AD Shahid Today's Columns

بلدیاتی نظام سے خوفزدہ حکومت از اے ڈی شاہد ( چنتا )

AD Shahid
Written by AD Shahid

جمہوریت کی دعویدار سیاسی جماعتوں کے قول و فعل میں کتنا تضاد ہے عدالت عظمی کے بلدیاتی اداروں کی بحالی کے فیصلے کے بعد سب کچھ عیاں ہوگیا۔ بلدیاتی نظام خالصتا عوامی اور جمہوری نظام ہے جو نچلی سطح پر عوام اور سماج کے ساتھ جڑا ہوتا ہے اور کامیاب تبدیلی وہ ہوتی ہے جو نیچے سے اوپر تک جائے نہ کہ اوپر سے نچلی سطح پر منتقل ہو۔ وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان میں آپ نے ” جمہوریت بچاؤ جمہوریت بچاؤ ” کا نعرہ تو بہت سنا ہوگا۔ جب بھی کسی برسر اقتدار سیاسی پارٹی کا اقتدار چھن جاتا ہے تو اسے جمہوریت کی فکر لاحق ہو جاتی ہے مگر بدقسمتی سے آج تک جمہور کو بچانے کا کسی نے کبھی نہیں سوچا جن کے ووٹ کی وجہ سے اسی جمہوریت کی رگوں میں خون دوڑتا ہے اور یہ پھلتی پھولتی ہے۔ جمہور کی فکر کرنے والے راہنما کو ہی جمہوریت کی فکر لاحق ہوتی ہے۔ آپ بلدیاتی نظام کو جمہوریت کی روح کہہ سکتے ہیں ۔ ملک کے معروف کالم نگار دانشور محترم اکرم عامر سے حالیہ سپریم کورٹ کے پنجاب میں بلدیاتی نظام کی بحالی کے فیصلے پر بہت دیر تک سیر حاصل گفتگو ہوئی تو کئی انکشافات کئی راز افشاں ہوئے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تواکثر ممالک کی ترقی کا راز ان ممالک میں بلدیاتی اداروں کے تحت اختیارات کا عوام میں نچلی سطح پر ہونا ہے، برطانیہ، امریکہ، فرانس، ملائیشیا، اٹلی، جاپان، ترکی، تائیوان، سمیت دنیا کے درجنوں ممالک کی سیاست کا بغور جائزہ لیا جائے تو ان ممالک کی ترقی میں بلدیاتی اداروں کے نمائندوں کا عوامی مسائل حل کرنے میں اہم کردار ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان ممالک کے سربراہان یا بیوروکریسی ذہنی شعور نہیں رکھتی؟ جنہوں نے بلدیاتی اداروں کے ذریعے اختیارات عوامی سطح پر منتقل کئے ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے ان ترقی یافتہ ممالک کی بیورکریسی اور سیاستدانوں کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ اختیارات عوامی سطح پر منتقل کئے بغیر نہ تو ملک ترقی کرسکتا ہے اور نہ ہی ملک کے باسیوں کوصاف ستھرا ماحول فراہم کیا جاسکتا ہے جس سے ملک کا صحت مند معاشرہ تشکیل پاسکے اور نہ ہی بنیادی مسائل عوام کی دہلیز پر حل ہو سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں جنرل پرویز مشرف کے عسکری دور میں پرانے بلدیاتی نظام کو تبدیل کرکے ترکی کی طرز کا بلدیاتی نظام پاکستان میں متعارف کرایا گیا تھا اور اختیارات عوامی سطح پر منتقل کئے گئے تھے۔ اختیارات عوامی سطح پر منتقل ہونے سے جہاں شہری اور دیہی علاقوں کے مکینوں کو بنیادی سہولیات ان کو گھر کی دہلیز پر ملنا شروع ہوگئی تھیں جس سے نا صرف تھانہ کی سطح پر اندراج مقدمات میں کمی واقعہ ہوئی بلکہ عوام کی اکثریت کے مسائل انکے علاقے کے بلدیاتی نمائندے ہی نمٹاتے رہے۔ پرویز مشرف دور میں متعارف کروائے گئے بلدیاتی نظام سے عوام کی اکثریت بیوروکریسی اور ملک کے بڑے بڑے سیاستدانوں سے دور ہوگئی تھی جس کی وجہ سے پرویز مشرف کی حکومت کے خاتمے کہ بعد آنے والی حکومتوں نے پرویز مشرف دور کے بلدیاتی نظام میں اپنی ضرورت کے مطابق معمولی تبدیلی بھی کی تاکہ بڑے سیاست دانوں کے ویران ڈیرے آباد ہوپائیں۔ اس میں بیوروکریسی کا بھی اہم کردار تھا۔ مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں پنجاب میں پانچ سال کیلئے 2015 میں منتخب ہوکر 2017 میں حلف اٹھا کربرسر اقتدار آنے والے بلدیاتی ادارے، میٹروپولیثن کارپوریشز، میونسپل کارپوریشنز،تحصیل میونسپل کمیٹیز، چیئر مین ضلع کونسلز و ان کے نائبین و نمائندوں جن کی اکثریت مسلم لیگ ن سے تعلق رکھتی ہے تبدیلی کی دعویدار حکومت نے یک جنبش قلم ایک آرڈینس کے ذریعے پنجاب کے بلدیاتی اداروں کے 58 ہزار عوامی نمائندگان کو اس وقت گھربھجوا دیا جب ان کے دور حکومت کے دوسال باقی تھے۔ پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو تحلیل کرنے کی وجہ صوبہ کے اکثریتی بلدیاتی اداروں کے سر براہان کی حکومت مخالف جماعت پاکستان مسلم ن سے وابستگی تھی۔ بلدیاتی نظام کو تحلیل کرکے ایڈمنسٹریٹرز مقرر کئے گئے، اس طرح ایڈمنسٹریٹرز کے کندھوں پر سرکاری عہدہ کے ساتھ بلدیاتی اداروں کی سربراہی کا بوجھ ڈال کر انہیں دو بیڑیوں کا سوار بنا دیا گیا، اور اس طرح پنجاب کی عوام کی اکثریت کاک بال بن کر رہ گئی مگر سندھ،خیبرپختون خواہ،بلوچستان کے بلدیاتی اداروں کے بلدیاتی نمائندوں نے اپنے عہدہ کے دورانیہ کے پانچ سال مکمل کئے اور اپنے صوبوں میں نہ صرف عوام کو ریلیف دیا بلکہ بڑے بڑے میگا پراجیکٹس پر کام بھی کروایا۔ پنجاب کے بلدیاتی ادارے محض اسلئے تحلیل کر دیئے گئے کہ ان کے سربراہان کی اکثریت نے سیاسی ذرائع کے مطابق اپنی سیاسی جماعت سے وفاداریاں بدلنے سے انکار کر دیا تھا۔ بات یہاں ہی ختم نہیں ہوجاتی بزدار سرکار کی ہدایت پر بلدیاتی اداروں کے ذریعے شروع اکثریتی اضلاع میں ترقیاتی کام بھی روک دئیے گئے اورہر بلدیاتی ادارے میں اس علاقے کے پی ٹی آئی کے حامیوں نے ڈیرے ڈال لئے اور پھر پنجاب کے بڑے چھوٹے شہروں کا جو برا حال ہوا وہ تادم تحریر موجود ہے۔ بڑے چھوٹے شہر گندگی سے اٹے پڑے ہیں، پینے کے صاف پانی کے لئے لگائے فلٹریشن پلانٹس کی پنجاب میں81فیصد تعداد خراب پڑی ہے،اورعوام پینے کے صاف پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں، مضر صحت پانی پینے سے پنجاب میں پیٹ اور انتڑیوں کے مریضوں کی تعداد میں طبی ماہرین کے مطابق 2019سے2020تک 52 فیصد اضافہ ہوا ہے، اسی طرح کسی شہری کو اپنی کوئی دستاویز جو پہلے بلدیاتی نمائندے ان کے گھر کی دہلیز پر تصدیق کر دیتے تھے وہ دستاویزات کی تصدیق کرانے کیلئے بھی اب عوام کو سرکاری ملازمین کا رخ کرنا پڑ رہا ہے جبکہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ سرکاری افسران کئی کئی دن اپنے دفاتر میں دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے مسائل کے حل کیلئے سائلین سرکاری دفاتر کے چکر لگا لگا کر تنگ آ جاتے ہیں۔
پنجاب کے بلدیاتی اداروں کے 58ہزار عہدیداران کی جنہیں وزیر اعظم کی ہدایت پر ایک آرڈینس کے تحت یک جنبش قلم تحلیل کردیا گیا،جن کے عہدہ کی مدت کے ابھی دوسال باقی تھے تو مسلم لیگ ن کے سے تعلق رکھنے والے بلدیاتی اداروں کے معزول کردئیے گئے کئی سربراہان جن میں میٹروپولیثین کارپوریشن سرگودھا کے مئیر ملک اسلم نوید جس کا شمار میاں نواز شریف کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے، سمیت دیگر کئی بلدیاتی اداروں کے سربراہان کو گرفتار کرکے جیل یاترا کرائی گئی، اسلم نوید سمیت کچھ عدالتوں سے ضمانتیں ہونے پر رہا ہوچکے ہیں اور کچھ ابھی بھی جیلوں میں ہیں جن کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک یہ ہی نہیں پتہ کہ ان کا جرم کیا ہے، اور وہ کس جرم کی سزا بھگت رہے ہیں؟
سو اس کے باجود مئیرلاہور کرنل ر مبشر جاوید مئیر سرگودھا ملک اسلم نوید،چیرمین ضلع کونسل ٹوبہ ٹیک سنگھ فوزیہ خالد وڈائچ، میئر بہاولپورعقیل نجم ہاشمی،چیئر مین ڈسٹرکٹ کونسل ناروال احمد اقبال،مئیر ساہیوال اسدعلی خان،میئر فیصل آباد ملک عبدلرزاق، چیئرمین ضلع کونسل قصور رانا سکندر حیات،چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل لودھراں راجن سلطان، چیئرمین ضلع کونسل گجرانوالہ مظہر قیوم ناہرہ، یوتھ پنجاب کے صدر ملک صدام حسین، چیئرمین ضلع کونسل پاکپتن میاں اسلم سکھیرا، وائس چیئرمین میاں اسرار ظفر بودلہ سمیت دیگر بلدیاتی اداروں کے
سبکدوش ہونے والے عہدیداران نے اپنے حقوق کیلئے عدالت عالیہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا،سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومت، الیکشن کمیشن آف پاکستان،اور بلدیاتی اداروں کے عدالت سے رجوع کرنے والے بلدیاتی نمائندوں کے وکلا کے کئی روز تک دلائل سننے کے بعد 25مارچ 2021 کو پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو بحال کرنے کا حکم دے دیا،اور حکومت کے جاری کردہ آرڈینس جس کے تحت پنجاب کے بلدیاتی ادارے معطل ہوئے تھے کو بھی معطل کر دیا،اس طرح وزیر اعظم کے حکم پر بیک جنبش قلم بلدیاتی عہدوں سے فارغ کئے گئے 58ہزار بلدیاتی نمائندوں اور ان کے حامی ووٹرز،سپوٹرز،حلقہ جات کے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، اور انہیں امید بندھ گئی کہ اب پھر ان کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہونگے، مگر توجہ طلب بات یہ ہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود بلدیاتی اداروں کے ان سربراہان جن کا تعلق حکومت مخالف جماعت سے ہے کو بلدیاتی اداروں کے دفاتر دوبارہ سپرد کرنے سے انکار کردیا، اور بلدیاتی اداروں کے سربراہان کے دفاتر کو تالے بھی لگا دیئے،کئی شہروں میں تو بلدیاتی نمائندوں اور انتظامیہ میں معمولی نوعیت کے جھگڑوں کی اطلاعات بھی ملیں، بلدیاتی اداروں کی بحالی کی جنگ لڑنے والے قافلے کے ترجمان مئیر سرگودھا ملک اسلم نوید نے بتایا کہ پنجاب بھر کے بلدیاتی اداروں کے نمائندوں نے 3 جون کو اپنے اپنے علاقوں میں بلدیاتی اداروں کے باہر اور کھلے مقامات پر اجلاس کئے ہیں جن میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پنجاب کے بلدیاتی اداروں کے سربراہان و ممبران باقاعدہ سابقہ معمول کے مطابق ماہانہ اجلاس منعقد کریں گے اور ان اجلاسوں کی کاروائی اور اجلاسوں میں پاس ہونے والی عوامی فلاح بہبود کے منصوبوں کی سمری عملدرآمد کیلئے متعلقہ افسران کو بھجوائی جائے گی،ان پر عمل درآمد نہ کرنے والے افسران کے بارے میں عدالت عالیہ کو آگاہ کیا جائے گا، ملک اسلم نوید کا مزید کہنا ہے کہ پنجاب بھر میں بلدیاتی نمائندوں کو اجلاسوں سے روکنے کیلئے بزدار سرکار اور بیوروکریسی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے،جس سے پنجاب حکومت کی بدنیتی صاف ظاہر ہے،اس بنا پر بلدیاتی اداروں کے سربراہان اور نمائندگان کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست پر عدالت نے سیکرٹری بلدیات سمیت پنجاب کے دیگر اعلی حکام کو 24جون کو وضاحت کیلئے عدالت طلب کرلیا ہے۔ پنجاب بھر کے بلدیاتی نمائندے اپنے حقوق کے لئے ہر مقام پر اپنے جائز موقف کا دفاع کریں گے کیونکہ ماضی میں ملک کی سیاست میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی جس میں کسی حکومت کے سربراہ کے کہنے پر آرڈینس جاری کرکے بلدیاتی اداروں اور ان کے اتنی بڑی تعداد میں نمائندوں کے ساتھ ایسا ظالمانہ رویہ اپنا کر ان کا استحصال کیاگیا ہو،کیونکہ پنجاب کے بلدیاتی اداروں کے نمائندوں کی مدت ابھی دوسال باقی ہے جسے پورا کرنے کیلئے ہر فورم پر قانونی جنگ لڑیں گے، اور تمام بلدیاتی اداروں کے سربراہان اپنے اپنے اضلاع،تحصیلوں اور اداروں میں باقاعدہ حاضری بھی لگائیں گے، اس ضمن میں رکاوٹ پیدا کرنے والوں کے بارے بھی عدالت کو آگاہ کیا جائے گا،،اسطرح معزول ہونے سے بحال ہونے کے بعد یعنی 25 مارچ سے ابتک پنجاب کے بلدیاتی اداروں کے سربراہان اور نمائندے اپنی بقیہ دوسال کی مدد پوری کرنے کا عزم کرتے ہوئے ہر فورم پر قانونی جنگ لڑنے میں لگے ہوئے ہیں، وہ اس میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے، اس پر مزید بحث بھی کرنا مناسب نہیں کہ بلدیاتی اداروں کی بحالی کا فیصلہ ملک کی سب سے سپریم عدالت کا ہے تو پنجاب حکومت کی جانب سے ان احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے پر بلدیاتی اداروں کے سربراہان اور نمائندگان نے اپنے ساتھ ہونے والے پنجاب حکومت کے ناروا سلوک کے بارے
عدالت میں توہین عدالت کی رٹ دائر کر رکھی ہے، اس طرح بلدیاتی نمائندوں اور حکومت میں ایک بار پھر قانونی جنگ شروع ہو گئی ہے اس قانونی جنگ میں کون کامیاب ہوگا اس پر عدالت کے فیصلے سے قبل کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم پنجاب کے 58ہزار بلدیاتی نمائندوں اور پنجاب کے کروڑوں عوام ایک بار پھر عدالت کی طرف نظریں جمائے ہوئے فیصلے کے منتظر ہیں لیکن راقم یہ بات لکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا کہ پی ٹی آئی حکومت بھی پانچ سال کیلئے برسر اقتدار آئی ہے،اور اپوزیشن (پی ڈی ایم)جوکہ کپتان اور حکمرانوں کو گھر بھجوانے کیلئے تحریک چلارہی ہے،جس کے جواب میں کپتان اور اس کے کھلاڑی چلا چلا کر کہہ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت کو پانچ سال پورے نہ کرنے دئیے گئے تو ملک میں جمہوریت خطرے میں پڑ سکتی ہے، تو پنجاب کے بلدیاتی اداروں کے نمائندے بھی پانچ سال کیلئے منتخب ہوکر آئے ہیں ان کا کیا قصور ہے کہ انہیں پانچ سال پورے کرنے نہیں دئیے جارہے؟ جبکہ سندھ، بلوچستان،خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی اداروں کے نمائندوں نے اپنی پانچ سال مدت پوری کی۔ اگر پنجاب کے بلدیاتی نمائندوں کو بھی پانج سال مدت پوری کرنے دی جاتی تو نہ صرف موجودہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا مورال بلند ہوتا بلکہ عوام کی نظروں میں آپ کی حکومت اور جماعت کے ووٹ بینک اور عزت میں یقینا اضافہ ہوتا اور مقامی سطح پر حل ہونے والے مسائل کے لئے پنجاب کے لاکھوں عوام کو اتنا عرصہ سرکاری دفاتر میں کاک بال نہ بننا پڑتا۔
”اسیں مالک پنج دریاواں دے پر مکیاں نہ ترہائیاں”

About the author

AD Shahid

AD Shahid

Leave a Comment

%d bloggers like this: