مکافات ِعمل

مشرف جب سے پاکستان آیا ہے اور اس کے ساتھ جو واقعات پیش آرہے ہیں اس کو عام زبان میں مکافات عمل کہا جا رہا ہے یعنی اپنے اعمال کی پاداش یا سزا، کرنی کا پھل گویا جیسا کیا ویسا ہی بھرا یا جو بویا وہی کاٹا۔ اِنسانی فطرت ہے کہ جب کسی ظالم کو اپنے کئے کی سزا ملتی ہے تو دوسروں کو اطمینان قلب اور ایک طرح کی خوشی ہوتی ہے یہ قدرتی عمل ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے واقعات قابل عبرت و نصیحت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کلام مجید میں لاتعداد مثالیں کھول کھول کر بیان کی ہیں تاکہ ہم ان سے نصیحت حاصل کریں اور عبرت حاصل کریں اور یہ کہ صرف اصحاب عقل و فہم ہی ایسی ہدایات سے استفادہ کرتے ہیں۔
دیکھئے اللہ تعالیٰ نے سورة نحل آیات 23/اور 29 میں فرمایا ہے کہ ”بیشک تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ واقعی برا ٹھکانا (جہنم) ہے تکبر کرنے والوں کا“۔ سورة زمر آیت 60 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ”کیا تکبر کرنے والوں کا ٹھکانا جہنم نہیں ہے؟“ سورة احقاف آیت 20 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”سو آج تمہیں ذلّت کی سزا دی جائے گی اس لئے کہ تم دنیا میں ناحق تکبر کیا کرتے تھے اور اس لئے کہ تم نافرمانی کے عادی تھے“ اور سورة حٰم سجدہ آیت 15 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”لیکن عاد نے ملک میں ناحق تکبر کیا اور اُنہوں نے کہا ! ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے انہیں اتنا بھی

نظر نہ آیا کہ جس اللہ نے انہیں بنایا ہے وہ ان سے بھی زیادہ طاقتور ہے“ اور سورة انفطار آیت 6 میں اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے۔ اے (مغرور) انسان تجھے آخر کس چیز نے اپنے پروردگار کے مقابلہ میں دھوکہ میں ڈال رکھا ہے؟
اور جب بھی میں نے مشرف کو اکڑ کرسینہ تانے چلتا دیکھا تو اللہ تعالیٰ کا فرمان (سورہ بنی اسرائیل آیت 37 ) یاد آگیا اور دل کانپ گیا”اور زمین پر اترا کر نہ چل کہ تُو نہ تو زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور نہ ہی پہاڑوں کی اونچائی کو پہنچ سکے گا“ اور سورہ لقمان آیت 18 میں اللہ تعالیٰ نے انتباہ کیا ہے ” اور ازراہ تکبر لوگوں سے گال پھلا کر اور اکڑ کر نہ ملنا بیشک اللہ کسی اترانے والے غرور کرنے والے کو پسند نہیں کرتا“ اور سورہ مومن آیت 35 میں اللہ نے صاف صاف انتباہ کردیا ہے۔ اسی طرح اللہ ہر تکبر کرنے والے جابر کے قلب پر مہر ثبت کردیتا ہے۔
مشرف کو آپ نے اکثر شیخیاں مارتے سنا ہے کہ سیّد زادہ ہے اور کئی بار خانہ کعبہ میں گیا ہے تو اس کو میں اللہ تعالیٰ کا فرمان (سورہ نجم آیت 32 ) یاد دلانا پسند کروں گا ” اور اپنے متعلق پاکبازی کا دعویٰ مت کر۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ کون پاکباز ہے“۔
اس وقت تمام اِینکر پرسن، صحافی حضرات، سیاست داں، تجزیہ نگار مشرف کی حالت زار پر تبصرہ کررہے ہیں اور طرح طرح کی قیاس آرائیاں ہورہی ہیں۔ جیسی کہ توقع تھی نگراں حکومت نے سپریم کورٹ کو جواب دے دیا کہ وہ مشرف کیخلاف غدّاری کا مقدمہ نہیں چلائے گی۔ ہمارے گجرات کے بزرگ عقلمند سیاستدان چوہدری شجاعت حسین نے ایک بیان دیدیا ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مشرف کی آٹھ سالہ صحبت نے دل میں نرم گوشہ چھوڑ دیا ہے۔ آپ نے فرمایا ہے کہ (1) کسی ایک فرد یا ادارے کی تذلیل خطرناک ہوسکتی ہے۔ (2) مشرف کے خلاف غدّاری کے مقدمے میں جلد بازی کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں (3) مستقبل کے بارے میں سوچنا ہوگا ورنہ کوئی فاتح نہ ہوگا اور (4) یہ صرف مشرف کی ذات کا مسئلہ نہیں، پنڈورا بکس کھل جائے گا۔ دوسرے الفاظ میں چوہدری صاحب نے دھمکی دی ہے یا خبردار کیا ہے کہ اگر مشرف کو اس کے جرائم کی سزا دینے کا سوچاتو ملک تباہ ہوسکتا ہے۔
بات یہ ہے کہ اگر ہم نے یہی سوچ اور مصلحت سامنے رکھی اور اس مرتبہ اس لعنت کو ختم کرنے کی کوشش نہ کی تو یہ ناسور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہماری تاریخ کا لازمی حصہ بن جائے گا۔ جب 55 سال پیشتر ایوب خان نے مارشل لا لگایا تو اس وقت کسی فوجی نے یہ نہ کہا تھا کہ غلط کام ہے، فوج اپنے عہد سے وفا کرے اور سیاست میں حصہ نہ لے اور پھر جب جنرل ضیاء نے ایک جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹ کر وزیراعظم کو جھوٹے مقدمہ میں ایک تابعدار عدلیہ کی مدد سے پھانسی دے دی تو بھی کسی فوجی نے (سوائے جنرل محمد اقبال خان) یہ نہ کہا کہ یہ غلط کام ہے ایسا نہ کیجئے ورنہ یہ ملک تباہ ہوجائے گا بلکہ سیاست دانوں اور عدلیہ نے ضیاء الحق کے ہر غیر قانونی کام کو جائز قرار دے دیا۔ لوگوں کے فیصلہ کا قدرت کے فیصلہ پر کچھ اثر نہ ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمان کے مطابق کہ ”وہ بھی سازش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی تدبیریں کرتا ہے“۔ ضیاء الحق کو عبرت ناک موت سے ہمکنار کر دیا اور آپ اس وقت کے اخبارات اُٹھا کر دیکھ لیجئے کہ وہ لوگ جو مشرف کے مقدمہ کو قیامت کے آمد سے مشابہت دیتے رہے ہیں ان میں سے ایک نے بھی یہ نہ کہا کہ ایک جمہوری حکومت کا غیر قانونی طور پر تختہ اُلٹنے اور ایک جعلی مقدمہ میں وزیر اعظم کو پھانسی پر لٹکا دینا ملک کے لئے کس قدر مضر ثابت ہوگا۔ ہر ایک بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں آگے آگے تھا۔ اس وقت وزیر اعظم کے ساتھ جو سلوک کیا گیا تھا وہ ہماری تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔ ان کو چھوٹی سی کوٹھڑی میں ڈالا گیا۔ زمین پر سونے پر مجبور کیا گیا، مچھروں نے ان کے بدن کو زخموں سے بھر دیا تھا، ان کے دانتوں میں سخت تکلیف تھی علاج کی سہولت نہیں دی گئی تھی۔ اس وقت میں ایک دن چاندنی چوک میں واقع ایک آرکیٹکٹ کمپنی کے دفتر میں قمر علی علوی کے پاس اپنے گھر کے نقشہ کے بارے میں مصروف تھا کہ جنرل شوکت تشریف لائے اور انہوں نے بھٹو صاحب سے ملاقات کی تھی وہ غصہ میں آگ بگولہ ہورہے تھے اور اُنہوں نے ضیاء الحق کو اس کے اس بے رحمانہ رویّے پر سخت لعن طعن کی اور کہا کہ میں نے ضیاء سے کہ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ ضرور دے گا اور وہی ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے جہنم نما آگ میں بھُسم کردیااور اب ملک کے سب سے بڑے فرعون کا حشر آپ کے سامنے ہے جس طرح اس نے دستور کو پامال کیا، عدلیہ کی تضحیک کی، معزز جج صاحبان کو نظر بند کیا۔ آپ ذرا اس کا تکبر دیکھئے کہ اس شخص کو جس نے اس کو عزّت دی تھی، اعلیٰ ترین عہدے پر بٹھایا تھا اس کی کس قدر بے عزّتی کی جیلوں میں ڈالا، ہتھکڑیاں لگائیں اور ملک بدر کر دیا۔ والد کے انتقال پر ان کی تجہیز و تدفین میں شرکت کی اجازت نہ دی اور سپریم کورٹ کے احکامات کی توہین کرکے ان کو دوبارہ ملک بدر کردیا۔ یہ وہ تمام جرائم ہیں جن کی سزا ایک بار نہیں کئی بار پھانسی یا عمر قید بنتی ہے اور جب یہ فرعون یہ تمام کام کررہا تھا اس وقت کسی ’رحم دل‘ شخص نے اس سے یہ نہ کہا کہ ایسا نہ کرو اس کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔ایسا نہ کرو کہ ملک کی بدنامی ہوگی، ایک غلط مثال بن جائے گی، ہماری جگ ہنسائی ہوگی۔قوم کبھی معاف نہ کرے گی۔ نہیں یہ کچھ نہیں کہا گیا، اس کو یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ جس ادارے کا وہ سربراہ ہے عوام اس کی عزّت و تکریم کرتے ہیں ایسی غیر قانونی اور آمرانہ اقدامات سے ادارے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ جب اس نے پاکستانیوں کو امریکہ کے حوالے کرکے رقم وصول کی اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ کے حوالے کیا تو بھی کسی ”محب وطن“ پاکستانی نے اس کے خلاف آواز بلند نہیں کی بلکہ کھلے عام نعرے لگائے کہ ہم 100 بار اس کو وردی میں (یعنی دستور اور قانون کے خلاف) صدارت کے عہدہ پر بٹھائیں گے۔
جناب احمد رضا قصوری نے کچھ زیادہ ہی محبت سے پیروی کرنے کا فرض ادا کردیا ہے۔ پریس کانفرنس میں آپ چڑیا اور بچّے کے درمیان کھانا کھلانے کی باتیں کرکے رو رہے تھے۔ شاید وہ یہ بھول گئے میں سخت بیمار تھا اور تین سو گز پر میری چھوٹی بیٹی اور کمسن نواسیاں رہتی تھیں اُنہیں مجھ سے چھ چھ ماہ ملنے نہیں دیا گیا۔ میری بڑی بیٹی کو ایک سال تک ہم سے ملنے نہیں دیا گیا، کراچی میں مقیم بہن بھائیوں کو مہینوں ملنے نہیں دیا گیا اور تو اور ہماری کے آر ایل اسپتال کے سابق سربراہ اور ہمارے فیملی ڈاکٹر جنرل ریاض احمد چوہان کو مہینوں ہم سے ملنے نہیں دیا گیا، اس وقت کسی ”ہمدرد اور محب وطن“ کی آنکھیں نم ہوئیں اور نہ ہی رقت طاری ہوئی اور اب ڈکٹیٹر کو اس کے جرائم کی جواب دہی کے لئے پیش کیا گیا ہے تو ہمدردوں نے کھلے عام رونا شروع کردیا ہے۔ وہ یہ بھی بھول گئے کہ اللہ تعالیٰ نے کلام مجید میں بار بار انتباہ کیا ہے کہ ظالموں کے لئے اس نے بڑا دردناک عذاب تیار کررکھا ہے اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔
مشرف کو ججوں کے سامنے دیکھ کر شیخ سعدی  کا بیان کردہ ایک واقعہ یاد آگیا کہ ان کا ایک جاننے والا اپنی شہ زوری اور بہادری پر بڑا نازاں تھا ۔ ایک روز جنگل میں اس کا مقابلہ ایک کمبل پوش سے ہوگیا ۔ اس نے کمبل پوش پر تیروں کی بوچھاڑ کردی مگر ایک تیر بھی اس کے کمبل میں سے نہ گزر سکا۔ کمبل پوش شہ زوروں کی طرح آیا اور اسے اپنی کمند کے حلقہ میں پھانس کر لے گیا اور اپنے خیمے کے دروازے پر پٹخ کر مشکیں کس دیں۔ یہ شخص بے حد شرمندہ ہوا اور رات بھرتڑپتا رہا۔ ایک ملازم نے پوچھا کہ آپ تو بڑے بہادر اور شہ زور تھے یہ کیا ہوا۔اس نے جواب دیا کہ اگر موت آجائے تو بہادر سے بہادر بھی نہیں بچ سکتا۔ میری تقدیر نے میرا ساتھ چھوڑ دیا اور کمبل بھی میرے لئے ڈھال بن گیا۔ میرے اوپر بھی بُرا وقت آگیا اور اس کو کوئی نہیں ٹال سکا۔
یہ واقعہ پڑھ کر مجھے یہ یقین ہوگیا کہ واقعی مشرف کا بُرا وقت آگیا ہے کہ اس نے کمبل پوش (یا سیاہ گاؤن والے) سے ٹکر لے لی اور اس سیاہ گاؤن والے نے اس کے ہاتھ پیر باندھ کر فرش پر ڈال دیا اور اب اس کا مکافات عمل جاری ہے۔ واقعی اللہ تعالیٰ اتمام حجّت کیلئے ظالموں کو مہلت ضرور دے دیتا ہے مگر آخر میں اس کے اعمال کی سخت سزا دیتا ہے۔ اللہ کی گرفت سے کوئی ظالم بچنے والا نہیں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: