قابلِ تحسین و مثالی ادارے

پچھلے دنوں دو نہایت ہی اہم، قابلِ تقلید و تحسین مثالی اداروں کو دیکھنے کا موقع ملا۔ مجھے عزیز دوست جناب حنیف عباسی، سابق ممبر نیشنل اسمبلی نے ان اداروں کے دورے کی دعوت دی تھی۔ دونوں اداروں کا تعلیم اور صحت سے تعلق تھااس لئے میں نے فوراً یہ دعوت نامہ قبول کر لیا۔ پہلا ادارہ وِقارالنساء پوسٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین راولپنڈی تھا اور دوسرا ادارہ راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی تھا۔ چونکہ دونوں نہایت اعلیٰ مثالی ادارے ہیں اس لئے میں ان پر اس کالم میں تبصرہ کرکے عوام کو ان کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔ ہمارے ملک میں عموماً بری باتوں، گھپلے بازیوں، رشوت ستانیوں، گھوسٹ اسکولوں وغیرہ پر بہت تبصرے ہوتے ہیں، تنقید کی جاتی ہے، لعن طعن کی جاتی ہے یہ اپنی جگہ لیکن ہمیں جہاں اچھی چیزیں نظر آئیں ان کو سراہنا چاہئے اور عوام کو ان کی کارکردگی سے آگاہ کرنا چاہئے۔
(1)گورنمنٹ وِقارالنساء پوسٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین نہ صرف پنجاب بلکہ پاکستان کے بہترین کالجوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا تعلیمی معیار اور تعلیمی ماحول اعلیٰ ہے۔ میں سب سے پہلے یہاں تقریباً بیس سال پیشتر گیاتھا اس وقت بھی یہ کالج بہت مشہور تھا اور میں وہاں جاکر بہت خوش ہوا تھا۔
وِقارالنساء کالج1957ء میں ایک درمیانے اسکول کی حیثیت سے قائم کیا گیا

تھا۔ آہستہ آہستہ اس نے اچھی شہرت حاصل کر لی اور پھر بھٹو صاحب کی تباہ کن پالیسی (صنعتوں اور تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لے لیا) کی وجہ سے یہ حکومت کے قبضہ میں آگیا اور یہاں اپنے پیارے اور چہیتے اساتذہ لگا دیئے گئے۔ جنرل ضیاء کے آنے کے بعد اس اقرباء پروری کا خاتمہ ہوا مگر 1972ء سے ہی یہ اعلیٰ تعلیمی ادارہ حکومت پنجاب کی سرپرستی میں کام کررہا ہے اور اس کو خاصی خودمختاری دی گئی ہے ۔ میاں شہباز شریف نے اس کی کارکردگی اور سہولتوں کیلئے بہت کام کیا ہے اور پنڈی کے قومی نمائندے ن لیگ کے جناب حنیف عباسی اس میں بذات خود دلچسپی لے کر بہت مدد کرتے رہے ہیں۔ اس ادارے کی خوبصورتی آپ کو وہاں جاکر اور دیکھ کر ہی نظر آتی ہے۔ 28 ایکڑ وسیع علاقہ پر تعمیر کردہ یہ ادارہ بہت ہی اچھی طرح پلان کیا گیا ہے۔ خوبصورت عمارتیں، بڑے بڑے کشادہ سرسبز میدان، خوبصورت پھولدار درخت اور لاتعداد بڑے بڑے درخت اس کی خوبصورتی کو دوبالا کررہے ہیں۔ یہاں آپ لاتعداد خوبصورت پرندے بھی دیکھتے ہیں جو بلاخوف و خطر وہاں بسیرا کرتے ہیں اور کھانا کھاتے ہیں۔ یہ موسم ِ بہار ہے اس لئے اندر آپ کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ کسی مغلیہ دور کے باغ میں گھوم رہے ہیں ہر جانب پھول ہی پھول نظر آتے ہیں۔
پہلے یہ عرض کرتا چلوں کہ یہ ادارہ پاکستان کے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون (16 دسمبر1957ء تا 7/اکتوبر1958ء) کی خوبصورت اور محب وطن بیگم، انگریزی نژاد، وقارالنساء کے نام سے منسوب ہے۔ وہ بہت ہی اعلیٰ خاتون تھیں، میری ذاتی دوست تھیں اور مجھ سے بہت محبت کرتی تھیں۔ ہم دونوں کو ساتھ ہی نشانِ امتیاز کے اعلیٰ ایوارڈ ملے تھے۔ اپنے شوہر کے انتقال کے بعد یہ پاکستان میں ہی رہیں اور یہیں دفن ہیں۔
کالج کے انڈر گریجویٹ کورسز پنجاب بورڈ کے تحت ہیں جبکہ پوسٹ گریجویٹ کورسز پنجاب یونیورسٹی کے تحت ہیں۔ کالج کی پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر سائرہ مفتی ہیں، تجربہ کار، ذہین، پرکشش اور بہت اہل ہیں۔ یہ میرے پرانے عزیز دوست، پی او ایف کے سینئر منیجر مرحوم مشتاق علی خان کی صاحبزادی ہیں اور خاصا وقت انگلستان میں بھی گزارا ہے اس طرح وہاں کے تعلیمی اداروں کی کارکردگی سے بھی واقف ہیں اور اس تجربہ کی روشنی میں یہاں بہترین کارکردگی دکھائی ہے۔ ان کی ساتھی اساتذہ بھی قابل، تجربہ کار اور پُرخلوص ہیں اور بچیوں کیساتھ اپنی بیٹیوں کی طرح محبت و شفقت کا سلوک کرتی ہیں۔ ڈاکٹر سائرہ مفتی کو 2012ء کی پنجاب کی بہترین پرنسپل چنا گیا تھا یقینا وہ اس کی مستحق تھیں۔ اس کالج میں عربی، بیالوجی، بوٹنی، کیمسٹری، اکنامکس، تعلیم، انگریزی، فائن آرٹس، جغرافیہ، صحت و جسمانی تعلیم، تاریخ، ہوم اکنامکس اور دینی تعلیم دی جاتی ہیں۔ اسکے علاوہ ان کومیتھمیٹکس، پاکستان اسٹڈیز، فارسی، فلسفہ، فزکس،پولیٹیکل سائنس ، نفیسات، سوشیالوجی، اسٹیٹکس، اردو اور زولوجی کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔عام مضامین کی تعلیم کیساتھ ادارہ میں کھیل ، تفریحی پروگرام ، ڈرامے، ڈیبیٹ، ثقافتی پروگرام بھی زور شور سے کئے جاتے ہیں۔
میرے لئے نہایت خوشگور واقعہ پیش آیا کہ ایک اعلیٰ، شاندار ایک ہزار سیٹوں کا آڈیٹوریم میرے نام سے منسوب کیا گیا۔ یہ بہت ہی پیاری عمارت ہے۔ وہاں ایک فنکشن منعقد کیا گیا جن میں تمام اساتذہ و طالبات، ڈائریکٹر ایجوکیشن پنڈی، پروفیسر ہمایوں اقبال اور جناب حنیف عباسی تھے۔ بچیوں کا، حاضرین کا جوش و خروش قابل دید تھااور جس محبت و گرم جوشی کا اظہار انہوں نے کیا وہ ناقابل ِ فراموش ہے۔ اس آڈیٹوریم کی تعمیر پر تقریباً تین کروڑ روپے لاگت آئی ہے اور یہ شہباز شریف اور حنیف عباسی کی گہری دلچسپی اور امداد کا مرہون منت ہے۔ اس کے علاوہ ان دونوں کی مدد سے ہی کالج میں تقریباً گیارہ کروڑ روپے کی مدد سے ارفع کریم سائنس بلاک کی تعمیر جاری ہے جو اگلے سال مکمل ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں کو جزائے خیر دے،آمین۔
(2) دوسرا نہایت ہی اہم اور نہ صرف پنجاب بلکہ ملک کا اعلیٰ اور مفید ادارہ راولپنڈی اِنسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ہے جہاں میں حنیف عباسی کے ساتھ گیا۔ یہ ادارہ بھی شہباز شریف اور حنیف عباسی کا مرہون ِمنت ہے۔ تقریباً 275 بستروں پر مشتمل یہ امراض قلب کا نہایت جدید آلات سے آراستہ ادارہ تقریباً تین ارب روپے کی لاگت سے تیار ہوا ہے اور اس کے سربراہ انگلستان سے تعلیم یافتہ اور وہاں کام کے تجربہ کار ماہر امراض قلب ڈاکٹر شعیب خان ہیں۔ نوجوان ہیں، خدمت خلق کے جذبہ سے پُر ہیں۔ اس اسپتال میں10 ماہرین امراض قلب، 45 میڈیکل آفیسرز، 170 تربیت یافتہ نرسیں، 40 ٹیکنیکل اسٹاف اور دوسرے انتظامیہ کے اسٹاف ممبران ہیں۔ یہ عمارت نہایت اعلیٰ معیار پر تعمیر کی گئی ہے۔ اس میں داخل ہوکر یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ یورپ یا امریکہ کے کسی اعلیٰ اسپتال میں ہیں۔ تمام جدید آلات یہاں موجود ہیں۔ چند دن بعد انگلستان کے مشہور پاکستانی نژاد ڈاکٹر حسنات خان اپنے چند ماہرین امراض قلب کے ساتھ یہاں تین ماہ کے لئے آرہے ہیں وہ نہ صرف یہاں آپریشن کریں گے بلکہ مقامی ڈاکٹروں کی رہنمائی بھی کریں گے، یہ بہت ہی قابل تحسین اقدام ہے۔
راولپنڈی میں ملٹری اسپتال سے ملحقہ آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (AFIC) ہے جس کو میجر جنرل ذوالفقار علی خان نے بڑی محنت و دلجوئی سے تعمیر کرایا تھا۔ اس اسپتال میں ہزاروں مریضوں کا علاج ہوا ہے اور آپریشن کئے گئے ہیں۔ یہ چونکہ فوجی ادارہ ہے اس لئے یہاں فوجیوں کو ترجیح دی جاتی ہے اس وجہ سے عام شہریوں کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نیا انسٹی ٹیوٹ اس کمی کو پورا کر دے گا بلکہ کر دیا ہے۔ اس اسپتال میں AFIC سے بھی جدید سہولتیں موجود ہیں۔ یہاں نہ صرف راولپنڈی بلکہ اسلام آباد ، جہلم، اٹک، چکوال، خوشاب، ہر ی پور،ایبٹ آباد، آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات کے مریض بھی علاج کرا سکیں گے۔ یہاں پر نرسوں اور ڈاکٹروں کو اہم تربیت دینے کے پروگرام بھی شروع کئے گئے ہیں کیونکہ ڈاکٹر شعیب خان خود انگلستان سے تعلیم یافتہ ہیں وہاں کام کرنے کا تجربہ ہے اور وہاں مریضوں سے حُسن سلوک کا طریقہ کار دیکھا ہے اس وجہ سے وہ اور ان کے رفقائے کار اُسی لگن اور محبت اور تندہی سے مریضوں کی خدمت کررہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ اسپتال بہت جلد نہ صرف ملک میں بلکہ بیرون ملک بھی بہت نام پیدا کرے گا۔ میری مخلصانہ درخواست تمام پاکستانیوں سے یہ ہے کہ خدا کے لئے اپنے رب العزّت اور اپنے ڈاکٹروں پر ایمان و اعتقاد رکھئے، باہر جانے کی ضرورت نہیں یہیں علاج کرائیے۔ اللہ رب العزّت نے کلام مجید میں صاف صاف الفاظ میں فرما دیا ہے کہ ہماری موت اور جگہ کا وقت اس نے متعین کردیا ہے اس میں کوئی رتّی برابر تبدیلی نہیں لا سکتا۔ یہ ہمارے لئے حرفِ آخر ہے۔
اس اسپتال کی انتظامیہ کے جو نیک اغراض و مقاصد ہیں ان سب کو بیان کرنا اس مختصر سے کالم میں ناممکن ہے، بس یہ سمجھ لیجئے کہ مختصراً ان کا مشن دُکھی عوام کی بے لوث خدمت ،ان کا بہترین علاج ، ان کو احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرنا، نوجوان نرسوں اور ڈاکٹروں کو اس میدان میں اعلیٰ تربیت دینا ہیں۔ اس اسپتال میں تقریباً 50 محکمہ جات ہیں ان میں ایمرجنسی سے لیکر سخت نگہداشت، بائی پاس آپریشن، اوپن ہارٹ سرجری، دل کے والوو کی تبدیلی، پَیس میکر لگانا، علاج کے لئے نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا استعمال اور ان تمام ٹیسٹوں کی سہولتیں موجود ہیں جن کی مدد سے مریض کے دل کی کیفیت و مرض کی تشخیص کی جاتی ہے اور پھر مناسب علاج کیا جاتا ہے۔
عرض کرنا چاہ رہا تھاکہ ان دونوں تعلیمی اور طبّی اداروں، وہاں کی اعلیٰ کارکردگی اور نہایت تجربہ کار پُرخلوص عہدیداروں کو دیکھ کر اور مل کر دل خوش ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ان اداروں سے متعلق تمام افراد کو تندرست و خوش و خرم رکھے، عمر دراز کرے اور اپنے فرائض منصبی ادا کرنے میں رہنمائی فرمائے،آمین۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: