اعلیٰ اسلامی نظام مملکت

(چوتھی و آخری قسط)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ،چوتھے خلیفہ اسلام اور امیرالمومنین کی فراست و عقل و فہم کے اس شاہکار کی جو انھوں نے مصر میں نامزد گورنر مالک اَلاشتر کو روانگی سے پیشتر بھیجا تھا یہ آخری قسط ہے۔ دنیا میں اس سے بہتر اور مختصر دستاویز نظام حکومت پر دستیاب نہیں ہے اور نہ ہی ہوگی۔ جن حکمرانوں نے ان ہدایات کے چند نقطوں پر عمل کیا وہ نہایت کامیاب رہے اور تاریخ میں ان کے نام روشن ہیں اور جنھوں نے خود کو عقل کل سمجھا اور من مانی کی وہ ورق پارینہ بن گئے۔
”اگر دشمن ایسی صلح کی تمہیں دعوت دے جس میں اللہ کی رضامندی ہو، تو اسے کبھی ٹھکرا نہ دینا۔ کیونکہ صلح میں تمہارے لشکر کیلئے آرام و راحت خود تمہارے لئے فکروں سے نجات اور شہروں کیلئے امن کا سامان ہے۔ لیکن صلح کے بعد دشمن سے چوکنّا اور خوب ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دشمن قرب حاصل کرتا ہے تاکہ تمہاری غفلت سے فائدہ اُٹھائے لہٰذا احتیاط کو ملحوظ رکھو اور اس بارے میں حسن ظن سے کام نہ لو۔ اور اگر اپنے دشمن کے درمیان کوئی معاہدہ کرو یا اُسے اپنے دامن میں پناہ دو تو پھر عہد کی پابندی کرو، وعدہ کا لحاظ رکھو اور اپنے قول و قرار کی حفاطت کیلئے اپنی جان کو سپر بنا دو کیونکہ اللہ کے فرائض میں سے ایفائے عہد کی ایسی کوئی چیز نہیں کہ جس کی

اہمیت پر دنیا اپنے الگ الگ نظریوں اور مختلف رایوں کے باوجود یکجہتی سے مختلف ہو اور مسلمانو کے علاوہ مشرکوں تک نے اپنے درمیان معاہدوں کی پابندی کی ہے۔ اس لئے کہ عہد شکنی کے نتیجہ میں انہوں نے تباہیوں کا اندازہ کیا تھالہٰذا اپنے عہد و پیماں کی غداری اور قول و قرار میں بدعہدی نہ کرنا، اور اپنے دشمن پر اچانک حملہ نہ کرنا۔ کیونکہ اللہ پر جرأت جاہل بدبخت کے علاوہ دوسرا نہیں کرسکتا۔ اور اللہ نے عہد و پیماں کی پابندی کو امن کا پیغام قرار دیا ہے کہ جسے اپنی رحمت سے بندوں میں عام کردیا ہے۔ اور ایسی پناہ گاہ بنایا ہے کہ جس کے دامن حفاظت میں پناہ لینے اور اس کو جوار میں منزل کرنے کے لئے وہ تیزی سے بڑھتے ہیں۔ لہٰذا اس میں کوئی جعلسازی، فریب کاری اور مکاری نہ ہونا چاہئے۔ اور ایسا کوئی معاہدہ کرو ہی نہ جس میں تاویلوں کی ضرورت پڑنے کا امکان ہو۔ اور معاہدہ کے پختہ اور طے ہوجانے کے بعد اسکے کسی مبہم لفظ کے دوسرے معنی نکال کر فائدہ اُٹھانے کی کوشش نہ کرو اور اس عہد و پیمانِ خداوندی میں کسی دشواری کا محسوس ہونا تمہارے لئے اس کا باعث نہ ہونا چاہئے کہ تم اُسے ناحق منسوخ کرنے کی کوشش کرو کیونکہ ایسی دُشواریوں کو جھیل لے جانا کہ جن سے چھٹکارے کی اور انجام بخیر ہونے کی امید ہو اس بدعہدی کرنے سے بہترہے جس کے بُرے انجام کا تمہیں خوف ہو اور کہ اللہ کے یہاں تم سے اس پر کوئی جواب دہی ہوگی اور اس طرح تمہاری دنیا اور آخرت دونوں کی تباہی ہوگی۔
دیکھو! ناحق خونریزیوں سے اپنا دامن بچائے رکھنا، کیونکہ عذاب اِلہٰی سے قریب اور پاداش کے لحاظ سے سخت اور نعمتوں کے سلب ہونے اور عمر کے خاتمہ کا سبب ناحق خونریزی سے زیادہ کوئی شے نہیں ہے۔ اور قیامت کے دن اللہ سبحانہ تعالیٰ، سب سے پہلے جو فیصلہ کرے گا وہ انہیں خونوں کا جو بندگانِ خدا نے ایک دوسرے کے بہائے ہیں۔ لہٰذا ناحق خون بہا کر اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کی کبھی کوشش نہ کرنا۔ کیونکہ یہ چیز اقتدار کو کمزور اور کھوکھلا کردینے والی ہوتی ہے بلکہ ا س کو بنیادوں سے ہلا کر دوسروں کو سونپ دینے والی۔ اور جان بوجھ کر قتل کے جرم میں اللہ کے سامنے تمہارا کوئی عذر چل سکے گا نہ میرے سامنے۔کیونکہ اس میں قصاص ضروری ہے اور اگر غلطی سے تم اس کے مرتکب ہوجاؤ اور سزا دینے میں تمہارا کوڑا یا تلوار یا ہاتھ حد سے بڑھ جائے، اس لئے کہ کبھی گھونسا اور اس سے بھی چھوٹی چیز ضرب ہلاکت کاسبب ہوجایا کرتی ہے تو ایسی صورت میں اقتدار کے نشہ میں بے خود ہو کر مقتول کا خون بہا اس کے وارثوں تک پہنچانے میں کوتاہی نہ کرنا۔ اور دیکھو خود پسندی سے بچتے رہنااور اپنی جو باتیں اچھی معلوم ہوں ان پر اترانا نہیں اور نہ لوگوں کے بڑھا چڑھا کر سراہنے کو پسند کرنا کیونکہ شیطان کو جو مواقع ملا کرتے ہیں ان میں یہ سب سے زیادہ اس کے نزدیک بھروسے کا ذریعہ ہے کہ وہ اس طرح نیکوکاروں کی نیکیوں پر پانی پھیر دے۔
اور رعایا کے ساتھ نیکی کرکے کبھی احسان نہ جتانا اور جو اُن کے ساتھ حسن سلوک کرنا اُسے زیادہ نہ سمجھنا اور اُن سے وعدہ کرکے بعد میں وعدہ خلافی نہ کرنا۔ کیونکہ احسان جتانا نیکی کو اکارت کردیتا ہے۔ اور اپنی بھلائی کا زیادہ خیال حق کی روشنی کو ختم کردیتا ہے۔
اور وعدہ خلافی سے اللہ بھی ناراض ہوتا ہے اور بندے بھی۔ چنانچہ اللہ سبحانہ خود فرماتا ہے۔ ”خدا کے نزدیک یہ بڑی ناراضگی کی چیز ہے کہ تم جو کہو اُسے کرو نہیں“۔
اور دیکھو! وقت سے پہلے کسی کام میں جلدبازی نہ کرنا۔ اور جب اس کا موقع آجائے تو پھر کمزوری نہ دکھانا اور جب صحیح صورت سمجھ نہ آئے تو اس پرمصر نہ ہونا۔ اور جب طریق کار واضح ہو جائے تو پھر سستی نہ کرنا۔ مطلب یہ ہے کہ ہر چیز کو اس کی جگہ پر رکھو، اور ہر کام کو اس کے موقع پر انجام دو۔
اور دیکھو۔ جن چیزوں میں سب لوگوں کا حق برابر ہوتا ہے اسے اپنے لئے مخصوص نہ کرلینا اور قابل لحاظ حقوق سے غفلت نہ برتناجو نظروں کے سامنے نمایاں ہوں۔ کیونکہ دوسروں کیلئے یہ ذمہ داری تم پر عائد ہے اور مستقبل قریب میں تمام معاملات پر سے پردہ ہٹا دیا جائے گا۔ اور تم سے مظلوم کی داد خواہی کرلی جائے گی۔
دیکھو! غضب کی تندہی، سرکشی کے جوش ہاتھ کی جنبش اور زبان کی تیزی پر ہمیشہ قابو رکھو۔ اور ان چیزوں سے بچنے کی صورت یہ ہے کہ تم جلدی سے کام نہ لو۔ اور سزا دینے میں دیر کرو۔ یہاں تک کہ تمہارا غصہ کم ہوجائے اور تم اپنے اُوپر قابو پالو۔ اور کبھی یہ بات تم اپنے نفس میں پورے طور میں پیدا نہیں کرسکتے جب تک اللہ کی طرف اپنی بازگشت کو یاد کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ان تصورات کو قائم نہ رکھو۔
اور تمہیں لازم ہے کہ گزشتہ زمانہ کی چیزوں کو یاد رکھو خواہ کسی عادل حکومت کا طریقہ کار ہو یا کوئی اچھا عمل درآمد ہو، یا رسولﷺ کی کوئی حدیث ہو یا کتاب اللہ میں کوئی درج شدہ فریضہ ہو۔ تو ان چیزوں کی پیروی کرو جن پر عمل کرتے ہوئے ہمیں دیکھا ہے اور ان ہدایات پر عمل کرتے رہنا جو میں نے اس عہد نامہ میں درج کی ہیں۔ اور ان کے ذریعہ سے میں نے اپنی حجت تم پر قائم کردی ہے تاکہ تمہارا نفس اپنی خواہشات کی طرف بڑھے تو تمہارے پاس کوئی عذر نہ ہو۔
اور میں اللہ تعالیٰ سے اس کی وسیع رحمت اور ہر حاجت کے پورا کرنے پر عظیم قدرت کا واسطہ دے کر اس سے سوال کرتا ہوں کہ وہ مجھے اور تمہیں اس کی توفیق بخشے جس میں اس کی رضامندی ہے کہ ہم اللہ کے سامنے اور اس کے بندوں کے سامنے ایک کھلا ہوا عذر قائم کرکے سرخرو ہوں۔ اور ساتھ ہی بندوں میں نیک نامی اور ملک میں اچھے اثرات اور اس کی نعمت میں فراوانی اور روزافزوں عزت کو قائم رکھیں اور یہ کہ میرا اور تمہارا خاتمہ سعادت و شہادت پر ہو بے شک ہمیں اس کی طرف پلٹنا ہے۔
وَالسّلام علےٰ رسولہ صلے اللہ علیہ وآلہ الطیبین الطّاہرین وسَلّم تسلیمًاکثیرًا۔
وَالسّلام۔
علی ابن ابی طالب
امیرالمومنین۔
نظام الملک طوسی جو ایک بلند پایہ مفکّر، بے مثال فلسفی، اورایک فقید المثال فلسفی اور نہایت ذہین و فہم سیاست داں اور الپ ارسلان اور ملک شاہ سلجوقی کے وزیرا عظم تھے، انہوں نے رموزِ سلطنت پر ایک فقید المثال کتاب “سیاست نامہ“ کے نام سے تقریباً ایک ہزار سال پہلے تصنیف کی تھی۔ اس میں انہوں نے حکایتوں، مثالوں سے نہایت اہم، پیچیدہ معاملات و مسائل نظامِ مملکت پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ قول تحریر کیا ہے کہ ”کفر کے باوجود ملک باقی رہ سکتا ہے لیکن ظلم و ستم و بے رحمی جس ملک میں سرایت کرجائے اس کی بقا نہیں“۔ طوسی نے مزید لکھا ہے، اور یہ حقیقت بھی ہے کہ ”حکمرانوں کو جو چیز قائم رکھتی ہے وہ اللہ کی رَضا اور اس کی خوشنودی ہے جو ان کے نیک اعمال میں مضمر رہتی ہے اس کے حصول کا ذریعہ اور وسیلہ عدل گیری اور انصاف پرستی ہے۔ رعایا اور مخلوق خدا سے جب کبھی نیک سلوک کیا جائے گا اور ان پر ظلم و ستم نہیں ہونے دیا جائے گا اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ عوام حکمرانوں کیلئے دعائے خیر کرینگے۔
یہی دُعائیں مملکت کے استحکام اور حکمرانوں کی ہردلعزیزی کا موجب ہونگی اور حکمراں وقت اِس دنیا میں نیک نام اور اچھی شہرت سے اور آئندہ دنیا میں نجات سے بہرہ اندوز ہوگا اور حشرکے دن جب اس کا محاسبہ ہوگا تو وہ سرخرو ہوگا“۔
”رسالت مآب کا ارشاد ہے کہ اگر کوئی شخص مسلمانوں پر حکومت کرنے کیلئے کسی نااہل (نالائق، بدکردار) انسان کو ان پر تھوپ دیتا ہے اگرچہ اس کو اس کا علم ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں بہتر، اہل اشخاص موجود ہیں تو گویا وہ شخص اللہ اور اس کے رسول سے خیانت کرتا ہے“۔ اس کا مفہوم صاف ہے کہ اِنتظام مملکت کے لئے ہمیشہ دیانت دار او ر اہل لوگوں کو منتخب کرنا چاہیے تاکہ یہ لوگ اللہ کی مخلوق کو آزار نہ پہونچائیں اور دوسری جانب یہ کہ عوام کی غم گساری کریں۔ دیانت دار، قابل و اہل کو مناصب نہ سونپنا ایک قسم کی خیانت ہے اور یہ خیانت اللہ تعالیٰ، رسول اللہ اور مسلمان معاشرہ سے ہوگی۔ حکمرانوں کا تعلق ہے ان کا ایک نامہ اعمال اس دنیا کیلئے بھی ہوتا ہے۔ اگر یہ اچھے اعمال انجام دیتے ہیں اور انھیں اس دنیا میں اچھے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اس کے برعکس اگر حکمراں اپنے دور حکومت میں ظلم، جبرو ستم، فرائض منصبی سے غفلت برتیں گے تو آئندہ مورّخ ان کا ذکر حقارت سے کرینگے اور قوم بھی ان پر لعنت بھیجتی رہے گی۔
میاں نواز شریف صاحب میں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے خط بنام مالک اشتر اور نظام ملک طوسی کی کتاب ’سیاست نامہ‘ کے حوالے سے اپنی معروضات پیش کردی ہیں، فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ دونوں جہانوں میں سرخرو ہوناچاہتے ہیں یا گنہگار۔ دیکھئے اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد  سے فرمایا ہے (سورة ص ٓ آیت 26) ۔ ”اے داؤد ہم نے دنیا میں تمہیں اپنی خلافت سونپی ہے اس سے ہمارا مدعا یہ ہے کہ تم حق و انصاف کے ساتھ انسانوں کے مسائل حل کرو، جو کچھ کہو راستبازی اور سچائی کے ساتھ کہو اور جو کام بھی کرو راستی و عدل کے ساتھ کرو اور ہاں کیا انسان کی نصرت اور دستگیری کے لئے اللہ کی ذات کافی نہیں ہے“۔
(نوٹ) حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے خط کا پورا عربی متن اور اس کا اردو اور انگریزی ترجمہ جناب صفدر علی صاحب نے ایک پبلی کیشنز لاہور) سے ایک نہایت اچھے اور خوبصورت کتابچہ کی شکل میں شائع کیا ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: