بدکرداری ،منافقت

ہمارے ایک نوجوان جوشیلے اینکر پرسن اکثر ہمارے معاشرہ میں موجود برائیوں کی طرف توجہ دلاتے رہتے ہیں ان کے پروگرام کی طرف توجہ دلانے کیلئے اسکرین پر ایک ٹکر یعنی خبر لگتی ہے جس کا عنوان ہے سبزی فروش سے لیکر حکمران تک کالا دھن بنانے میں سب برابر ہیں۔ یہ بڑا تکلیف دہ اور عبرت ناک پیغام ہے مگر حقیقت پر مبنی ہے اور آج میں اپنے اس کالم میں اسی موضوع پر کچھ معروضات پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔ آپ کو روزہی ٹی وی پر، اخبارات میں ہمارے ملک میں موجود برائیوں کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے، نہایت بھیانک منظر دکھائے جاتے ہیں اور بیان کئے جاتے ہیں ہر وہ گناہ ،برائی،بدکرداری جس کا قرآن میں ذکر ہے اور جس کے لئے اللہ رب العزت نے سخت ترین سزا یعنی جہنم مقرر کی ہے وہ ہمارے معاشرے میں موجود ہے یہ ایک اسلامی مملکت ہے یہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے یہاں مساجد، علماء، خطباء بکثرت ہیں۔ روز ہی اسلام اور اللہ کے نام پر ڈھول پیٹے جاتے ہیں، بھنگڑے ڈالے جاتے ہیں، جلسے جلوس نکالے جاتے ہیں، اخبارات کے ایڈیشن نکالے جاتے ہیں، ٹی وی پر وعظ ونصیحتیں کی جاتی ہیں مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب نے بھینس کی کھال پہنی ہوئی ہے کہ جس طرح اس پر پانی کی بوند نہیں ٹھہرتی اسی طرح ان پر کسی بھی نصیحت خواہ وہ اللہ کی جانب سے ہو یا انسان کی جانب سے، ان کے سروں سے

گزر جاتی ہے غالباً اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے جیسا کہ اس نے سورہ کہف میں فرمایا ہے کہ ”جس کو اللہ تعالی ہدایت دے وہ ہدایت یاب ہے اور جس کو وہ گمراہ کرے تو تم اس کے لئے کوئی دوست راہ بتانے والا نہ پاؤگے“ ہم ایک ایسے ہی دور میں داخل ہو گئے ہیں کہ جو قیامت کی آمد کی نشاندہی کرتا ہے ہر وہ گناہ ،ہر وہ برائی جو قیامت کا اشارہ کرتی ہے ہمارے یہاں سرایت کرگئی ہے اب نیک و بد اور گناہ گاروں اور بے گناہوں میں تمیز کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ بہت سے خوف خدا رکھنے والے لوگ گھبرا گھبرا کر اب موت کی دعا مانگتے نظر آتے ہیں کہ ان کے حساب میں زیادہ گناہ نہ لکھے جائیں۔ دیکھئے اس وقت ملک کے عوام میں جو اخلاقی پستگی، بدکرداری اور منافقت پھیل گئی ہے اس کو بیان کرنا مشکل ہے، میں بیان کروں گا تو لاتعداد چیزیں نظر انداز ہو جائیں گی لیکن کوشش کر کے دیکھ لیتا ہوں سب سے بڑی لعنت جھوٹ بولنا ہے، یہ کہوں کہ یہ اسٹیٹ پالیسی بن چکی ہے تو مبالغہ آرائی نہ ہوگی پھر منافقت یعنی قول اور عمل میں تضاد، یہ بھی اسٹیٹ پالیسی بن گئی ہے اور جب کوئی اسٹیٹ پالیسی بن جائے خاکروب ،قصاب اور سبزی فروش سے لیکر صدر مملکت تک اس شرمناک عمل کے مرتکب بن جاتے ہیں،کھلے عام سب کے سامنے جھوٹ بولتے ہیں جبکہ کرتے کچھ اور ہیں۔ اللہ رب العزت کی نگاہ میں منافقت شرک کے بعد سب سے بدترین جرم ہے اور منافقین کی بخشش نہ ہوگی اور جہنم کی سخت آگ ان کا مقدر ہے ۔کھانے میں ملاوٹ جو عام ہے اور تاجر نہایت بے شرمی سے یہ عمل کرتے ہیں نہایت ہی قابل مذمت جرم ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ سرخ اینٹ پیس کر مرچوں میں ملائی جاتی ہے، چمڑے کے زہریلے رنگ سے چنے کے چھلکے رنگ رنگ کر چائے کی پتی میں ملائے جاتے ہیں سونف اور الائچی کو ہرے زہریلے رنگ سے رنگ کر ہمیں کھلایا جاتا ہے، دودھ میں نالوں کا گندہ پانی ملا کر فروخت کیا جاتا ہے ،سڑی سبزی اور پھل دھوکہ دیکر اچھے سامان میں ملا کردے دیئے جاتے ہیں اس کے علاوہ قابل گردن زدنی جرم نقلی دوائیوں کی تیاری اور فروخت جو اب اربوں روپے کی تجارت بن گئی ہے،کھلے عام رائج ہے اور حکمران سرپرستی کررہے ہیں۔ امتحانات میں کھلے عام نقل کی جاتی ہے ٹی وی پر دکھایا جاتا ہے مگر ذمہ دار لوگوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ خودکش حملے، ٹارگٹ کلنگ، فرقہ واریت، مذہب کے نام پر مسلمانوں کا ہی قتل عام، کھلے عام اغوا برائے تاوان، خواتین پر تیزاب پھینکنا اور ان پر ہرطرح کا تشدد، عورتوں کی عصمت دری ،معصوم بچیوں کا اغوا، عصمت دری اور بے رحمی سے قتل، منشیات کا کاروبار، اسمگلنگ، خواتین کا اغواء اور فروخت، بچیوں کی جبراً شادی، رشوت خوری، غرض ہر قابل تصور گناہ اور جرم ہماری سوسائٹی میں اس طرح سرایت کر گیا ہے کہ اس کو نہایت ہی سخت سرجیکل آپریشن کے بغیر ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان تمام لعنتوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے پھر کیا کیا جائے چند نکتے جو قابل توجہ ہیں وہ عرض کرتا ہوں
(۱)ہر شہری پر لازم ہے کہ مسلسل خود اپنا احتساب کرتا رہے اور اپنے کردار کی برائیوں کو دور کرکے بہتری لائے۔ رسول نے فرمایا تھا کہ جس شخص کا کل آج سے بہتر نہ ہو اس کو اپنی طرز زندگی کے بارے میں فکر مند ہونا چاہئے۔ (2)کیونکہ ایک قوم یا جمعیت ایک فرد کا ہی تسلسل ہے اس لئے پوری جمعیت اور قوم کو بھی مسلسل اپنا احتساب کرتے رہنا چاہئے ورنہ یہ قوم بدکرداری کا شکار ہو کر تباہ ہو جائے گی(3)ہمارے لیڈروں، ذی فہم رہنماؤں، مذہبی رہنماؤں اور اساتذہ اور وہ تمام لوگ جو سوسائٹی میں کچھ نہ کچھ اثر رکھتے ہیں یعنی بااثر ہیں ان پر بھی یہ لازم ہے کہ وہ بھی مسلسل اپنا احتساب کرتے رہیں اور سوسائٹی کو ان چیزوں سے خبردار کرتے رہیں جو قومی تنزلی کا باعث بن سکتی ہیں (4)الیکشن ہو چکے ہیں اور نتائج بھی آچکے ہیں اور حکومتیں بھی بن چکی ہیں نتائج ملک میں موجود صورتحال کی عکاسی کر رہے ہیں ہم ایک انتخابی عمل سے ایک حضرت عمر یا حضرت عمر بن عبدالعزیز پیدا نہیں کر سکتے جب تک عوام یا پوری قوم وہ اعلیٰ کردار اور صلاحیتوں کی عکاسی نہ کرے جن کی یہ دو اعلیٰ شخصیات حامل تھیں(5)جب قائد اعظم محمد علی جناح کو مسلمانوں کا غیر متنازع لیڈر مان لیا گیا اور جب اللہ تعالیٰ نے انہیں مسلمانوں کی جدوجہد کی رہنمائی اور پاکستان حاصل کرنے میں کامیابی عطا فرمائی تو یہ یونہی نہیں مل گئی تھی اس میں انہوں نے اور ان کے تمام پیروکاروں اور رفقائے کار نے بھرپور بھرپور حصہ لیا تھا اس میں نہ صرف تعلیم یافتہ لوگ، اساتذہ، طلباء بلکہ مذہبی رہنماؤں، علمائے کرام سب نے خون پسینہ بہا کر ساتھ دیا تھا ہمارے نام نہاد اسکالرز اور تجزیہ نگاروں نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی غالباً سمجھ سکے کہ ایک عام مسلمان کے اندرونی خیالات و احساسات کیا تھے(اس کا تجربہ مجھے اور میرے ساتھی رفقائے کار کو ہے کہ ہم ایسے ہی دور سے گزرے تھے جب ملک کو ایٹمی قوت بنانے اور اس کے وجود وسلامتی اور خود مختاری کی حفاظت کے لئے اپنا خون پسینہ قربان کررہے تھے اور ہمارے اہل وعیال اس قربانی میں شامل تھے) جن کی وجہ سے انہوں نے دولت ،فرقہ وارانہ وفاداری ،صوبائی محبت یا ہر دوسری پرکشش پیشکش کو ٹھکرا کر قائد اعظم کا ساتھ دیا یہ تمام چیزیں اس وقت بھی موجود تھیں جبکہ تحریک پاکستان عروج پر تھی لیکن اس وقت کے مخلص مسلمان رہنماؤں اور علماء نے ان کی صحیح رہنمائی کی اور ان میں کلیدی رول علامہ اقبال ، مولانا شبلی نعمانی، مولانا الطافحسین حالی، مولانا اشرف علی تھانوی، سید سلمان ندوی، علامہ شبیر احمد عثمانی، مولانا ظفر علی عثمانی، نواب بہادر یار جنگ، مولانا ظفر علی خان نے ادا کیا۔ قائد اعظم نے مولانا ظفر احمد عثمانی کو ڈھاکہ میں اور علامہ شبیر احمد عثمانی کو لاہور میں پاکستانی جھنڈے لہرانے کے فرائض سونپے تھے۔ قائد اعظم کے اس عمل نے یہ ثابت کیا کہ عام لوگوں نے بھی پاکستان کے قیام میں کتنا اہم رول ادا کیا۔
میں یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ اگر ہم نے سنجیدگی سے اور نیک نیتی سے قوم کی تعمیر کرنی ہے اور ان کے اخلاق ،کردار کو بہتر بنانا ہے تو خود کا احتساب کرنا ہوگا اور قرآنی احکامات و سنت رسول اللہ پر دلجمعی سے عمل کرنا ہوگا۔ اللہ تعالی نے کلام مجید میں بار بار ہم کو اس کی نصیحت کی ہے ،کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس پر عمل کریں اور کامیابی نہ ہو۔ حدیث نبوی ہے کہ ہم میں سب سے اچھا وہ شخص ہے جس کا کردار سب سے بہتر ہو، سیاسی تبدیلی آرہی ہے اب انشاء اللہ اخلاق وکردار کی بہتری بھی آئے گی۔ امام غزالی نے فرمایا تھا کہ جب غریبوں سے لوگ دشمنی کریں گے، دنیاوی شان وشوکت کا اظہار کریں گے اور مال و زر کے جمع کرنے میں حریص ہو جائیں گے تو ان پر اللہ تعالیٰ چار مصیبتیں نازک کردے گا، قحط سالی، ظالم حکمران، خائن حاکم اور دشمنوں کا غلبہ دیکھئے سورہ مائدہ (آیت 105)میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی فکر کریں کیونکہ دوسروں کی گمراہی سے ان کا کچھ نہیں بگڑتا اگر وہ خود راہ راست پر ہوں، مولانا مودودی نے تفہیم القرآن میں تشریح کی کہ اس آیت کا ہر گز یہ منشاء نہیں ہے کہ انسان بس اپنی نجات کی فکر کرے دوسروں کی اصلاح کی فکر نہ کرے۔ حضرت ابوبکر  نے ایک خطبہ میں اس کی تشریح کرکے فرمایا تھا ”لوگو تم اس آیت کو پڑھتے ہو اور اس کی غلط تاویل کرتے ہو میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جب لوگوں کا یہ حال ہو جائے کہ وہ برائی کو دیکھیں اور اسے بدلنے کی کوشش نہ کریں، ظالم کو ظلم کرتے ہوئے پائیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو بعید نہیں کہ اللہ اپنے عذاب میں سب کو لپیٹ لے، خدا کی قسم تم پر لازم ہے کہ بھلائی کا حکم دو اور برائی سے روکو ورنہ اللہ تم پر ایسے لوگوں کو مسلط کردے گا جو تم میں سب سے بدتر ہوں گے اور وہ تم کو سخت تکالیف دیں گے پھر تمہارے نیک لوگ خدا سے دعا مانگیں گے مگر وہ قبول نہ ہو گی۔ آج کل بالکل یہی ہورہا ہے اور ہم عذاب الٰہی کے شکار ہیں۔
میں ہر پاکستانی سے خواہ وہ مزدور ہو ،سبزی فروش ،گوشت فروش ہو یا بڑی فیکٹریوں کا مالک ہو درخواست کرتا ہوں کہ خدا کے واسطے اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور انتباہ پر غور کرو اور اپنے اعمال وکردار کی اصلاح کرو ،یاد رکھو اللہ کا عذاب بہت ہی سخت وتکلیف دہ ہوگا اور کوئی گناہ گار اس کی گرفت سے نہیں بچ سکے گا ۔یاد رکھو اللہ تعالیٰ نے ہم سب کو صاف صاف الفاظ میں (سورہ ابراہیم ) یوں انتباہ کیا ہے ”اور تم یہ گمان مت کرو کہ اللہ ان کاموں سے بے خبر ہے جو ظالم (بدکردار) لوگ کرتے ہیں اللہ نے انہیں صرف اس دن (یعنی یوم حشر) تک مہلت دے رکھی ہے جس روز ان کی آنکھیں خوف سے پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی“۔ اے پاکستانیوں اب بھی وقت ہے کہ توبہ استغفار کرکے سیدھی راہ اختیار کرلو ورنہ بھیانک اور سخت تکلیف دہ عذاب کے لئے تیار ہو جاؤ۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: