Isar Rana Today's Columns

اؤے میں نشت مار دیاں گا از ایثار رانا ( پریشر گروپ )

Isar Rana

دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے،دور تک بجٹ کے ہیں گل کھلے ہوئے،ایسا لگ رہا ہے کہ میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں یہ چمتکار ہماری زندگی میں روز روز نہیں ہوتے،بجٹ ہے یا روتے بچوں کو من پسند ٹافیاں دینے کا سلسلہ۔گر وتھ ریٹ ہے کہ سنبھالے نہیں سنبھل رہا یہ خان صاحب نے کون سا انتر منتر پھونکا سمجھ نہیں آرہاہم سعودی عرب سے ملے خیرات میں چالوں کے چکر میں رہے اور خان صاحب ”اندرو اندر گیماں پاتے“رہے۔ہمیں روزاوّل سے رب کے حکم پر یقین ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے میرا یقین ہے کہ اللہ اوراس کے رسول پاک کے نام پر بنے ملک میں دیر ہو سکتی ہے اندھیر نہیں۔خان صاحب اور ان کی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے لیکن یہ آدھی خوشی ہے اصل خوشی تب ہو گی جب غریب کے گھر خوشحالی آئے گی،جب اس کا کملایا چہرہ کھلے گا۔سنتا سنگھ نے اپنے ملازم کو کہا میں نے رات کو خواب دیکھا تم نے میری بہت خدمت کی یہ لو پچیس لاکھ کا چیک،ملازم نے خوشی خوشی چیک لیا اس پر دستخط نہیں تھے وہ بولا مائی باپ اس پر دستخط نہیں،سنتا سنگھ بولا جب اگلے خواب میں خدمت کرو گے تو دستخط بھی کر دوں گا۔میرا یقین ہے کہ اس بار ہماری باری پہ گھگو نہیں رو پئے گا۔قوم کو چیک مل گیا اس پر دستخط بھی موجود ہیں۔رہی بات بلاول بھانجے کی حیرانی کی تو میرا خیال ہے کہ حیرانی سے زیادہ ان کی پریشانی بنتی ہے۔خان صاحب نے اس بجٹ میں گالاں کاڈنے اور آٹا گندھتے ہلنے کی گنجائش بھی نہیں چھوڑی بہر حال یہ اچھا لگا کہ بلاول بھٹو جتنے حیران تھے ان کے ساتھ کھڑے شہباز شریف اتنے پریشان نہیں تھے۔دور سے دونوں ایسے لگ رہے تھے جیسے ہنسوں کی جوڑی،جیسے رات اور دن جیسے چن تے چکوری ”جیسے ٹچ بٹناں دی جوڑی“میں تو پہلے کہتا تھا کہ مریم بی بی نے ”کھیڈاں گے نا کھڈاواں گے وچ پسوڑی پاواں گے“لگا رکھی تھی انکل شہباز اور بلاول نے ان سے کْٹی کر کے پیپلز پارٹی،شین لیگ میں تھو مارا کر کے اچھا کیا۔دیواروں سے سر ٹکرانے کا کائی فائدہ نہیں،دیواریں پنڈی کی ہو ں یا اسلام آباد کی بہت سنگلاخ ہوتی ہیں کیا ضرورت ہے کہ ایتھوں بند ہ ٹکرو ٹکری ہو کر اپنے سر میں گو مڑے ڈالے بھئی مل جل کر کھیلے،اور کہتے رہے ”کوکلا چھپاتی جمعرات آئی جے جیہڑہ اگے پچھے تکے اوہدی شامت آئی جے“۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پارلیمانی تخت پر چھوٹے میاں صاحب پا?ں پساریں گے یا بلاول اپنی مرضی سے جہاں چاہیں گے منجھی ڈالیں گے۔فقیر نے صدا دی نئی نویلی دلہن باہر نکل کر بولی بابا معاف کر۔فقیر زرا سا آگے گیا تو دروازے سے ساس کی آواز آئی،وہ خوشی خوشی واپس آیا تو سا س بولی جا معاف کر،فقیر بولا یہ بات تو تیری بہو نے بھی کی تھی تو نے بلا کر کیوں کہا وہ بولی بس یہ بتانا تھا کہ یہ گھر اس کے باپ کا نہیں گھر کی مالکن میں ہوں۔ایمانداری کی بات ہے پارلیمانی اپوزیشن اپارٹمنٹ ٹیکنیکلی میاں صاحب کا ہے اس کے اوپر کے پورشن میں یوسف رضا گیلانی کو تو بدو بدی کم ترین کرائے پر مہیا کیاگیا ہے۔لہذا چھوٹے میاں صاحب جب چاہیں چھوٹی بہو کو کہہ سکتے ہیں کہ وہ گھرکے مالک یا مالکن ہیں۔

صاحب ڈبیٹ سے نہیں تھپڑ سے ڈر لگتا ہے کیونکہ میری پیاری آپا زبان چھْٹ تو ہیں ہی ہتھ چھٹ بھی ہیں۔مظہر شاہ مرحوم کا ڈائیلاگ تھا ”اوئے میں گشت کٹ کے آیاں تے نشت مار دیاں گا“۔ہماری آپا کوپیپلز پارٹی سے زیادہ کو کون جانتا ہے اس لئے اگر وہی پتے ہوا دینے لگیں جن پر آپ تکیہ کریں تو آپ کی غلطی ہے۔بندہ اْڑتے پتوں کا کبھی وسا نا کھائے یہ تکیے چڑیا دا چنبہ ہوتے ہیں کبھی بھی آڑ جاتے ہیں۔چلیں جی جو بھی ہوامیرے جاوید چودھری کا تو رانجھا راضی ہو گیا میں تو انہیں بار بار کہہ رہا ہوں کہ ”ونجھڑی والڑیا تو ں تاں موہ لئی او مٹیار جنے سی کدے نئی منی ہار“بعض اوقات انسان جیت کر بھی ہار جاتا ہے کچھ بھی تھا میرے پیارے جاوید چودھری کو بریک کے دوران ہونے والی پانی پت کی آخری لڑائی”کیپچر“ کر کے نہیں چلانی چاہیے تھی ریٹنگ نے تو ہم سے سب کچھ ہی چھین لیا ہے۔سنتا سنگھ ڈاکٹر سے بولا میرا قد میرے وزن کے برابر نہیں میرے قد کے لئے کوئی دوا ء تجویز کریں،ڈاکٹر بولاوہ کیسے؟بنتا سنگھ بولا وزن کیمطابق میرا قد نو فٹ دس انچ ہونا چاہئے۔بس یہیں سے فلم میں کامیڈی شروع ہوتی ہے۔ہم اپنا وزن درست کر نے کی بجائے مصنوعی طریقے سے قد بڑھانے کے چکر میں پڑجاتے ہیں۔

جاتے جاتے وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار سے ایک بنتی ایک درخواست تھی ”تن تو پہ واروں من تو پہ واروں بگڑی بنا دے تو ہے رو رو پکاروں“۔اللہ اللہ کر کے ہماری قسمت میں بغیر بے ایمانی اور اضافی رشوت کے ایک پلاٹ آیا،ہم اور ہم جیسے صحافی دس سال سے جرنلٹس کالونی کے بی بلاک میں قبضہ گروپوں کے سامنے مقبوضہ کشمیر اور فلسطین بنے بیٹھے ہیں۔عالم پناہ دھائی ہے دھائی۔آپ کے ہوتے قبضہ گروپ نے یہ قیامت مچائی ہے۔برادرم ارشد انصاری نے اعلان بغاوت تو کیا ہے۔مزا یہ ہے کہ اب وہ بیک فٹ پر نہ جائیں۔پریس کلب میں ان کی صدارت کا آئنی طور پرآخری سال ہے اب ان کے سٹمپ ہونے کا بھی کوئی چانس نہیں۔

About the author

Isar Rana Isar Rana

Isar Rana

Leave a Comment

%d bloggers like this: