یہ وطن ہمارا ہے

پچھلے چند ماہ میں یہ احساس ہو گیا ہے کہ یہ وطن ہمارا ہے۔ اگر یہ ملک ہمارا نہیں ہوتا تو الیکشن کی یہ گرما گرمی ،چہل پہل اور اس کی آزادانہ سرگرمیاں دیکھنے کو نہ ملتیں۔ عدلیہ کے بلاخوف و خطر اور غیرجانبداری سے فیصلے نہایت خوش آئند ہیں۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ الیکشن کمیشن کو اتنی اہمیت ملی ہے کہ اس نے عبوری وزیر اعظم کا چناؤ کیا ہے اور پہلی مرتبہ بڑی بڑی اور اہم پارٹیوں اور محب وطن عوام نے اس کو قبول کیا ہے اور سراہا ہے۔ حالات کو دیکھ کر نوجوان شاعر و صحافی عمیر علی انجم کا ایک شعر یاد آرہا ہے۔ ان کے شعر میں،ان سے معذرت سے لفظ ”شہر“ کو ”میں نے ”ملک“ سے تبدیل کردیا ہے:
ملک کیوں سنسان ہے ویران کیوں ہیں راستے
ہوچکا ہے حادثہ یا حادثہ ہونے کو ہے
ملک میں قتل و غارت گری، فرقہ وارانہ فسادات، خودکش حملے، علماء اور دانشوروں کا دن دہاڑے قتل ِعام، محب وطن عسکری نوجوانوں کی ملک کی خاطر جان کی قربانیاں وغیرہ وغیرہ کے باوجود سیاسی ردعمل جاری ہے۔ الیکشن کی تیاریاں زور شور سے جاری ہیں۔ سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان نے نہایت دباؤ، بہتان طرازی اور بلیک میلنگ کے باوجود نہایت بہادری، غیرجانبداری سے مشکل فیصلے دیئے ہیں۔ یہاں تک کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے جرم میں نہ صرف وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا بلکہ 5 سال

کے لئے بند گوبی بنا دیا۔ اس وقت الیکشن کمیشن بھی نہایت دیانتداری سے فرائض ِ منصبی ادا کررہا ہے۔
الیکشن مہم زور شور سے جاری ہے ۔ نئے نئے نعرے، دعوے، الزامات لگائے جارہے ہیں۔ نفسیاتی مہم بھی جاری ہے مثلاً 20 سالہ پرانی فلمیں TV پر دکھائی جارہی ہیں جب ہم نے اتفاقیہ طور پر کرکٹ ورلڈ کپ جیت لیا تھا۔ دنیا میں دوسرے ممالک نے ایک بار نہیں کئی مرتبہ یہ کپ جیتا ہے مگر کاغذی ریکارڈوں کے علاوہ کوئی کبھی فاختائیں نہیں اُڑا رہا۔ صحافی برادری کئی حصوں میں بٹ گئی ہے۔ کہیں نظریاتی اصول رول ادا کررہے ہیں اور کہیں ’مصلحت‘ بڑا رول ادا کررہی ہے۔ جن پارٹیوں کے پاس بھاری رقوم موجود ہیں وہ TV اور اخبارات پر اشتہار بازی میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کررہے ہیں۔
بڑے بڑے پوسٹر مع تصاویر دیواروں اور کھمبوں کی رونق بنے ہوئے ہیں۔ رکشہ والوں، ٹیکسی والوں اور ٹرک والوں کی لاٹری نکل آئی ہے کہ تصاویر چسپاں کرنے کا مناسب معاوضہ مل رہا ہے۔
صحافی حضرات نہایت خوشگوار سرخیاں لگارہے ہیں مثلاً عمران خان نے لاہور میں جلسہ کیا، کافی لوگ موجود تھے اس کے بعد انہوں نے اس کو سونامی پلس کا نام دے دیا۔ میں کم فہم انسان ٹھہرا میں اس ضمن میں نہ ہی سونامی اور نہ ہی سونامی پلس کی مشابہت سمجھ سکا ہوں۔ سونامی تو تباہی لاتا ہے ہر چیز تباہ کرتا ہے اور پیچھے تباہی کرکے چھوڑ جاتا ہے۔ خدا جانے یہ ”پلس“ کیا کرے گا۔ بہرحال اس جلسہ کے بعد میاں نواز شریف نے مانسہرہ میں اس سے بھی بڑا جلسہ کیا اور بڑے بڑے وعدے کئے اور ذرائع ابلاغ نے اس کو خوبصورتی سے یہ بیان دیا کہ عمران خان نے باؤنسر مارا اور میاں نواز شریف نے اس پر چھکّا لگا دیا۔ اسی طرح روز ہی یہ پیاری پیاری سرخیاں لگاتے ہیں اور الیکشن کو رنگین بنا رہے ہیں۔
مختلف پارٹیاں آپس میں مختلف محاذ بنارہی ہیں۔ اس میں ہر پارٹی اپنے مفاد کو مدنظر رکھ کر محاذ بنا رہی ہے۔ دنیا کے دوسرے ممالک کی سیاسی پارٹیوں اور لیڈروں کی طرح ناقابلِ عمل (اور نا قابل ِفہم) وعدے کررہے ہیں۔ الیکشن کے بعد نہ ہی ان کو اپنے وعدے یاد رہیں گے اور نہ ہی یہ پھر اپنے ووٹروں کے لئے کچھ وقت نکال سکیں گے۔ اس وقت بھی کئی قومی اور صوبائی نمائندے ایسے ہیں جو الیکشن کے بعد پچھلے 5 سال میں ایک بار بھی اپنے علاقہ میں نہیں گئے اور ترقیاتی فنڈ میں حاصل کئے گئے کروڑوں روپے کہیں بھی استعمال نہیں کئے گئے اور ایسے غائب ہوئے ہیں کہ جیسے عمرو عیّار کی زنبیل میں کوئی چیز۔
مشرف نے واپس آکر دعوے شروع کردیئے ہیں کہ ملک کو بچانے آیا ہے۔ یہ اسی طرح ہے کہ ایک فاحشہ آپ کو دین و ایمان کی تلقین کرے۔ جس قدر نقصان اس شخص نے پاکستان کو پہنچایا ہے وہ پچھلے دو ڈکٹیٹروں اور سیاسی لیڈروں نے نہیں پہنچایا۔ اس نے تمام اہم ادارے تباہ کردیئے، ملک کی خود مختاری بیچ دی اور ہمیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مغربی ممالک کا زرخرید غلام بنا دیا۔ عدلیہ پر شب خون مارا اور دستور کی خلاف ورزی کی، نواب اکبر بگٹی اور لال مسجد کے معصوم بچوں کا قتل کیا اور پھر اس بے شرمی کی انتہا دیکھئے کہ خود کو اب بھی مسیحا سمجھتا ہے اور عوام سے ووٹ مانگ رہا ہے۔ اپنے جرموں کو نعمت و ثواب بنا کر پیش کر رہا ہے۔ائیر پورٹ پر چند لوگوں کے جمگھٹے کو دیکھ کر اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ ہر دلعزیز ہے۔ قتیل شفائی کا اس مناسبت سے پیارا شعر ہے :
توبہ کرتے ہی میرے جھوم کے آئے بادل
شاید اس کو ہی مکافات عمل کہتے ہیں
انجم # کے ایک اور شعر میں معذرت کے ساتھ انجم کا نام بدل کر پرویز (ڈکٹیٹر) کا نام لکھ رہا ہوں جو حقائق کی عکاسی کررہا ہے۔ اور ’دیکھنا ‘ کو ہوشیار بنا دیا ہے۔
پرویز بھی آرہا ہے تمنا لئے ہوئے
اے ساکنان کوچہ و بازار ہوشیار
نہایت ہی روح افزا خبر یہ ہے کہ ہمارے مشہور سینئر صحافی اور ہمارے رفیق کار کالم نویس اور تجزیہ نگار (اور آپس کی بات کے روح و رواں) جناب نجم سیٹھی کو پنجاب کا عبوری وزیر اعلیٰ منتخب کرلیا گیا ہے۔ آپ اس سے پیشتر بھی مرحوم معراج خالد کی عبوری حکومت میں نوّے کے وسط میں عبوری وزیر رہے ہیں۔ نہایت تجربہ کار، جہاندیدہ صحافی ہیں اور اپنی قابل اعتبار چڑیا کی مدد سے آنے والے واقعات کا صحیح علم حاصل کر لیتے ہیں۔ ان کی چڑیا ہمارے وسان صاحب کے خوابوں سے زیادہ معتبر ہے کیونکہ خواب تو انسان اکثر و بیشتر بدہضمی، ٹینشن یا بھنگ اور چرس پی کر دیکھتا ہے، بہت ہی اِکّا دُکّا روحانی شخصیت کے مالک اچھے اور صحیح خواب دیکھتے ہیں۔ نجم سیٹھی صاحب سے درخواست ہے کہ وہ فی الحال اپنی چڑیا کو اچھا کھانا کھلا کر آرام کرنے دیں ورنہ خدانخواستہ وہ ان کوکہیں عبوری وزیراعظم بننے کی خبر نہ سنا دے اور ہم پھر عدلیہ، الیکشن کمیشن اور انتخابی مہم کے گھن چکر میں پھنس جائیں۔ بہرحال میری دلی نیک دُعائیں نجم سیٹھی صاحب کے لئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فرائض منصبی ادا کرنے میں رہنمائی فرمائے اور سرخرو کرے، آمین۔ دوسرے صحافیوں کو بھی اپنا معیار، غیر جانبداری برقرار رکھنا چاہئے، خدا جانے کب ان پر اللہ کی نظر کرم و رحمت پڑ جائے اور سرخرو کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کو محنت اور نیک نیتی اور ایمانداری کا صلہ ہمیشہ اسی دنیا میں مل جاتا ہے۔
اس سال جس قدر سیاسی شعور، الیکشن کمیشن کی کارکردگی اور عدلیہ کی اعلیٰ کارکردگی سے ہمارے دلوں میں ایک نئی امید کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اُمید ہے کہ عوام اس اِلیکشن میں زیادہ شعور اور عقل و فہم سے کام لیں گے اور اچھے ایماندار ، پُرخلوص، قابل نمائندے چُن کر اسمبلیوں میں روانہ کریں گے تاکہ آئندہ حکومت عوام کی تکالیف دور کرے اور ملک میں امن و امان قائم کرے اور خودمختاری اور معاشی حالت کو بہتر بنائے۔ اس وقت عوام پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہو رہی ہے کہ وہ ملک کے بارے میں سوچیں اور پارٹی اور برادری وغیرہ کو پس ِ پشت ڈال دیں، دیکھئے یاد رکھئے کہ :
”یہ وطن ہمارا ہے، ہم ہیں پاسباں اس کے“

Leave a Reply

%d bloggers like this: