طالبان سے مذاکرات

چند ماہ پیشتر اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں محترم مولانا فضل الرحمن صاحب نے آل پارٹیز کنونشن کا بندوبست کیا اور ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں کو شرکت کی دعوت دی۔ ان میں نمایاں مولانا فضل الرحمن، مولانا عطاء الرحمن،سید منور حسن، میاں نواز شریف، مخدوم امین فہیم اور بڑی تعداد مشہور مذہبی و سیاسی رہنماؤں کی تھی۔ مولانا فضل الرحمن کی دعوت پر میں نے بھی اس میں شرکت کی تھی۔ قبائلیوں کے ایک جرگے نے بھی اس میں حصہ لیا تھا اور سب سے پہلے مولانا عطاء الرحمن صاحب کے خوش آمدیدی کلمات اور مولانا فضل الرحمن صاحب کے استقبالیہ اور مقاصدی کلمات کے بعد مجھے خطاب کا موقع دیا گیا ۔ یہ بہت خوش آئند اقدام تھا اور قبائلی عمائدین نے اپنی مشکلات و مسائل اور جدوجہد کی وجوہات بتائی تھیں۔ بعد میں ایک بڑا جرگہ پشاور میں گورنر جناب بیرسٹر مسعود کوثر کی صدارت میں ہوا تھا کہ بات کو آگے بڑھایا جائے اور افہام و تفہیم کے ذریعہ وزیرستان میں امن و امان قائم کیا جائے۔
قبائلی عمائدین اور اپنے مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کا تقریباً ایک ہی نظریہ تھا کہ ہمیں (مشرف نے) جبراً امریکی جنگ میں جھونک دیا ہے اور اس کے نتیجے میں نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان کا امن بھی تباہ ہوگیا ہے اور ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بے گناہ مرد، عورتیں اور

بچے شہید ہوگئے اور یہ سب کچھ افغانستان پر جھوٹے الزام اور ایک بزدل فوجی ڈکٹیٹر کا ایک فون پر قدم بوس ہوجانے کی وجہ سے ہوا۔ اس نے اس بزدلانہ اقدام کو جائز قرار دینے کی لاتعداد وجوہات بتائیں مگر اس کی ایک ہی وجہ یہ تھی کہ یہ اس وقت پوری دنیا میں دھتکارا جارہا تھااور اس اقدام سے امریکیوں اور مغربی ممالک کی خوشنودی حاصل کرکے یہ ان کا مددگار بن گیا، اس اقدام نے ہمارے ملک کو تباہ کردیا۔
میں نے کافی عرصہ پیشتر اپنے ایک کالم میں اس مسئلے پر تفصیلی تبصرہ کیا تھا اور ان لوگوں کی کم عقلی پر افسوس کیا تھا جو روز یہ رٹ لگا رہے تھے کہ پہلے ہتھیار ڈالو اور پھر بات کرو۔ میں نے بتایا تھا کہ قبائلیوں اور پٹھانوں سے یہ کہنا اس بات کے مترادف ہے کہ اپنے پورے کپڑے اُتار کر ہمارے سامنے کھڑے ہوجاؤ اور پھر ہمارے حکم اور ہدایات پر عمل کرو۔ یہ غیّور اور بہادر قوم ہے اور ان کی تاریخ سخت جدوجہد اور اپنے علاقے کی آزادی اور خودمختاری قائم رکھنے کیلئے کامیاب جنگوں کے سنہری واقعات سے بھری پڑی ہے۔ میرے عزیز دوست، سابق سفیر عزیز احمد خان صاحب نے ایک روز بتایا تھا کہ ”پٹھان اس وقت پُرسکون ہوتا ہے جب وہ جنگ کررہا ہوتا ہے“۔ جس طرح بھوپال میں کہاوت تھی کہ وہاں بچے پہلے پیراکی سیکھتے ہیں اور پھر چلنا (شہر میں پانچ بڑے تالاب تھے) اسی طرح قبائلی بچہ گولی کی آواز پہلے اور اذان کی آواز بعد میں سنتا ہے۔ یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی ہمارے ناسمجھ حکمراں طبقے اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ یہ پہلے اپنے کپڑے اتاریں (یعنی ہتھیار ان کے پیروں میں ڈال دیں) اور پھر امن کی بھیک مانگیں۔
حکومتی بیانات اور مطالبات کے علاوہ ہمارے صحافی اور نام نہاد ماہرین دفاعی اُمور روز ہی یہ کہتے اور سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ جن لوگوں نے ہمارے 35 ،40 ہزار شہری اور فوجی ہلاک کئے ہیں ان سے کس طرح بات چیت یا مفاہمت کی جاسکتی ہے۔ اگر ان کی عمر اور حافظہ و معلومات ساتھ دیں تو ان کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ذرا دوسری جنگ عظیم کے واقعات، نقصانات، تباہی اور ہلاکتوں پر نظر ڈالیں، جرمنی ،جاپان اور اٹلی کی جانب سے شروع کردہ بھیانک جنگ کے نتیجے میں کم از کم ساڑھے پانچ کروڑ افراد ہلاک ہوئے، اس سے کئی گنا زیادہ زخمی اور اپاہچ ہوگئے، ان کی دشمنی اور ایک دوسرے سے نفرت و جارحیت تاریخ کے شرمناک اوراق ہیں۔ ایک طرف امریکہ، انگلستان، فرانس، روس تھے اور دوسری جانب جرمنی، اٹلی، جاپان تھے۔ لاکھوں ہندوستانی سپاہی اور افسران انگریزوں کے ساتھ لڑرہے تھے اور ہلاک ہو گئے تھے۔ میں نے یورپ میں وہ کھنڈرات دیکھے ہیں اور جاپان میں ایٹمی ہتھیاروں کی تباہی دیکھی ہے۔ لینن گراڈ میں لاکھوں افراد جرمن محاصرہ کے دوران بھوک سے ہلاک ہوگئے تھے۔ انہوں نے شہر کے تمام جانور جن میں بلی، کتے بھی شامل تھے کھانے کے بعد انسانی مردے تک کھائے تھے۔ امریکی فاسفورس بموں کے حملوں سے ٹوکیو شہر میں لاکھوں لوگ جل کر ہلاک ہوگئے تھے اور پھر ایٹمی حملوں میں تقریباً ڈھائی لاکھ انسان اس طرح جلے جیسے کلام مجید میں دوزخ کا نقشہ کھینچا جاتا ہے۔
میں نے یہ اندوہناک واقعات اس لئے بیان کئے ہیں کہ ان تمام بھیانک ہلاکتوں اور جنگ ریزی کے باوجود انگریزوں، امریکیوں، جرمنوں، فرانسیسیوں اور جاپانیوں نے کبھی ایک دوسرے سے ملنے یا دوستی کرنے سے یہ کہہ کر انکار نہیں کیا کہ تم قاتل ہو تم نے لاکھوں انسانوں کا خون بہایا ہے ہم تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتے ہیں ، تم اپنی فوج، سپاہی، ایئرفورس، نیوی کو تحلیل کردو۔ یہ قومیں اس وقت دنیا کی بہترین دوست ہیں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہیں۔ ایک دوسرے کے دفاع کے معاہدے کئے ہوئے ہیں۔ اگر اتنے بڑے دشمن، اتنی ہلاکتوں اور تباہیوں کے بعد بہترین دوست اور ایک دوسرے کے مددگار بن سکتے ہیں جبکہ ان کا تعلق مختلف قوموں اور تاریخ و ثقافتوں سے ہے تو پھر ہم کیوں اپنے بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر افہام و تفہیم سے اختلافات دور نہیں کر سکتے، ہم ایک ہی ملک کے باشندے ہیں، ایک ہی خدا، ایک ہی رسول، ایک ہی دین کے ماننے والے ہیں۔ اگر ان پر 35 ،40 ہزار ہلاکتوں کا الزام ہے تو ذرا یہ بھی تو معلوم کرو، تحقیق کرو کہ ان کے کتنے ہزار یا کتنے لاکھ بیگناہ ہماری اور امریکی جارحیت کا شکار ہوئے ہیں، ہم نے کبھی نہ ہی غیرملکی اور نہ ہی پاکستانی صحافیوں کو اس علاقہ میں جانے کی اجازت دی ہے۔ ہمارا ضمیر گناہگار ہے کہ ہم اپنی کارستانیوں کو دنیا کے اور اپنے عوام سے پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں۔ مشرف جو لعنت ہم پر تھونپ گیا ہے ہم نے اس کو بلا چوں و چرا اپنا لیا ہے۔ آپ خود ہی سوچئے ایک ایسی جنگ جس کا ہمارے ساتھ کوئی واسطہ نہ تھا، ہمارا تعلق نہ تھا جس سے نہ ہمیں فائدہ ہونے کی اُمید تھی جو اپنے ہی مسلمان بھائیوں، بہنوں، بچوں، بچیوں کے قتل عام کی شکل میں نکلا۔ آپ اگر رائے شماری کرائیں تو ملک کی کم از کم 80 فیصد آبادی اس جنگ اور اس جنگ میں حصہ لینے کے سخت خلاف ہے اس کے باوجود ہمارے آرمی چیف اس کو ہماری جنگ قرار دے رہے ہیں۔ ہمارے F-16 ، ہیلی گن شپس ہمارے اپنے ملک میں،ہمارے اپنے شہریوں پر آگ و تباہی برسا رہے ہیں اور ہمارے چند تجزیہ نگار اس کی حمایت میں زمین و آسمان سر پر اُٹھا رہے ہیں۔ آپ ہی سوچئے اگر یورپی ممالک پرانی تاریخ ، قتل و غارتگری کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے کے دشمن بنے رہتے تو آج ان کا کیا حال ہوتا۔ اگرچینی دوسری جنگ عظیم سے پہلے جاپانیوں کے بہیمانہ قتل و غارتگری کو لے کر بیٹھتے تو جاپان سے دوستانہ تعلقات نہ ہوتے۔ آپ کو علم ہونا چاہئے کہ جاپانیوں نے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں نہتے بیگناہ چینی شہریوں کو تلواروں سے قتل کرکے نیچے بڑے دریا میں پھینک دیا تھا اور چشم دید غیرملکی مبصرین نے کہا کہ انہوں نے تیرتی ہوئی لاشوں پر پیر رکھ کر اتنا بڑا اور گہرا دریا عبور کیا تھا۔ اسی طرح کورین شہریوں پر جاپانیوں کی قتل و غارتگری پڑھنے سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور ہمارے ”ذہین و فہیم “ تجزیہ نگار یہ بے سود خونی جنگ جاری رکھنے کا مشورہ دے رہے ہیں، ان کے سامنے ابھی شمالی آئرلینڈ میں وہاں کے عوام اور برطانوی شہریوں و فوجوں کی جنگ کی مثال ہے۔ گفت و شنید اور افہام و تفہیم سے یہ جنگ بند ہوئی اور انگلستان ایک سپر پاور ہو کر بھی لڑائی کے ذریعے یہ جنگ ختم نہ کرسکا۔ میں نے کافی عرصہ پیشتر ایک کالم میں کھل کر اجتماعی قبروں کے خطرے کا اظہار کیا تھاکہ ایسا وقت آنے والا ہے کہ طالبان مزاحمت کاروں کے دلوں سے پولیس، رینجرز اور آرمی کا خوف نکل جائے گا اور وہ ان پر حملے کریں گے اور ہلاک کریں گے اور اب یہی ہو رہا ہے۔ اب وہ خوفزدہ ہوکر بھاگتے نہیں ہیں بلکہ شہر میں ان کی گاڑیوں، آرمی کے قافلوں اور وزیروں پر حملے کرتے نہیں ڈرتے۔ یہی سلسلہ جاری رہا تو پھر ایران، عراق اور فرانس و روس کے خونریز انقلابات دہرائے جائیں گے۔
نئی حکومت بن گئی ہے۔ اس کے بننے سے پہلے ہی امریکہ نے اس کا ڈرون حملہ کرکے استقبال کیا۔ میاں نواز شریف نے کچھ تحفظات کا اظہار کیا اور خیبرپختونخوا کے نئے وزیر اعلیٰ جناب پرویز خٹک نے فوراً بیان داغ دیا کہ اگر ان کی حکومت مرکز میں ہوتی تو امریکہ کی جرأت نہ ہوتی۔ عمران خان نے نواز شریف صاحب سے تقاضا کیا ہے کہ وہ فوراً ڈرون حملوں کو روکنے کیلئے ان کو گرانے کا حکم دیں۔ دیکھئے ایسے نازک، سنجیدہ معاملات میں جذباتی بیانات کام نہیں دیتے۔ اگر آپ نواز شریف سے ڈرون گرانے کی بات کررہے ہیں تو وہ کام جو آپ کی قوت میں ہے پہلے وہ کر کے دکھائیے یعنی KPK سے کسی امریکی کنٹینر کو افغانستان نہ جانے دیں۔ یہ ڈرونوں سے زیادہ تباہی کا ذریعہ مہیا کرسکتے ہیں، ان میں ہتھیار، ڈرونوں کو اُڑانے کا فیول وغیرہ جاتا ہے۔ دیکھئے ایسی قوم جس میں اتحاد نہ ہو، انتشار کا شکار ہو، آپس میں ہی لڑ رہی ہو اس کو کوئی بھی اہمیت نہیں دیتا اور ہر گزرنے والا لات مارتا ہے۔ آج تک امریکی حکومت کی ایران یا شمالی کوریا پر ڈرون اُڑانے یا حملے کرنے کی کیوں جرأت نہ ہوئی، اس لئے کہ وہ متحد، غیّور اور بہادر قومیں ہیں اور اپنی عزّت و وقار اور خودمختاری کی حفاظت کرنا جانتی ہیں وہ بکے ہوئے، غدّار، ضمیر فروشوں کا جمگھٹا نہیں ہیں۔ جب تک قوم متحد نہ ہوگی دوسرے ممالک ہماری عزّت نہیں کریں گے۔
میاں نواز شریف صاحب یہ بہت ہی سنگین مسئلہ ہے آپ سے مودبانہ عرض ہے کہ فوراً ایک کمیٹی تشکیل دے دیجئے جس میں گورنر انجینئرشوکت اللہ خان (ان کو عہدہ پر برقرار رکھئے کہ یہ اصلی قبائلی ہیں اور ان لوگوں سے واقف ہیں)، جناب رحیم اللہ یوسف زئی، جناب سلیم صافی، مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق، بریگیڈیر محمود شاہ، سابق سفراء عزیز احمد خان اور رستم مہمند اور فوج کے کسی نمائندے کو شامل کرلیں۔ جب یہ گراؤنڈ ورک کرلیں تو پھر آپ ایک فائنل سیشن کی صدارت کرکے اس کو حتمی شکل دے دیں، یہی واحد حل ہے ورنہ ہمارا ملک تباہ ہوجائے گا نہ غیرملکی سرمایہ کاری ہوگی اور نہ غیرملکی یہاں آئیں گے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: