اعلیٰ اسلامی نظام مملکت

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے فقید المثال ہدایت نامہ برائے نظام مملکت بنام مالک الاشتر نامزد گورنر مصر کا دوسرا پارٹ حاضر خدمت ہے۔”اور دیکھو ! اس اچھے طور طریقے کو ختم نہ کرنا کہ جس پر اُمت کے بزرگ چلتے رہے ہیں اور جس سے اتحاد و یک جہتی پیدا اور رعیت کی اصلاح ہوئی ہے۔ اور ایسے نئے طریقے ایجاد کرنا جو پہلے طریقوں کو کچھ ضرر پہنچائیں۔ اگر ایسا کیا تو نیک روش قائم کرجانے والوں کو ثواب تو ملتا رہے گامگر انہیں ختم کردینے کا گناہ تمہاری گردن پر ہوگا۔ اور اپنے شہروں کے اِصلاحی اُمور کو مستحکم اور اُن چیزوں کے قائم کرنے میں کہ جن سے اگلے لوگوں کے حالات مضبوط رہے تھے، علماء و حکماء کے ساتھ باہمی مشورہ اور بات چیت کرتے رہنا۔اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ رعایا میں کئی طبقے ہوتے ہیں ، جن کی سُود و بہبود ایک دوسرے سے وابستہ ہوتی ہے۔ اور وہ ایک دوسرے سے بے نیاز نہیں ہوسکتے۔ ان میں سے ایک طبقہ وہ ہے جو اللہ کی راہ میں کام آنے والے فوجیوں کا ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو عمومی و خصوصی تحریروں کا کام انجام دیتا ہے۔ تیسرا انصاف کرنے والے قضاة کا ہے۔ چوتھا حکومت کے وہ عمّال جن سے امن او ر انصاف قائم ہوتا ہے۔ پانچواں خراج دینے والے مسلمان اور جزیہ دینے والے ذمیوں کا ہے۔چھٹا تجارت پیشہ و اہل حرفہ کا ۔ ساتواں فقرا ومساکین کا وہ طبقہ

ہے کہ جو سب سے پست اور اللہ نے ہر ایک کا حق معین کردیا ہے اور اپنی کتاب یا سنّت نبوی ﷺ میں اس کی حد بندی کردی ہے اور وہ (مکمل) دستورہمارے پاس محفوظ ہے۔
(پہلا طبقہ) فوجی دستے یہ بحکم خدا رعیت کی حفاظت کا قلعہ، فرمانرواؤں کی زینت ، دین مذہب کی قوت اور امن کی راہ ہیں۔ رعیت کا نظم و نسق انہی سے قائم رہ سکتا ہے۔ اور فوج کی زندگی کا سہارا وہ خراج ہے جو اللہ نے اس کے لیے معین کیا ہے کہ جس سے وہ دشمنوں سے جہاد کرنے میں تقویت حاصل کرتے اور اپنی حالت کو درست بناتے اور ضروریات کو بہم پہنچاتے ہیں۔ پھر ان دونوں طبقوں کے نظم و بقاء کے لیے تیسرے طبقے کی ضرورت ہے کہ جو قضاة، عمّال اور منشیان دفاتر کا ہے کہ جن کے ذریعہ باہمی معاہدوں کی مضبوطی اور خراج اور دیگر منافع کی جمع آوری ہوتی ہے۔ اور معمولی اور غیرمعمولی معاملوں میں ان کے ذریعہ وثوق و اطمینان حاصل کیا جاتا ہے اور سب کا دارومدار سوداگروں اور صناعوں پر ہے کہ وہ ان کی ضروریات کو فراہم کرتے ہیں، بازار لگاتے ہیں اور اپنی کاوشوں سے اُن کی ضروریات کو مہیا کر کے اُنہیں آسودہ کردیتے ہیں۔ اس کے بعدپھر فقیروں اور ناداروں کا طبقہ ہے جن کی اعانت و دستگیری ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب کے گزارے کی صورتیں پیدا کررکھی ہیں۔ اور ہر طبقے کا حاکم پر حق قائم ہے کہ وہ ان کے لئے اتنا مہیا کرے جو اِن کی حالت درست کر سکے اور حکمراں اللہ تعالیٰ کے ان تمام ضروری حقوق سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا مگر اسی صورت میں کہ پوری طرح کوشش کرے اور اللہ سے مدد مانگے اور اپنے کو حق پر ثابت و برقرار رکھے اور چاہے اس کی طبیعت پر آسان ہو یا دشوار بہرحال اس کو برداشت کرے۔ فوج کا سردار اس کو بنانا جو اپنے اللہ کا اور اپنے رسول ﷺ کا اور اور تمہارے امام کا سب سے زیادہ خیر خواہ ہو۔سب سے زیادہ پاک دامن ہو اور بُردباری میں نمایاں ہو ۔ جلد غصہ میں نہ آجاتا ہو، عذر معذرت پر مطمئن ہوجاتا ہو، کمزوروں پر رحم کھاتا ہواور طاقتوروں کے سامنے اکڑ جاتا ہو۔ نہ بد خوئی اسے جوش میں لے آتی ہواور نہ پست ہمتی اُسے بٹھا دیتی ہو۔ پھر ایسا ہونا چاہیے کہ تم بلند خاندان، نیک گھرانے اور عمدہ روایات رکھنے والوں اور ہمت و شجاعت اور جود و سخاوت کے مالکوں سے اپنا ربط ضبط بڑھاؤکیونکہ یہی لوگ بزرگیوں کا سرمایہ اور نیکیوں کا سرچشمہ ہوتے ہیں۔ پھر ان کے حالات کی اس طرح دیکھ بھال کرنا جس طرح ماں باپ اپنی اولاد کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ اگر ان کے ساتھ کوئی ایسا سلوک کروکہ جو ان کی تقویت کا سبب ہو تو اسے بڑا نہ سمجھنا۔ اور اپنے کسی معمولی سلوک کو بھی غیر اہم نہ سمجھ لینا (کہ اُسے چھوڑ بیٹھو) کیونکہ اس حُسن سلوک سے ان کی خیر خواہی کا جذبہ اُبھرے گا، اور حُسن اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ اور اس خیال سے کہ تم نے ان کی بڑی ضرورتوں کو پورا کردیا ہے، کہیں ان کی چھوٹی ضرورتوں سے آنکھ بند نہ کرلینا، کیونکہ یہ چھوٹی قسم کی مہربانی کی بات بھی اپنی جگہ فائدہ بخش ہوتی ہے، اور وہ بڑی ضرورتیں اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہیں۔ اور فوجی سرداروں میں وہ بلند منزلت سمجھا جائے جو فوجیوں کی اعانت میں برابر کا حصہ لیتا ہو۔ اور اپنے روپے پیسے سے اتنا سلوک کرتا ہو کہ جس سے ان کا اور ان کے پیچھے رہ جانے والے بال بچوں کا بخوبی گزارا ہوسکتا ہو۔ تاکہ وہ ساری فکروں سے بے فکر ہو کر پوری یکسوئی کے ساتھ دشمن سے جہاد کریں۔ اس لیے کہ فوجی سرداروں کے ساتھ تمہارا مہربانی سے پیش آنا ان کے دلوں کو تمہاری طرف موڑ دے گا۔ حکمرانوں کے لئے سب سے بڑی آنکھوں کی ٹھنڈک اس میں ہے کہ شہروں میں عدل و انصاف برقرار رہے اور رعایا کی محبت ظاہر ہوتی رہے اور ان کی محبت اس وقت ظاہر ہوا کرتی ہے کہ جب اُن کے دلوں میں میل نہ ہو، اور ان کی خیر خواہی اسی صورت میں ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں کے گرد حفاظت کے لیے گھیرا ڈالے رہیں۔ اِن کا اقتدار سر پڑا بوجھ نہ سمجھیں اور نہ اِن کی حکومت کے خاتمہ کے لیے گھڑیاں گنیں لہٰذا ان کی امیدوں میں وسعت و کشائش رکھنا۔ انہیں اچھے لفظوں سے سراہتے رہنا، ان میں اچھی کارکردگی دکھانے والوں کے کارناموں کا تذکرہ کرتے رہنا۔ اس لیے کہ ان کے اچھے کارناموں کا ذکر بہادروں کو جوش میں لے آتا ہے اور پست ہمتوں کو اُبھارتا ہے۔جو شخص جس کارنامے کو انجام دے اسے پہچانتے رہنا۔ اور ایک کا کارنامہ دوسرے کی طرف منسوب نہ کردینا ۔ اور اس کی حُسن کارکردگی کا صلہ دینے میں کمی نہ کرنا۔ اور کبھی ایسا نہ کرنا کہ کسی شخص کی بلندی اور رفعت کی وجہ سے اُس کے معمولی کام کو بڑا سمجھ لو اور کسی کے بڑے کام کو اُس کے خود پست ہونے کی وجہ سے معمولی قرار دے لو۔
جب ایسی مشکلیں آئیں کہ جن کا حل نہ ہوسکے اور ایسے معاملات کہ جو مشتبہ ہوجائیں، تو ان میں اللہ اور رسول ﷺ کی طرف رجوع کروکیونکہ خدا نے جن لوگوں کو ھدایت کرنا چاہی ہے ، اُن کے لیے فرمایا ہے ”اے ایماندارو! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول ﷺ کی اور ان کی جو تم میں سے صاحبان ِ امر ہوں“۔ تو اللہ کی طرف رجوع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے ان متفق علیہ ارشادات پر عمل کیا جائے جن میں کوئی اختلاف نہیں۔
پھر یہ کہ لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرنے کے لیے ایسے شخص کو منتخب کرو جو تمہارے نزدیک تمہاری رعایا میں سب سے بہتر ہوجو واقعات کی پیچیدگیوں سے ضیق میں نہ پڑ جاتا ہواور نہ جھگڑا کرنے والوں کے رویہ سے غصہ میں آتا ہو۔ نہ اپنے کسی غلط نقطہٴ نظر پر اڑتا ہو، نہ حق کو پہچان کر اس کے اختیار کرنے میں طبیعت پر بار محسوس کرتا ہو نہ اس کا نفس ذاتی طمع پر جھُک پڑتا ہو اور نہ بغیر پوری طرح چھان بین کئے سرسری طور پر کسی معاملہ کو سمجھ لینے پر اکتفا کرتا ہو۔ شک و شبہ کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہو۔ فریقین کی بخشا بخشی سے اکتا نہ جاتا ہو۔ معاملات کی تحقیق میں بڑے صبر و ضبط سے کام لیتا ہو۔ توجب حقیقت آئینہ ہوجاتی ہو، بے دھڑک فیصلہ کردیتا ہو۔ وہ ایسا ہو جسے سراہنا مغرور نہ بنائے اور تاننا جانب داری پر آمادہ نہ کردے۔ اگرچہ ایسے لوگ کم ہی ملتے ہیں۔ اور پھر یہ کہ تم خود اِن کے فیصلوں کا بار بار جائزہ لیتے رہنا۔دل کھول کر انہیں اتنا دینا کہ جو اِن کے ہر عذر کو غیر مسموع بنادے اور لوگوں کی انہیں کوئی احتیاج نہ رہے۔ اپنے ہاں انہیں ایسے باعزت مرتبہ پر رکھوکہ تمہارے دربار رس لوگ انہیں ضرر پہنچانے کا کوئی خیال نہ کرسکیں۔ تاکہ وہ تمہارے التفات کی وجہ سے لوگوں کی سازشوں سے محفوظ رہیں۔اس بارے میں انتہائی بالغ نظری سے کام لینا کیونکہ (اس سے پہلے) یہ دین بدکرداروں کے پنجے میں اسیر رہ چکا ہے۔ جس میں نفسانی خواہشوں کی کارفرمائی تھی اور اُسے دنیا طلبی کا ایک ذریعہ بنا لیا گیا تھا۔پھر اپنے عہدہ داروں کے بارے میں نظر رکھنا ۔ ان کو خوب آزمائش کے بعد منصب دینا ، کبھی صرف رعایت اور جانبداری کی بنا پر انہیں منصب عطا نہ کرنا۔ اس لیے کہ یہ باتیں ناانصافی اور بے ایمانی کا سرچشمہ ہیں۔ اور ایسے لوگوں کو منتخب کرنا ، جو آزمودہ و غیرت مند ہوں۔ایسے خاندانوں میں سے جو اچھے ہوں۔ اور جن کی خدمات اِسلام کے سلسلہ میں پہلے سے ہوں۔ کیونکہ ایسے لوگ بلند اخلاق اور بے داغ عزت والے ہوتے ہیں۔ حرص و طمع کی طرف کم جھکتے ہیں اور عواقب و نتائج پر زیادہ نظر رکھتے ہیں۔
پھر ان کی تنخواہوں کا معیار بلند رکھنا کیونکہ اس سے انہیں اپنے نفوس کے درست رکھنے میں مدد ملے گی اور اس مال سے بے نیاز رہیں گے جو ان کے ہاتھوں میں بطور امانت ہوگا۔ اس کے بعد بھی وہ تمہارے حکم کی خلاف ورزی کریں یا امانت میں رخنہ اندازی کریں تو تمہاری حُجت ان پر قائم ہوگی۔پھر ان کے کاموں کو دیکھتے بھالتے رہنا اور سچے وفادار مخبروں کو ان پر چھوڑ دینا۔ کیونکہ خفیہ طور پر ان کے امور کی نگرانی انہیں امانت کے برتنے اور رعیت کے ساتھ نرم رویہ رکھنے کا باعث ہوگی۔
خائن مددگاروں سے اپنا بچاؤ کرتے رہنا۔ اگر کوئی ان میں سے خیانت کی طرف ہاتھ بڑھائے اور متفقہ طور پر جاسوسوں کی اطلاعات تم تک پہنچ جائیں، تو شہادت کے لیے بس اسے کافی سمجھنا۔ اسے جسمانی طور پر سزا دینا اور جو کچھ اُس نے اپنے عہدہ سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے سمیٹا ہے، اُسے واپس لینا اور اُسے ذلت کی منزل پر کھڑا کردینا۔ اور خیانت کی رسوائیوں کے ساتھ اُسے روشناش کرانا اور ننگ و رسوائی کا طوق اس کے گلے میں ڈال دینا۔
مال گزاری کے معاملہ میں مالگزاری ادا کرنے والوں کا مفاد پیش نظر رکھنا ۔ کیونکہ باج اور باجگزاروں کی بدولت ہی دوسروں کے حالات درست کیے جاسکتے ہیں۔ سب اسی خراج اور خراج دینے والوں کے سہارے پر جیتے ہیں۔ اور خراج کی جمع آوری سے زیادہ زمین کی آبادی کا خیال رکھنا۔ کیونکہ خراج بھی تو زمین کی آبادی ہی سے حاصل ہوسکتا ہے۔
اور جو آباد کیئے بغیر خراج چاہتا ہے وہ ملک کی بربادی اور بندگانِ خدا کی تباہی کا سامان کرتا ہے۔ اور اس کی حکومت تھوڑے دنوں سے زیادہ نہیں رہ سکتی۔
اب اگر وہ خراج کی گرانباری یا کسی آفت ناگہانی یا نہری و بارانی علاقوں میں ذرائع آبپاشی کے ختم ہونے یا زمین کے سیلاب میں گھر جانے یا سیرابی کے نہ ہونے کے باعث اس کے تباہ ہونے کی شکایت کریں تو خراج میں اتنی کمی کردو جس سے تمہیں ان کے حالات سدھرنے کی توقع ہواور اُن کے بوجھ کو ہلکا کرنے سے تمہیں گرانی نہ محسوس ہو کیونکہ انہیں زیر باری سے بچاناایک ایسا ذخیرہ ہے کہ جو تمہارے ملک کی آبادی اور تمہارے قلمرو حکومت کی زیب و زینت کی صورت میں تمہیں پلٹا دیں گے اور اس کے ساتھ تم ان سے خراج تحسین اور عدل قائم کرنے کی وجہ سے مسرت بے پایاں بھی حاصل کرسکو گے اور اپنے اس حسن سلوک کی وجہ سے کہ جس کا ذخیرہ تم نے ان کے پاس رکھ دیا ہے تم (آڑے وقت پر) ان کی قوت کے بل بوتے پر بھروسہ کرسکوگے اور رحم و رافت کے جلو میں جس سیرت عادلانہ کا تم نے انہیں خوگر بنایا ہے، اس کے سبب تمہیں اُن پر وثوق و اعتماد ہوسکے گا۔ اس کے بعد ممکن ہے کہ ایسے حالات بھی پیش آئیں جن میں تمہیں ان پر اعتماد کرنے کو ضرورت ہو وہ انہیں بطیّب خاطر جھیل لے جائیں گے۔ کیونکہ ملک آباد ہے تو جیسے بوجھ اس پر لادو گے، وہ اُٹھا لے گا۔ اور زمین کی تباہی تو اس سے آتی ہے کہ کاشتکاروں کے ہاتھ تنگ ہوجائیں اور ان کی تنگ دستی اس وجہ سے ہوتی ہے کہ حکام مال و دولت کے سمیٹنے پر تُل جاتے ہیں اور انہیں اپنے اقتدار کے ختم ہونے کا کھٹکا لگا رہتا ہے اور عبرتوں سے بہت کم فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں۔ (باقی اگلے ہفتہ)

Leave a Reply

%d bloggers like this: