Hassan Nisar Today's Columns

ادارے کیسے آباد و برباد ہوتے ہیں؟ از حسن نثار ( چوراہا )

Hassan Nisar
Written by Hassan Nisar

کبھی دیانتداری اور غیر جانبداری سے سوچئے کہ ریلوے سے لے کر آبپاشی کے محیّر العقول نظام تک برطانوی جو جو کچھ دے گئے ہم نے اسے قائم رکھا؟ بہتر بنایا یا ان کاستیاناس کرکے رکھ دیا۔

لائلپور جسے کبھی ’’لیل پور‘‘ کہا جاتا تھا اور آج خوشامدی حکمرانوں کی وجہ سے فیصل آباد کہلاتا ہے حالانکہ شاہ فیصل سے اتنی ہی محبت اور عقیدت تھی تو ان کے نام پر کوئی نیا شہربساتے لیکن کلرکوں اور جگاڑیوں نے صرف نام تبدیل کرنے پر ہی اکتفا کیا کیونکہ دو نمبری اسی طرح کے شارٹ کٹ ہی مارتی ہے۔ اس شہر کے ساتھ میری بے شمار یادیں وابستہ ہیں۔ میرے بچپن، ٹین ایج کے دوست حفیظ خان زرعی یونیورسٹی میں رہتے تھے کیونکہ ان کے والد ہمارے انکل ڈاکٹر عبدالحمید خان شعبہ باٹنی کے سربراہ تھے اور لوگ آج بھی ڈاکٹر صاحب کو ’’بابائے باٹنی‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ یہ وہی حفیظ خان ہیں جو پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے صدر منتخب ہوئے اور اپنے سیکرٹری کے طور پر جاوید ہاشمی کو بھی متعارف کرایا۔ زرعی یونیورسٹی کا سوئمنگ پول بہت شاندار تھا، وہیں سوئمنگ سیکھی۔ آج یہ سب کچھ اس لئے یاد آ رہا ہے کہ لائل پور کے کچھ احباب نے زرعی یونیورسٹی کی زبو ں حالی کا ذکر کیا تو میں نے جواباً صرف اتنا کہا کہ ’’ ہم نے انگریز کے دیئے باقی ’’تحائف‘‘ کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا جو زرعی یونیورسٹی لائل پور ہمارے شر سے محفوظ رہتی‘‘۔

تب اس عالیشان ادارہ کی تاریخ یاد آئی جسے مختصراً پیش کر رہا ہوں تاکہ اندازہ ہو سکے کہ غیروں نے کب کیا کیا اور ہم نے کس طرح اس کا حشر نشر کیا۔ ذرا تصور کریں کہ برطانوی حکومت 1870 میں ہی یہاں امپیریل ڈیپارٹمنٹ آف ایگری کلچر قائم کر چکی تھی۔ 1901 میں محکمہ زراعت پنجاب معرض وجود میں آیا۔ 1903 میں 56 ایکڑ پر مشتمل ایک زرعی فارم چناب کالونی کے نو تعمیر شدہ قصبہ لائل پور میں بنایا گیا اور کانپور سے تربیت یافتہ عملہ یہاں منتقل کردیا گیا۔ 1905 میں نوتعمیر شدہ شہر لائل پور میں 56 ایکڑ جگہ الاٹ کرکے پنجاب زرعی کالج و تحقیقی مرکز کے قیام کی منظو ری دے دی گئی۔ 1906 میں زرعی کالج بنانے کا فیصلہ اور تعمیر کا آغاز ہوا (ہم 2021 میں کیسی کیسی جھک مار ہے ہیں) 1909 میں کالج مکمل ہوا اور درس و تدریس کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔ کمال دیکھیں کہ انگریز پرنسپل CORBION نے ہی تعمیر کی نگرانی بھی کی اور شنید ہے کوئی کمیشن نہیں کھایا۔ زرعی کالج کا سنگ بنیاد لیفٹیننٹ گورنر پنجاب LOUIS DANE نے رکھا۔ پنجاب یونیورسٹی (قیام 14 نومبر 1882) سے 12سال بعد اس کا الحاق ہوگیا اور یوں لائل پور متحدہ ہندوستان میں زرعی تعلیم کا نمایاں ترین مرکز بن گیا۔ قیام پاکستان کے وقت اس کے پرنسپل ڈاکٹر سردار دلیپ سنگھ تھے۔ 1923 میں پنجاب یونیورسٹی نے زرعی کالج کو MCS زراعت کے لئے منظور کیا اور 1944میں زرعی کالج لائل پور میں کی گئی تحقیق کی بنیاد پر لکھے گئے تھیسس پر پہلے دو طالب علموں کو پی ایچ ڈی کی ڈگری عطا ہوئی۔ یاد رہے کہ یہ حکومتی مالی سرپرستی میں چلنے والا ایک سرکاری ادارہ تھا جس میں تقرریاں سو فیصد میرٹ پر صوبائی حکومت کی صوابدید پر ہوتیں۔ امریکن اور برطانوی زرعی ماہرین کی سفارشات پر پنجاب حکومت اس ادارہ میں تدریسی عملہ بھرتی کرتی۔ پوری دنیا میں تب بھی امریکہ ہی وہ پہلا ملک تھا جس نے زراعت کی تعلیم اور تحقیق کے لئے سب سے جدید ذرائع اور ٹیکنالوجی استعمال کرنا شروع کی تھی۔

پہلے سال داخلہ کے لئے صرف 10 طلبا نے دلچسپی ظاہر کی تھی اور اگلے تین سال بھی 38 طلبا کے داخلہ کا ہدف پورا نہ ہوسکا تھا۔ 1913 میں داخلہ کی ایک درخواست بھی منظور نہ ہوئی۔ 1914 میں 23 طلبا نے داخلہ لیا۔ اس ادارہ سے پہلا دستہ 1912 میں فارغ ہوا۔ جن میں رام دھن سنگھ، پورن سنگھ، لابھہ سنگھ، ہیرا سنگھ، ہر چندسنگھ، برکت علی، عبدالغنی، لالہ ٹہل رام شامل تھے۔ 1913 دوسرے دستہ میں گجندر سنگھ، ارجن سنگھ، ایشرداس، لچھمن داس، محمد اکبر، نذر محمد، علی محمد شامل تھے۔

قیامِ پاکستان سے پہلے طلبا کے لئے نیلے رنگ کی اچکن، سفید پاجامہ یا شلوار، سر پر سفید پگڑی لازمی تھی جس پر طالب علم فخر محسوس کرتے۔ تیراکی سیکھنا لازمی تھا۔ رائفل چلانے کی باقاعدہ تربیت دی جاتی تھی۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں ’’گوارا‘‘ کی فصل کاشت کرنا طلبا کے لئے لازمی تھا اور سبز کھاد بھی طالب علم خود ہی تیار کرتے تھے۔

قارئین!

یہ تھیں وہ چند جھلکیاں جن کی مدد سے جانا جاسکتا ہے کہ وژن کس کو کہتے ہیں؟ لیڈر شپ کیا ہوتی ہے؟ ادارے کیسے بنائے اور اٹھائے جاتے ہیں جبکہ یہ تو ہم سب ہی جانتے ہیں کہ بنے بنائے ادارے برباد کیسے کئے جاتے ہیں؟ ریلوے سے لے کر ایریگیشن تک سب کچھ سامنے ہے۔

اور اب آخر پہ داخلہ کی بنیادی شرائط پر غور فرمائیں ۔

نمبر1: داخلہ صرف میرٹ کی بنیاد پر ہوگا۔

نمبر 2: کم سے کم تعلیمی قابلیت میٹرک ۔

نمبر 3: مذہب زیرغور نہیں لایا جائے گا۔

نمبر4: تدریسی زبان اردو ہوگی۔

About the author

Hassan Nisar

Hassan Nisar

Leave a Comment

%d bloggers like this: