Prof Abdullah Bhatti Today's Columns

رانی بیٹی از پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی ( بزمِ درویش )

Prof Abdullah Bhatti

راجہ صاحب اپنی بیٹی کے ساتھ میرے سامنے بیٹھے تھے ہم دونوں رانی بیٹی کے لیے بہت قابل احترام تھے لیکن وہ اپنی ضد پر اڑی ہوئی تھی کہ میں شادی نہیں کروں گی میں زندگی کی آخری سانس تک اپنے باپ کی خدمت میں گزارنا چاہتی ہوں میں نے قرآن و حدیث کے بہت سارے حوالے دئیے جنہیں سن کر وہ خاموش ہو جاتی لیکن وہ ماننے کو تیار نہیں تھی لیکن پھر بھی میں اور راجہ صاحب دیر تک رانی کو سمجھاتے رہے جب رانی پھربھی نہ مانی تو فیصلہ یہ ہوا کہ رانی ابھی وقت لے اچھی طرح سوچ کرجواب دے کیونکہ رانی کی ضداور باپ سے والہانہ محبت و عشق کی وجہ سے راجہ صاحب نے اپنے بھائی کے بیٹے کو داماد کے طور پر چُنا تھا ساتھ یہ بھی فیصلہ کیا تھا کہ وہ گھر داماد بن کر رہے گا لیکن رانی پھر بھی ضد پر اڑی تھی پھر راجہ صاحب واپس راولپنڈی چلے گئے اور میں بھی زندگی کے ہنگاموں میں اُلجھ کر رہ گیا چند ماہ گزر گئے راجہ صاحب سے ملاقات اور فون پر بات جاری تھی پھررانی بیٹی کی زندگی میں قیامت برپا ہو گئی میں ایک رات سوکر اٹھا تو میرے فون پر رانی بیٹی کے سینکڑوں میسجز آئے ہوئے تھے بابا کو ہارٹ اٹیک ہو گیا وہ ہسپتال جا رہے ہیں آپ دعا کریں اسطرح کے لاتعداد پیغامات پھریہ خاموشی میں نے فون کیا تو کسی نے اٹھا یا کہ راجہ صاحب وفات پا گئے ہیں اور رانی بیٹی غم کی شدت سے بے ہوش ہو گئی ہے اب وہ زندگی موت کے درمیان جھول رہی ہے راجہ صاحب کی وفات کا سن کر میرا بھی سانس رکنا شروع ہو گیا طویل رفاقت کے بعد راجہ صاحب کی وفات باتیں پیار سب کچھ نظروں کے سامنے سے گزر رہا تھا میں کتنی دیر سکتے کے عالم میں دماغ سن جیسے کوہ ہمالیہ میرے اوپر آگرا ہو پھر تھوڑ انارمل ہوا تو ایک ہی خیال بار بار کہ رانی جس دیوانگی سے اپنے باپ سے پیار کرتی تھی اُس کا کیا بنے گا وہ جس نے ساری زندگی اپنے باپ کے نام لگا دی تھی جو چوبیس گھنٹے باپ کو نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتی تھی جب اُس کے باپ کو منوں مٹی کے نیچے دفن کر یں گے تو اُس کا حال کیاہو گا وہ اپنے ہوش و حواس میں کس طرح رہے گی یہ سوچ سوچ کر میرا دماغ شل سا ہورہا تھا غم کا پہاڑ رانی پر گر گیا تھا اب وہ کیسے جیئے گی باپ کے بغیر کیسے زندگی کے باقی دن پورے کرے گی تین چار دن میرے حواس بھی معطل رہے جب کچھ نارمل ہوا تو میں راجہ صاحب کی بیگم سے افسوس کر نے ان کے گھر گیا تو بیچاری مجھے دیکھ کر دھاڑیں مار مار کر بہت روئی کہ آپ کا دیوانہ راجہ تو مٹی کی چادر اوڑھ کر سو گیا اب میں اکیلی رانی بیٹی کو کس طرح سنبھالوں رانی کا پتہ کیا تو پتہ چلا مسلسل بے ہوشی میںہے ڈاکٹر بار بار نیند کا انجکشن لگا کر سلا دیتے ہیں پھر کچھ وقت گزار کر میں راجہ صاحب کی بیگم کو آہوں سسکیوں میں روتا بلکتا چھوڑ کر لاہور آگیا لیکن راجہ صاحب کی وفات دل پر خنجر کی طرح ترازو ہو گئی تھی میںراجہ صاحب کی بیگم سے رابطے میں تھا جو رانی بیٹی کے لیے بہت پریشان تھی وقت بہت بڑا مرہم ہے لیکن یہاں تو وقت کا یہ قاعدہ بھی مسلسل فیل ہو رہا تھا دنوں پر دن گزرتے گئے رانی ہوش اور بے ہوشی میں پنڈولم کی طرح جھول رہی تھی جب بھی ہوش میںآتی باپ کی جدائی پاگل پن کے دورے کی صورت میں پڑتی اور دیوانہ وار قبرستا ن جانے کی کوشش کرتی تو گھر والے پکڑ لیتے اب اُس نے راتوں کو بھاگنا شروع کر دیا جب باپ کی یاد آتی دوڑ کر قبرستان چلی جاتی اب ماں تالہ لگا کر رکھتی اِس دورا ن میں نے بھی بات کر نے کی کوشش کی لیکن بیچاری کی دماغی حالت ٹھیک نہیں تھی بے ربط گفتگو کر تی مسلسل پاگل پن کے دوروں کی وجہ سے اب رانی کا علاج شروع کر دیا گیا کچھ دن بعد رانی کچھ نارمل ہو ئی تو ایک دن مجھے فون آیا مرشد بابا جان میں آپ سے ملنا چاہتی ہوں تو میں نے کہاجب دل کرے آئو تو ماں کے ساتھ میرے پاس آگئی غم اور با پ کی جدائی دیمک کی طرح رانی کو کھا رہی تھی جوانی کے رنگوں کی جگہ قبرستان کے سناٹوں کا راج تھا رانی بہت خوبصورت تھی جو اب راکھ کا ڈھیر نظر آتی تھی میرے سامنے آئی تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی میری آنکھیں بھی اُس کی حالت زار دیکھ کر بھیگنے لگیں خوب رو کر بولی مرشد بابا میں آپ سے معافی مانگتی ہوں تو میں حیران ہو کر گلو گیر لہجے میںبولا تم میری بیٹی ہو معافی کس بات کی تو بولی آخری بار جب میںآپ سے ملی تھی تو میرے بابا جان بھی ساتھ تھے آپ دونوں میری زندگی کے سب سے زیادہ قابل احترام رشتے تھے آپ دونوں نے مجھے بہت سمجھایا کہ شادی کرلوں لیکن میں نے آپ دونوں کی بات نہیں مانی اِس لیے خدا نے مُجھ سے میرا باپ میرا سب کچھ چھین لیاآپ مجھے معاف کر دیں تو میں نے پیار سے رانی کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا بیٹی میں ناراض نہیں ہوں تم میری جان ہو کبھی ناراضگی کا سوچ بھی نہیں سکتا تو وہ بولی اب میں آپ کے پاس اِس لیے آئی ہوں کہ میں کیا کروں کہ میرا باپ اگلے جہاں میں خوشی سے رہے اور اگر انہوں نے زندگی میں کوئی غلطی گناہ کیا ہو تو وہ اللہ تعا لی معاف کر دے مجھے ایسی عبادت ذکر اذکار بتائیں جس کے کرنے سے میرا والد جنت کے اعلی درجنوں میں خوشی سے رہے میرا باپ آپ سے دیوانہ وار پیار کر تا تھا اب میں آپ کو ان کی جگہ پر دیکھتی ہوں اب آپ مجھے جو جیسے کہیں گے میں کروں گی آپ مجھے حکم کریں میں زندگی کا ہر سانس عبادت میںگزارنا چاہتی ہوں ایسی عبادت وظیفے راتوں کو جاگنا کہ میرے والد کو خوشی راحت نصیب ہو اب میری زندگی کا مشن اپنے والد کے لیے عبادت کر نا ہے وہ باپ کو یاد کر کے روتی چلی جارہی تھی اورمجھے بھی رلاتی جا رہی تھی جب وہ خوب بول چکی تو میں بولا بیٹی اگر تم اپنے باپ کو اور مجھے خوش کر نا چاہتی ہو تو باپ کی آخری خواہش پوری کرو اور جہاں وہ کہتے تھے وہاں شادی کر لو فرشتے جب جاکر بتائیں گے تم اُس جگہ شادی کر رہی ہو جہاں راجہ صاحب چاہتے تھے شروع میں تو رانی نے انکار کیا لیکن باپ کی آخری خواہش کے سامنے ہار گئی اور صرف ایک شرط لگائی کہ وہ زیادہ سے زیادہ اپنے باپ کے لیے عبادت کر نا چاہتی ہے اِس سے خاوند مجھے نہ روکے پھر رانی نے کہا آپ مجھے زیادہ سے زیادہ عبادت نوافل ذکر اذکار بتائیں جو میںباپ کے لیے کرنا چاہتی ہوں پھر رانی چلی گئی اور جاکر والد کے اگلے جہاں کی خوشی کے لیے شادی کر لی اور عبادت میں لگ گئی سالوں پر سال گزرتے گئے اللہ نے اُس کو دوبیٹے عطا کئے اب بچوں کی پرورش خاوند کی خدمت اور باقی سارا وقت وہ خدا کی عبادت اور باپ کی راحت کی دعائیں کرتی ایک وظیفہ ختم ہوتا تو دوسرا شروع کر دیتی ساری ساری رات نوافل اور قرآن پاک کی تلاوت کرتی کثافت لطافت میںبدلی تو مشاہدات شروع ہو گئے سچے خوابوں سے زیارتوں کا نہ ختم ہو نے والا سلسلہ شروع ہو گیا جو وہ مجھے بتا دیتی جب کبھی لاہور آتی تو ملنے آجاتی آج جب میں گرمی سے چھپ کر اپنے حجرے میںبیٹھا تھا تو رانی بیٹی آگئی اب میرے سامنے بیٹھی تھی مشاہدات کا ذکر کرتے ہوئے بولی مرشد سرکار عبادت سے جو بڑا فائدہ وہ باپ کی جدائی کا غم کم ہوا اب جب تہجد کے وقت نوافل میں مصروف یا قرآن مجید پڑھتی ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ خدا میرے سامنے ہے اورمیری دعائیں باتیں سن رہا ہے اُس وقت میری خاص حالت ہو تی ہے اور بھی بہت سارے سوال کئے جن کے میںنے جواب دئیے تو بولی لاہور کزن کے گھر آئی تو آپ کو سلام کر نے آگئی پھر جب رانی بیٹی پیار لے کر جانے لگی تو میں بولا بیٹی جب تک رات کو عبادت کے دوران یہ محسوس کرو کہ خدا تمہارے قریب ہے اور تمہاری باتیں سن رہا ہے تو اپنے اِس گناہ گار مرشد کے لیے بھی معافی اور برکت مانگ لینا اور رانی وعدہ کر کے چلی گئی اورمجھے وہ پہلی ملاقات یاد آگئی جب راجہ صاحب ننھی پری رانی کومیرے پاس لائے تھے یہ دنیا بیٹیوں کے دم سے ہی جنت ہے ۔

About the author

Prof Abdullah Bhatti

Prof Abdullah Bhatti

Leave a Comment

%d bloggers like this: