اعلیٰ اسلامی نظام مملکت

0 2

یہ اس فقید المثال و سنہری ہدایت کا تیسرا حصہ ہے جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضرت مالک اَلاشتر کو مصر کا گورنر نامزد کرکے ان کو لکھا تھا۔ اس میں ہر دور کے حکمرانوں کے لئے سنہری ہدایات ہیں:۔
”پھر یہ کہ اپنے منشیان دفاتر کی اہمیت پر نظر رکھنا اپنے معاملات ان کے سپرد کرنا جو ان میں بہتر ہوں اور اپنے ان فرامین کو جن میں مخفی تدابیر اور (مملکت کے) رموز و اسرار درج ہوتے ہیں خصوصیت کے ساتھ ان کے حوالے کرنا جو سب سے زیادہ اچھے اخلاق کے مالک ہوں۔ جنہیں اعزاز کا حاصل ہونا سرکش نہ بنائے کہ وہ بھری محفلوں میں تمہارے خلاف کچھ کہنے کی جرأت کرنے لگیں اور ایسے بے پروا نہ ہوں کہ لین دین کے بارے میں جو تم سے متعلق ہوں تمہارے کارندوں کے خطوط تمہارے سامنے پیش کرنے اور ان کے مناسب جوابات روانہ کرنے میں کوتاہی کرتے ہوں اور وہ تمہارے حق میں جو معاہدہ کریں اس میں کوئی خامی نہ رہنے دیں اور نہ تمہارے خلاف کسی ساز باز کا توڑ کرنے میں کمزوری دکھائیں اور وہ معاملات میں اپنے صحیح مرتبہ اور مقام سے ناآشنا نہ ہوں کیونکہ جو اپنا صحیح مقام نہیں پہچانتا وہ دوسروں کے قدر و مقام سے اور بھی زیادہ ناواقف ہوگا۔ پھر یہ کہ ان کا انتخاب تمہیں اپنی فراست ، خوش اعتمادی اور حُسن ظن کی بنا پر نہیں کرنا چاہئے۔
کیونکہ لوگ تصنع اور حُسنِ خدمات کے

ذریعہ حکمرانوں کی نظروں میں سما کر تعارف کی راہیں نکال لیا کرتے ہیں حالانکہ ان میں ذرہ بھی خیر خواہی اور امانت داری کا جذبہ نہیں ہوتا لیکن تم انہیں ان خدمات سے پرکھو جو تم سے پہلے وہ نیک حاکموں کے ماتحت رہ کر انجام دے چکے ہوں۔ تو جو عوام میں نیک نام اور امانت داری کے اعتبار سے زیادہ مشہور ہوں ان کی طرف خصوصیت کے ساتھ توجہ کرو اس لئے کہ ایسا کرنا اس کی دلیل ہوگا کہ تم اللہ کے مخلص اور اپنے امام کے خیرخواہ ہو۔ تمہیں محکمہ تحریر کے ہر شعبہ پر ایک ایک افسر مقرر کرنا چاہئے جو اس شعبہ کے بڑے سے بڑے کام سے عاجز نہ ہو اور کام کی زیادتی سے بوکھلا نہ اُٹھے۔ یاد رکھو! اِن مُنشیوں میں جو بھی عیب ہوگا اور تم اس سے آنکھ بند رکھو گے، اس کی ذمہ داری تم پر ہوگی۔پھر تمہیں تاجروں اور صناعوں کے خیال اور ان کے ساتھ اچھے برتاؤ کی ہدایت کی جاتی ہے اور تمہیں دوسروں کو ان کے متعلق ہدایت کرنا ہے خواہ وہ ایک جگہ رہ کر بیوپار کرنے والے ہوں یا پھیری لگا کر بیچنے والے ہوں یا جسمانی مشقت (مزدوری یا دستکاری) سے کمانے والے ہوں کیونکہ یہی لوگ منافع کا سرچشمہ اور ضروریات کے مہیا کرنے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ یہ لوگ ان ضروریات کو خشکیوں، تریوں، میدانی علاقوں اور پہاڑوں ایسے دور اُفتادہ مقامات سے درآمد کرتے ہیں اور ایسی جگہوں سے جہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے اور نہ وہاں جانے کی ہمت کرسکتے ہیں۔ یہ لوگ امن پسند اور صلح جو ہوتے ہیں۔ ان سے کسی فساد اور شورش کا اندیشہ نہیں ہوتا۔
یہ لوگ تمہارے سامنے ہوں یا جہاں جہاں دوسرے شہروں میں پھیلے ہوئے ہوں تم ان کی خبر گیری کرتے رہنا۔ ہاں ! اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھو کہ ان میں سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو انتہائی تنگ نظر اور بڑے کنجوس ہوتے ہیں جو نفع اندوزی کے لئے مال روک رکھتے ہیں اور اونچے نرخ معین کرلیتے ہیں۔ یہ چیز عوام کے لئے نقصان دہ اورحکام کی بدنامی کا باعث ہوتی ہے لہٰذا ذخیرہ اندوزی سے منع کرنا ، کیونکہ رسول ﷺ نے اس کی مُمانعت فرمائی ہے اور خرید و فروخت صحیح ترازوؤں اور مناسب نرخوں کے ساتھ بہ سہولت ہونا چاہئے کہ نہ بیچنے والے کو نقصان ہو نہ خریدنے والے کو خسارہ ہو۔ اس کے بعد بھی کوئی ذخیرہ اندوزی کے جرم کا مُرتکب ہو تو اُسے مناسب حد تک سزا دینا۔ پھر خصوصیت کے ساتھ اللہ کا خوف کرنا ۔ پسماندہ و افتادہ طبقہ کے بارے میں جن کا کوئی سہارا نہیں ہوتا وہ مسکینوں، محتاجوں، فقیروں اور معذوروں کا طبقہ ہے، اُن میں کچھ تو ہاتھ پھیلا کر مانگنے والے ہوتے ہیں اور کچھ کی صورت سوال کرتی ہے۔ اللہ کی خاطر ان بے کسوں کے بارے میں اس کے اس حق کی حفاظت کرنا جس کا اس نے تمہیں ذمہ دار بنایا ہے، ان کے لئے ایک حصہ بیت المال سے معین کردینا اور ایک حصہ ہر شہر کے اس غلہ میں سے دینا جو اسلامی غنیمت کی زمینوں سے حاصل ہوا ہو کیونکہ اس میں دور والوں کا اتنا ہی حصہ ہے جتنا نزدیک والوں کا ہے اور تم ان سب کے حقوق کی نگہداشت کے ذمہ وار بنائے گئے ہو لہٰذا تمہیں دولت کی سرمستی ان سے غافل نہ کردے کیونکہ کسی معمولی بات کو اس لئے نظر انداز نہیں کیا جائے گا کہ تم نے بہت سے اہم کاموں کو پورا کردیا ہے لہٰذا اپنی توجہ ان سے نہ ہٹانا اور نہ تکبّر کے ساتھ اِن کی طرف سے اپنا رُخ پھیرنا اور خصوصیت کے ساتھ خبر رکھو ایسے افراد کی جو تم تک پہنچ نہیں سکتے جنہیں آنکھیں دیکھنے سے کراہت کرتی ہوں گی اور لوگ انہیں حقارت سے ٹھکراتے ہوں گے ۔ تم ان کے لئے کوئی بھروسے کے آدمی جو خوف خدا رکھنے والا اور متواضع ہو مقرر کر دینا کہ ان کے حالات تم تک پہنچاتا رہے پھر ان کے ساتھ وہ طرز عمل اختیار کرنا جس سے قیامت کے روز اللہ کے سامنے حُجّت پیش کرسکو کیونکہ رعیت میں دوسروں سے زیادہ انصاف کے محتاج ہیں اور یوں تو سب ہی ایسے ہیں کہ تمہیں اُن کے حقوق سے عہدہ برآ ہو کر اللہ کے سامنے سرخرو ہونا ہے اور دیکھو یتیموں اور سالخوردہ بوڑھوں کا خیال رکھنا کہ جو نہ کوئی سہارا رکھتے ہیں اور نہ سوال کے لئے اُٹھتے ہیں اور یہی وہ کام ہے جو حکام پر گراں گزرا کرتا ہے۔ ہاں خدا اُن لوگوں کے لئے جو عقبیٰ کے طلبگار رہتے ہیں اس کی گرانیوں کو ہلکا کردیتا ہے۔ وہ اسے اپنی ذات پر جھیل لے جاتے ہیں اور اللہ نے جو اُن سے وعدہ کیا ہے اس کی سچائی پر بھروسہ رکھتے ہیں اور تم اپنے اوقات کا ایک حصہ حاجت مندوں کے لئے معین کردینا جس میں سب کام چھوڑ کر انہی کے لئے مخصوص ہوجانا اور ان کے لئے ایک عام دربار کرنا اور اس میں اپنے پیدا کرنے والے اللہ کے لئے تواضع و انکساری سے کام لینا اور فوجیوں، نگہبانوں اور پولیس والوں کو ہٹا دینا تاکہ کہنے والے بے دھڑک کہہ سکیں کیونکہ میں نے رسول ﷺ کو کئی موقعوں پر فرماتے سنا ہے کہ ”اس قوم میں پاکیزگی نہیں آسکتی جس میں کمزوروں کو کھل کر طاقتوروں سے حق نہیں دلایا جاتا“ پھر یہ کہ اگراِن کے تیور بگڑیں یا صاف صاف مطلب نہ کہہ سکیں تو اسے برداشت کرنا اور تنگ دلی اور نخوت کو ان کے مقابلہ میں پاس نہ آنے دینا۔ اس کی وجہ سے اللہ تم پر اپنی رحمت کے دامنوں کو پھیلا دے گا اور اپنی فرمانبرداری کا تمہیں ضرور اجر دے گا اور جو حسن سلوک کرنا اس طرح کہ چہرے پر شکن نہ آئے اور نہ دینا تو اچھے طریقے سے عذر خواہی کرلینا۔
پھر کچھ امور ایسے ہیں کہ جنہیں خود تم ہی کو انجام دینا چاہئیں۔ اُن میں سے ایک حکام کے ان مراسلات کا جواب دینا ہے جو تمہارے منشیوں کے بس میں نہ ہوں اور ایک لوگوں کی حاجتیں جب تمہارے سامنے پیش ہوں اور تمہارے عملہ کے ارکان ان سے جی چرائیں تو خود انہیں انجام دینا ہے، روز کا کام اسی روز ختم کردیا کرو کیونکہ ہر دن اپنے ہی کام کے لئے مخصوص ہوتا ہے اور اپنے اوقات کا بہتر و افضل حصہ اللہ کی عبادت کے لئے خاص کردینا اگرچہ وہ تمام کام بھی اللہ ہی کے لئے ہیں جب نیت بخیر ہو، اور اُن سے رعیت کی خوشحالی ہو۔
اُن مخصوص اشغال میں سے جن کے ساتھ تم خلوص کے ساتھ اللہ کے لئے اپنے دینی فریضہ کو ادا کرتے ہو ان واجبات کی انجام دہی ہونا چاہئے جو اس کی ذات سے مخصوص ہیں۔ تم شب و روز کے اوقات میں اپنی جسمانی طاقتوں کا کچھ حصہ اللہ کے سپرد کردو اور جو عبادت بھی تقرّب الٰہی کی غرض سے بجالانا ایسی ہوکہ نہ اس میں کوئی خلل ہو اور نہ کوئی نقص، چاہے اس میں تمہیں کتنی جسمانی زحمت اُٹھانا پڑے اور دیکھو! جب لوگوں کو نماز پڑھانا تو ایسی نہیں کہ (طول دیکر) لوگوں کو بیزار کردو اور نہ ایسی مختصر کہ نماز برباد ہوجائے۔ اِس لئے کہ نمازیوں میں بیمار بھی ہوتے ہیں اور ایسے بھی جنہیں کوئی ضرورت درپیش ہوتی ہے۔ چنانچہ جب مجھے رسولﷺ نے یمن کی طرف روانہ کیا تو میں نے آپﷺ سے دریافت کیا کہ انہیں نماز کس طرح پڑھاؤں؟ تو فر مایا کہ جیسی ان میں کے سب سے زیادہ کمزور و ناتواں کی نماز ہوسکتی ہے اور تمہیں مومنوں کے حال پر مہربان ہونا چاہئے۔
اس کے بعد یہ خیال رہے کہ رعایا سے عرصہ تک روپوشی اختیار نہ کرنا کیونکہ حکمرانوں کا رعایا سے چھپ کر رہنا ایک طرح کی تنگ دلی اور معاملات سے بے خبر رہنے کا سبب ہے اور یہ روپوشی انہیں بھی ان امور پر مطلع ہونے سے روکتی ہے کہ جن سے وہ ناواقف ہیں جس کی وجہ سے بڑی چیز ان کی نگاہ میں چھوٹی اور چھوٹی چیز بڑی، اچھائی برائی اور برائی اچھائی ہوجایا کرتی ہے اور حق باطل کے ساتھ مل جل جاتا ہے اور حکمران بھی آخر ایسا ہی بشر ہوتا ہے جو ناواقف رہے گا ان معاملات سے جو لوگ اس سے پوشیدہ کریں اور حق کی پیشانی پر کوئی نشان نہیں ہوا کرتے کہ جس کے ذریعے جھوٹ سے سچ کی قسموں کو الگ کرکے پہچان لیا جائے اور پھر تم دو ہی طرح کے آدمی ہوسکتے ہو یا تو تم ایسے ہو کہ تمہارا نفس حق کے ادا کے لئے آمادہ ہے تو پھر واجب حقوق ادا کرنے اور اچھے کام کرگزرنے سے منہ چھپانے کی ضرورت کیا؟ اور یا تم ایسے ہو کہ لوگوں کو تم سے کورا جواب ہی ملنا ہے تو جب لوگ تمہاری عطا سے مایوس ہوجائیں گے تو خود ہی بہت جلد تم سے مانگنا چھوڑ دیں گے اور پھر یہ کہ لوگوں کی اکثر ضرورتیں ایسی ہوں گی جن سے تمہاری جیب پر کوئی بار نہیں پڑتا۔ جیسے کسی کے ظلم کی شکایت یا کسی معاملہ میں انصاف کا مطالبہ۔اس کے بعد معلوم ہونا چاہئے کہ حکام کے کچھ خاص اور سر چڑھے لوگ ہوا کرتے ہیں جن میں خودغرضی، دست درازی اور بدمعاملگی ہوا کرتی ہے۔ تم کو ان حالات کے پیدا ہونے کی وجوہ ختم کرکے اس گندے مواد کو ختم کردینا چاہئے اور دیکھو! اپنے کسی حاشیہ نشین اور قرابت دارکو جاگیر نہ دینا اور اُسے تم سے توقع نہ بندھنا چاہئے کسی ایسی زمین پر قبضہ کرنے کی جو آبپاشی یا کسی مشترکہ معاملہ میں اس کے آس پاس کے لوگوں کے لئے ضرر کا باعث ہو یوں کہ اس کا بوجھ دوسروں پر ڈال دے ، اس صورت میں اس کے خوشگوار مزے تو اس کے لئے ہوں گے نہ تمہارے لئے مگر اس کا بدنما دھبہ دُنیا و آخرت میں تمہارے دامن پر رہ جائے گا۔اور جس پر جو حق عائد ہوتا ہو اس پر اس کے حق کو نافذ کرنا چاہئے۔ وہ تمہارا اپنا ہو یا بیگانہ ہو اور اس کے بارے میں تحمل سے کام لینا اور ثواب کے امیدوار رہنا چاہے اس کی زد تمہارے کسی قریبی عزیز یا کسی مصاحب خاص پر کیسی ہی پڑتی ہو اور اس میں تمہاری طبیعت کو جو گرانی محسوس ہو اس کے اخروی نتیجہ کو پیش نظر رکھنا کہ اس کا انجام بہرحال اچھا ہوگا۔
اور اگر رعیت کو تمہارے بارے میں کبھی یہ بدگمانی ہوجائے کہ تم نے اس پر ظلم و زیادتی کی ہے تو اپنے عذر کو واضح طور پر پیش کردو اور عذر واضح کرکے ان کے خیالات کو بدل دو۔ اس سے تمہارے نفس کی تربیت ہوگی اور رعایا پر مہربانی ثابت ہوگی اور اس عذرآوری سے ان کو حق پر استوار کرنے کا مقصد تمہارا پورا ہوگا۔(باقی اگلے ہفتہ)

Leave a Reply

%d bloggers like this: