سیاہ بادل

ہمارے مرحوم شہنشاہ غزل مہدی حسن کا گایا ہوا گیت ’یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسبان اس کے‘ ہر پاکستانی کا دل ملک کی محبت سے بھر دیتا ہے۔ میں یہ گیت اور استاد امانت علی خان کا گایا ہوا گیت، ’اے وطن پیارے وطن‘ سن کر ایک طرح کے وجد میں آجاتا ہوں۔ یہ گانے کتنی ہی بار سنیں آپ کا دل نہیں بھرتا اور بار بار سننے کو جی چاہتا ہے۔ میں اکثر آٹو ریورس پر لگا کر لمبے لمبے عرصہ تک یہ گیت سنتا ہوں۔ ان گیتوں کو ان دونوں اعلیٰ گلوکاروں نے زندہ و جاوید کر دیا ہے اور ان گیتوں نے ان گلوکاروں کو جواباً زندہ و جاوید کر دیا ہے۔ میں نے اپنی جماعت تحریک تحفظ پاکستان کا ’لوگو‘ تھوڑی سی تبدیلی کے بعد یوں لکھا ہے۔ ”یہ وطن ہمارا ہے، ہم ہیں پاسباں اس کے“۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ ملک خداداد پاکستان اب ہمارا وطن ہے اور اس کی حفاظت ، ترقی اور خوشحالی کے ہم ہی ذمہ دار ہیں۔ اگر کسی بیرونی قوت یا ملک پر تکیہ کیا تو تباہ ہوجائینگے، ہوجائینگے کیا ہو چکے ہیں۔ نااہل، خودغرض، بے ضمیر حکمرانوں نے نہ صرف ہماری خودمختاری فروخت کر دی ہے بلکہ ملک کو مذہبی فرقہ پرستی ، معاشی بدحالی، لوڈشیڈنگ، بے روزگاری کی بدترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ یہ وہ ملک ہے جس کیلئے ہم نے لاکھوں جانیں قربان کیں، اپنی رہائش چھوڑی، اپنے بزرگوں کی قبریں چھوڑیں، اپنے ثقافتی ورثہ کی

بیش بہا اور ناقابل فراموش نشانیاں چھوڑیں۔ یہ سب کچھ اس لئے کیا کہ ہم اس ملک میں آزادی سے اپنے مذہب اور طرز زندگی کے مطابق رہ سکیں۔ ہمارے وہ تمام رہنما جو پاکستان بنانے کی تحریک میں شامل تھے نہایت مخلص، ایماندار، سچے مسلمان اور ہمدرد انسان تھے انہوں نے بغیر کسی ذاتی غرض کے پاکستان بنانے میں اپنا تن، من، دھن سب کچھ لگا دیا تھا، اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس عطا کرے، آمین۔
آئیے آپ کی خدمت میں عرض کروں کہ قائد اعظم ہمارا پاکستان کس طرح کا چاہتے تھے۔ 25جنوری 1948ء کو کراچی میں وکلاء کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا تھا ”میں ان لوگوں کو نہیں سمجھ پایا جو جان بوجھ کر یہ پروپیگنڈا کرکے ایک نیا جھگڑا کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کا دستور، شریعت کی بنیاد پر نہیں بنایا جائے گا اور یہ اصول آج بھی زندگی کیلئے اتنے ہی موزوں اور قابل عمل ہیں جیسے کہ آج سے تیرہ سو سال پہلے نافذ تھے۔ ان گمراہ لوگوں کے پروپیگنڈے سے مسلمانوں اور غیرمسلموں کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ اسلام نے دنیا کو جمہوریت کا سبق دیا ہے، نوع انسانی کو مساوات، عدل اور تہذیب و شائستگی سکھائی ہے“۔ اپنی اسی تقریر میں اسلام کے نام سے گھبرانے اور اختلاف کرنے والے نام نہاد روشن خیال لوگوں کو مخاطب کرکے کہا ”یہاں کئی لوگ ایسے ہیں کہ جب ہم اسلام کی بات کرتے ہیں تو وہ اسے پسند نہیں کرتے۔ اسلام صرف عبادات، روایات اور روحانی اعتقادات کے مجموعے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل ضابطہٴ حیات ہے جس سے ہر مسلمان کی دنیوی زندگی میں نظم و ضبط اور طرز عمل میں اعتدال و توازن آیا ہے حتیٰ کہ سیاست و اقتصادیات میں بھی۔ اسلام کی اساس بلند ترین اصولوں یعنی عزت و وقار، اجتماعیت، مساوات اور سب کے لئے عدل و مساوات پر استوار ہے۔ اسلام میں کسی بھی انسان کا کسی بھی دوسرے انسان سے کوئی فرق نہیں ہے“۔
ہمارے اس پیارے ملک کے معمار یعنی قائدِ اعظم  کا اسلام اور ایمان پر مکمل یقین رکھنے کے ثبوت کے طور پر ان کا 21/اکتوبر 1939ء کا آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کے اراکین کے اجلاس میں یہ خطاب ہی کافی ہے ”میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد اور سربلند دیکھوں۔ میں چاہتا ہوں کہ جب میں مروں تو یہ یقین اور اطمینان لئے مروں کہ میرا ضمیر اور میرا خدا گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اورغداری نہیں کی اور مسلمانوں کی آزادی، تنظیم اور مدافعت میں اپنا فرض ادا کردیا۔ میں اس کے لئے آپ سے کسی داد اور گواہی کا طالب نہیں۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ مرتے دم میرا اپنا دل، میرا اپنا ایمان اور میرا اپنا ضمیرگواہی دے کہ جناح تم نے واقعی اسلام کے دفاع کا حق ادا کر دیا۔ تم مسلمانوں کی تنظیم اور اتحاد کا فرض بجا لائے۔ میرا خدا کہے بے شک تم مسلمان پیدا ہوئے اور کفر کی طاقتوں کے غلبہ میں اسلام کا علم بلند رکھتے ہوئے جان دی“۔ قائد اعظم  نے 19 دسمبر 1946ء کو قاہرہ ریڈیو پر تقریر میں فرمایا تھا ”پاکستان سے ہمارا مطلب یہ ہے کہ ہم ایک آزاد اورخودمختار قوم کی حیثیت سے اپنی زندگی بسر کریں اور ان تمام اقدار کا تحفظ کریں جن کا اسلام علمبردار ہے“۔ پاکستان کی خدمت کے بارے میں آپ نے 30/اکتوبر1947ء کو لاہور میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا تھا ”میرا پیغام جس شخص کے پاس پہنچے وہ اپنے دل میں اس بات کا عہد کرلے کہ ضرورت پڑنے پر وہ پاکستان کو اسلام کی پشت پناہ اور دنیا کی عظیم ترین قوم بنانے کیلئے جسکا نصب العین امن و محبت ہو اپنی جان بھی قربان کردیگا“۔ آپ نے13جنوری 1948ء کو اسلامیہ کالج پشاور میں طلباء اور اساتذہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ”ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کیلئے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں“۔
یہ ہمارے ملک کے معمار، بانی اور ہمارے محسن کے پاکستان کے بارے میں غیرمبہم خیالات تھے۔ یہ وہی قائداعظم ہیں جن کے بارے میں شاعر مشرق علّامہ اقبال  نے یہ فرمایا تھا :He is incorruptible and unpurchaseable” یعنی نہ ہی ان کو بے ایمان بنایا جاسکتا ہے اور نہ ہی خریدا جاسکتا ہے ۔ آپ نے 12/اپریل1948ء کو پشاور میں اسلامیہ کالج کی تقریر میں پاکستان کا مقصد نہایت ہی سادہ اور غیرمبہم الفاظ میں یوں بیان کیا تھا۔ ”یاد رکھئے کہ ہم ایک ایسی ریاست کی تعمیر کر رہے ہیں جو عالم اسلام کی تقدیر بدلنے میں پورا پورا کردار ادا کرے گی۔ اس لئے ہمیں اس وسعت نظری کی ضرورت ہے جو صوبہ پرستی، محدود قسم کی قوم پرستی اور نسل پرستی سے ماورا ہو۔ ہمیں اپنے اندر ایسی حب الوطنی پیدا کرنی ہے جو ہمیں ایک متحد اور مضبوط قوم بنا کر ہم میں زندگی کی لہر دوڑا دے۔ صرف اسی صورت میں ہم اپنا وہ مقصد حاصل کر سکتے ہیں جس کیلئے لاکھوں مسلمانوں نے اپنے جان و مال کی قربانیاں دی ہیں“۔
یہ وہ تصورات و نظریات تھے جو ہمارے قائد اعظم  نے پاکستان کے لئے سوچے تھے اور انہیں پوری اُمید تھی کہ پاکستانی قوم ان کے خیالات، تصورات ونظریات کے مطابق اس پیارے وطن کی آبیاری کرے گی اس کو ترقی دے کر ایک مثالی اسلامی فلاحی مملکت بنادے گی لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوا۔ قائدِاعظم  کو اللہ تعالیٰ نے نہایت ایماندار، باضمیر، اہل ساتھی مہیا کئے تھے۔ ان کے نام بیان کرنا اس مختصر سے کالم میں ناممکن ہے چند نام ہی کافی ہیں۔ نواب لیاقت علی خان، نواب محمد اسمٰعیل خان، چوہدری خلیق الزماں، حسرت موہانی، راجہ صاحب محمودآباد، قاضی عیسیٰ، عبداللہ ہارون، حکیم اجمل خان، نواب بہادر یار جنگ، پیر صاحب مانکی شریف، سردار عبدالرب نشتر، خواجہ ناظم الدین، حسین شہید سہروردی، اے کے فضل الحق، خان عبدالقیوم خان، ایم اے اصفہانی وغیرہ۔ یہ وہ مخلص اور محبان پاکستان لوگ تھے جنہوں نے تن من دھن سے پاکستان تحریک کی حمایت کی اور اس تحریک کو قائدِاعظم کی قیادت میں کامیاب بنایا۔ اس کے بعد غلام محمد جیسا بدکردار شخص تخت نشین ہوگیا اور اس وقت سے لے کر اس ملک کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ کر لوٹنے والے حکمراں باری باری تخت نشین ہوتے رہے اور اس مملکت خداداد پاکستان کو جس کی بنیاد مسلمانوں نے اپنے خون اور پسینہ اور املاک سے ڈالی اس کو مسلسل بدانتظامی، رشوت ستانی، اقربا پروری سے تباہ کردیا۔ یہ 19کروڑ آبادی والا ملک جس کو اللہ تعالیٰ نے بے انتہا قدرتی وسائل سے نوازا ہے اعلیٰ دماغ دیئے ہیں اس کو دنیا کا پسماندہ، راشی، امن و امان سے مُبرا، دہشت گرد، غریب و فقیر ملک بنا دیا ہے۔ خواہ انتظامیہ ہو، تعلیم ہو، صحت کی سہولتیں ہوں ہم اس وقت دنیا کے بدترین اور پسماندہ ترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ ہمارے اپنے علاقہ میں بھی اس وقت ہم پسماندہ ترین ملک ہیں۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ اسلام جس نے دنیا کو تہذیب، تعلیم، رواداری، محبت، ہمدردی، خلوص، باہمی مدد جیسی سنہری چیزیں سکھائیں اس کو بھول کر اسلامی ممالک میں اکثریت نہایت ہی بدکرداری و بداخلاقی کا شکار ہے۔ ہمارے قائد اعظم نے 6مئی1945ء کو جناب اصفہانی کو ایک خط میں ہماری قوم کی بدکرداری کا ان الفاظ میں ذکر کیا تھا ”بدعنوانی کی لعنت ہندوستان خصوصاً ہندوستانی مسلمانوں کے نام نہاد تعلیم یافتہ طبقوں میں عام ہے۔ بدنصیبی سے یہی طبقہ سب سے زیادہ خودغرض، اخلاقی و ذہنی پستی کا شکار ہے۔ یوں تو یہ مرض عام ہے لیکن مسلمانوں کے اس مخصوص طبقہ میں تو یہ لعنت وبا کی طرح پھیلی ہوئی ہے“۔
جب یہ کالم چھپے گا الیکشن ہوچکے ہوں گے اور یہ اندازہ ہوگیا ہوگا کہ اس ملک کو لوٹنے اور تباہ کرنے کی ذمّہ داری کس نے قبول کی ہے۔ اس وقت جتنے لیڈر اور پارٹیاں ہیں ان میں سے کوئی اتنا اہل و قابل نہیں کہ ملک کو موجودہ مشکلات سے نجات دلا سکے۔ کوئی پارٹی اکثریت حاصل نہ کر سکے گی، بلیک میلنگ اور ہارس ٹریڈنگ ہو گی۔ چھوٹی پارٹیاں منہ مانگی قیمت وصول کریں گی اور دو سال کے اندر اندر یہ ملک پھر بدانتظامی اور لوٹ مار کا میدان کارزار بن جائے گا ۔
یعنی شیخ سعدی والی بات ہوگی کہ ”ماراچہ ازیں قصّہ کہ گاؤ آمد و خر رفت“ یعنی ہمیں اس سے کیا غرض کہ بیل آیا اور گدھا چلا گیا یعنی اس ملک میں کسی کے آنے جانے سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ میں نے اس کالم کا عنوان سیاہ بادل چنا ہے کہ اس ملک پر اس الیکشن کی شکل میں سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں۔ مجھے بہتری کی قطعی کوئی اُمید نظر نہیں آتی۔ عوام و حکمرانوں کے اعمال کے نتیجے میں ہم اللہ کے عتاب اور لعنت کے شکار ہوگئے ہیں۔ جب تک عوام اور حکمران اپنا کردار درست نہ کریں گے یہاں بہتری کی قطعی کوئی اُمید نہیں ہے۔ اس قوم پر سورہ نحل کی آیت 112 صادق آتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ ”اللہ ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے کہ ہر طرح امن و چین سے رہ رہی تھی ہر طرف سے رزق با فراغت چلا آتا تھا مگر ان لوگوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی تو خدا نے ان کے اعمال کے سبب ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر ناشکری کا مزہ چکھا دیا“۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: