اَیاز قدر خودبشناس

الیکشن ہوگئے، نتائج کا اعلان ہوگیا اور حسب معمول دھاندلی کی شکایات کے بعد معاملہ ٹھنڈا ہوجائے گا۔ چند دن کے اندر نئی حکومتیں اقتدار سنبھال لیں گی، عوام کی توقعات عمودی طور پر اوپر جائیں گی پھر آہستہ آہستہ نشیبی راہ اختیار کریں گی اور حکومتوں اور حکمرانوں پر لعن طعن شروع ہو جائے گی۔ یہ سلسلہ کتنی دیر چلتا ہے خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ سیاست میں سیاسی پنڈتوں کی پیشگوئیاں عموماً غلط ثابت ہوتی ہیں کیونکہ یہ فزکس یا میتھیمٹکس کے اصول نہیں ہوتے۔ لیکن آج میں نہ ہی سیاست اور نہ ہی اس بارے میں کسی پیشگوئی کی جسارت کررہا ہوں۔ اس وقت الیکشن کے بعد بہت ہی اہم معاملہ مشرف کے مقدمات اور اس کی حالت زار کا ہے۔ آج اس پر کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔
”اَیاز قدر خودبشناس“ فارسی کا ایک مختصر فقرہ ہے اس کے معنی ہیں اَیاز (محمود غزنوی کا غلام) اپنی حیثیت پہچان۔ یعنی حد سے نہ گزر چونکہ تُو غلام ہے۔ اس میں سمجھنے والوں کے لئے ایک بڑی نصیحت ہے جسے وہ اگر اپنی زندگی میں کام میں لائیں تو بہت استفادہ کرسکتے ہیں۔ اسی طرح ایک دیسی کہاوت ہے کہ بارہ برس انسان کی بادشاہی یا فقیری کی عادت نہیں جاتی۔ کہا جاتا ہے کہ جب اورنگزیب نے اپنے باپ شاہجہاں کو قلعہ میں نظر بند کر دیا تو کچھ عرصہ بعد اس سے پوچھا کہ وقت گزاری کے لئے آپ کو کونسا مشغلہ پسند

ہے۔ شاہجہاں نے کہا میرے پاس طلباء بھیج دو میں ان کو پڑھایا کروں گا اور وقت گزارا کروں گا۔ اورنگزیب نے طنزیہ کہا کہ لگتا ہے کہ ابھی تک آپ کو حکومت کرنے کی عادت نہیں گئی۔ یہ سب باتیں پرویز مشرف پر صادق آتی ہیں جو اپنے غریبانہ بچپن کو بھول کر آٹھ سال کی حکومت کے نشے میں ایسا دُھت ہوا کہ اپنی حیثیت بھول گیا۔ اُردو زبان کا ایک مشہور شعر ہے جس کو ضرب المثل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
اسی باعث تو قتل عاشقاں سے منع کرتے تھے
اکیلے پھر رہے ہو یوسف بے کارواں ہوکر
اس شعر کا پہلا مصرعہ اور دوسرے مصرعہ کا نصف حصّہ پرویز مشرف پر صادق آتا ہے ۔ لیکن حضرت یوسف  کی تشبیہ ایک بدکردار شخص کو نہیں دی جاسکتی۔ شعراء، فلسفی، مفکّر اور خیرخواہ انسان کو اچھی نصیحتیں کرتے رہتے ہیں لیکن جب انسان کی عقل پر پتھر پڑ جائیں تو وہ ایسی نصیحتوں کو نظر انداز کرتا ہے۔ فارسی میں کہاوت ہے ”چرا کارے کند عاقل کہ بعد آید پشیمانی“۔ یعنی عقلمند وہ کام نہیں کرتا جس پر بعد میں پشیمانی ہو“۔ ہندی اور سنسکرت کے ماہر، عالم اور فلسفی تلسی داس نے کہا ہے کہ ”پربھوجی داروں دُکھ دینی۔ پہلے باکی مت ہر لینی“۔ یعنی بھگوان جس کو بڑا عذاب دیتا ہے وہ پہلے اس کی عقل سلب کرلیتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ غلط فیصلہ انسان کی عقل کی کمی سے ہوتا ہے، اس کا سبب انسان کی خود خباثت، تکبّر اور ظلم کی عادت ہے۔ جناب ایس ایم ظفر، پیر صاحب پگاڑا، چوہدری شجاعت حسین نے مشرف کو مخلصانہ مشورہ دیا تھا کہ پاکستان واپس نہ آؤ ورنہ عدالت سے عدالت مارے مارے پھرو گے اور جیل میں زندگی گزرے گی مگر اس ڈکٹیٹر کو زعم تھا کہ عوام اس کے ساتھ ہیں، فوج اس کے ساتھ ہے مگر آنے پر اس غلط فہمی کا بھرم کھل گیا، ساتھی بھاگ گئے اور ان لوگوں کا غصّہ و زخم تازہ ہوگئے اور وہ اب اس کے خون کے پیاسے ہوگئے ہیں۔ بے نظیر قتل کا معاملہ، لال مسجد میں بچوں کو فاسفورس بموں سے زندہ جلانا، چیف جسٹس اور دوسرے ججوں کو نظر بند کرنا اور ان کی بے عزتی کرنا اور نواب اکبر بگٹی کا بے رحمانہ قتل اب یہ سب زندہ ہوگئے ہیں۔ مگر اس کی بے حیائی اور بے شرمی دیکھئے کہ ہرچیز، ہر گناہ، ہر جرم سے انکار کرتا ہے اور دوسروں پر الزام ڈالتا ہے۔ فارسی کی کہاوت اس پر صادق آتی ہے، ”عذر گناہ بدتر از گناہ“ یعنی گناہ سے انکار کئے ہوئے گناہ سے زیادہ قابل مذمت ہے۔ چیف جسٹس کے ساتھ بدتمیزی اور نظر بندی کے بارے میں کہتا ہے کہ شوکت عزیز نے ریفرنس (اسٹیل مل کی رشوت چھپانے کے لئے) بھیجا تھا کہ ان کو ہٹا دیں، میں نے دستور کے مطابق آگے بھیج دیا۔ یہ پوری قوم اور دنیا کو جاہل و بیوقوف سمجھتا ہے ۔ اگر بات اتنی سیدھی تھی تو پھر چیف جسٹس کو اپنے دفتر میں کئی جرنیلوں کی موجودگی میں پانچ گھنٹے کیوں بٹھا کر دباؤ ڈالا، ڈرایا دھمکایا اور استعفیٰ مانگا۔ جب شوکت عزیز کا خط آیا تھا، کوریئر کے ذریعہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج دیتے اور چُپ بیٹھ جاتے۔ نواز شریف کے ساتھ جو سلوک کیا وہ ناقابل معافی جرم ہے۔ واپس آنے پر سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرکے واپس بھیج دینا بھی ناقابل معافی جرم ہے۔
دماغ میں ڈکٹیٹرانہ حکومت کے خنّاس نے یہ زعم دے دیا کہ وہ سپریم کورٹ کو درخواست دیتے وقت یہ بھول گیا کہ یہ کوئی فرمان جاری نہیں کررہا اور جس کے سامنے پیشی ہے وہ ان کے مقدمہ کا فاضل جج ہے اور ان کے احکامات واجب التعمیل ہیں۔ اوّل تو یہ کہ سنگین جرائم کے ارتکاب کے بعد کئی وارنٹ جاری ہونے اور اشتہاری مجرم قرار دیئے جانے کے بعد واپس اُسی ملک میں آنا بہادری نہیں جہالت ہے۔ اب یہ شخص نہ ہی واپس جاسکتا ہے اور نہ ہی اپنے حق میں فیصلے کراسکتا ہے۔ ہر کیس الگ الگ عدالت اور الگ الگ جگہ چلے گا اور مجرموں کی طرح اس کو پولیس لئے لئے پھرے گی، آئین و قانون کی پامالی کرنے والا، ججوں کو معزول اور نظر بند کرنے والا اب ہر کیس میں انہی ججوں کے سامنے ملزم کی طرح مارا مارا پھر رہا ہے۔ عبرت کا مقام ہے کہ مجرموں کو این آر او جیسے بدنام زمانہ اور غیر قانونی قانون بنانے والا اب عدلیہ کے رحم و کرم پر ہے۔ اگر یہ شخص چند اور برس پاکستان نہیں آتا تو شاید حالات ٹھنڈے ہوجاتے۔ اب ملک سے غداری کا مقدمہ (دستور توڑنے) بہت اہم ہے۔ عبوری حکومت نے لاتعداد غیر اختیاری، غیرقانونی کام کر ڈالے مگر جب عدالت نے کہا کہ مشرف کے خلاف غداری کے مقدمہ کی درخواست دیں تو وزیراعظم ایک سابق جج ہوتے ہوئے بہانہ بازی کرکے پیچھے ہٹ گئے کہ عبوری حکومت کو اس کا اِختیار نہیں ہے۔ اب میاں نواز شریف پر بہت بڑی دستوری اور اخلاقی ذمہ داری آپڑی ہے اگر انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا تو وہ خود دستور کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں گے۔ عدلیہ کو اپنے فیصلے کرنے دیں، مقدمہ چلنے دیں اور بعد میں اگر (غیرملکیوں کے دباؤ میں) چاہیں تو صدر سے سزائے موت کو عمر قید میں بدلوا دیں اور اگر عمر قید ہے تو اس کو 20 سال میں تبدیل کر دیں۔ مگر سپریم کورٹ کو غداری کے مقدمہ کی اجازت نہ دینا یہ ملک، عوام اور دستور سے غداری ہوگی اور پھر بعد میں نواز شریف کو نہ ہی کبھی یہ قوم اور نہ ہی کبھی یہ عدالت معاف کرے گی۔ غداری کے فعل کو حکومت یا انتظامیہ معاف نہیں کر سکتی اس کا فیصلہ عدلیہ ہی کرتی ہے اور اس جرم کے فیصلہ کی بھی سپریم کورٹ ہی ذمہ دار ہے۔
عدلیہ نے مشرف کے ساتھ یہ مہربانی کی کہ اس کی خواہش کے مطابق ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرلی اور اس کے ملک میں واپس آنے پر کوئی پابندی نہیں لگائی اور نہ ہی رکاوٹ پیدا کی اگرچہ اس نے شریف خاندان پر بہت ظلم ڈھائے تھے لیکن میاں نواز شریف نے اس کی آمد پر کسی نازیبا بات کہنے سے گریز کیا اور کہا کہ وہ پاکستانی شہری ہیں اُنہیں آنے کا حق حاصل ہے۔ اس پر انہیں عمران خان کے طعنے بھی سننا پڑے کہ اب شاید ان دونوں کے درمیان کوئی خفیہ معاہدہ ہو گیا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اب مشرف کے پاس وہ کونسا ہتھیار ہے جس کے لئے اس سے ڈیل کرنے کی ضرورت پیش آئے وہ تو اب عدلیہ اور قانون کے شکنجے میں پھنسا ہوا ہے۔ اُدھر مشرف نے کھوئے ہوئے اقتدار کے دوبارہ حصول کی خاطر اپنے آرام ، عیش و عشرت کی غیر ملکی زندگی چھوڑ کر بقول نظیر اکبر آبادی حرص و ہوس کی خاطر دیس بدیس مارا مارا پھر رہا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے اس کے تمام ساتھی سوائے چند کے، اب نظر نہیں آرہے۔ سب سے بُرا قدرتی اِنتقام اس کے لئے یہی ہے کہ وہ اب ذلیل و خوار ہو کر باعث عبرت بن گیا ہے جس کی صرف ابھی تو ابتدا ہی ہوئی ہے آگے دیکھئے کیا ہوتا ہے؟ ایسے حالات میں توبہ اِستغفار سے اللہ تعالیٰ مشکلات سے نجات دیتا ہے مگر یہ ناچنے گانے، پینے پلانے والا شخص ایسی باتوں کا کہاں قائل ہے۔ اگر قانون نے اپنا راستہ اختیار کیا تو اس کا مستقبل تاریک ہے، پھانسی یا عمر قید ہی نظر آرہی ہے۔ ممکن ہے کہ امریکی اور سعودی مداخلت سے ان چیزوں سے بچ جائے مگر دستوری اور قانونی تقاضا یہ ہے کہ پہلے پوری کارروائی مکمل کی جائے، پوری سزا دی جائے اور پھر ایسی باتوں پر غور کیا جائے۔ میاں نواز شریف کو بھی تو اس نے دہشت گرد قرار دلوا کر، ہتھکڑیاں لگوا کر عمر قید کی سزا دی تھی۔ اگر اس کو ریلیف دیا جائے تو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ملک سے جلاوطن کردیا جائے۔ مشرف نے اگر کلام مجید ترجمہ سے پڑھا ہوتا تو اس کو علم ہوتا کہ سورہ نحل میں اللہ تعالیٰ نے تکبّر کرنے والوں سے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور سورہ زمر میں ان کا ٹھکانہ جہنم قرار دیا ہے اور سورہ مومن میں فرمایا کہ وہ ہر تکبر کرنے والے کے قلب میں مہر لگا دیتا ہے۔
مشرف شاید سوچ رہا ہو کہ یہ مصیبت مجھ پر کیوں آپڑی ہے میں نے تو ”بہت اچھے“ کام کئے ہیں تو اس کو سورہ شوریٰ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان یاد دلاتا ہوں کہ ”جو مصیبت بھی تمہیں پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہی ہاتھوں کے کئے ہوئے گناہوں کی وجہ سے پہنچتی ہے اور اللہ تعالیٰ تو تمہارے بہت سے گناہوں کو درگزر کردیتا ہے“۔ مشرف نے اپنے قول و عمل میں جس منافقت کا اظہار کیا ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے لئے دردناک عذاب اور جہنم کا ٹھکانا مقرر کیا ہے اور مشرف کے لئے سورہ ابراہیم میں اللہ تعالیٰ کا بیان کردہ فرمان ہی کافی ہے ”اور تم یہ گمان مت کرنا کہ اللہ ان کاموں سے غافل ہے جو ظالم لوگ کرتے ہیں۔ اللہ نے انہیں صرف اس دن تک مہلت دے رکھی ہے جس روز ان کی آنکھیں دہشت و خوف سے پھٹی رہ جائیں گی“۔ ٹی وی پر ہم جب مشرف کو عدالت لے جاتے ہوئے اور پیش ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں تو یہی منظر نظر آتا ہے۔ اس کی آنکھیں خوف سے پھٹی ہوتی ہیں اور یہ گھبرا گھبرا کر چاروں طرف خوف سے دیکھتا نظر آتا ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: