چند گنج ہائے گرانمایہ

نئے صدر مملکت کا انتخاب ہوگیا۔ صدر زرداری کو الوداعی عشاعیہ دے دیا گیا اور ”من ترا حاجی بگویم تو مرا قاضی بگو“ والی رسم بہت دھوم دھام اور مسکراہٹوں کے ساتھ ادا کی گئی، میاں نواز شریف اور صدر زرداری نے ایک دوسرے پر تعریفوں کی بوچھاڑ کردی اور عوام کو چند ماہ پہلے والی سیاسی حملوں کی یاد تازہ کردی۔ میاں صاحب اور ان کے رفقائے کار نے کراچی کا دورہ بھی کیا اور وہاں امن و امان کی بحالی کے لئے اقدامات پر غور کیا۔ نئے صدر ممنون حسین صاحب نے حلف اُٹھالیا اور اس طرح یہ چند ہفتے سیاسی سرگرمیوں کے شکار رہے اور اخبارات اور ٹی وی اسٹیشنوں نے صبح سے رات تک ہمیں مصروف رکھا کیونکہ سیاست اور قتل و غارتگری کی بہت باتیں ہوگئیں اس لئے آج آپ کو چند گنج ہائے گرانمایہ یعنی اعلیٰ کتب کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔
پہلی نہایت ہی قیمتی اور اعلیٰ ادبی کتاب ایک بیش بہا خزینہ معلومات ہے۔ یہ ”ضرب المثل اشعار ۔ مقبول زمانہ اشعار کے مصرع اُولیٰ اور ثانی کی ترتیب“ ہے۔ اس اعلیٰ کتاب کی تحقیق و تالیف پروفیسر ثروت سلطانہ ثروت نے کی ہے جو کراچی میں محمد علی جناح یونیورسٹی میں درس و تعلیم سے منسلک ہیں۔ میری طرح ان کا تعلق بھی بھوپال جنت مقام سے ہے۔ اس کتاب کو ’غزالی برادرز، ناظم آباد نمبر 2، کراچی‘ نے بہت خوبصورت پیرایہ میں شائع کیا

ہے۔
محترمہ پروفیسر ثروت سلطانہ ثروت کی مندرجہ بالا کتاب نہایت ہی محنت اور بڑی تحقیق کے بعد ترتیب دی گئی ہے۔ خود مصنفہ نے دیباچہ میں اس کتاب کے بارے لکھا ہے کہ ”ایک مصرع سب کے ذہن و دل پر اس قدر چھا جاتا ہے کہ ہم بھول جاتے ہیں کہ اس کا دوسرا مصرع کیا تھا اور یہ کس کا شعر ہے۔ کسی شعر کا پہلا مصرع بہت مشہور تھا تو کسی کا دوسرا۔ میں نے حروف تہجی کے حساب سے تحریر کیا ہے تاکہ قارئین کو پریشانی نہ ہو“۔ بظاہر یہ کام آسان نظر آتا ہے لیکن اس کو صرف وہی فرد مکمل کرسکتا ہے جس کا مطالعہ بے حد وسیع ہو اور جس کو بے شمار اشعار مکمل طور پر شاعروں کے نام کے ساتھ یاد ہوں کیونکہ یہ مختلف دور کے مختلف شعراء کے اشعار ہیں جن کی صحت اور شاعر کا نام معلوم ہونا ضروری ہے۔ ابتدائی دور کے شعراء دہلی کے معروف شعراء کے علاوہ کئی نام اور اشعار ایسے بھی ملتے ہیں جن کو ادب میں کوئی بڑا مقام نہ مل سکا۔ لکھنوٴ کے علاوہ رامپور اور ترقی پسند شاعروں کے اشعار بھی ملتے ہیں۔ کوئی خاص مکتب فکر کے اشعار تک یہ کتاب محدود نہیں ہے اس میں میر تقی میر، غالب کے ساتھ انیس، اکبر الہ آبادی، ذوق اور آتش کے ساتھ اقبال، ساحر، عدم، فیض، مجروح اور ہمارے بھوپال کے معین احسن جذبی بھی نظر آتے ہیں۔ اس کتاب کی ترتیب پر جو محنت و مشقت صرف ہوئی ہے اس کا اندازہ وہی کرسکتا ہے جس نے خود کبھی اچھے اشعار کی جستجو کیلئے مختلف شعراء کے دیوانوں کی چھان بین کی ہو۔ محترمہ پروفیسرثروت سلطانہ ثروت نے کتنی کتابوں اور کتنے شعراء کے کلام کا مطالعہ کیاہے وہ قارئین اس کتاب کا سنجیدگی سے مطالعہ کرکے ہی اندازہ کرسکتے ہیں۔ سب سے بڑی خوبی اس کتاب کی اس کی ترتیب ہے۔ حروف تہجی کے اعتبار سے کسی بھی مصرع کا دوسرا مصرع اور شاعر کا نام تلاش کرنا آسان ہوگیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ محترمہ پروفیسر ثروت سلطانہ ثروت کی پچھلی کتابوں کے قدرداں تو اسے ضرور پسند کرینگے ہی مگر نئے قارئین اس کے شیدائی ہوجائیں گے کیونکہ بقول انیس
لگا رہا ہوں مضامین نو کے پھر انبار
خبر کرو مرے خرمن کے خوشہ چینوں کو
یہ انمول و بیش بہا کتاب ایک ناقابل فراموش دستاویز کے طور پر آنے والی نسلوں کے بھی کام آئے گی۔ مصنفہ کے لئے صرف تعریف ہی کافی نہیں بلکہ انہی کی کتاب سے داغ کا یہ مکمل شعر بھی بطور دعا حاضر خدمت ہے:۔
خط اُن کا بہت خوب عبارت بھی ہے اچھی
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
اگر میں یہ کہوں کہ جس طرح حضرت امام ابو عبداللہ محمد اِبن اَلبُخاری نے صحیح احادیث کو جمع کرکے مسلمانوں پر احسان کیا ہے اسی طرح پروفیسر ثروت سلطانہ ثروت بھوپالی صاحبہ نے ضرب المثل اشعار کو مکمل کرکے اور ان کے شعراء کے نام کا یہ مجموعہ تیار کرکے اہل اردو ادب پر ایک ناقابل فراموش احسان کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے پروفیسر ثروت کو بہت ہی زرخیز دماغ عطا فرمایا ہے۔ آپ نے اب تک 35 کتب تصنیف کی ہیں جو غزلوں، نظموں، حمد و نعت اور اسکولوں اور کالجوں کے نصاب میں شامل کورس پر مبنی ہیں۔ اللہ تعالیٰ پروفیسر ثروت سلطانہ ثروت کو تندرست و خوش و خرم رکھے، عمر دراز کرے اور ہر شر و نظر بد سے محفوظ رکھے،آمین۔
دوسری نہایت ہی اہم کتاب ”تاریخ ادب عربی (دور جاہلیت سے دور حاضر تک) “ہے جو کراچی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے پروفیسر ڈاکٹر وقار احمد رضوی صاحب نے تصنیف کی ہے۔ پروفیسر وقار احمد رضوی کو عربی زبان و ادب پر مہارت حاصل ہے۔ آپ کا اس زبان میں مطالعہ بے حد وسیع ہے۔ آپ کو ہمیشہ سے عربی زبان کی تاریخ سے دلچسپی رہی ہے۔ فارسی اور اردو زبانوں کی طرح عربی زبان نہایت شیریں، دقیق اور وسیع زبان ہے۔ اس کو دوسری قوموں پر یہ امتیاز حاصل ہے کہ اللہ رب العزت نے کلام مجید اس زبان میں اُتارا ہے، یہ اسلام کی زبان ہے۔ پروفیسر وقار احمد رضوی کی اس اہم کتاب سے پہلے اردو زبان میں تاریخ ادب عربی پر کوئی اچھی کتاب دستیاب نہیں تھی۔ ہمارے بھوپال کے مولانا خلیل عرب نے چار جلدوں پر مشتمل جو تاریخ لکھی تھی وہ عربی میں تھی۔ احمد حَسن الزیآت کی اسی موضوع پر مشہور کتاب کا اردو ترجمہ جناب عبدالرحمن طاہر سورتی نے 1965ء میں شائع کیا تھا اور اس کے بعد اسی موضوع پر ایک کتاب ڈاکٹر عبدالحلیم ندوی نے 1978ء میں شائع کی تھی۔ اس سے پیشتر ڈاکٹر زبید احمد نے 1926ء میں ایک قیمتی کتاب اسی موضوع پر شائع کی تھی لیکن اس میں عربی اشعار اور عربی نثر پاروں کا اردو ترجمہ موجود نہ تھا۔ جناب پروفیسر ڈاکٹر وقار احمد رضوی نے وہ تمام کمی اور تشنگی دور کردی ہے اور لکھا ہے کہ یہ کتاب ان کی ساری عمر کی تلاش و جستجو، تحقیقی جانفشانی اور ذاتی مطالعہ کا نچوڑ ہے اور بقول جناب محمد رابع حسنی ندوی، ناظم ندوة العلماء لکھنئو، ”یہ اردو میں عربی ادب کی تاریخ پر مفصل کتاب ہے۔ یہ سات ابواب پر مشتمل ہے جن میں جاہلی دور سے لے کر عصرجدید تک کے عربی زبان و ادب کا عہد بہ عہد جائزہ لیا گیا ہے اور مختلف ادوار میں عربی زبان و ادب کی جو خصوصیات رہی ہیں ان کا اور نمائندہ شعراء اور ادباء کا تذکرہ پیش کیا ہے۔ عربی زبان و ادب کے طلباء اور اساتذہ کیلئے یہ نہایت ہی اہم و قیمتی کتاب ہے“۔ اس کتاب کو قدیمی کتب خانہ کراچی نے شائع کیا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر وقار احمد رضوی نے دینی تعلیم ندوة العلماء لکھنوٴسے حاصل کی اور شعبہ عربی لکھنوٴ یونیورسٹی سے عربی میں عالم و فاضل ادب کے امتحانات پاس کئے۔ بعد میں آپ نے مسلم یونیورسٹی علیگڑھ سے عربی ادب میں ایم اے کیا اور عربی زبان پر مزید مہارت حاصل کرلی۔ آپ لاتعداد اہم کتابوں کے مصنف ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو تندرست و خوش و خرم رکھے اور عمر دراز کرے، آمین۔
تیسری کتاب کیا بلکہ ایک ڈائری ہے۔ یہ ڈائری بلوچستان پر معلومات کا خزینہ ہے اور اس کو ملک کے مشہور سینئر صحافی جناب فصیح اقبال نے شائع کیا ہے۔ فصیح اقبال ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک ہیں۔ غیرمنقسم ہندوستان میں ادب و تہذیب کے گہوارہ لکھنو سے تعلق تھا اب ساٹھ سال سے کوئٹہ میں مقیم ہیں اور بلوچوں سے زیادہ بلوچی ہیں۔ ان کی زبان پر ہمیشہ بلوچستان کے مسائل اور بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی باتیں رہتی ہیں۔ ساٹھ سال سے وہاں صحافت کا عَلم اُٹھائے ہوئے ہیں۔ وہ اردو اور انگریزی زبان کے دو اخبار وں کے بانی اور چیف ایڈیٹر ہیں۔ دنیا کے ہر بڑے لیڈر سے اور قوم کے ہر بڑے لیڈر سے ملاقاتیں رہتی ہیں۔ صحافتی میدان میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ آپ کو یہ بھی سعادت رہی ہے کہ بلوچستان کی نمائندگی سینیٹ میں کی اور صوبائی اور ملکی خدمات کوسراہتے ہوئے صدر مملکت نے ان کو ستارہ امتیاز اور ہلال امتیاز کے اعزازات سے نوازا ہے۔ مرحوم سابق کمشنر گلگت بلتستان، سیکرٹری بلوچستان جناب تاج محمد نعیم نے اپنی پچاس سال سے زیادہ قربت اور دوستی پر مبنی جناب فصیح اقبال پر ایک تفصیلی کتاب لکھی ہے جس کا عنوان ہے ”سیّد فصیح اقبال۔ ایک لیجنڈ، ایک عہد ساز شخصیت“۔ جس طرح فصیح اقبال صاحب کے والد محترم سیّد مظہر رشید صاحب پاکستانی تحریک کے مجاہدین میں دل و جان سے شامل تھے اُسی جذبہ سے فصیح اقبال بلوچستان اور پاکستان کی محبت میں اور خدمت میں صف اوّل میں شامل ہیں۔ انہوں نے بلوچستان پر تیارکردہ ڈائری میں رب العزت کی تعریف و تکریم کے بعد ہمارے پیارے رسول محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خطبہ حجتہ الوداع پیش کیا ہے اور پھر بلوچستان کے سیاستدانوں، جغرافیہ، معدنیات، تاریخ، تاریخی مقامات، تعلیمی اداروں، ثقافت، موسم، فصلوں، پیداوار، ترقیاتی پروگراموں وغیرہ پر تفصیلی معلومات پیش کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے، تندرست و خوش و خرم رکھے اور عمر دراز کرے۔ انہوں نے بلوچ ہونے کا حق ادا کردیا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: