Today's Columns Zahida Hina

کربلا سے دمشق تک (1) از زاہدہ حنا ( نرم گرم )

Zahida Hina
Written by Zahida Hina

یہ وہ زمانہ ہے کہ اگر جعفر زٹلی زندہ ہوتے اور اپنا مشہور سکہ نئے انداز سے لکھتے تو آج کے بادشاہ سلامت کے حکم پر تانت سے ان کا گلا گھونٹ دیا جاتا۔ وہ برصغیر کی اردو تاریخ میں اگر پہلے شہید صحافت کہے جاتے ہیں تو کیا غلط کہے جاتے ہیں۔ لیکن اب تو شہدائے صحافت کا نہ شمار ہے نہ قطار۔

چند دنوں پہلے ایک انگریزی اخبار میں یہ جملہ نظر سے گزرا کہ پھر اس کے بدن پر اتنا تشدد کیا گیا کہ انھوں نے اس کے بدن سے زندگی کا ایک ایک قطرہ نچوڑ لیا اور پھر اس کا جسم نہر میں بہادیا گیا۔ میں اس شہید کا نام لکھنے کی جرأت نہیں کر رہی، اول اس لیے کہ بزدل ہوں اور دوئم اس لیے کہ میں انگریزی میں نہیں لکھتی۔

میں اکثر سوچتی تھی کہ یہ کیسے ممکن ہوا کہ قتل حسین ؑ کا واقعہ ہوا۔ ان کا اور بعض دوسرے شہیدوں کے نیزے پر سر اور بے ردا سیدانیوں کا قافلہ کربلا سے دربار خلافت تک سیکڑوں میل کا سفر کرکے پہنچا لیکن راستے میں نہ کہیں شورش ہوئی اور نہ کسی نے یہ سوال کیا کہ یہ کیسے غریب الوطن اس بے کسی کے عالم میں لے جائے جاتے ہیں۔ اس سوال کا حتمی جواب مجھے عباس زیدی کے ناول ’’کفارِ مکہ‘‘ کے پہلے باب سے ملا اس کا لب لباب کچھ یوں ہے:

پچیس اکتوبر 890 بمقام دمشق۔

فتح کے شادیانے بجائے جارہے تھے۔

ڈھول اور دف کی تھاپ نے ان لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا تھا جو عام طور پر جھلسا دینے والی دوپہر میں آرام کررہے ہوتے تھے۔ اس سے پہلے کہ مرد، عورت، بچہ اور غلام کے نعرے لگاتے ہوئے گھروں سے باہر آتے۔ انھوں نے پتھروں کے اس ڈھیر کو ساتھ لیا جو انھوں نے مفتوحین پر برسانے کے لیے اکٹھا کیا تھا۔

ایک مرتبہ جب لوگوں کا جم غفیر اکٹھا ہوگیا تو بینڈ کی قیادت کرنے والے سپاہی نے فضا میں اپنا ہاتھ بلند کیا۔ شادیانے بند ہوگئے اور بینڈ والے مارچ کرتے چلے گئے۔ اب سپاہی نے اعلان کیا، ’’حاکم شام اپنے دربار میں رونق افروز ہوچکے ہیں۔ جہاں پہ اسیران قافلہ حاضر ہوں گے۔ لہٰذا یہ باور رہے کہ اتنی جگہ ضرور چھوڑ دیں کہ ان کو بلاتاخیر دربار تک لے جایا جاسکے۔‘‘

حکم سنتے ہی لوگ صحرا کے کنارے پہ فوری طور پر دو قطاروں میں تقسیم ہو گئے۔

سورج کی گرمی سے پسینے میں شرابور اور فرط جوش سے کانپتا ہوا ہجوم اپنی توجہ صحرا پہ مرکوز رکھے ہوئے تھا۔ پھر صحرا کے لہراتے سراب میں، ہجوم نے گرد سے اٹی انسانی شکلوں کو اپنی ہی سمت حرکت کرتے دیکھا۔

چند لمحوں میں یہ دھندلی شکلیں واضح ہونے لگیں۔ شامی سپاہی قیدیوں کو کھیدتے ہوئے چلے آتے تھے۔

گزرے دو ہفتوں میں دمشق میں ان مظلوم اسیران کے بارے میں اعلانات کی بازگشت تھی، گزشتہ رات، سرکاری ہرکارے دمشق کی گلیوں میں چکر لگاکر اعلان کرتے رہے کہ ’’باغیوں‘‘ کو دور افتادہ دریا کے کنارے شکست دے کر کچل دیا گیا ہے اور ان کو صبح لایا جارہا ہے، وہ کسی رحم کے قابل نہیں ہیں۔

جوں جوں ڈھول کی تھاپ بلند ہوتی گئی ویسے ویسے انسانی شکلیں نمایاں ہوتی چلی گئیں۔

لیکن یہ تو سب عورتیں ہیں! کوئی چلایا۔

ایک تذبذب میں ڈوبی خاموشی چھا گئی۔ چند لمحوں بعد شکلیں صاف نظر آنے لگیں۔

چند لمحوں کے اضطراب کے بعد کنفیوژن دور ہوگئی۔ قافلے کی قائد ایک لمبے قد کی پروقار اور بارعب عورت تھی۔ جس کا چہرہ دور ہی سے چمکتا ہوا نظر آرہا تھا۔ ان سب کے بشمول چھوٹی بچیوں کی گردن میں رسیاں تھیں جن کے ذریعے سے ان کو آگے دھکیلا جارہا تھا۔

ان کے مرد ہیں کیا؟ مجمع میں سے ایک عورت نے چلا کر کہا۔

ایک بچہ چیخ کر بولا، ان میں مرد بھی ہیں۔

مردوں کے سر نیزوں کی انی پر ٹنگے ہوئے تھے جن کو سپاہیوں کا ایک گروہ لے کر چل رہا تھا۔ بھوک، پیاس اور صحرا کی دوسری مشکلات سہنے کے باوجود، وہ فخر مند اور ناقابلِ شکست نظر آرہی تھیں۔

مجمع میں سے کسی بدبخت نے ایک پتھر مارا جو اس عورت کی پیشانی پر لگا۔ خون کی ایک پتلی دھار پھوٹ کر بہہ نکلی۔ لیکن اس کے چہرے پر کسی خوف کا شائبہ تک نہ تھا۔ نہ تکلیف کا اظہار تھا۔

اسیران کربلا پتھروں کی بارش کی زد میں آگئے۔ انھوں نے کوئی صدائے احتجاج بلند نہ کی۔

ایک پتھر نیزے کی انی پر ٹنگے ایک سر سے ٹکرایا تو وہی پروقار اور بارعب خاتون رک گئی اور جلالی لہجے میں بولی، تمہارے ہاتھ کٹ جائیں، تمہاری آنکھیں اندھی ہوجائیں، تمہارے وجود پر بجلی گرے اور تمہاری روحیں تک جل کر راکھ ہوجائیں۔

اس کی آواز میں اس قدر غیظ و غضب اور پراسراریت تھی کہ اس نے ہر کو منجمد سا کردیا۔ یہاں تک کہ جس سپاہی کے ہاتھ میں رسی تھی وہ بھی جم کر رہ گیا اور اس کا گھوڑا بھی چال بھول گیا۔

’’تم بے شرم بزدلو! بے یارو مدد گاروں پر برس رہے ہو! کیا تم جانتے بھی ہو کہ ہم کون ہیں؟‘‘

کافی دیر تک سناٹا رہا۔ ایسا واقعہ پہلے تو کبھی ہوا ہی نہیں تھا۔ قیدی تو رحم کی بھیک گڑگڑا کر مانگتے ہیں مگر یہاں یہ بہادر عورت تھی…

کیا تمہیں پتہ ہے کہ تم نے کس سر کو پتھر مارا ہے؟ کیا تمہیں پتہ ہے کہ میں کون ہوں؟ اڈر اور بہادر عورت نے انتہائی پروقار مگر غیظ و غضب بھری آواز میں بات جاری رکھی۔

’’میں زینب ہوں۔ محمد صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی نواسی اور یہ میرے بھائی حسین ؑ کا سر مبارک ہے۔! ہم اس حال میں تمہارے حاکم کی وجہ سے ہیں۔ جس کے سینے میں دل نہیں ہے۔ جو بددیانت اور غاصب ہے! کیا تمہیں میرے نانا پیغمبر علیہ السلام کا ہمارے بارے میں کہا فرمان یاد نہیں؟ کیا تمہارے دلوں پر چھائے اندھیرے نے تمہاری آنکھوں کو بھی اندھا کردیا ہے۔

خاموشی چھاگئی۔ (جاری ہے)

About the author

Zahida Hina

Zahida Hina

Leave a Comment

%d bloggers like this: