے نتیجہ میں بھی کثیر ہلاکتیں ہوئی تھیں اور اس سے پیشتر اغادیر اور اسکوپیا میں زلزلوں نے بھی تباہی مچا دی تھی۔ ہولناک واقعات اور جنگوں میں ہٹلر کا یہودیوں کا بہیمانہ قتل، دوسری جنگ عظیم اور اس سے پیشتر پہلی جنگ عظیم، بوسنیا میں مسلمانوں کی نسل کشی، روانڈا برونڈی میں قتل عام، اور نازی افواج کا لینن گراڈ کا محاصرہ اور تقریباً 30 لاکھ روسی شہریوں کی ہلاکت، پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم میں ہلاکتوں کی تعداد کا اندازہ آٹھ کروڑ لگایا گیا ہے۔ صرف دوسری جنگ عظیم میں ساڑھے پانچ کروڑ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پھر جاپان پر امریکی ایٹم بم گرانے کی تباہی کوئی بھول

سکتا ہے۔ ان حادثات و واقعات کی جانب آپ کی توجہ مبذول کرانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اجتماعی قبروں کی ضرورت کب پیش آتی ہے۔
میں اَب آئندہ آنے والے خطرات، اجتماعی قبروں کے ممکنات کی جانب رجوع کرتا ہوں۔ تقریبا دو سال قبل میں نے انتباہ کیا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں و مزاحمت کاروں، حکومت مخالفین کے دلوں سے فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا خوف نکل جائے گا۔ میرے خطرات و تحفظات بالکل صحیح ثابت ہورہے ہیں۔ دہشت گرد یا مزاحمت کار یا طالبان یا آپ کوئی بھی نام دیں یہاں اشارہ ان لوگوں کی جانب ہے جو حکومت کی امریکہ نواز پالیسیوں کے سخت خلاف ہیں ان کے بارے میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو پھر عسکری اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ملازمین اور حکمرانوں پر زمین تنگ ہو گئی تھی۔ ماضی کے واقعات میں فرانس، روس اور چین کے انقلابات کی تاریخ ہمارے سامنے ہے کس طرح قتل عام ہوا اور مرنے والوں کو اجتماعی قبریں نصیب ہوئیں۔ اور بعض لوگوں کو تو قبریں بھی نصیب نہیں ہوئی تھیں وہ پرندوں اور جانوروں کی غذا بن گئے تھے۔ ماضی قریب میں دوسری جنگ کے کروڑوں افراد کی ہلاکت اور اجتماعی قبریں ، شاہ فیصل اور امیرعبداللہ کا عراق میں تختہ اُلٹا جانا، امریکیوں کا بلا جواز عراق پر جارحانہ حملہ اور لاکھوں بے گناہ افراد کا قتل، افغانستان پر حملہ اور لاکھوں افراد کا قتل، لیبیا پر حملہ اور بے گناہ لوگوں کا قتل ،ان تمام واقعات و حادثات اِجتماعی قبروں کا باعث بنے۔ لیکن آپ کی توجہ خاص طور پر ایران کے واقعات اور پھر اپنے ملکی حالات پر مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جب شہنشاہ ایران اور اسکی خفیہ پولیس ساواک نے عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے تو عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور انھوں نے پھر قانون اپنے ہاتھ میں لے کر حکمران طبقے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں یعنی ظالموں کے پرخچے اُڑا دیئے ، ان پر زمین تنگ کردی اور تمام مظالم کا بدلہ چند دنوں میں لے لیا۔ ہمارا ملک بھی تیزی سے اسی سمت پر رواں دواں ہے۔ پہلے معمولی حادثات تھے پھر دھیرے دھیرے ان میں شدّت پیدا ہوگئی۔ اکّا دکّا انفرادی حملے، اجتماعی حملوں میں تبدیل ہوگئے، پہلے گاڑیوں پر پھر بھرے بازاروں پر، پھر مساجد اور گرجوں پر اور پھر جیسا کہ میں نے پیشگوئی کی تھی مخالفین کے حوصلے اتنے بڑھ گئے کہ پہلے چلتی پھرتی پولیس پیٹرول پر حملے کئے پھر تھانوں پر، پولیس ہیڈآفس پر، پھر آرمی اور رینجرز کے پیٹرول پر، پھر حوصلے بڑھ گئے اور آرمی پیٹرول پر حملے شروع ہوگئے۔ یہاں تک کہ جی ایچ کیو پر حملہ ہوگیا، آئی ایس آئی کے دفاتر پر ایف آئی اے کے دفاتر پر اور بات اب یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ فورسز کے قافلے محفوظ نہیں ہیں۔ وہ لوگ جو ہمارے محافظ سمجھے جاتے اور ہماری حفاظت پر مامورہیں وہ خود اپنی جان بچاتے پھر رہے ہیں، اپنی چوکیوں سے باہر نکلنے سے خوفزدہ ہیں اور پیٹرولنگ کرنے سے ڈرتے ہیں۔ اس میں ان کاکوئی قصور نہیں ہے، ان کو ضروری سہولتیں نہیں دی گئی ہیں۔ حکمرانوں نے ان کو ایک غیر ملکی جنگ میں جھونک دیا ہے۔ لڑنے والوں کے دلوں میں نہ ہی جذبات ہیں اور نہ ہی مصمم ارادہ جبکہ مخالفین ایک مقصد اور جذبات سے پُر ہیں وہ جان دینے سے دریغ نہیں کرتے وہ اس مزاحمت کو غیر ملکی قابضین، ظالموں، حملہ آوروں اور ان کے مقامی کارندوں کے خلاف تصور کررہے ہیں۔ پہلے مشرف نے اپنی غیرقانونی، غاصبانہ حکومت کو طول دینے کے لئے اور چند ٹکوں کی خاطر ملک کی سلامتی اور خودمختاری فروخت کرکے ہماری افواج کو اپنے ہی شہریوں کے خلاف جنگ میں جھونک دیا، امریکیوں کو فوجی اڈے دیدیے اور چند ڈالروں کی خاطر اپنے شہریوں کو بغیر قانونی چارہ جوئی کے امریکیوں کے حوالہ کردیا۔ 2008 کے الیکشن کے بعد زرداری کی حکومت آئی تو عوام کی توقعات کے قطعی برعکس اس نے بھی امریکی غلامی کواپنا سرمایہ سمجھا اور عوام سے جھوٹ بول بول کر امریکیوں کو مشرف کی دی گئی تمام سہولتیں استعمال کرنے اور ڈرون حملوں کی اجازت جاری رکھی۔ بات یہاں تک پہنچی کہ امریکیوں نے ہماری سرحد کے اندر ہماری فوجی چوکی پر حملہ کر کے تقریباً 34 جوان شہید کردیئے۔
ایک طرف تو غیرملکی جارحیت جاری ہے اور ہم اس میں برابر کے شریک ہیں اور دوسری جانب حکمران طبقہ عیاشی اور لوٹ مار میں لگا ہوا ہے۔ خود کی حفاظت کے لئے تو 20,15 گاڑیوں اور 60, 50 محافظ مامور ہیں جبکہ ہمارے مجاہدین، نوجوانوں کے لئے حفاظتی جیکٹس اور اچھی مضبوط گاڑیاں نصیب نہیں ہیں۔ ہمارے سپاہی، ہمارے جوان کرائے کی گاڑیوں میں اپنی ڈیوٹی کرتے ہیں اور مخالفین کے حملوں کا آسانی سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ ان کو لڑانے والے شہروں میں بنگلوں میں آرام سے بیٹھے حکم چلاتے رہتے ہیں اور خود موت کا سامنا نہیں کرتے۔
ہمارے اپنے روزنامہ جنگ کے ایک صحافی نے دوسال پیشتر انتباہ کیا تھا کہ عوام کو جن مشکلات اور تکالیف میں حکمرانوں نے جھونک دیا ہے اس کی وجہ یہ بعید از قیاس بات نہیں کہ جلد یا بدیر وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لینگے اور پھر یہاں ایسا خونریز انقلاب آئے گا کہ دنیا توبہ کرنے لگے گی۔ عوام کے پاس اَسلحہ کی کمی نہیں ہے چلانے میں بھی ماہر ہیں اور پچھلے چند ماہ کے واقعات نے یہ بات عیاں کردی ہے کہ مخالفین اب اپنے مورچوں میں بیٹھ کر اپنی جان نہیں بچاتے بلکہ وہ دیدہ دلیری سے باہر نکل کر پولیس، رینجرز اور فوجیوں پر بھرپور حملے کرنے لگے ہیں۔ میں نے دو سال پیشتر یہی پیشگوئی کی تھی۔ حکمراںاور عسکری حکمراں آنکھیں بند کئے اس وہم میں مبتلا ہیں کہ سب ٹھیک ہے اور کچھ عرصہ میں سب ٹھیک ہوجائے گا۔ ایسا نہیں ہوگا اگر اس وقت عوام کو ایک ہٹلر کی طرح، یا ناصر کی طرح کوئی جذبات کو بھڑکانے والا اور اُکسانے والا لیڈر مل گیا تو یہ ملک ہفتہ عشرہ میں خون میں نہا جائے گا۔ اس میں گنہکاروں کے ساتھ لاتعدادبیگناہ لوگ بھی مارے جائیں گے اور لوٹ مار کا وہ بازار گرم ہوگا کہ لوگ روانڈا برونڈی اورصومالیہ کو بھول جائیں گے۔ اور جب یہ انقلاب آگیا تو پھر یقینا یہاں اِجتماعی تجہیز و تکفین ہوگی۔ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب، عمران خان صاحب اور اگر دو چار ان کا ساتھ دیدیں تو ملک میں انقلاب آسکتا ہے۔ ان کا ساتھ طلبہ اور وکلاء اگر دیدیں تو یہ برسوں میں نہیں مہینوں میں آسکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ نئی حکومت جو آئی ہے یہ زرداری حکومت سے کہیں بدتر ہے اور مشرف کی حکومت سے اور بھی زیادہ بدتر۔ یہاں وزیر بنانے اور اہم ذمّہ داریاں سونپنے کا معیار ذاتی فرمانبرداری، رشتہ داری اور خوشامد ہے۔ ایک بھی شخص اپنے عہدہ اور ذمّہ داریاں سنبھالنے کا اہل نہیں ہے مگر میرکارواں اپنی خوش فہمی میں مست ہے کہ پیادے اچھا کام کررہے ہیں جس طرح بہادر شاہ ظفر اور شہنشاہ ایران مست تھے اور جھوٹی باتوں پر بھروسہ کررہے تھے۔
اللہ رب العزّت نے کلام مجید میں باربار کھلی مثالیں دی ہیں اور انتباہ کیا ہے اور حکمرانوں کو بھی اپنے فرائض کے بارے میں ہدایات دی ہیں اور خبردار بھی کیا ہے۔ مگر اس وقت ملک میں جس بدامنی، مہنگائی، بیروزگاری، لوڈشیڈنگ، دہشت گردی، فرقہ پرستی کا دور دورہ ہے، جس طرح موجودہ حکومت نااہلی کا ثبوت دے رہی ہے اور چھ ماہ میں ملک کو تباہی کےدہانے پر پہنچا دیا ہے اس کو دیکھ کر بہت جلد حالات قابو سے باہر ہونے کی اُمید ہے۔ ایسے ظالم، نااہل اور بے حس حکمرانوں کے مسلط کئے جانے کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے عوام کو انتباہ کیا ہے۔
(۱) ’’اور اسی طرح ہم نے ہر بستی (قوم) میں بڑے بڑے (عیّار) اور مجرم پیدا کئے ہیں کہ ان میں مکاریاں کرتے ہیں اور وہ جو مکاریاں کرتے ہیں ان کا نقصان ان ہی کو ہے اور اس سے وہ بے خبر ہیں‘‘۔ (سورہ انعام آیت 123 )۔
(۲) ’’اور یہی وہ عاد ہیں جنھوں نے اللہ کی نشانیوں سے انکار کیا اور اس کے پیغمبروں کی نافرمانی کی اور سرکش و متکبر (حکمرانوں) کا کہا مانا۔ تو اس دنیا میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہی اور قیامت کے دن بھی لگی رہے گی‘‘۔ (سورہ ہود، آیات 59-60 )۔
(۳) ’’اور جب ہمارا ارادہ کسی قوم کو ہلاک و تباہ کرنے کا ہوا تو ہم نے وہاں کے آسودہ لوگوں کو فواحش (بدکار) پر مامور کردیا تو وہ نافرمانیاں کرتے رہے اور اس پر عذاب نازل کردیا گیا اور ہم نے اسے تباہ وہلاک کردیا‘‘۔ (سورہ بنی اسرائیل، آیت 16 (
اللہ تعالیٰ کا انتباہ حکمرانوں اور عوام کے لئے صاف صاف موجود ہے اس میں برائے حجت کچھ تاخیر ہوسکتی ہے مگر کوئی بھی اس سے بچ نہیں سکتا۔ اگر دونوں نے اپنے اعمال و کردار ٹھیک نہ کئے تو یقینا شدید عذاب ان پر نازل ہوگا۔ اس وقت ہر طرف سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں اور کہیں بھی سلور لائننگ نظر نہیں آرہی ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: