مشرف غدّاری کیس

چند ہفتہ پیشتر (3جون2013ء) میں نے اپنے کالم بعنوان ”ایاز قدرِخود بشناس“ میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے درخواست کی تھی کہ وہ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے اور ماضی قریب کے ریمارکس کی روشنی میں مشرف پر غداری کا مقدمہ چلانے کیلئے ضرور وفاق کے جانب سے اٹارنی جنرل کی معرفت سپریم کورٹ سے رجوع کریں۔ میں نے یہ عرض کیا تھا کہ اگر وزیر اعظم نے قانون ، دستور کی پاسداری نہ کی تو کسی نہ کسی طرح قانون ، دستور کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں گے۔ ایک طویل مدت سے یعنی 50سال سے زیادہ عرصہ سے یہاں ایک گریڈ 22کا ڈنڈا بردار افسر جب چاہتا ہے قوم کو یرغمال بنا لیتا ہے۔ ایک منتخب وزیراعظم کو ایک جھوٹے مقدمہ میں پھنسا کر ایک تابعدار عدلیہ کے ذریعے تقریباً دو سال سخت تکلیف دیتا ہے اور پھر پھانسی دیتا ہے اور بیوی اور بچوں کو آخری بار چہرہ نہیں دیکھنے دیتا پھر ایک اور ڈکٹیٹر آتا ہے ،حکومت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے راز کھل جاتا ہے تو کچھ انتظار کرتا ہے اور وزیراعظم کے ایک غلط اقدام کو بہانہ بنا کر وزیراعظم کا تختہ الٹ دیتا ہے، ان کی بے عزتی کرتا ہے، ہتھکڑیاں لگاتا ہے جیل میں ڈال دیتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ ایک جھوٹے مقدمہ (جہاز کو ہائی جیک کرنا ) میں ایک جج صاحب کے ذریعہ موت کی سزا دے مگر وزیراعظم کی خوش قسمتی کہ جج صاحب نے ضمیر کی آواز کو سنتے

ہوئے ڈکٹیٹر کی ہدایت پر عمل نہ کیا اور عمر قید کی سزا دے کر وزیراعظم کو پھانسی سے بچا لیا۔ وزیراعظم واقعی بہت خوش قسمت ہیں اور یقیناً ان کے والدین، بیگم، بچوں اور بہن بھائیوں کی دعاوٴں نے یہ کام کیا ہے ہم سب کو احساس ہے کہ وزیراعظم پر اندرونی اور بیرونی لوگوں نے بہت اثرانداز ہونے کی کوشش کی ہے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ :
رات کی بات کا مذکور ہی کیا
چھوڑئیے رات گئی بات گئی
یعنی پچھلی باتوں کو چھوڑو ، مجرم کو معاف کرو اور تیار مجرموں کی حوصلہ افزائی کرو کہ وہ موقع ملتے ہی وار کر دیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ سزا، جزا کا معاملہ بھول جانا چاہئے۔ اس معافی اور بھولنے کی غلطی نے ہی اس ملک کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔اللہ رب العزت نے وزیراعظم کی رہنمائی فرمائی اور ہمت دی کہ انہوں نے تمام کھلی اور پوشیدہ دھمکیوں کے باوجود دستور اور قانون کی پاسداری کی اور وہی کیا جو ان کے فرائضِ منصبی نے ان کے ذمہ ڈالا ہے۔ یہ فیصلہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ مشکل تھا جب وزیر اعظم نے بین الاقوامی دباوٴ اور مقامی مصلحت پسندوں کی آراء کو نظر انداز کر کے ایٹمی دھماکو ں کی اجازت دی تھی اور پاکستان کا سر فخر سے بلند کرا دیا تھا۔ وزیراعظم نے اپنے عہدے کا چارج لیتے ہی ایک نہایت ایماندار اور قابل ماہر قانون کو جب اٹارنی جنرل بنایا تو مجھے فوراً یقین ہو گیا کہ وہ اب عدلیہ کے احکامات، دستور و قانون کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لئے مشرف کے خلاف عدلیہ سے مقدمہ چلانے کی درخواست کریں گے۔ مجھے سب سے زیادہ دکھ احمد رضا خان قصوری کے طرز عمل پر ہے کہ وہ ایک ڈکٹیٹر کی حمایت میں زمین آسمان کے قلابے ملارہے ہیں اور ہمیں یوم قیامت کے قرب کی آمد سے ڈرا رہے ہیں اور پینڈورا باکس کے کھلنے کا خوف دلا رہے ہیں ۔کیااُنہوں نے ضیاء الحق اور پرویز مشرف کو بھی اس باکس کے کھلنے اور قیامت کی آمد کی خطرناک خبر سنائی تھی؟
جونہی وزیراعظم نے اسمبلی میں یہ بیان دیا کہ وہ عدلیہ کو مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کی درخواست دیں گے تو یہاں ہمارے کئی ”دانشور اور سینئر تجزیہ نگاروں“ نے آسمان سر پر اٹھا لیا ہے، قیامت کی آمد کا حوالہ دے رہے ہیں، پینڈورا باکس یاد کر رہے ہیں اور براہ راست اور با لواسطہ طریقہ سے وزیراعظم اور حکومت کو ڈرانے اور یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہ غلط کام ہے مجرم کو ، قاتل کو ، غدار کو سزا ملنے سے یہ ملک ٹوٹ جائے گا، مارشل لا لگ جائے گا۔ غرض یہ کہ یہ”خودساختہ“ ملک و عوام کے ہمدرد و وفادار اب ہر وہ حربہ اور پروپیگنڈا استعمال کر رہے ہیں جس سے مشرف کا ٹرائل نہ ہو ۔وہ اب یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ ایوب خان و ضیاء الحق کے دور سے سب کا احتساب کرو یعنی ایک ناممکن گورکھ دھندے میں پھنس جاوٴ اور اب یہ بھی بار بار کہہ رہے ہیں کہ مشرف کے تمام فوجی ، سول ساتھیوں اور رفقائے کار اور تمام ججوں اور سیاست دانوں و سرکاری افسران کو بھی جن کا کسی نہ کسی طرح مشرف سے تعلق رہا ہے ان پر بھی مقدمہ چلایا جائے گویا ایک ایسا سلسلہ شروع کیا جائے جو آنے والی کئی حکومتوں کو اس میں الجھائے رکھے۔ دیکھئے مجرم، اکسانے والا، اقتدار والا ایک ہی شخص بدمعاشی اور جرم کا ذمہ دار ہوتا ہے اگر وہ یہ جرم نہ کرے تو پھر کوئی اس کا ساتھ دینے والا یا بہکانے والا ساتھ نہ دے گا۔ قانون کا تقاضا ہے کہ پہلے مجرم کے سربراہ کو پکڑو اور قرار واقعی سزادو ، دستور میں اس سلسلہ میں نہایت واضح ہدایات و قوانین موجود ہیں اور عدالت عالیہ کے معزز جج صاحبان ان سے پوری طرح واقف ہیں۔
میری ہمارے تمام ”دانشوروں، سینئر صحافیوں“ سے درخواست ہے کہ خدا کیلئے عوام کو الٹی سیدھی بحث اور قیامت کبریٰ کی آمد کا خوف دلا کر نہ ڈرائیں۔حکومت کو اپنا فرض ادا کرنے دیں اور عدلیہ کو بلاخوف و خطر اور بلاامتیاز انصاف مہیا کرنے دیں ۔ یہ جو ملک میں طوفان قیامت کے آنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں یہ مشر ف کے ہمدرد ہیں۔
آپ نے ابھی خبر سنی ہو گی کہ اٹلی کے سابق وزیر اعظم برلسکونی کو ایک اخلاقی جرم کی سزا میں سات سال قید اور تمام عوامی عہدوں سے محروم کر دیا گیا ہے۔ اسرائیل کا سابق صد ر جیل میں ہے اور جرمنی کے سابق صدر کو عہدہ چھوڑنا پڑا اور اب جیل کا سامنا ہے کہ ان کے ہو ٹل کا تقریباً 500 ڈالر کا بل کسی تاجر نے ادا کر دیا تھا۔
BJP کے سابق صدر جیل میں ہیں کہ پولیس کی ہتھیاروں کی خریدای میں صرف چار ،پانچ ہزار روپیہ رشوت لے لی تھی۔ یہ بھی یاد رکھئے کہ کرام ویل نے انگریز بادشاہ کی حکومت کا تختہ الٹا تھا اور بعد میں پارلیمینٹ نے اس کو موت کی سزا دی تھی اور اس کی ہڈیوں اور ڈھانچہ کو پھانسی پر لٹکا دیا تھا۔ یہاں آپ ایک دوفٹ کی چھڑی والے غاصب ڈکٹیٹر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی کوشش کے خلاف سرکا ری اداروں ، عوام کو اور عسکری اداروں کو ورغلا رہے ہیں، اکسا رہے ہیں کہ ایک مجرم کو سزا دی تو یہ ملک غارت ہو جائے گا، تباہ ہو جائے گا۔چند ماہ پیشتر اخبار میں مصدقہ خبر چھپی تھی کہ امریکہ نے پاکستان میں میڈیا کی ٹریننگ کے لئے 50 ملین ڈالر رکھے ہیں اور استعمال کر رہا ہے جب میں نے مشرف کے ٹرائل کے بارے میں تقریباً تمام اہم ٹی وی تجزیہ نگاروں، پرنٹ شخصیات کے ایک ہی ساز اور ایک ہی دھن پر راگ سُنے تو دل میں خوف پیدا ہونے لگا کہ کیا باجرہ کھا کر کناریز کی طرح سب ہی ایک ہی سُرگا رہے ہیں ۔ اللہ رحم کرے ہم پر اور اس ملک پر بھی،آمین۔ لیکن ایسا لگتا ہے حکمرانوں اور عوام کے اعمال کی وجہ سے اللہ نے اپنے عتاب میں گھیر لیا ہے۔
دیکھئے جہاں تک انصاف کی فراہمی کا تعلق ہے ہمیں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اور ہمارے نبی ﷺ نے اپنے اعمال وکردار میں سنہری ہدایات فرمائی ہیں۔ رسول ﷺ نے ایک ملزم خاتون کی اُسامہ بن زید بن حارثہ کی سفارش پر فرمایا تھا کہ اسلام سے پہلے بہت سی قومیں اس لئے تباہ ہو گئی تھیں کہ حکمران انصاف کی فراہمی میں امتیازی رویہ اختیار کرتے تھے۔ سورہ اعراف آیت نمبر 29 میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے ” اے پیغمبر ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ میرے پروردگار نے تو عدل کا حکم دیا ہے۔ سورہ نحل آیت نمبر90 میں فرمایا ” بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے“۔ سورہ شوریٰ آیت نمبر 15 میں فرمایا ” مجھے یہ حکم ملا ہے کہ اپنے اور تمہارے درمیان انصاف کروں“ اور سورہ الانعام آیت نمبر 152میں فرمایا ” اور جب بات کرو تو انصاف کو ملحوظ رکھو، اگرچہ وہ تمہارے کسی رشتہ دار کے متعلق کیوں نہ ہو۔“ سورہ المائدہ آیت 42 میں فرمایاہے” بے شک اللہ عدل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے“۔ سورہ نساء آیت نمبر 135میں فرمایا”اے ایما ن والو، انصاف پر پختگی سے قائم رہنے والے اور اللہ کے لئے گواہی دینے والے رہو۔چاہے وہ تمہارے یا تمہارے والدین اور عزیزوں کے خلاف ہی کیوں نا ہو“۔ اور سورہ المائدہ آیت نمبر 8 میں فرمایا ”اے ایمان والو اللہ کے لئے پختگی سے قائم رہنے والے اور عدل کے ساتھ شہادت دینے والے رہو…ہر حال میں انصاف پر قائم رہو کہ وہ تقویٰ کے بہت قریب ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک اللہ کو اس کی پوری خبر ہے کہ تم کیا کرتے رہتے ہو“۔
مجھے یقین ہے سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان اب اپنی ذمہ داریوں اور فرائض اور احکام الٰہی سے پوری طرح واقف ہیں۔ مشر ف کو جو کچھ بھی ملے گا وہ انصاف کے ذریعہ ملے گا۔ میڈیا والے اب یہ معاملہ عدلیہ پر چھوڑ دیں اور عوام اور حکومت کو قیامت کی آمد سے خوفزدہ نہ کریں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: