اُلٹی ہو گئیں سب تدبیریں

مشہور شاعر اور شہنشاہ غزل میر تقی میر# کا ایک مشہور شعر ہے
اُلٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماریِ دل نے آخر کام تمام کیا
یہ وہی میر# ہیں جن کے کمالِ فن کے بارے میں فقیدالمثال غالب# نے کہا تھا:
ریختے کے تم ہی استاد نہیں ہو غالب#
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر# بھی تھا
میں دراصل اس کالم میں میر# کے پہلے مصرع کو موضوع بنانا چاہتا ہوں۔ یہ بات بہت پُرانی اور مشہور ہے کہ ہر کام انسان کی اپنی مرضی کے مطابق نہیں ہوتا، اسی لئے فارسی کا مقولہ ہے۔ ”تدبیر کند بندہ، تقدیر کند خندہ“ یعنی انسان تدبیر کرتا ہے اور تقدیر ہنستی ہے۔ انگریزی میں یہ کہاوت یوں ہے، Man proposes, God disposes یعنی ”انسان تدبیر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو انجام تک پہنچاتا ہے“ ۔لیکن انسان اپنی فطرت سے مجبور ہے (اللہ تعالیٰ نے اسے بے صبرا، ناشکرا، جھگڑالو کہا ہے) ۔مگر ان تمام کہاوتوں سے بڑھ کر اللہ رب العزّت کا فرمان ہے کہ: وَیمکرونَ وَ یمکراللہ ط وَاللہُ خیرالماکرین ط۔ یعنی وہ بھی تدبیریں اور سازشیں کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی تدبیریں کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سب سے بہترین تدبیریں کرنے والا ہے“۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ انسان کتنی ہی تدبیریں اور سازشیں کرلے، اللہ تعالیٰ کی تدبیر اور فیصلہ سب پر افضل ہے۔
دیکھئے اگر کوئی

اچھا کام ہو اور نیت اچھی ہو تو اس کی ناکامی پر صبر آجاتا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی مصلحت ہوگی لیکن جب وہ بَد ارادے سے نِت نئی ترکیبیں کرتا ہے تو نہ صرف شکست ہوتی ہے بلکہ بدنامی بھی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر پی پی پی نے دوران حکومت نواز شریف کے بھولے پن اور اعتماد کا ناجائز فائدہ اُٹھا کر ان کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، پہلے دونوں بھائیوں کو نااہل قرار دلوایا اور پھر پنجاب کی حکومت پر گورنر راج لگا کر قبضہ کرلیا اور سلمان تاثیر کو شیشے کی دکان میں بیل کی طرح چھوڑ دیا۔ وہ تو ق۔لیگ کے فارورڈ بلاک کے سربراہ جناب مانیکا نے ن۔لیگ کی حکومت کو بچا لیا ورنہ میاں برادران آج صاحبِ اقتدار نہ ہوسکتے تھے۔ ہر حربہ استعمال کیا گیا۔ شریف برادران بدنام ہوں اور اقتدار حاصل نہ کرسکیں۔ اصغر خان کیس اور یونس حبیب کا سہارا لیا گیا۔ سلمان تاثیر ، لطیف کھوسہ، منظور وٹو، راجہ ریاض، قمر زمان کائرہ، رحمن ملک سے لیکر شرجیل میمن تک کا ایک ہی ایجنڈا رہا کہ پنجاب کی مخالفت کرو اور شریف برادران کی کردار کشی کرو۔ اس عیّاری میں ق۔لیگ کو بھی ملا لیا کہ حملہ بھرپور اور کارگر ہو۔ بعد میں طاہر القادری کو میدان میں چھوڑا گیا اور عمران خان سے سونامی کی آمد اور خوف کا اعلان کیا گیا۔ بظاہر وفاقی حکومت پر حملے کئے مگر اصل ہدف پنجاب تھا۔ شریف برادران پر بیرون ملک دولت جمع کرنے، قرضوں کی نادہندگی اور ٹیکس کی عدم ادائیگی کے جھوٹے الزامات خوب نشر کئے گئے لیکن سوئس بینک میں زرداری کے 60 ملین ڈالر، گیلانی کی قرضوں کی معافی، حج اسکینڈل میں ان کے بیٹوں کی شرکت اور ایفی ڈرین کیس میں شرکت، اسکے علاوہ نااہل ، راشی، غیرتعلیم یافتہ لوگوں کو اعلیٰ عہدوں پر تعینات کرکے ان کے ذریعہ اربوں روپیہ کی رشوت ستانی، اسکے علاوہ ریلویز، پی آئی اے، اسٹیل ملز اور رینٹل پاور کیس میں اربوں روپوں کی رشوت ستانی وغیرہ کا کہیں ذکر نہیں کیا گیا۔ لیکن حکومت کے وزیر ہو کر بھی فیصل صالح حیات اور دوستانہ اپوزیشن کے باوجود خواجہ آصف نے یہ کیس سپریم کورٹ میں اُٹھا کر قوم کے اربوں روپے بچائے۔ عمران خان صرف لیپ ٹاپ، آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم اور میٹرو بس کو نشانہ بناتے رہے اور میگا رشوت ستانی کے کیسوں کو نظر انداز کردیا۔ پی پی پی اس سے بے حد خوش ہوئی اور اس غلط فہمی کا شکار ہوگئی کہ پاکستان تحریک انصاف ن۔لیگ کے لاتعداد ووٹ توڑلیگی اور وہ پنجاب میں کامیاب ہوجائینگے۔ لیکن میاں شہباز شریف کی انتھک کوششیں اور اچھا نظام حکومت انکے لئے ڈھال ثابت ہوا اور ان کی تمام سازشیں اور تدبیریں ناکام ہوئیں۔ ایم کیو ایم نے اخباری اطلاعات کے مطابق عمران خان اور طاہرالقادری کے جلسوں میں اپنے کارکن بھیجے کہ ان کی تعداد سے ن۔لیگ کو خوفزدہ کیا جائے اور عوام کو ان کی طرف راغب کیا جائے۔ اس کا نتیجہ اُلٹا نکلا کہ ایم کیو ایم اپنے لاتعداد حمایتی کھو بیٹھی اور اس کے لیڈر اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے اور اب آئندہ الیکشن تک ان کو انتظار کرنا پڑے گا لیکن ’کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک‘ والی بات ہے۔لوگ یہ طعنہ دیتے ہیں کہ ایم کیو ایم کی حالت ایک مچھلی کی طرح ہے یہ پانی سے یعنی حکومت سے باہر نہیں رہ سکتی۔ سینٹر میں یہ اب نواز شریف صاحب کو خوش کررہے ہیں اور سندھ میں کوشش کررہے ہیں کہ حکومت میں شامل ہو کر کچھ تو کھانے پینے کو مل جائیگا۔ ان کی تیزیاں انھیں لے ڈوبی ہیں۔ایک دیہاتی کہاوت ہے ’پر کو کھو دے کنواں آپ ہی ڈوبے موا‘ یعنی جو دوسروں کے لئے کنواں کھودتا ہے خود اس میں گر کر ڈوبتا ہے۔فارسی میں کہاوت ہے کہ ”چاہ کن را چاہ درپیش“ یعنی کنواں کھودنے والے کے سامنے ہی کنواں ہے۔ اس طرح پی پی پی، ایم کیو ایم اور ق۔لیگ اور پی ٹی آئی کے لئے کہا جاسکتا ہے کہ ”اُلٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا“۔
میاں نواز شریف صاحب دو تہائی اکثریت سے وزیر اعظم منتخب ہوگئے ہیں اور حلف اُٹھا لیا ہے۔ ایم کیو ایم اور فضل الرحمن صاحب نے ان کی حمایت میں ووٹ دیے، پی پی پی اور پی ٹی آئی نے رسمی طور پر جمہوریت کی خاطر اپنے نمائندے ان کے مقابلے میں کھڑے کئے۔ امین فہیم صاحب کو 42 ووٹ ملے اور جاوید ہاشمی صاحب کو 31 ووٹ ۔ میری کیا پورے ملک کی نیک خواہشات اور توقعات میاں صاحب سے وابستہ ہیں۔ میں نے اپنے پچھلے ایک کالم میں ان کو کچھ مشورہ دینے کی جسارت کی ہے ان کی ٹیم وہی ہے اور وہ اس سے نیا کام لینا چاہ رہے ہیں۔ خدا کرے کامیاب ہوں۔ مشرف کے بہت سے ساتھی ان کے ساتھ چمٹ گئے ہیں اور ان کی آٹھ سال کی مشرف کی صحبت اور عیاشی مشکل سے ہی جائے گی۔ یہ سیاسی کھیل ہے اور انسان کچھ بھی کہے یہ کھیل بہت گندہ ہوتا ہے اور یہاں اصولوں کی نہیں مفاد اور مصلحت کی پالیسی پر عمل ہوتا ہے۔
میں نے یورپ کے تین ممالک میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے وہاں کام کیا ہے اور پندرہ برس وہاں رہا ہوں۔ یورپ کے تقریباً تمام ممالک گیا ہوں اور امریکا اور ایشیا کے کئی ممالک بھی گیا ہوں، مشرق وسطیٰ کے تقریباً تمام ممالک اور افریقہ کے کئی ممالک میں کام کے سلسلہ میں گیا ہوں۔ میری ہمیشہ سے یہ عادت رہی ہے کہ جہاں بھی گیا، بہت غور سے وہاں کی تعلیم و نظام حکومت پر نظر ڈالی اور کچھ نہ کچھ معلومات حاصل کیں۔ یہ اسی طرح رہا جس طرح میں نے اعلیٰ فنی ٹیکنالوجی کو سمجھا، سیکھا اور پاکستان کی خدمت کی۔
(۱) میاں صاحب! کچھ لوگ پچھلے دور کی طرح آپ کو غلط مشورہ دینگے کہ وزیر اعظم ہاؤس سے باہر رہیں۔ یہ کم عقل اور بین الاقوامی رسومات سے بے بہرہ ہیں۔ آپ 19 کروڑ عوام کے وزیر اعظم ہیں جو ایک ایٹمی اور میزائل قوّت ہے، آپ کا اب ایک رُتبہ ہے۔ آپ چاہیں تو کچھ خرچ اپنے ذمہ لے لیں۔ اگر آپ نے کسی اور علاقہ میں رہائش کا سوچا تو آپ اس پورے علاقہ والوں کی زندگی حرام کردینگے اور سخت سیکیورٹی رسک کا سامنا ہوگا۔ اور وزیر اعظم ہاؤس اگر استعمال نہ کیا تو بلڈنگ اور فرنیچر تباہ ہوجائے گا۔
(2) وزارت خارجہ میں امریکا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، روس، جاپان، چین میں پیشہ ور، تجربہ کار سفارت کار متعین کیجئے۔ ان پڑھ، غیرتجربہ کار خوشامدیوں یا ”پاک گاؤں“ کو ہرگز متعین نہ کیجیے۔ یہ سلسلہ اَب ختم ہونا چاہئے۔
(3) رشوت ستانی اور چوری کا سب سے بڑا ذریعہ سیکریٹ فنڈ بالکل ختم کردیجئے، اس لعنت نے ملک میں رشوت ستانی اور رشوت خوری کو جنم دیا ہے۔
(4) سول سروس کی ری اسٹرکچرنگ کی سخت اور فوری ضرورت ہے ۔ کیریئر پروفیشنل کیڈر کا رواج قائم کیجئے۔ پچھلے ساٹھ سال میں ہم نے دھوبی کے کتے پیدا کئے ہیں۔ ایک لنڈا بازار کا بی اے ہر فیلڈ کا ماہر بن جاتا ہے۔ وہ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، صحت، زراعت ، بجلی و پانی، اطلاعات غرض ہر چیز کا ہر فن مولا بن جاتا ہے۔
سوائے عیاشی اور نظام کو تباہ کرنے کے کچھ نہیں کرتا۔ افسران کو شروع سے ہی اپنے محکموں میں مستقل طور پر کام کرنا چاہئے اور وہیں سے ریٹائر ہونا چاہئے جیسے کہ دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں رواج ہے۔ ہر محکمہ میں تجربہ کار، پیشہ ور لوگوں کی نشوونما ہونا چاہئے۔
(5) میاں صاحب، بجلی کی پیداوار، معیشت اور زراعت ہمارے لئے اس وقت بہت اہم ہیں۔ یقینا آپ کے الیکشن جیتنے والے ساتھی اَب بڑے بڑے انعامات کی اُمید لگارہے ہیں۔ میاں صاحب ملک کی بہتری، مستقبل کیلئے خدا کیلئے ان کو کنٹرول میں رکھیے گا اگر ان کو وزارتیں دیں تو ان کے ساتھ کم از کم دو یا تین تجربہ کار ماہرین ضرور تعینات کردیں کہ وہ پیشہ ورانہ مہارت سے اپنی خدمات انجام دیں اور ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالیں۔ میں نے پہلے عرض کیا ہے کہ اپنے ماتحت کی کارکردگی اور کامیابی آپ کی کارکردگی اور کامیابی کی ذمّہ دار ہوگی۔ ان کی ناکامی آپ کو چند ہی ماہ میں ناکام اور بدنام کردے گی۔(6) طالبان سے گفت و شنید کے بارے میں اپنے پچھلے کالم میں مشورہ دینے کی جسارت کی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس سے مثبت نتائج نکل سکتے ہیں۔ اگر میری خدمات کسی کام آسکیں تو میں بخوشی پہلے کی طرح اَپنے ملک کی خدمت کے لئے تیار ہوں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: