بدلے حالات و توقعات

0 2

ہندوستان کے سابق وزیر تعلیم، اعلیٰ دینی عالم اور مفکر جناب ابوالکلام آزاد نے اپنی غیرفانی اعلیٰ کتاب ’غبارِ خاطر‘ میں بہت سے واقعات، ضرب الامثال، اشعار، حوالات کا تذکرہ صرف اپنی یادداشت کی بنا پر کیا ہے۔ وہ اس وقت قلعہ احمد نگر میں قید تھے۔ انگریزوں نے ان کی نظر میں ملک دشمنی کردار و اعمال کی وجہ سے مولانا آزاد اور کئی دوسرے قوم پرست لیڈروں کو احمد نگر جیل میں بند کردیا تھا۔ وہاں انگریز جیلر تھا، انگریزوں میں پھر بھی کچھ تہذیت و شرافت تھی۔ انہوں نے ان لوگوں کو ساتھ رکھا تھا اور آپس میں اُٹھنے بیٹھنے اور کھانے کی اجازت دی تھی اور باغ میں سیر و تفریح کی بھی اجازت تھی۔ وہاں سے البتہ خط و کتابت کی اجازت نہ تھی اور نہ ہی کتب خانہ تھا۔ مولانا آزاد نے وہاں وقت گزاری کے لئے اپنے نہایت پیارے، عزیز دوست نواب صدر یار جنگ، مولانا حبیب الرحمن خان شیروانی رئیس بھیکم پور ضلع علیگڑھ کو مخاطب کر کے خطوط لکھنا شروع کردیئے اور ان کو اپنے پاس رکھتے گئے۔ مولانا حبیب الرحمن خان خود ایک عالم تھے اور ایک اعلیٰ مفکر کے طور پر مشہور تھے۔ آپ مولانا شبلی کے بھی عزیز دوست تھے اور عثمانیہ یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر (شیخ) بھی تھے۔ آپ علیگڑھ یونیورسٹی کے شعبہ دینیات کے صدر بھی رہ چکے تھے۔ ان کی لائبریری پورے ہندوستان میں اپنی

نایاب اور اعلیٰ کتب کے ذخیرے کی وجہ سے مشہور تھی۔
غبار خاطر غالب# کے مکتوب کی طرح ایک خزینہ گنج ہائے گراں مایہ ہے۔ مولانا آزاد نے نثر کو جس طرح شاعری کا عکس دیا ہے وہ نہایت قابل تحسین ہے۔ اس کی مثال سوائے خطوط غالب کے کہیں اور نہیں ملتی۔
اپنے ایک خط میں مولانا آزاد نے تبدیلی حالات پر ایک عربی ضرب المثل کا حوالہ دیا ہے کہ تبدیلی خواہ اچھائی سے برائی کی طرف ہی کیوں نہ ہو وہ خوش آئند ہے کیونکہ ٹھہرا ہوا پانی گندہ ہو جاتا ہے اور بدبو دینے لگتا ہے یعنی اگر ایک اچھی حکومت یا اچھے حکمراں کے جانے کے بعد خراب حکومت یا حکمراں آجائے تو یہ ممکن ہے کہ اس کے بعد پھر اچھی حکومت یا حکمراں آجائیں، اگر ہر چیز ساکت ہو تو خراب حکومت یا خراب حکمراں ساکت ہو جائیں تو ایک لعنت یا عذاب بن جاتا ہے۔ اگر تبدیلی آتی رہے تو اُمید رہتی ہے کہ ممکن ہے کہ اچھے لوگ آجائیں۔ ہمارے یہاں ڈکٹیٹر آتے رہے اور ملک کو تباہ کرتے رہے۔ اگر یہ منجمد ہو جاتے تو اس ملک کا کیا حال ہوتا۔ ہاں یہ حقیقت ہے کہ مشرف کے بعد زرداری صاحب کی حکومت آئی تو اُمید تھی کہ حالات بہتر ہوجائیں گے مگر چند ماہ بعد ہی عوام کو یہ احساس ہوا کہ یہ تو مشرف سے زیادہ کرپٹ اور نااہل حکومت لائے ہیں۔ پانچ سال میں انہوں نے ملک کو تباہ کردیا۔ عوام کو مہنگائی، بیروزگاری، خودکش حملے، فرقہ وارانہ قتل و غارت گری، امن و امان کا فقدان، رشوت ستانی ، اقرباپروری، ڈرون حملے وغیرہ وغیرہ کا بہترین تحفہ دیا۔ اس کا نتیجہ عوام نے پی پی پی کو الیکشن میں عبرت ناک شکست کی صورت میں دے دیا۔نئی حکومتیں بننے والی ہیں۔ میاں نواز شریف نے 20 مئی کو الحمرا ہال میں اپنے نئے نمائندوں سے خطاب کیا۔ مجموعی طور پر اُن کی تقریر اچھی اور قابل تعریف تھی لیکن خود اُن کے اور شہباز شریف کے پچھلے کئے گئے وعدوں کے خلاف انہوں نے عوام کو پہلے ہی دن ایسی خبر دی کہ ان کے دل بجھ گئے۔ میاں صاحب نے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے بارے میں کوئی تاریخ نہیں دے سکتے۔ بہت بہتر ہوتا کہ میاں صاحب عوام سے کہتے کہ وہ اور عوام لوڈشیڈنگ کی لعنت و تکالیف سے آگاہ ہیں، پانچ سال سے زیادہ عرصہ سے یہ مسئلہ ہمارے اُوپر پچھلے حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے مسلط ہے اور میری ترجیحات میں پہلے نمبر پر لوڈشیڈنگ کو جلد از جلد کم کرتے ہوئے مکمل نجات حاصل کرنا اور دوم ملک میں امن و امان قائم کرنا ہے، اس بات سے لوگ مایوس نہیں ہوتے۔ ان کی تقریر کے بعد کئی دوستوں نے فون کیا اور کہا اگر یہی ہونا تھا تو پھر ہم زرداری کو ہی رہنے دیتے اور اس کو اس کی ٹیم کو برا بھلا کہہ کر دل خوش کرتے رہتے۔میاں نواز شریف اور عمران خان کو بہت بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ خیبرپختونخوا اور پورا ملک ایک سخت بحران کا شکار ہے۔ خزانہ خالی ہے اور وہ تمام مسائل جن سے ملک دوچار ہے اس کے لئے بھاری رقم کی ضرورت ہے۔ ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کے پہلے ہی بھاری قرضے ہیں اور ان کا سود ادا کرتے کرتے عوام کی اور حکومت کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ مزید قرضہ ہمارے اوپر مزید بوجھ ڈال دے گا۔ میاں صاحب کو کراچی لاہور بلٹ ٹرین، اسلام آباد تاشقند موٹر وے اور پشاور کراچی موٹر وے کو بھولنا ہوگا اور پھر چھ ماہ یا سال بھر بعد ان کے وعدوں کی جھلکیاں ٹی وی پر دکھائیں گے اور لعن طعن کریں گے لیکن وہ سب غلطیوں اور جھوٹے وعدوں کو بھول سکتے ہیں اگر پہلی ترجیح پر ان کو بجلی ملنے لگے، فیکٹریاں چلنے لگیں اور نہایت ہی غریب مزدوروں کو جو روزانہ کی آمدنی سے گھر کا چولھا گرم رکھتے ہیں، ریلیف ملے گا۔ اس کے ساتھ کراچی میں، پشاور میں امن اور کوئٹہ سے دہشت گردی کا خاتمہ ۔ میاں نواز شریف نے ابھی سے رونا شروع کردیا ہے کہ خزانہ خالی ہے۔ یہ تو نہ صرف پاکستانیوں بلکہ دنیا کے معاشی ماہروں، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کو بہت عرصہ سے علم ہے۔ اگر ملک اس قدر برے حالات میں تھا تو پھر اس کے وزیراعظم بننے کے لئے کیوں اس قدر بیتاب تھے۔ آپ کو حکومت کا تجربہ ہے ، آپ کو ملکی مالی حالات کا پورا علم ہے، اب شکایت اور رونے دھونے کا وقت نہیں ہے۔ اب کمر کس کے حالات کا دلیری اور سمجھداری سے مقابلہ کرنا ہوگا اور جلد از جلد عوام کو درپیش مسائل کو حل کرنا ہو گا۔ چھ ماہ بعد لوگ دبی زبان میں شکایت شروع کردیں گے اور ایک سال بعد میاں نواز شریف کا عوام کے سامنے اور پریس کے سامنے جانا مشکل ہو جائے گا۔ میاں صاحب آپ نے پچھلے دور میں دیکھا۔ عوام کی یادداشت کمزور نہیں ہوتی انہوں نے پی پی پی کو چھٹی کا دودھ چکھا دیا۔ چین کے فلسفی لاؤسو (Lao Tzu) نے ڈھائی ہزار سال پہلے کہا تھا کہ ”عوام پر حکومت کرنا بہت مشکل کام ہے کیونکہ وہ بہت زیادہ عقل و فہم کے مالک ہوتے ہیں“۔صدر زرداری نے بھی روایتی انداز میں اپنی شکست کو سازشوں کی وجہ بتائی ہے۔ آپ کی اپنی حکومت وفاق میں تھی، بلوچستان میں تھی، سندھ میں تھی، بین الاقوامی سطح پر سب آپ کے دوست تھے، ان میں امریکہ اور برطانیہ صف ِ اوّل میں موجود تھے۔ آپ نے اربوں روپیہ نام نہاد ترقیاتی فنڈز اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اپنے جیالوں کو دیئے۔ شکست کی وجہ آپ اور آپ کے نااہل و بدنام وزراء، وزرائے اعلیٰ ہیں۔ پوری قوم چلّا چلّا کر آپ کو آپ کی حکومت کی نااہلی کی طرف توجہ دلارہی تھی مگر آپ لوگوں کے کانوں پر جوں نہ رینگی۔ لوگ عیاشی کرتے رہے، سخت بدنام راشی، اَن پڑھ لوگوں کو اعلیٰ عہدوں پر لگا کر ان کے ذریعہ رشوت ستانی کی گئی، اس میں یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف نے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔ جاتے جاتے راجہ پرویز اشرف نے 42 بلین روپیہ نام نہاد ترقیاتی فنڈز کی مد میں اپنے چہیتوں کو دے دیئے، اس میں ناقابل معافی جرم دیامربھاشا ڈیم کے لئے مختص رقم بھی تھی۔ آپ نے دنیا میں کہیں ایسی بدعنوانی اور رشوت ستانی دیکھی ہے؟ اس کے علاوہ زرداری صاحب کو یہ علم تھا کہ اسلام آباد کے قلعہ اور کراچی، لاہور کے قلعہ نما بلاول ہاؤس میں بیٹھ کر عوام سے رابطہ قائم نہیں کرسکتے اس کے لئے بھٹو ، بے نظیر ، نواز شریف اور عمران خان کی طرح شہرشہر، گلی گلی مارا مار پھرنا پڑتا ہے۔ میاں صاحب اور عمران خان کی کامیابی میں ان کی متحرک انتخابی مہم نے بہت بڑا اور فیصلہ کن رول ادا کیا۔ سیاست میں عمران خان کی آمد اور کامیابی خوش آئند ہے۔ اب عوام کو ایک آپشن مل گیا ہے ورنہ وہ بے چارے صرف دو ہی وراثتی سیاست دانوں کے چکر میں پھنس گئے تھے۔ ان کی آمد سے پہلی مرتبہ کراچی کے عوام کو قبضہ مافیا، بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز سے جان چھڑانے کا موقع ملا ہے۔ ان کی کامیابی سے الطاف حسین حواس کھو بیٹھے اور ایسی باتیں کی ہیں جو ایک قومی لیڈر کو زیب نہیں دیتی ہیں۔
الیکشن کمیشن نے موجودہ حالات میں بہت اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔ آئندہ الیکشن میں بہتری لاسکتے ہیں۔ مثلاً پولنگ بوتھ کے اندر ایک فوجی سپاہی اور ایک پولیس مین کھڑا کرنا چاہئے وہ ووٹنگ کو مانیٹر کرتے رہیں اور ان کے سامنے اُمیدوار بکسوں کو سیل کریں اور روانہ کرائیں۔ کہیں نہ کہیں خلا رہ گیا ہے کہ بدعنوانی کی شکایت آئی ہیں۔ مثلاً PK-41 کرکII سے سلطان محمد نے مجھے مطلع کیا ہے کہ انہوں نے اپنے پورے خاندان کے ساتھ ایک پارٹی TPP کو ووٹ ڈالے جب نتائج نکلے تو اس پارٹی کے امیدوار کے سامنے اس بوتھ سے صفر ووٹ نکلے۔ اس دوران الیکشن کمیشن سافٹ ویئر تیار کرسکتا ہے کہ ہر بوتھ میں جب ووٹر آئے تو وہیں اس کے فنگر پرنٹس بھی چیک ہوجائیں۔ مجموعی طور پر انتخابات قابل قبول رہے ہیں اور جیسا کہ آرمی چیف جنرل کیانی نے کہا کہ عوام دہشت گردوں کے خوف میں نہ آئے اور انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا اور ووٹ ڈالے۔ غیر ملکی مبصرین نے بھی تعریف کی ہے کہ الیکشن بہت حد تک ٹھیک تھے۔
میاں صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ ہماری تاریخ اعلیٰ نظام حکومت کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ اس زمانے میں بھی وقت کی مناسبت سے ایسے ہی مسائل تھے مگر حکمراں وقت نے ان کو خوش اسلوبی سے حل کیا اور سرخرو ہوئے۔ میاں صاحب سے درخواست ہے کہ فرصت میں شبلی نعمانی کی کتاب الفاروق  اور حضرت عمر بن عبدالعزیز  پر لکھی گئی کتابوں کا ضرور مطالعہ کریں کہ ان میں نہایت مفید اور قابل عمل ہدایات حکمرانی موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ میاں صاحب کو اپنے فرائض کی ادائیگی میں سرخرو کرے اور عوام کے مسائل حل کرنے کی سعادت عطا فرمائے،آمین۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: