Shafiq Awan Today's Columns

لاہوری رنگ باز از شفیق اعوان ( سرگوشیاں )

Written by Shafiq Awan

وطن عزیز کی مٹی لکھاریوں کے لیے بے حد زرخیز رہی ہے اور جب حالات حاضرہ پر لکھنا یا بولنا ہو تو سیاست اور سیاستدان سے اچھا موضوع اور کوئی نہیں ہوتا۔ لیکن مناسب دیکھ بھال اور آبیاری نہ ہونے کی وجہ یہ زمین غیر پیداواری سیاسی جڑی بوٹیوں سے اٹی پڑی ہے اور گوڈی نہ ہونے سے ان میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بلکہ دیکھا جاے تو ان غیر ضروری جڑی بوٹیوں نے ہمارے ادب کی زرخیز دھرتی کو دھند کی طرح ڈھک لیا ہے اور کوئی بھی ان کو تلف کرنے کو تیار نہیں۔

سیاستدانوں پر تنقید سب سے آسان کام ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ملک کی بگڑنے سنورنے کی پالیسیاں سیاستدان بناتے ہیں اور پھر معاشرے میں طاقت کے دوسرے ”سرچشموں“ کی نسبت ان میں تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ بھی ہوتا ہے اس لیے تختہ مشق بھی وہی بنتے ہیں۔ تیسری دنیا کے باقی ممالک کی طرح اپنے ملک میں سیاست پر سب سے زیادہ اسی لیے لکھا اور بولاجاتا ہے۔اخبارات کے صفحات دیکھ لیں یا 24 گھنٹے نیوز چینل کی نشریات سیاست کو زیر بحث لائے بغیر ان کی دال نہیں گلتی۔ میرا مشاہدہ ہے کہ معاشرے میں کسی خاص موضوع پر ضرورت سے زیادہ اس وقت لکھا اور بولا جاتا ہے جب فکشن سے ہٹ کر اصل زندگی میں اس کے کردار اس سے میل نہ کھاتے ہوں اور اس پر قابض اس کے فلسفے کے برعکس ہوں۔لکھاریوں کے اس موضوع پر تواتر سے لکھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس الجھی ڈور کا سرا مل نہیں پاتا۔ جس کی وجہ سے لکھاری بھی الجھن کا شکار ہوتا ہے اور قاری بھی. لکھاری اس الجھن کو سلجھانے میں لگا رہتا ہے کیونکہ جب وہ دیکھتا ہے کہ اصل زندگی میں سیاست کے کردار کتابوں میں بتائی گئی تعریف کے بالکل برعکس ہیں۔ لیکن یہ گتھی سلجھنے کے بجاے نہ سلجھنے والا گنجل بن جاتی ہے۔ لکھاری روز اسی گھسے پٹے موضوع پر مختلف زاویوں سے طبع آزمائی کر کے نشاندہی کرتا رہتا ہے کہ اپنے معامالات کو صحیح روش پر لے آئے لیکن بات بنتی نہیں۔ کیونکہ ہر کوئی آلودہ نظام سے مستفید ہوتا ہے اسی لیے کوئی بھی نظام کو تبدیل کرنے کے حق میں نہیں ہوتا اور لکھاری قلم پر قلم گھسیٹتا رہتا ہے۔ جب وہ ملک میں جمہوریت کے نام پر تجربات، عوام کے مینڈیٹ کی توہین، ہارس ٹریڈنگ، ووٹروں سے جھوٹے وعدے، خدمت کی بجاے اپنی تجوریاں بھرنے، مذہبی، معاشی و دیگر استحصال، سیاست میں فوج کی مداخلت، پیسے کی لوٹ مار، اقربا پروری جیسے ناسور دیکھ کر تلملاتا ہے ہے تو اس کا سارا غصہ کاغذ و قلم پر نکلتا ہے جس کی بعض اوقات اسے قیمت بھی ادا کرنی پڑتی ہے۔

میں بھی آپ کی طرح لفظ سیاست کا مطلب صرف اپنے وطن سے محبت، حلقہ انتخاب سے اعتماد، سچائی، خدمت اور اسرار حکومت سے متعلق ہی سمجھتا تھا۔ لیکن اب اس میں اتنی فرنچایزز کھل گئی ہیں کہ چاہے ان کا سیاست سے دور دور تک تعلق نہ اپنے اصل کام سے ہٹ کر ہردوسرا شخص اور تنظیم سر تا پا سیاست سے اٹی پڑی ہے۔ اور جو سیاست کر رہے ہیں وہ بھی اسکی تشریح سے کوسوں دور اپنے پیٹ کی تجوریاں بھرنے میں لگے ہیں جو عمرو عیار کی زنبیل کی طرح بھرنے کا نام ہی نہیں لیتی۔ جس کی وجہ سے لفظ سیاست منفی معنوں میں ایک ضرب المثل بن گیا ہے اور جب بھی کسی پر بد اعتمادی کا اظہار کرنا ہو تو اسے کہتے ہیں ”میرے ساتھ سیاست تو نہیں کررہے“۔ اور اس کے ذمہ دار بھی سیاستدان ہی ہیں۔

اسی طرح کی ایک اور منفی ضرب المثل ہے ”لاہوری رنگ باز“ اس کے بارے میں آگے چل کر بتاؤں گا کہ لاہوریوں کو رنگ باز کہنے کی وجہ تسمیہ کیا ہے۔ میں سیاست کو گالی نہیں کہوں گا کیونکہ ابھی اس خود غرضی کے پہاڑ میں رائی کے چند دانے ہیں اور چاہے وہ اقلیت میں ہی ہیں میں انہیں بددل نہیں کرنا چاہتا۔ کیونکہ بقول اقبال

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

مجھے امید ہے انہی رائی برابر بیجوں کو زرخیز زمین مل گئی تو یہ انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔

اب آتے ہیں لاہوریوں کی رنگ بازی کی طرف، دروغ برگردن راوی، اس بارے میں ایک دوست نے یہ تحریر بھیجی ہے جو آپ کے پیش نظر ہے۔ یہ علم نہیں کہ اس تحریر کا لکھاری کون ہے لیکن گوگل سرچ میں اس تحریر کے حوالے سے کافی مواد موجود ہے۔

اکبر اور شاہ جہاں کے دور میں لاہور نیل کی دنیا کی سب سے بڑی منڈی ہوتا تھا۔ شہنشاہ اکبر نے لاہور کے قلعے سے ذرا فاصلے پر ہندوستان میں نیل کی پہلی باقاعدہ منڈی قائم کی، یہ منڈی اکبر کے نام پر اکبری منڈی کہلائی اور اس سے ملحق علاقہ رنگ محل۔

لاہور کے مضافاتی علاقے موجودہ ساہیوال میں میلوں تک نیل کے پودے تھے اسی نسبت سے اسے آج بھی نیلی بار کہتے ہیں، لوگ ان پودوں کا ست نکالتے تھے، ست کو بڑی بڑی کڑاہیوں میں ڈال کر پکایا جاتا تھا، اس کا پاؤڈر اور ڈلیاں بنائی جاتی تھیں، یہ ڈلیاں ٹوکریوں اور بوریوں میں بند ہو کر اکبری منڈی پہنچتی تھیں، تاجروں کے ہاتھوں بکتی تھیں، گڈوں کے ذریعے ممبئی (پرانا نام بمبئی) اور کولکتہ (پرانا نام کلکتہ) پہنچتی تھیں، وہاں سے انھیں فرانسیسی اور اطالوی تاجر خریدتے تھے، جہازوں میں بھرتے تھے، یہ نیل بعد ازاں اٹلی کے ساحلی شہر جنوا (Genoa) (یہ شہر جنیوا نہیں ہے) پہنچ جاتا تھا، جنوا فرانسیسی شہر نیم کے قریب تھا، جنوا اطالوی شہر ہے جبکہ نیم فرانسیسی، دونوں قریب قریب واقع ہیں، نیم شہر ڈی نیم کہلاتا ہے، ڈی نیم میں ہزاروں کھڈیاں تھیں، ان کھڈیوں پر موٹا سوتی کپڑا بْنا جاتا تھا۔

یہ کپڑا سرج کہلاتا تھا، سرج کپڑا بن کر جنوا پہنچتا تھا، جنوا کے انگریز اس کپڑے پر لاہور کا نیل چڑھاتے تھے، کپڑا نیلا ہو جاتا تھا، وہ نیلا کپڑا بعد ازاں درزیوں کے پاس پہنچتا تھا، درزی اس سے مزدوروں، مستریوں اور فیکٹری ورکرز کے لیے پتلونیں سیتے تھے، وہ پتلونیں بعد ازاں جنوا شہر کی وجہ سے جینز کہلانے لگیں، جینز پتلونیں مشہور ہو گئیں تو ڈی نیم شہر کے تاجروں نے جوش حسد میں اپنے کپڑے کو ڈی نیم کہنا شروع کر دیا، یہ ڈی نیم کپڑا آہستہ آہستہ ”ڈینم“ بن گیا، جینز اور ڈینم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اکٹھے ہوئے اور یہ ڈینم جینز بن گئے۔

جینز کے تین عناصر تھے، ڈی نیم کا کپڑا، لاہور کا نیل اور جنوا کے درزی، مغلوں کے دور میں اگر لاہور کا نیل نہ ہوتا تو شاید جینز نہ بنتی اور اگر بنتی بھی تو کم از کم یہ نیلی نہ ہوتی، جینز کا نیلا پن بہرحال لاہور کی مہربانی تھا، آپ آج بھی انگریزی کی پرانی ڈکشنریاں نکال کر دیکھ لیں، آپ کو ان ڈکشنریوں میں نیل کا نام لاہوری ملے گا، گورے اس زمانے میں نیل کو لاہوری کہتے تھے، یہ رنگ بعد ازاں انڈیا کی مناسبت سے انڈیگو بن گیا۔

فرانسیسی، اطالوی، پرتگالی اور ڈچ نیل کے لئے ہندوستان آتے تھے جب کہ برطانوی افیون کے لئے یہاں آئے اور پھر پورا ہندوستان ہتھیا لیا، لیکن یہ بعد کی باتیں ہیں، ہم ابھی اس دور کی بات کر رہے ہیں جب نیل لاہور کی سب سے بڑی تجارت تھا اور یہ لاہوری اور انڈیگو کہلاتا تھ۔ یہ ہزاروں میل کا زمینی اور سمندری فاصلہ طے کر کے جنوا پہنچتا تھا، جینز کا حصہ بنتا تھا اور پوری دنیا میں پھیل جاتا تھا لیکن پھر لاہور کے لاہوری نیل کو نظر لگ گئی۔ مغلوں نے نیل پر ٹیکس لگا دیا، یورپ نے مصنوعی رنگ ایجاد کر لئے اور ایسٹ انڈیا کمپنی نے فرانسیسیوں، اطالویوں اور پرتگالیوں کو مار بھگایا اور یوں نیل کی صنعت زوال پذیر ہو گئی۔

نیل لاہوری نہ رہا مگر لاہور کے شہری آج بھی رنگ باز ہیں، لاہوریوں کو یہ خطاب ممبئی اور کولکتہ کے تاجروں نے دیا تھا، ہندوستان میں اس وقت فارسی زبان رائج تھی، فارسی میں کسی بھی پیشے سے وابستہ لوگوں کو باز کہا جاتا تھا ہے مثلاً پتنگ بنانے والے پتنگ باز اور کبوتر پالنے والوں کو کبوتر باز، اس مناسبت سے رنگ بیچنے والے رنگ باز ہو گئے۔ چنانچہ کولکتہ اور ممبئی کے تاجر نیل کی صنعت سے وابستہ لاہوریوں کو ”رنگ باز“ کہنے لگے، اس زمانے میں کیونکہ لاہور کی زیادہ تر آبادی نیل کی صنعت سے وابستہ تھی چنانچہ پورا لاہور رنگ باز ہو گیا، یہ رنگ بازی آج بھی لاہوری مزاج میں زندہ ہے.

About the author

Shafiq Awan

Shafiq Awan

Leave a Comment

%d bloggers like this: