اعلیٰ اسلامی نظام مملکت

میں نے اپنے پچھلے کالم میں حضرت عمر  اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کے اعلیٰ نظام مملکت پر کچھ روشنی ڈالی تھی اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ایک نہایت ہی اعلیٰ ہدایت نامہ بنام مالک اَلاشتر نامزد گورنر برائے مصر کا تھوڑا سا حصہ آپ کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ علم و فراست کا خزینہ تھے۔ رسول اللہ نے فرمایا تھا کہ میں علم کا خزینہ ہوں اور علی  اس کا دروازہ ہیں یعنی اللہ رب العزّت نے رسول اللہ کو جو علم کی دولت عطا فرمائی تھی عوام حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ذریعے اس تک رسائی حاصل کرسکتے تھے۔ یہ دستاویز اتنی اہم تھی کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے اس کی کاپی اقوام متحدہ کی عمارت کی زینت بنائی تھی اور خبروں کے مطابق ہندوستانی وزیراعظم راجیو گاندھی نے اپنے نامزد وزراء کو اس کی کاپیاں دی تھیں۔ میں اس خزینہٴ ہدایت کو یہاں پیش کر رہا ہوں کہ شاید میاں نواز شریف صاحب اس کو پڑھ کر اس پر عمل کرسکیں اور ایک اعلیٰ ، خدا ترس، ہمدرد حکمراں کے طور پر تاریخ کا حصہ بن جائیں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
یہ ہے وہ فرمان جس پر کاربند رہنے کا حکم دیا ہے خدا کے بندے علی امیر المومنین نے مالک ابن حارث اشتر کو جب مصر کا انہیں والی بنایا تاکہ وہ خراج جمع کریں، دشمنوں سے لڑیں، رعایا کی فلاح

و بہبود اور شہریوں کی آبادی کا انتظام کریں۔
انہیں حکم ہے کہ اللہ کا خوف کریں اس کی اطاعت کو مقدم سمجھیں اور جن فرائض و سنن کا اس نے اپنی کتاب میں حکم دیا ہے ان کا اتباع کریں کہ انہی کی پیروی سے سعادت اور انہی کے ٹھکرانے اور برباد کرنے سے بدبختی دامن گیر ہوتی ہے اور یہ کہ اپنے دل اپنے ہاتھ اور اپنی زبان سے اللہ کی نصرت میں لگے رہیں کیونکہ خدائے بزرگ و برتر نے ذمہ لیا ہے کہ جو اس کی نصرت کرے گا، وہ اس کی مدد کرے گا اور جو اس کی حمایت کے لئے کھڑا ہوگا ، وہ اسے عزت و سرفرازی بخشے گا۔اس کے علاوہ انہیں حکم ہے کہ وہ نفسانی خواہشوں کے وقت اپنے نفس کو کچلیں اور اس کی منہ زوریوں کے وقت اسے روکیں کیونکہ نفس برائیوں ہی کی طرف لے جانے والا ہے، مگر یہ کہ خدا کا لطف و کرم شامل حال ہو۔
اے مالک ! اس بات کو جانے رہو کے تمہیں ان علاقوں کی طرف بھیج رہا ہوں کہ جہاں تم سے پہلے عادل اور ظالم کئی حکومتیں گزر چکی ہیں اور لوگ تمہارے طرز عمل کو اسی نظر سے دیکھیں گے جس نظر سے تم اپنے اگلے حکمرانوں کے طور طریقے کو دیکھتے رہے ہو اور تمہارے بارے میں بھی وہی کہیں گے جو تم ان حکمرانوں کے بارے میں کہتے ہو۔ یہ یاد رکھو کہ خدا کے نیک بندوں کا پتہ چلتا ہے اُسی نیک نامی سے جو اُنہیں بندگان الٰہی میں خدا نے دے رکھی ہے لہٰذا ہر ذخیرے سے زیادہ پسند تمہیں نیک اعمال کا ذخیرہ ہونا چاہئے۔ تم اپنی خواہشوں پر قابو رکھو اور جو مشاغل تمہارے لئے حلال نہیں ہیں، ان میں صرف کرنے سے اپنے نفس کے ساتھ بخل کرو کیونکہ نفس کے ساتھ بخل کرنا ہی اس کے حق کو ادا کرنا ہے۔چاہے وہ اسے پسند کرے یا ناپسند۔ رعایا کے لئے اپنے دل کے اندر رحم و رافت اور لطف و محبت کو جگہ دو۔
ان کے لئے پھاڑ کھانے والا درندہ نہ بن جاؤکہ انہیں نگل جانا غنیمت سمجھتے ہو۔اس لئے کہ رعایا میں دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک تو تمہارے دینی بھائی اور دوسرے تمہارے جیسی مخلوق خدا۔ ان سے لغزشیں بھی ہوں گی، خطاؤں سے بھی انہیں سابقہ پڑے گا اور اُن کے ہاتھوں سے جان بوجھ کر یا بھولے چوکے غلطیاں بھی ہوں گی تم ان سے اسی طرح عفوودرگزر سے کام لینا، جس طرح اللہ سے اپنے لئے عفوودرگزر کو پسند کرتے ہو۔اس لئے کہ تم ان پر حاکم ہو اور تمہارے اُوپر تمہارا امام حاکم ہے اور جس (امام) نے تمہیں والی بنایا ہے اس کے اُوپر اللہ ہے اور اُس نے تم سے اُن لوگوں کے معاملات کی انجام دہی چاہی ہے اور ان کے ذریعے تمہاری آزمائش کی ہے اور دیکھو، خبردار! اللہ سے مقابلہ کے لئے نہ اُترنا، اس لئے کہ اس کے غضب کے سامنے تم بے بس ہو اور اس کے عفوورحمت سے بے نیاز نہیں ہو سکتے تمہیں کسی کو معاف کر دینے پر پچھتانا اور سزا دینے پر اترانا نہ چاہئے، غصہ میں جلد بازی سے کام نہ لو، جب کہ اس کے ٹال دینے کی گنجائش ہو، کبھی یہ نہ کہنا کہ میں حاکم بنایا گیا ہوں لہٰذا میرے حکم کے آگے سرتسلیم خم ہونا چاہئے کیونکہ یہ دل میں فساد پیدا کرنے، دین کو کمزور بنانے اور بربادیوں کو قریب لانے کا سبب ہے اور کبھی حکومت کی وجہ سے تم میں تمکنت یا غرور پیدا ہو تو تم اپنے سے بالاتر اللہ کے ملک کی عظمت کو دیکھو اور خیال کرو کہ وہ تم پر وہ قدرت رکھتا ہے کہ جو خود تم اپنے آپ پر نہیں رکھتے۔ یہ چیز تمہاری رعونت و سرکشی کو دبا دے گی اور تمہاری طغیانی کو روک دے گی اور تمہاری کھوئی ہوئی عقل کو پلٹا دے گی۔
خبردار! کبھی اللہ کے ساتھ اس کی عظمت میں نہ ٹکراؤ اور اس کی شان جبروت سے ملنے کو کوشش نہ کرو کیونکہ اللہ ہر جبار و سرکش کو نیچا دکھاتا ہے اور ہر مغرور کے سر کو جھکا دیتا ہے۔
اپنی ذات کے بارے میں اور اپنے خاص عزیزوں اور رعایا میں سے اپنے دل پسند افراد کے معاملے میں حقوق اللہ اور حقوق الناس کے متعلق بھی انصاف کرنا کیونکہ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ظالم ٹھہرو گے اور جو خدا کے بندوں پر ظلم کرتا ہے تو بندوں کے بجائے اللہ اس کا حریف و دشمن بن جاتا ہے اور جس کا وہ حریف و دشمن ہو اس کی ہر دلیل کو کچل دے گا اور وہ اللہ سے برسرِپیکار رہے گا یہاں تک کہ باز آئے اور توبہ کرلے اور اللہ کی نعمتوں کو سلب کرنے والی اور اس کی عقوبتوں کو جلد بلاوا دینے والی کوئی چیز اس سے بڑھ کر نہیں ہے کہ ظلم پر باقی رہا جائے کیونکہ اللہ مظلوموں کی پکار سنتا ہے اور ظالموں کے لئے موقع کا منتظر رہتا ہے۔
تمہیں سب طریقوں سے زیادہ وہ طریقہ پسند ہونا چاہئے جو حق کے اعتبار سے بہتر، انصاف کے لحاظ سے سب کو شامل اور رعایا کے زیادہ سے زیادہ افراد کی مرضی کے مطابق ہو کیونکہ عوام کی ناراضی خواص کی رضامندی کو بے اثر بنا دیتی ہے اور خاص کی ناراضی عوام کی رضامندی کے ہوتے ہوئے نظر انداز کی جاسکتی ہے۔ اور یہ یاد رکھو! کہ رعیت میں خاص سے زیادہ کوئی ایسا نہیں کہ جو خوشحالی کے وقت حاکم پر بوجھ بننے والا، مصیبت کے وقت امداد سے کترا جانے والا، انصاف پر ناک بھوں چڑھانے والا ، طلب و سوال کے موقع پر پنجے جھاڑ کر پیچھے پڑ جانے والا ، بخشش پر کم شکرگزار ہونے والا، محروم کر دیئے جانے پر بمشکل عذر سننے والا اور زمانہ کی ابتلاؤں پر بے صبری دکھانے والا ہو، اور دین کا مضبوط سہارا ، مسلمانوں کی قوت اور دشمن کے مقابلہ میں سامان دفاع یہی امت کے عوام ہوتے ہیں لہٰذا تمہاری پوری توجہ اور تمہارا پُورا رُخ اُنہی کی جانب ہونا چاہئے۔اور تمہاری رعایا میں تم سے سب سے زیادہ دور اور سب سے زیادہ تمہیں ناپسند وہ ہونا چاہئے جو لوگوں کی عیب جوئی میں زیادہ لگا رہتا ہو کیونکہ لوگوں میں عیب تو ہوتے ہی ہیں۔ حاکم کے لئے انتہائی شایان یہ ہے کہ ان پر پردہ ڈالے لہٰذا جو عیب تمہاری نظروں سے اوجھل ہوں، انہیں نہ اُچھالنا کیونکہ تمہارا کام انہی عیبوں کا مٹانا ہے کہ جو تمہارے اُوپر ظاہر ہوں اور جو چھُپے ڈھکے ہوں ان کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ ہے۔ اس لئے جہاں تک بن پڑے عیبوں کو چھپاؤ تاکہ اللہ بھی تمہارے ان عیوب کی پردہ پوشی کرے جنہیں تم رعیت سے پوشیدہ رکھنا چاہتے ہو۔ لوگوں سے کینہ کی ہر گرہ کو کھول دو اور شمنی کی ہر رسی کاٹ دو اور ہر ایسے رویہ سے جو تمہارے لئے مناسب نہیں بے خبر بن جاؤ اور چغل خور کی جھٹ سے ہاں سے ہاں نہ ملاؤ کیونکہ وہ فریب کار ہوتا ہے اگرچہ خیرخواہوں کی صورت میں سامنے آتا ہو۔
اپنے مشورہ میں کسی بخیل کو شریک نہ کرنا کہ وہ تمہیں دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنے سے روکے گا اور فقر و افلاس کا خطرہ دلائے گا۔ اور نہ کسی بزدل سے مہمّات میں مشورہ لینا کہ وہ تمہاری ہمت پست کر دے گا اور نہ کسی لالچی سے مشورہ کرنا کہ وہ ظلم کی راہ سے مال بٹورنے کو تمہاری نظروں میں سج دے گا۔ یاد رکھو! کہ بخل ، بزدلی اور حرص اگرچہ الگ الگ خصلتیں ہیں مگر اللہ سے بدگمانی ان سب میں شریک ہے۔ تمہارے لئے سب سے بدتر وزیر وہ ہو گا جو تم سے پہلے بدکرداروں کا وزیر اور گناہوں میں ان کا شریک رہ چکا ہے۔ اس قسم کے لوگوں کو تمہارے مخصوصین میں سے نہ ہونا چاہئے کیونکہ وہ گناہ گاروں کے معاون اور ظالموں کے ساتھی ہوتے ہیں۔ ان کی جگہ تمہیں ایسے لوگ مل سکتے ہیں جو تدبیر و رائے اور کارکردگی کے اعتبار سے ان کے مثل ہوں گے۔
مگر اُن کی طرح گناہوں کی گراں باریوں میں دبے ہوئے نہ ہوں جنہوں نے نہ کسی ظالم کی اس کے ظلم میں مدد کی ہو اور نہ کسی گنہگار کا اس کے گناہ میں ہاتھ بٹایا ہو۔ ان کا بوجھ تم پر ہلکا ہوگا اور یہ تمہارے بہترین معاون ثابت ہوں گے اور تمہاری طرف محبت سے جھکنے والے ہوں گے اور تمہارے علاوہ دوسروں سے ربط ضبط نہ رکھیں گے۔انہی کو تم خلوت و جلوت میں اپنا مصاحب خاص ٹھہرانا۔ پھر تمہارے نزدیک ان میں زیادہ ترجیح ان لوگوں کو ہونا چاہئے کہ جو حق کی کڑوی باتیں تم سے کھل کر کہنے والے ہوں اور ان چیزوں میں کہ جنہیں اللہ اپنے مخصوص بندوں کے لئے ناپسند کرتا ہے تمہاری بہت کم مدد کرنے والے ہوں، چاہے وہ تمہاری خواہشوں سے کتنی ہی میل کھاتی ہوں۔ پرہیزگاروں اور راست بازوں سے اپنے کو وابستہ رکھنا پھر انہیں اس کا عادی بنانا کہ وہ تمہارے کسی کارنامہ کے بغیر تمہاری تعریف کر کے تمہیں خوش نہ کریں کیونکہ زیادہ مدح سرائی غرور پیدا کرتی ہے اور سرکشی کی منزل سے قریب کر دیتی ہے اور تمہارے نزدیک نیکوکاراور بدکردار دونوں برابر نہ ہوں، اس لئے کہ ایسا کرنے سے نیکوں کو نیکی سے بے رغبت کرنا اور بدوں کو بدی پر آمادہ کرنا ہے۔ ہر شخص کو اسی کی منزلت پر رکھو جس کا وہ مستحق ہے اور اس بات کو یاد رکھو کہ حاکم کو اپنی رعایا پر پورا اعتماد اسی وقت کرنا چاہئے جبکہ وہ ان سے حسن سلوک کرتا ہو اور ان پر بوجھ نہ لادے اور انہیں ایسی ناگوار چیزوں پر مجبور نہ کرے، جو ان کے بس میں نہ ہوں۔ تمہیں ایسا رویہ اختیار کرنا چاہئے کہ اس حسن سلوک سے تمہیں رعیت پر پورا اعتماد ہو سکے کیونکہ یہ اعتماد تمہاری طویل اندرونی اُلجھنوں کو ختم کردے گا اور سب سے زیادہ تمہارے اعتماد کے وہ مستحق ہیں جن کے ساتھ تم نے اچھا سلوک کیا ہو اور سب سے زیادہ بے اعتمادی کے مستحق وہ ہیں جن سے تمہارا برتاؤ اچھا نہ رہا ہو۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: