ایک مزاحیہ اور ایک سنجیدہ کتاب

ملک کے نازک اور تکلیف دہ حالات کے بارے میں ٹی وی پر اور اخبارات میں سب کچھ دیکھ کر اور پڑھ کر طبیعت گھبرا جاتی ہے اور جی نہیں چاہتا کہ انہی تکلیف دہ واقعات اور باتوں پر تبصرہ کروں، دہراؤں۔ اسی لئے وقتاً فوقتاً کبھی تاریخی واقعات، کبھی پُرانے دلچسپ سیاسی واقعات اور کبھی اچھی کتابوں پر تبصرہ کردیتا ہوں۔ دوسرے ممالک کے برخلاف پاکستان میں کتابیں پڑھنے کا بہت کم رواج ہے۔ ایک تو تعلیم یافتہ لوگ ہی کم ہیں اور جو ہیں ان میں اہل ذوق کی خاصی کمی ہے۔ کتابوں کے مطالعہ کا شوق آہستہ آہستہ کم ہوتا جارہا ہے۔ یہاں اعلیٰ سے اعلیٰ کتاب کی اشاعت ہزار، دو ہزار تک محدود رہتی ہے۔ آج آپ کی خدمت میں دو دلچسپ اور مفید کتابوں پر تبصرہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔
(1) پہلی کتاب، اعلیٰ طنزومزاح کی کتاب ”بابو نگر“ ہے۔ یہ میرے عزیز دوست و اعلیٰ سابق سرکاری افسر جناب حسین احمد شیرازی کی تحریر کردہ ہے اور اس کو ملک کی ایک اعلیٰ پبلشنگ کمپنی نے نہایت خوبصورت طور پر شائع کیا ہے۔ کتاب دو سو، تین سو صفحات پر نہیں پورے چھ سو آٹھ صفحات پر مشتمل ہے۔ پوری کتاب میں نہ صرف طنز و مزاح پر مبنی مضامین ہیں بلکہ ممتاز اور اعلیٰ کارٹونسٹ جناب جاوید اقبال کے نہایت پُرکشش کارٹون بھی ہیں۔ آپ مضامین تو پڑھیے مگر کارٹون دیکھ کر خود بخود چہرہ مسکرا اُٹھتا ہے

اور سحر کن احساس ہوتا ہے۔قبل اس کے کہ میں کتاب پر تبصرہ کروں پہلے مصنف کتاب پر کچھ تبصرہ کردوں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ شیرازی صاحب جس طرح 1976ء میں مجھے نظر آئے تھے ماشاء اللہ بالکل اسی طرح ہیں، وہ سبک بدن اور چُستی اور وہی مسکراتا چہرہ۔ میں نے 1976ء میں کہوٹہ پروجیکٹ کی بنیاد ڈالی تو احساس تھا کہ ہمیں وقت کے خلاف ریس جیتنی ہے کیونکہ اگر مغربی ممالک کو اس پروگرام کی ہوا لگ جاتی تو وہ سخت پابندیاں عائد کردیتے اور ہمارے لئے اہم سامان درآمد کرنا ناممکن ہوجاتا۔ میں 15 برس یورپ میں رہا تھا اور وہاں کا طریقہ کار جانتا تھا اور بڑی بڑی کمپنیوں کے سربراہوں سے ذاتی تعلقات تھے۔ میں نے چارج لیتے ہی بہت تیزی سے سامان آرڈر کرنا شروع کردیا اور کوشش یہی کی جو سامان بھی بذریعہ پی آئی اے آسکے وہ اس کے ذریعہ جلد از جلد منگوا لیا جائے۔ اس کی اجازت میں نے غلام اسحاق خان صاحب (اللہ ان کو غریق رحمت کرے، آمین)سے لے لی تھی اور وجہ بتادی تھی۔ ہمارا سامان ڈیفنس اسٹور کی آڑ میں آرہا تھا۔ چند دن بعد میرے افسر میجر صدیق نے آکر بتایا کہ ایئرپورٹ پر کسٹم آفیسر شیرازی صاحب بضد ہیں کہ سامان کھول کر چیک کریں گے یہ اس وقت غالباً اسسٹنٹ کلکٹر تھے، تیز، طرّار، اُڑتا کوّا پکڑنے اورسرپٹ گھوڑے پر کود کر سواری کے جذبات سے پُر تھے۔ ہمارا دفتر چونکہ اےئرپورٹ سے ملحقہ ہی تھا میں نے میجر صاحب سے کہا کہ ان سے درخواست کریں کہ وہ یہاں آکر سامان چیک کرلیں، حساس سامان ہے وہاں کھلوانا مناسب نہیں ہے۔ شیرازی صاحب سامان کے ساتھ آگئے اور ایک ایک بکس کھلوا کر چیک کرنے لگے۔ اس وقت صدر کے مشیر سیکورٹی برائے ایٹمی پروگرام جنرل سید علی ضامن نقوی مجھ سے ملنے آگئے اُنہوں نے شیرازی صاحب اور سامان کو دیکھ کر پوچھا یہ کیا ہورہا ہے۔ میں نے کہا کسٹم آفیسر ہیں شک ہے کہ ہم اسمگلنگ میں تو ملوث نہیں۔ جنرل نقوی کا چہرہ غصہ کا اظہار کرنے لگا اور انہوں نے شیرازی صاحب سے کہا آپ اس معاملہ سے دور رہیں اور آئندہ اس پروجیکٹ کے سامان کے بارے کچھ پوچھ گچھ نہ کریں۔ بات خوش اسلوبی سے ختم ہوگئی اور اس وقت سے شیرازی صاحب اور میں پیارے دوست ہیں۔ جب تک یہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر تعینات رہے تو تمام ”اسمگلنگ“ کی ذمہ داری نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیتے رہے اور ہماری بہت مدد کی۔ پھر یہ غائب ہوگئے اور پتہ نہیں چلا کہ کہاں ہیں۔1991ء میں بہاولپور میں قائداعظم یونیورسٹی میڈیکل کالج میں بین الاقوامی کانفرنس میں، میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرنے گیا وہاں ہمارے مشہور اور اعلیٰ شاعر جناب مرتضیٰ برلاس سے ملاقات ہوئی ۔ وہاں یہ کمشنر تھے اور گیسٹ ہاؤس میں مجھ سے ملنے تشریف لے آتے تھے۔ آپ انکی کلیات پڑھے تو پھر ان کے کلام پر عاشق ہوجائینگے۔ فیض صاحب سے لیکر ابوالخیرکشفی اور پرتوروہیلہ تک نے ان کے کلام کو بے حد سراہا ہے۔ ان کا یہ شعر بے حد مقبول ہوا تھا
دوستوں کے حلقوں میں، ہم وہ کج مقدر ہیں
افسروں میں شاعر ہیں، شاعروں میں افسر ہیں
تین سال پہلے میں نے جب روزنامہ جنگ میں اپنے کالم میں ان کا ایک شعر لکھا تو فوراً ان کا خلوص نامہ آگیا اور تقریباً 20 سال پرانا رشتہ تازہ ہوگیا، شعر یہ تھا
ریا کے دور میں سچ بول تو رہے ہو مگر
یہ وصف ہی نہ کہیں احتساب میں آئے
بہاولپور سے ملتان آیا تو وہاں کے مےئر ڈوگر صاحب نے ایک عالیشان استقبال کا انتظام کیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ مہمانوں میں میرے پیارے دوست شیرازی صاحب موجود ہیں۔ رتی برابر فرق نہیں۔ میں نے اپنے خطاب میں کہہ دیا کہ اسمگلنگ کا الزام مجھ پر لگایا گیا ہے شیرازی صاحب کے آگے طفل مکتب ہوں۔ شیرازی صاحب ہر سال میری سالگرہ کے موقع پر گل دستہ اور کیک بھجواتے رہے ہیں، کبھی نہیں بھولتے اور حقیقت یہ ہے کہ میں خلوص سے اس کا انتظار کرتا ہوں۔
3 جولائی کو اسلام آباد میں اکیڈمی آف ادبیات (Academy of Letters) میں اس کتاب کی رونمائی ہوئی۔ وزیر اطلاعات جناب پروفیسر رشید مہمان خصوصی تھے۔ مجھے بھی اسٹیج پر بٹھا دیا گیا۔ پرویز رشید صاحب سے غائبانہ تعارف تھا اب بالمشافہ ملاقات ہوئی تو دیکھا بے حد نرم گو، نہایت پُراخلاق اور چہرہ پر دلکش مسکراہٹ گویا آپ کو قتل کردیتے ہیں۔ پرویز رشید صاحب نے بھی شیرازی صاحب کے انسانی ہمدردی اور مدد کے کئی واقعات بیان کئے، تمام مقررین نے بجا طور پر کتاب کی بے حد تعریف کی۔ کتاب میں مرحوم سید ضمیر جعفری، چیف جسٹس جناب میاں محمود احمد کے تاثرات بھی شامل ہیں۔ میں نے جو تبصرہ لکھا اس کے کچھ اقتباسات آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔
”حسین احمد شیرازی کو میں ایک فرض شناس کسٹم آفیسر کی حیثیت سے جانتا ہوں جنہوں نے اپنے منصب اور ذمہ داریوں کو نہایت ایمانداری اور احسن طریقہ سے انجام دیا۔ کسٹم کے بارے میں مشہور ہے ہاتھی نکال دیتے ہیں اور صرف دُم پکڑ لیتے ہیں اور توپ نکل جاتی ہے لیکن پلاسٹک کا پستول پکڑ لیا جاتا ہے۔ شیرازی صاحب نے توپ کا معائنہ توپ خانے میں اور ہاتھی کا معائنہ چڑیا گھر میں خود جاکر کیا۔ میں نے دیکھا کہ ان کا مزاج دوسرے افسران سے بالکل مختلف تھا بعد میں یہ عقدہ کھلا کہ جو شخص دن رات طنز و مزاح کے بارے میں مگن ہو وہ کس طرح بدمزاج ہوسکتا ہے۔ شیرازی صاحب کی کتاب میں یہ بڑی خوبی ہے کہ قاری کے ہونٹوں پر تبسم اس وقت تک قائم رہتا ہے جب تک مضمون ختم نہیں ہوجاتا بلکہ قاری کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ کوئی ساتھ بیٹھا ہو جس کو سنا کر قہقہے لگائے جائیں۔ جناب جاوید اقبال کے اعلیٰ کارٹونوں نے سونے پر سہاگہ کا کام کیا ہے، ان کو دیکھ کر آپ مسکرا پڑتے ہیں… شیرازی صاحب کو مزاح کے اعتبار سے زبان و بیان پر قدرت حاصل ہے اس میں نہ ہی تصنع ہے اور نہ ہی بے جا طوالت، زبان صاف، سادہ اور رواں ہے۔ دراصل اس کتاب میں صداقت کا نہایت خوش اسلوبی سے نقشہ کھینچا گیا ہے۔ آپ اگر طویل سفر پر یا چھٹیوں پر جائیں تو یہ کتاب ضرور لے جائیں آپ بے حد لطف اندوز ہوں گے اور وقت کی رفتار کا احساس نہیں ہوگا“۔
(2) دوسری نہایت اہم کتاب Mixed Race Marriage in Pakistan – Politics of Identity ہے۔ یہ ڈاکٹر دینا خان کی تحریر کردہ ہے۔ دینا نے کینٹ یونیورسٹی سے بی اے آنرز اور پی ایچ ڈی سوشل اِنتھراپولوجی میں کیا ہے۔ یہ کتاب انتھراپولوجی کے اساتذہ، طلباء و طالبات کے لئے اہم کتاب ہے، اس میں ڈاکٹر دینا خان نے بہت تحقیق و تفتیش کے بعد ان مسائل کو اجاگر کیا ہے جو غیر ملکی خواتین پاکستانی شہریوں سے شادی کے بعد پاکستان آکر سامنا کرتی ہیں۔ ان کو لاتعداد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شوہر رشتہ داروں میں گم ہوجاتا ہے، ان کی موجودگی میں بیگم کو بالکل نظر انداز کردیتا ہے اور اپنی مادری زبان میں بات چیت ہوتی رہتی ہے۔پھر رشتہ دار بغیر اطلاع کئے اچانک مہمان آجاتے ہیں اور جانے کا نام نہیں لیتے۔ غیر ملکی خواتین اس کی عادی نہیں ہوتی ہیں اور ان کو اس رواج سے بے حد تکلیف ہوتی ہے۔ عموماً یہ لوگ پڑھے لکھے بھی نہیں ہوتے اور ٹھیک سے گفتگو نہیں کرسکتے۔ ایک اور بہت بڑا مسئلہ بچیوں کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ شوہر جو خود عشق لڑا کر شادی کرتے ہیں اب بچیوں پر ناقابل قبول پابندیاں عائد کرتے ہیں۔ باہر نہیں جانے دیتے اور اپنی مرضی سے زور ڈال کر رشتہ داروں میں شادی کرنا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر دینا خان نے لاتعداد غیرملکی پاکستان میں موجود خواتین سے انٹرویو کئے اور یہ نہایت مصدقہ دستاویز تیار کی ہے۔
دینا کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان کی والدہ انگریز نسل سے ہیں اور والد پاکستانی اس طرح ان کو غیر ملکی خواتین سے کھل کر بات کرنے اور ان کے خیالات معلوم کرنے میں بہت سہولت رہی۔
میرا مشورہ ہے کہ وہ پاکستانی جو غیر ملکی خواتین کے شوہر ہیں یا وہ جو غیر ملکی خواتین سے شادی کے خواہاں ہیں اور وہ طلبہ جو باہر تعلیم کے لئے جارہے ہیں اور وہاں شادی کے خواہاں ہوں وہ ضرور اس اہم معلوماتی کتاب کا مطالعہ کریں۔ ان کیلئے یہ معلومات بے حد مفید ہوں گی۔ کتاب کا دیباچہ پروفیسر ڈاکٹر دُشکا سید (بیگم سینیٹر مشاہد حسین سیدصاحب) نے لکھا ہے اور اس کوزہ میں دریا کو بند کردیا ہے۔ ڈاکٹر دُشکا سید قائداعظم یونیورسٹی میں پروفیسر کے فرائض انجام دے چکی ہیں اور آج کل ایک این جی او کی سربراہ ہیں، بہت ذی فہم اور دانشور ہیں۔
دونوں بیان کردہ کتابیں ملک کے بڑے بڑے کتب فروشوں سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: