روحانیت اور ہمارا معاشرہ

روحانیت اور تصوف پر پہلے کچھ عرض کر چکا ہوں۔ اس کالم میں روحانیت اور ہمارے معاشرے کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ یہ خیالات اس وقت ذہن میں آئے جب میں پچھلے دنوں اپنے نہایت عزیز دوستوں پروفیسر ڈاکٹر محمد الغزالی اور پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان سے اس موضوع پر تبادلہ خیال کر رہا تھا۔
اپنے ایک پچھلے کالم میں عرض کیا تھا کہ ہمارے ملک میں نام نہاد روشن خیال، تعلیم یافتہ طبقہ مغربی تعلیم و مغربی رسومات کو ہر مسئلے کا حل سمجھنے لگا ہے۔ ہماری تاریخ نے اس کی نفی کی ہے اور ہماری معاشی یا روحانی حالت میں بہتری کے بجائے ابتری آئی ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں جن برائیوں نے جڑ پکڑ لی ہے یہ اس لئے ختم نہیں ہوسکتیں کہ ان کا حل صرف مادی ترقی میں ڈھونڈا جا رہا ہے جبکہ روحانی تربیت کے بغیر یہ ناممکن ہے کیونکہ روحانی تربیت حقیقت کو جاننے اور اپنے خالق کی خوشنودی پانے کا نام ہے۔ آپ ذرا سوچئے جو شخص اللہ اور اللہ کی خوشی و رضا کو اپنا مقصد حیات بنالے تو کیا وہ جھوٹ بول سکتا ہے، بے ایمانی، ناانصافی یا کسی کے ساتھ زیادتی کرسکتا ہے، دوسرے کے حق پر ڈاکہ ڈال سکتا ہے، یتیم کا مال ہڑپ کرسکتا ہے، ملاوٹ کرسکتا ہے، غیر اخلاقی جرم کا ارتکاب کرسکتا ہے۔ اپنے فرائضِ مذہبی، انسانیت سے غفلت برت سکتا ہے، ہر گز نہیں۔ اسی طرح کیا وہ اللہ کے

سوا کسی اور سے ڈرے گا یا اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے اپنی ضروریات پوری کرنے یا مشکلات دور کرنے کے لئے سر جھکا سکے گا ہر گز نہیں، گویا:۔
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
اور کیا ایک فون کال پر اس کے اعصاب جواب دے سکتے ہیں وہ کانپنے لگتا ہے یا پھر آئی ایم ایف کی ناجائز شرائط مان کر اپنے ہی عوام کی زندگی کو جہنم بنا سکتا ہے، بالکل نہیں۔ بلکہ اللہ پر یقین اور ایمان کی قوّت سے ساری منفی قوّتوں کا اطمینان سے مقابلہ کرسکے گا اور سرخرو ہوگا اور بلا خوف و خطر جان دینے سے بھی نہ ڈرے گا۔
پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات
تو جھکا جب غیر کے آگے نہ تن تیرا نہ من تیرا
دیکھئے عرض یہ کرنا چاہ رہا ہوں کہ روحانی پہلو انسانی زندگی کا اعلیٰ اور برتر پہلو ہے۔ اِنسان صرف جسم نہیں کہ محض جسمانی تقاضوں کا قیدی بن کر دنیا میں رہے اور اپنی خواہشات و مفادات کی غلامی کرکے یہاں سے چلا جائے اور مٹی میں مل کر خاک ہوجائے بلکہ انسان کے سامنے ایک اعلیٰ مقصد اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے اور اسی کے لئے اس کی تخلیق کی ہے اور وہ مقصد یہ ہے کہ اس دنیا کے اندر رہ کر اللہ تعالیٰ کے فرمودات کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال کر اس طرح جیئے کہ اس کی تمام خواہشات، اغراض و مقاصد اللہ تعالیٰ کی مرضی سے ہم آہنگ ہوجائیں اور وہ اپنے ہاتھوں، پیروں اور دماغی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اس دنیا کے وسائل سے بھرپور استفادہ کرے مگر اس طرح کہ اس کی تخلیق کا اصل مقصد یعنی اللہ کی بندگی، اس کی عبادت، اس کی محبت، اس کی رضا کا حصول ممکن ہو۔
اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اللہ نے اس کو بھرپور صلاحیتیں دی ہیں۔ اگر انسان ان کو کام میں لائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق اپنی خواہشات کو ڈھال سکتا ہے لیکن اگر وہ ان صلاحیتوں کو نظر انداز کردے تو وہ محض ایک چالاک جانور ہے بلکہ قرآن کی نظر میں جانور سے بھی بدتر ہے اس لئے کہ بیچارے جانور کے پاس وہ صلاحیتیں کہاں ہیں جن سے وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت، محبت اور بندگی کا راستہ معلوم کرسکے، اسی لئے اللہ تعالیٰ سے غافل شخص ایک چوپایہ سے بدتر ہے۔
دیکھئے اوپر بیان کردہ صلاحیت کو آپ روحانیت سے منسوب کرتے ہیں قرآن و حدیث میں اس حقیقت کو دو الفاظ سے بیان کیا گیا ہے: تزکیہ اور احسان۔ قرآن نے حضورﷺ کی بعثت کے مقاصد بیان کرتے ہوئے ایک بار سے زیادہ یزکیھم کا لفظ استعمال کیا ہے یعنی حضورﷺکی نبوت کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ انسان کا تزکیہ کیا جائے۔ ایک حدیث میں احسان کی بھی تشریح کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ”تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا وہ تمہیں نظر آ رہا ہے یا کم از کم اس طرح کرو کہ جیسے وہ تمہیں دیکھ رہا ہے“۔
دیکھئے چونکہ انسان روح اور جسم کا مجموعہ ہے اس کے پاس قلب و ضمیر کی دولت بھی ہے اور جسمانی طور پر بھی وہ اللہ تعالیٰ کی بہترین تخلیق ہے اس لئے اس کی زندگی میں اکثر روحانی اور جسمانی قوّتوں کی کشمکش رہتی ہے اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ زندگی کا ایک امتحان ہے۔اس میں کامیاب وہ ہے جو اپنی روحانی قوّتوں کو بیدار اور غالب رکھے اور اپنے جسمانی تقاضوں کو روحانی مطالبات کے تابع رکھے۔ اس جدوجہد میں اللہ تعالیٰ انسان کی مدد فرماتا ہے بشرطیکہ وہ مدد کا طلب گار ہو۔ جب ہم ہر نماز میں یہ اقرار کرتے ہیں(سورة فاتحہ) کہ”(اے اللہ) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں“۔ زندگی کے امتحان میں اللہ کی مدد اور رہنمائی سے ہی کامیابی ملتی ہے۔ جس طرح قرآن اور حدیث میں انسانوں کو ہدایات اور احکامات دیئے گئے کہ کیا جائز ہے کیا ناجائز ہے اسی طرح یہ رہنمائی بھی فراہم کی گئی ہے کہ اللہ کی مرضی کے مطابق اپنی خواہشات پر قابو پانے میں مشکلات پیش آئیں گی ان پر قابو پانے کے طریقے کیا ہیں۔ اسی رہنمائی کا نام تصوف ہے، روحانیت ہے اور قرآن کی زبان میں تزکیہ اور احسان ہے۔
چونکہ انسان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے وہی جانتا ہے کہ انسان کے باطن میں کیا خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اور ان پر کیسے قابو پایا جاسکتاہے۔ قرآن و احادیث کی روحانی تعلیمات میں یہی سمجھایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت دل لگا کر کیسے کی جائے، اللہ کے بندوں سے کیسے رحمدلی سے پیش آیا جائے، دل کو نیکی کی جانب راغب کیا جائے، بُرائی سے نفرت، غصّہ، شہوت، لالچ، کینہ، بغض و عداوت، حسد اور غیبت، دولت سے محبت پر کس طرح قابو پایا جائے اور بچا جائے۔ جب انسان مسلسل اپنی اصلاح کی فکر کرتا ہے تو باطنی بیماریاں ختم ہوجاتی ہیں اور وہ ہر کام خوشی سے کرتا ہے جو اللہ کی خوشنودی ہے اللہ کی مرضی ہے۔ اس اصلاح اور تربیت کا نام تصوّف ہے اور یہی اسلام کی روحانی تعلیم ہے۔ اسلام میں رہبانیت یعنی ترک دنیا حرام ہے۔ روحانیت کا مطلب رہبانیت نہیں بلکہ تزکیہ نفس ہے۔ یہ اس کی اجازت دیتا ہے کہ انسان دنیا اور اس کے تمام وسائل سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے مالامال ہوکر اللہ کی محبت میں گم ہوجائے اللہ کی شکر گزاری کرے۔ یہ بندگی اور شکرگزاری ہی اسلام کی روح ہے اور اس کی ضِد یعنی کفر، انکار، کفرانِ نعمت ہے۔
دیکھئے اگر ہماری قوم کو تاریخ میں زندہ قوموں کی طرح اپنا مقام بنانا ہے تو مادی ترقی کے ساتھ ساتھ روحانی تربیت اور ترقی بھی کرنا ہوگی، اپنی نفسانی خواہشات کو قابو میں رکھنا ہوگا۔ جب کسی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے پوچھا کہ جنت کتنی دور ہے تو آپ نے فرمایا کہ صرف دو قدم۔ پہلا قدم نفس پر رکھو تو دوسرا قدم جنت میں ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ اپنی خواہشات کو قابو میں رکھنا ہوگا اپنے نفس کو قابو میں رکھنا ہوگا اور اپنی تقدیر کا فیصلہ اللہ کے بتائے ہوئے قانون کے مطابق کرنا ہوگا۔ روحانی تربیت اور تصوف سے ہی انسان اپنی صلاحیتوں اور کمزوریوں سے واقف ہوتا ہے، صبر و شکر کا امتزاج بنتا ہے، خود کو پہچانتا ہے، اپنے رب کو پہچانتا ہے اور حقیقی نفع و نقصان میں تمیز کرنے لگتا ہے۔ اس کو نفع و نقصان کی فکر نہیں ہوتی کیونکہ وہ یہ کام صحیح مقصد ِ زندگی کو حاصل کرنے کے لئے کرتا ہے اُسے کسی قسم کا ڈر، خوف حتیٰ کے موت کا خوف بھی نہیں ہوتا اور ظالم و جابر قوّتوں کے آگے بلاخوف و خطر ایک مضبوط دیوار بن جاتا ہے اور اس کی غیرت اور حمیت جاگ اُٹھتی ہے۔
آج پاکستانی قوم جتنے مسائل سے دوچار ہے اس کی بنیادی وجہ مادیت کی لعنت وزہر کا پاکستانی عوام کی رگ رگ میں سرایت کر جانا ہے اور روحانیت سے دوری بلکہ فقدان ہے۔ وہ ہر وقت ایک کے دس بنانے، دوسروں کو دھوکہ دینے، منافقت پر عمل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ وہ اللہ کا فرمان بھول جاتے ہیں کہ قلبی خوشی راہ خدا میں دینے اور خرچ کرنے میں ملتی ہے، دوسروں کی، ضرورت مندوں کی مدد کرنے میں حاصل ہوتی ہے۔ انصاف ، عدل و ایثار سے ازلی سکون ملتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خصوصیات میں سے ہے اور یہی روحانیت کے زمرے میں آتا ہے۔
ہماری قوم کو روحانیت کی طرف راغب کرنے اور تربیت دینے کی اشد ضرورت ہے اسی سے عزّت نفس، خودداری، اخلاق، اخلاص پیدا ہوگا، کردار سازی ہوگی، سوچ بدلے گی، رویّوں میں تبدیلی آئے گی اور ہر شخص صرف اپنے لئے نہیں بلکہ دوسروں کے لئے جینا شروع کرکے ازلی خوشی اور قلبی سکون حاصل کرے گا۔ یہ روحانی قوت ایک اخلاقی اور تہذیبی ارتقاء اور معاشرتی انقلاب کا سبب بنے گی جو حقیقتاً مادی ترقی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی ورنہ ہم انشاء اللہ انشاء اللہ پر ہی گزارہ کریں گے کیونکہ ہم جس راستے پر ہیں وہ یقینا تباہی کا راستہ ہے۔ دیکھئے حقیقت یہ ہے کہ:
حمیّت نام ہے جس کا گئی اس قوم کے دل سے

Leave a Reply

%d bloggers like this: