دو نایاب کتب

پہلے الیکشن ہونے کی دھوم دھام تھی پھر الیکشن نے ہر خبر کو پس پشت ڈال دیا پھر نتائج کے بارے میں قیاس آرائیاں ہوئیں اور یہ تمام قیاس آرائیاں، نجومیوں کی پیشگوئیوں اور متاثرہ اُمیدواروں کی توقعات کے قطعی برعکس سامنے آئیں۔ اب حکومت بن گئی ہے عوام کی توقعات اور اُمیدیں بہت بلند ہیں مگر کہاوت ہے کہ اگر خواہشات گھوڑے ہوتے تو فقیر بھی گھوڑوں پر سواری کرتے پھرتے۔ آج میں سیا ست ، الیکشن اور نئی حکومتوں کی تشکیل کو ایک طرف رکھ کر آپ کی خدمت میں دو نہایت اعلیٰ کتابوں کو پیش کرنا چاہتا ہوں۔
(1) پہلی اہم اور معلوماتی کتاب میرے عزیز وقابل دوست مختار علی خان عرف پر توروحیلہ کی ترجمہ کردہ مرتب کردہ ”غالب کے غیر مدوّن فارسی مکتوبات“ ہے (مُدوّن ترتیب،جمع کئے ہوئے) یعنی یہ خطوط غیر مرتب ، غیر جمع شدہ تھے۔ پر توروحیلہ ادب کی دنیا میں گمنام شخصیت نہیں ہیں ایک اعلیٰ سول آفسر کے ساتھ ساتھ پٹھان ہونے کے ناتے سے فارسی زبان پر مہارت نے ان کیلئے یہ مشکل کام آسان بنا دیا ہے۔ ویسے تو غالب کا سیدھا سادا کلام بھی اتنا آسان نہیں ہے کہ اسے اہل مکتب سمجھ سکیں۔ پرتوروحیلہ کی یہ کتاب زرنگار فاوٴنڈیشن عمران روڈ خیابان کالونی فیصل آباد (فون:0300-9654110) نے خوبصورت شکل میں اس سال کے اوائل میں شائع کی ہے۔
غالبیات پر یعنی غالب کے کلام کے آٹھ

عدد تراجم خان صاحب نے شائع کئے ہیں۔ ان کے علاوہ آپ نے غالب کے مشکل اردو اشعار کی شرح، مشکلات غالب اور مقالات غالب نامی اہم کتابیں بھی تصنیف کی ہیں۔ان کے علاوہ مختار علی خان نے13عدد دوسری اہم کتابیں ادب و شاعری پر تصنیف کی ہیں ان کے مسحور کن دوہوں کی کتاب ”رین اجیارا“ بھی شامل ہے۔برادرم مختار علی خان کی اس کتاب کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں غالب کے وہ فارسی مکتوبات جو موتیوں کی طرح ہندو پاک کے کونوں ، کھدروں میں گمنامی میں پڑے تھے ان کو خان صاحب نے جمع کر کے ضروری کوائف کے ساتھ طبع کرادیاہے۔ اب’معلوم یا جانی‘ دنیا میں غالباً غالب کا کوئی ایسا فارسی خط نہیں ہے (بشمول ان خطوط کے جو خان صاحب کی تصنیف کردہ کلیات مکتوبات فارسی غالب ، نیشنل بک فاوٴنڈیشن اسلام آباد ،2008 ) جن کا اردو ترجمہ نہ کردیا گیا ہو اور جو منصہ شہود پر نہ آیا ہو۔ برادرم مختار علی خان المعروف پرتوروحیلہ نے اس بیش بہا اور نایاب کتاب کی تصنیف پر تقریباً چودہ ،پندرہ سال مسلسل اور مستقل مزاجی اور سخت محنت کاوش کے ساتھ صرف کئے ہیں۔ دیکھئے اگر اس کے بعد کوئی خط برآمد ہوتا ہے تو وہ بالکل ایسی ہی دریافت کے ذریعہ ہو سکتا ہے کہ جس طرح مصر میں طوطخ آمن کا مقبرہ اپنے نادر عجائبات کے ساتھ دریافت ہوا تھا۔ اس کتاب کی اشاعت تک تو ایسا کوئی معجزہ سامنے نہیں آیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ غالب کے فارسی مکتوبات کی قلم اب تمام کو پہنچ گئی ہے اور مختار علی خان کی کوشش نہایت قابل تحسین ہیں کہ انہوں نے ایک سرکاری ملازم ہونے کے ناتے اور اس سے منسلک لاتعداد پابندیوں کے باوجود جو جواہر پارہ ہمیں تحفہ میں دیا ہے وہ ہندو پاک کے دانشور اور ادیب سو سال سے زیادہ عرصہ میں بھی نہ کرسکے۔ اس عظیم کام کی کامیابی کے پیچھے وہی مدہوشی اور سرشاری اور جذبہ وجنون ہے جو کوہ پیماکو K-2 اور Mount Everestکی چوٹیوں پر جان کی پروا کئے بغیر لے جاتا ہے مجھے یقین ہے کہ برادرم خان صاحب نے ان خطوط کو پڑھتے وقت اور ترجمہ کرتے وقت یہی سرور اور نشہ محسوس کیا ہوگا۔
یوں تو اس نادر کتاب پر تبصر ہ کرنا اور اس کی قدروقیمت کو بیان کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ ایک دریا کو کوزہ میں بند کرنا اور پروفیسر ڈاکٹرجمیل جالبی، ڈاکٹر شفیق عجمی ، ڈاکٹرناصر عباس نیر نے کوشش بھی کی ہے میں صرف استاد محترم پروفیسر ڈاکٹر جمیل جالبی کے تبصرہ سے اقتباس پیش کرتا ہوں ۔ آپ نے لکھا ہے کہ ” ترجمہ کے میدان میں توروحیلہ نے ایک پہاڑجیسا کام کیا ہے۔ اس عظیم کارنامے پر میں ان کو کھڑے ہو کر سلام کرتا ہوں۔ اگر غالب زندہ ہوتے تو وہ بھی ایسے ہی الفاظ میں داد دے کر پرتوروحیلہ کو اپنے ساتھ بٹھا لیتے۔ فارسی مکاتب کے اس دل کش اور سحر انگیز اردو ترجمے نے ادب غالیبیہ کا وہ بند دروازہ کھول دیا ہے جو اردو بولنے والوں پر بالخصوص مقفل پڑاتھا“۔
(2) دوسری اہم کتاب انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد کے سابق چیف لائبریرین جناب محمد ریاض کی تصنیف کردہ تین جلدوں میں زبان انگریزی ہے اس کا عنوان ہے۔
“An account of the mysterious lives of the great saints and mystics of Islam”
پہلی جلد کا عنوان ہے ۔ سابقہ اولیا اللہ ، دوسری جلد کا عنوان ہے، قادریہ اور سہروردیہ صوفی سلسلے، تیسری جلد کا عنوان ہے، چشتیہ اور نقشبندیہ سلسلے،کیونکہ اس کتاب کے عنوان میں Sufism یا تصوف کا شروع میں ہی حوالہ دیا گیا ہے۔ اپنی محدود سمجھ بوجھ اور معلومات کی روشنی میں اس کالم میں صرف مختصراً اس موضوع پر کچھ بیان کرنے کی جسارت کروں گا ۔
تصوف ایک نادر اور منفرد سا لفظ ہے اور صوفی وہ نیک بندہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تصوف کرنے اور اس میں مہارت حاصل کرنے کی سعادت عطا کی ہو، جب بھی صوفی اور تصوف کا ذکر آتا ہے تو ہمارے تصورمیں فوراً مولانا جلال الدین رومی  اور رقص کرنے والے سفید پوش درویش نگاہوں کے سامنے گھومنے لگتے ہیں یہ محبت خدا میں مست ہوتے ہیں سفید لمبے لباس اور سرخ ملسی سی ٹوپی جسے ہم ترکی ٹوپی بھی کہتے ہیں پہنے ہوئے وجد کی حالت میں خراماں خراماں گو ل دائروں میں رقص کر کے ناظرین کو مسحور کردیتے ہیں ۔
دیکھئے تصوف کا تعلق کسی ایک خاص مذہب سے نہیں ہے ۔ ہر مذہب میں ایسے نیک بندے پائے جاتے ہیں جو محبت الٰہی اور تصور میں ایسے کھو جاتے ہیں کہ ان کو اپنی ذات کا بالکل احساس نہیں ہوتا وہ خود سے بے تعلق ہو جاتے ہیں بعض اس میں اتنے آگے بڑھ جاتے ہیں کہ ایک طرح کی مجذوبیت کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور وہ دین ، دنیا سے غافل ہو کر صرف اللہ کی محبت و قربت میں اپنے وجود سے بے خبر ہو جاتے ہیں۔ ہمارے یہاں صوفی کو ولی اللہ تصور کیا جاتا ہے حالانکہ ولی اللہ سے عموماً بہت سی کرامات ، کشف یعنی ایسی قلبی کیفیت جس کے ذریعے انہیں پوشید ہ امور کا علم ہو جاتا ہے منسوب کی جاتی ہیں۔ یہ اتنا اہم اور طویل موضوع ہے کہ اس پر ایک علیحدہ کالم لکھنے کی جسارت کروں گا۔ ہر شعبہ کی طرح اس میدان میں بھی بہت سے جعل ساز اور خود ساختہ صوفی اور ولی اللہ بن بیٹھے ہیں۔ مولانا جلال الدین رومی نے فرمایا تھا کہ یاد رکھو کہ اگر بازار میں کھوٹے سکّے چل رہے ہوں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کہیں نہ کہیں کھرے سکّے بھی موجود ہیں کیونکہ کھوٹے سکّے ہی کھرے سکّوں کی جگہ دھوکہ دینے کے لئے چلائے جاتے ہیں۔
برادرم محمدریاض قادری نے پہلی جلد میں 19 ولی اللہ شخصیات کا ذکر کیا ہے جن میں ایسی معروف شخصیات ہیں جن سے ہم میں سے بہت سے لوگ واقف ہیں مثلاً حسن بصری ، حضر ت خواجہ فریدالدین عطار  ، مولانا جلال الدین رومی وغیرہ وغیرہ اور اس میں مختلف سلسلوں کے بارے میں مفید معلومات ہیں ۔ دوسری جلد میں قادریہ سلسلے اور ان کی نامور شخصیات مثلاً حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی  ، حضرت شیخ محی الدین العربی ، حضرت شاہ عبداللطیف بری امام ، شاہ عبداللطیف بٹھائی ، شیخ ضیاء الدین احمد مہاجر مدنی، حضرت لال شہباز قلندر  وغیرہ کی حیات مبارکہ پر تفصیلی معلومات درج ہیں۔ اس کے علاوہ سہروردیہ سلسلے کے حضرت شہاب الدین عمر سہروردی ، حضرت خواجہ بہاوٴالدین ذکریا، شیخ رکن الدین عالم  وغیرہ کی حیات مبارکہ اور کشا پر اہم بیش بہا معلومات درج ہیں۔تیسری جلد میں 13 ممتاز چشتیہ سلسلے کے صوفیوں کا اور8 نقشبندی صوفیوں کی حیات مبارکہ پر تفصیلات درج ہیں۔ چشتیہ سلسلے کے صوفیوں میں خواجہ معین الدین چشتی، خواجہ قلب الدین بختیار کاکی، خواجہ فریدالدین گنج شکر ، حضرت بو علی قلند ر ، خواجہ نظام الدین اولیا، پیرمہر علی شاہ  وغیرہ اور نقشبندی سلسلے کے حضرت بہاوٴالدین نقشبندی، حضرت مجدّدالف ثانی، شاہ ولی اللہ  وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
مجھے اس کا احساس ہے کہ مصنف کے لئے اس تحقیق، تصنیف میں تمام صوفی حضرات و اولیائے کرام کے بارے میں لکھنا ناممکن تھا مگر برادرم محمد ریاض قادری نے ایک نہایت ہی قابل تحسین کام انجام دیا ہے صوفیائے کرام اور اولیائے کرام کے بارے میں معلومات کی جستجو کرنے والوں کے لئے یہ کتاب ایک خزینہ معلومات ہے اور اس میں جو ہدایات ،واقعات درج ہیں وہ قابل تقلید ہیں۔ یہ کتاب الائیڈ بک کمپنی لاہور، ملٹی لائن بکس لاہور اور اکیڈمک بک کمپنی راولپنڈی سے خریدی جا سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ جناب مختار علی خان پر توروحیلہ اور جناب محمد ریاض قادری صاحب کو جزائے خیر دے اور اپنی رحمتیں ان پر قائم رکھے۔آمین

Leave a Reply

%d bloggers like this: