عرب بہار یا مُسلم خزاں

لفظ بہار عموماً پھول کھلنے کے موسم، بسنت رت، نارنج کے پھول، لطف و رونق، خوشی شباب، سرسبزی، سیر و تفریح کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن ہم لوگ اس کو صرف موسم کی خوبصورت تبدیلی کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ جونہی موسم کی تبدیلی کا وقت آتا ہے نفسیاتی طور پر انسان ہشاش بشاش نظر آنے لگتا ہے بدن میں ایک مسرت کی لہر دوڑنے لگتی ہے، کام میں پھرتی، گھومنے پھرنے، سیر سپاٹے کا موڈ سب کچھ تبدیل ہوجاتا ہے۔
اسی طرح لفظ خزاں کا نام سنتے ہی ہمارے تصور میں خراب موسم ، پت جھڑ، بے رونقی، ویرانہ پن، زوال کا خیال آجاتا ہے۔
یہ دونوں الفاظ میں نے اس لئے استعمال کئے کہ ماضی قریب میں کچھ عرب ممالک میں سیاسی تبدیلیاں ظہور پذیر ہوئی تھیں اور مغربی صحافی اور تجزیہ نگار اس کو خوب اُچھال کر عرب بہار یعنی Arab spring کہہ رہے تھے۔ ان کا اشارہ ایک خوشگوار تبدیلی کی جانب تھا۔
آئیے آج ہم اس بہار اور خزاں کے بارے میں کچھ گفتگو کرتے ہیں جس کا ذکر عرب اور اسلامی ممالک میں سیاسی تبدیلیوں کی مناسبت سے کیا جاتا ہے۔ مصیبت یہ ہے کہ موسم بہار کی طرح عرب اور مسلم ممالک میں بھی سیاسی بہار یعنی اچھی، خوشگوار تبدیلی بھی بہت مختصر ہوتی ہے۔ جونہی ایک طویل سیاسی جمود اور ڈکٹیٹرانہ دور کے بعد خوشگوار تبدیلی آئی وہ ابھی ٹھیک سے قدم جمانے نہیں پائی کہ خزاں نے شب

خون مارا اور تمام خوشی خاک میں مل گئی۔ میں دراصل ابھی مصر میں فوجی قبضہ کی جانب اشارہ کررہا ہوں۔ مصری ہمیشہ سے بدقسمت رہے ہیں کہ ان کو نااہل فوجی ڈکٹیٹر ملتے رہے ہیں۔ نصف صدی کے عرصہ بعد ان کو ایک اچھا خداترس، نیک حکمران ، صدر مرسی، صاف و شفاف انتخاب کے ذریعہ ملا مگر دشمنوں نے پہلے ہی دن سے ان کے خلاف سازشیں شروع کردیں۔ جو دشمنی ان کے خلاف 60 سال پیشتر کرنل جمال ناصر نے شروع کی اس کی تکمیل ایک احسان فراموش جنرل نے کردی۔ میں نے اپنے اس ہر دلعزیز روزنامہ میں 9 جولائی2012ء کو اپنے کالم میں مصریوں کو درپیش خطرات سے آگاہ کیا تھا۔ اس کالم میں مصریوں کو میں نے خبردار کیا تھا کہ مغربی ممالک مسلمان دشمن ڈاکٹر محمد البرادی کو ان پر تھونپنے کی گندی سازش کررہے ہیں۔ یہ شخص بین الاقوامی اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کا ڈائریکٹر جنرل تھا اور تمام دوران ملازمت مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف رہا تھا۔ اس کے ہاتھ عراقیوں، لیبیا کے باشندوں کے خون سے آلودہ ہیں اور اس نے ایران اور پاکستان کے ایٹمی پروگراموں کے خلاف زہر اُگلا مگر کبھی اسرائیل کے ایٹمی پروگرام اور ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے کے خلاف ایک لفظ نہ بولا اور اگرچہ یہ مغربی ممالک کی تمام اخلاقی اور مالی امداد کے باوجود پچھلے الیکشن میں ناکام رہا اب ایک احسان فراموش جنرل کی مدد سے پچھلے دروازے سے امریکی ایجنڈے کے تحت اقتدار حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ پہلے ٹی وی پر بتایا گیا کہ عبوری صدر اور فوج نے البرادی کو عبوری وزیراعظم نامزد کردیا ہے مگر جب اخوان المسلمین نے اس کے خلاف سخت احتجاج کا فیصلہ کیا تو یہ پیچھے ہٹ گئے، اب اس کو نائب صدر بنا دیا ہے۔
اپنے پچھلے (9 جولائی 2012ء) والے کالم میں مغربی ممالک کی ریشہ دوانیوں کے بارے میں آپ کے سامنے کچھ معروضات پیش کی تھیں۔ میں نے عرض کیا تھا کہ جب مغربی ممالک براہِ راست دخل اندازی نہیں کرپاتے تو وہ طویل المیعاد مقاصد کے لئے اس ملک میں اتنے غدار ایجنٹ تیار کرتے ہیں اور ان کے ذریعہ وہاں بدامنی پھیلاتے ہیں پھر غدار فوجیوں کی مدد سے اپنی مرضی کے پٹھو بٹھا دیتے ہیں۔ ہمارے سامنے ایران میں ڈاکٹر مصدق کی حکومت کا تختہ الٹنا اور وزیر خارجہ فاطمی کو کھلے عام قتل کر دینا ہے۔ ایرانی 25 سال کی جدوجہد کے بعد دوبارہ اپنی مرضی کی حکومت قائم کرسکے۔ اسی طرح الجیریا کے ہیرو احمد بن بیلا کو ایک غدار فوجی کی مدد سے ملک بدر کرا دیا یہی حال سر ابوبکر تفاوا بلیوا کا نائیجیریا میں ہوا۔ یہی حال ہر دلعزیز انڈونیشی لیڈر ڈاکٹر سوئیکارنو، صدام حسین، قذافی اور ہمارے اپنے ہردلعزیز لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ہوا۔ ان لوگوں کو اپنے ہی غداروں سے غیرفعال بنا دیا بلکہ قتل کرادیا گیا۔ جناب مرسی کی معزولی اسی کھیل کی کڑی ہے۔ ہمارے اوپر ڈکٹیٹر مشرف کو بٹھانا بھی جمہوریت کے قتل کی کڑی تھی۔
دیکھئے اللہ تعالیٰ نے کلام مجید (سورہ مائدہ، آیت51) میں صاف صاف فرمایا ہے کہ نصرانی اور یہودی کبھی بھی مسلمانوں کے دوست یا ہمدرد نہیں ہوسکتے مگر مسلمان حکمران اور عوام اس وہم میں مبتلا ہیں کہ مغربی ممالک ان کے دوست ہیں، جمہوریت قائم کرنے میں ان کے مددگار ہیں اور ان کی تعمیر و ترقی میں ان کے مدد گار ہیں۔ اگر کوئی یہ یقین رکھتا ہے تو اس کو کسی ماہر نفسیات سے اپنا علاج کرانے کی ضرورت ہے۔ آپ نے ابھی یہ ڈرامہ مصر میں دیکھ لیا۔ ملک استحکام اور خودمختاری کی طرف بڑھ رہا تھا کہ اس کو پٹڑی سے اُتار دیا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ایسا ہی گندہ کھیل الجیریا میں کھیلا گیا تھا جب نیشنل سالویشن فرنٹ نے پروفیسر عباسی مدنی کی رہنمائی میں جمہوری طریقے سے الیکشن جیت لیا تھا انہیں ایک فوجی کے ذریعے اقتدار سے محروم کردیا گیا اور عوام اب تک فوجی شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں اور وہاں بیگناہ لوگوں کاجو حکومت کے خلاف بولتے ہیں، قتل عام جاری ہے اور فلسطین میں حماس اور ان کے لیڈر اسمٰعیل حانیہ عوام کے مقبول ووٹ کے ذریعے حکومت میں آئے مگر مغربی ممالک اور اس کے ایجنٹ اسرائیل نے ان کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور مسلسل فلسطینیوں کے خلاف جارحانہ عمل جاری ہے۔ نہتے لوگوں کا بندوقوں، ہیلی گن شپ اور جیٹ طیاروں سے قتل ِ عام جاری ہے اور جمہوریت کے علمبردار اس کی حوصلہ افزائی اور مالی مدد کر رہے ہیں۔ ان کو میٹھی نہیں کڑوی گولیاں دی جارہی ہیں۔ بلیئر جیسے مسلمان دشمن اور قاتل کو وہاں منصف بنایا گیا ہے۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور اٹلی وغیرہ نے ایک پلان چاک آؤٹ کیا ہوا ہے کہ آہستہ آہستہ پورے مغربی کنارے پر قبضہ کر کے اسرائیل آزاد فلسطینی ریاست کا خواب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کردے۔ یہ وہی جمہوریت کے علمبردار ہیں جنہوں نے مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کو پلک جھپکتے ہی آزاد ملک بنا دیا تھا مگر ایک مقبوضہ قوم کو اپنے ہی علاقے میں آزادی دینے کو تیار نہیں۔ تمام امریکی صدور آکر دعوے کرتے ہیں کہ آزاد فلسطین ریاست کے قیام کی حمایت کرتے ہیں مگر کھلم کھلا اسرائیل کو ناجائز قبضہ اور جارحیت میں کھل کر مدد کرتے ہیں۔مصر میں جو ڈرامہ کھیلا گیا ہے یا کھیلا جارہا ہے وہ نیا نہیں ہے۔ وہاں کی شکست خوردہ فوج بھی ہماری فوج کی طرح اپنا ملک فتح کرنے میں ماہر ہے۔ ان کے سینے تمغوں اور فیتوں سے بھرے ہوئے ہیں حالانکہ وہ اب تک ایک جنگ بھی نہیں جیتے۔ مصریوں نے صرف باہر سے آئے ہوئے جرنیلوں کے زیر سایہ فتوحات کی ہیں۔ ان میں کرد صلاح الدین ایوبی، مملوک ملک الظہیر بیبرس اور البانوی سلطان محمد علی نمایاں ہیں۔
آپ ہی سوچئے بھٹو صاحب کیا مذہبی انتہا پسند یا بین الاقوامی دہشت گرد تھے؟ ان کا قصور یہی تھا کہ ایک ٹوٹے، شکست خوردہ ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا کرکے ایک خود مختار اور باوقار ملک بنانا چاہتے تھے، وہ تمام اسلامی ممالک کو یکجا کرنا چاہتے تھے، وہی جو یورپین نے اپنے اوپر لازمی اور جائز سمجھا وہ بھٹو صاحب کے لئے حرام کیا۔ ان کا یہ ”جرم“ اتنا بڑا تھا کہ ان کو ڈکٹیٹر کے ذریعے جھوٹے مقدمہ میں ملوث کرکے پھانسی دے دی۔ کیا ان کی قابل، ذہین بیٹی جس نے ملک کو باپ کے نقش قدم پہ چل کر پاکستان کو ایٹمی قوّت بنانے میں اہم رول ادا کیا تھا اس جرم کی مرتکب ہوئی تھیں کہ ان کو بھی ایک ڈکٹیٹر کے ذریعے صفحہٴ ہستی سے مٹا دیا گیا اور کیا ملک کو ایٹمی دھماکوں کی اجازت دیکر اور ہندوستان کو برابری کا جواب دیکر میاں محمد نوازشریف نے اتنا بڑا جرم کیا تھا کہ ایک احسان فراموش ڈکٹیٹر کے ذریعے ان کا تختہ اُلٹ کر ان کو جیل میں ڈالنا اور پھانسی دینے کی پوری کوشش کرانا مناسب تھا۔ مغربی ممالک کبھی بھی کسی مسلمان، ترقی پسند حکمراں اور ایک مستحکم اسلامی حکومت کو برداشت نہیں کریں گے۔ آپ کے سامنے ترکی کی موجودہ مثال ہے جب تک ترکی پر امریکی خادم جنرل حکومت کرتے رہے اور اس کو امریکی کالونی کا درجہ دیئے رکھا وہ چہیتا ملک تھا، روس کے خلاف قلعہ تھا مگر جونہی ایک مقبول اسلام کی جانب مائل حکومت کا قیام ظہور پذیر ہوا وہ ایک ناقابل قبول ملک اور قوم بن گیا۔ یورپ میں اس کو داخلہ نہیں مل رہا جبکہ سرد جنگ کے دشمن ملکوں کو گلے لگا لیا گیا مگر جس ملک نے اپنے وجود کو خطرے میں ڈال کر اپنے ملک میں ان کو فوجی اڈے دیئے اور ایٹمی ہتھیار اور میزائل رکھنے دیئے وہ اب اچھوت بن گیا ہے۔ ترکی میں موجودہ حکومت مخالف مظاہرے اسی مغربی پالیسی کا سلسلہ ہیں کہ وہاں حکومت مستحکم نہ ہونے پائے چونکہ حکمرانوں کا اسلام کی جانب جھکاؤ ہے۔ یہی حال چند سال پیشتر بوسنیا میں پیش آیا جب تک مسلمان نیٹو کے غلام رہے مغرب خوش تھا مگر جونہی انہوں نے آزادی کا مطالبہ کیا تو ان کا قتل عام کیا گیا وہ تو میاں نوازشریف، کے آر ایل اور پی او ایف کی اور ترکی کی اور ملائیشیا کی مدد سے ان کو موجودہ ٹوٹی پھوٹی آزادی ملک گئی ورنہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے غلام رہتے۔
مجھے یقین ہے کہ جن لوگوں کو اللہ نے آنکھیں، دل وماغ دیئے ہیں وہ ان آزادی کے ڈھکوسلے سے واقف ہیں جن کا ذکر بھٹو صاحب نے کیا تھا لیکن ہمارے یہاں چند لوگ ایسے ہیں جو دن کو رات اور رات کو دن کہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے۔ وجہ اللہ تعالیٰ نے کلام مجید میں یوں بیان کی ہے۔ ”ان کا دماغ اور دل ہے مگر وہ سوچتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں، ان کے کان ہیں مگر وہ سنتے نہیں، وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر۔ وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں اور حقیقت سے بے بہرہ ہیں“۔ مجھے ڈر ہے کہ دیر یا بدیر وہ اسلامی ممالک جن کے حکمران امریکی و مغربی غلامی پر فخر کررہے ہیں ان کا انجام بھی بہت برا ہوگا۔ یہ عرب بہار محض ایک سراب ہے درحقیقت یہ خزاں کا پیش خیمہ ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: