Muhammad Akram Chaudhry

پیپلز پارٹی کس کے ساتھ نہیں چل سکتی، کس کا برا وقت شروع ہونے والا ہے؟؟

پیپلز پارٹی کس کے ساتھ نہیں چل سکتی، کس کا برا وقت شروع ہونے والا ہے؟؟

پاکستان پیپلز پارٹی ن لیگ کے ساتھ نہیں چل سکتی، دونوں جماعتوں ک نظریہ مختلف ہے، طرز سیاست مختلف ہے، سوچنے کا انداز مختلف ہے، سیاست کا علاقہ مختلف ہے۔ دونوں جماعتوں کی تاریخ مختلف ہے اور دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی سب سے بڑی حریف ہیں۔ ماضی میں دونوں جماعتوں کے بڑے ایک دوسرے پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں۔ ماضی قریب میں بھی آصف علی زرداری اور شہباز شریف نے ایک دوسرے کے خلاف جو زبان استعمال کی وہ سب کو یاد ہے۔ قومی مسائل پر دونوں کی پالیسی مختلف ہے۔ یہ اتحاد تو صرف اور صرف ذاتی مفادات کے لیے ہے۔ دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کو عدالتوں میں ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے دونوں جماعتوں کی کمزور معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ہی آج پاکستان مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ قرضوں میں دھنسا ہوا ملک ان دونوں کا تحفہ ہے، ملکی اداروں کی تباہی ن دونوں جماعتوں کے غلط فیصلوں ک نتیجہ ہے۔ لگ بھگ پینتیس سال تک اقتدار میں رہنے والی یہ دونوں جماعتیں آج کرپشن کے مقدمات بھگت رہی ہیں، کرپشن لاکھوں کروڑوں کے بجائے اربوں کھربوں تک جا پہنچی ہے اتنی لوٹ مار کے باوجود ان کے دل نہیں بھرے، آج بھی لالچ میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ انہیں گود سے گور تک ایک ہی کام ہے کہ پیسہ کیسے بنانا ہے۔ بار بار اقتدار حاصل کرنے اور اربوں کھربوں بنانے کے باوجود مزید لوٹ مار کے خواہشمند ہیں، ایک طرف مقدمات ہیں تو دوسری طرف اقتدار کا راستہ رک گیا ہے تو دونوں اکٹھے ہو گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے دونوں جماعتیں حکومت میں ہوتے ہوئے قومی مسائل پر بھی کبھی اتفاق رائے پیدا نہیں کر سکیں نہ انہوں نے ایک دوسرے کو اتنا سپورٹ کیا ہے۔ انہیں ملکی مسائل یا عام آدمی کا دکھ درد ہوتا تو حکومت میں ہوتے ہوئے اتحاد کا خیال کیوں نہیں آیا اس وقت تو ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں لگے رہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی حکومت میں ہو تو میاں نواز شریف کی مسلم لیگ ساتھ نہیں دیتی اور میاں نواز شریف اقتدار میں ہوں تو آصف علی زرداری نہیں پکڑے جاتے۔ بلی چوہے کا کھیل جاری رہتا ہے۔ اب دونوں جماعتیں اپوزیشن میں ہیں تو اخلاقیات کے اعلیٰ درجے پر نظر آتی ہیں۔ دونوں کی زبانوں سے ایک دوسرے کے بارے پھول جھڑ رہے ہیں۔ یہی پاکستان کی سیاست کا سب سے مکروہ عمل ہے۔ عوام کے لیے، ملکی مسائل کے لیے، مہنگائی کم کرنے، تعلیم کے معیار کو بلند کرنے، صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے تو کبھی ایک نہیں ہوئے لیکن اپنا مال بچانے، مستقبل میں اپنے حصے کا حلوہ اکٹھا کرنے کے لیے سب دشمنیاں بھول کر سادہ لوح اور معصوم عوام کو استعمال کرنے کے لیے اکٹھے ہو گئے ہیں۔ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ درحقیقت ہارے ہوئے، مسترد شدہ، کرپٹ، ناکام اور آزمائے ہوئے مفاد پرستوں کا اجتماع ہے جس میں دو بڑی جماعتوں کا حصہ زیادہ ہے۔ اس اتحاد اور پاکستان پیپلز پارٹی کی خفیہ سیاست کو دیکھ کر یہ کہنا مشکل نہیں ہے کہ دونوں جماعتوں کا یہ اتحاد زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔ اس کی وجہ ماضی کے واقعات اور موجودہ حالات بھی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی ان تمام قوتوں سے مسلسل قریبی رابطے میں ہے جنہیں میاں نواز شریف اپنا حریف قرار دیتے ہیں۔ یوں دونوں کے مابین یہ واضح فرق ہے یہی فرق اور سوچ آگے چل کر دونوں کے لیے مسائل پیدا کرے گی۔
پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم سے میاں نواز شریف نے جو باتیں کی ہیں اور جو انداز اپنایا ہے اس کے بعد یہ کہنا مشکل نہیں کہ اس اتحاد کی دیگر جماعتوں نے ان کی تائید نہیں کی بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی تو ان کے اس نظریے کو کبھی سپورٹ نہیں کرے گی اگر انہیں موقع ملا تو وہ الگ ہونے میں بھی وقت نہیں لگائیں گے۔ دوسری طرف میاں نواز شریف کے افواجِ پاکستان پر حملوں کے بعد ان کی اپنی جماعت میں بھی تقسیم واضح ہو چکی ہے۔ میاں نواز شریف کی جماعت کے اکثریتی اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی اپنے قائد کے اس بیانیے کی حمایت نہیں کرتے چونکہ ہمارا سیاسی کلچر ایسا ہے کہ سیاسی جماعتوں میں پارٹی سربراہ کی تمام خامیوں اور غلطیوں کو جانتے ہوئے بھی اسے نظر انداز کیا جاتا ہے۔ چونکہ ہماری سیاسی جماعتوں میں بدترین آمریت قائم ہے اظہارِ رائے کو شدید برا سمجھا جاتا ہے اور ہم اپنے اراکین کو بھی غلاموں کی طرح ہی رکھتے ہیں کبھی اختلاف رائے رکھنے والوں کی حمایت نہیں کی نہ کبھی ایسی روایات کو فروغ دیا ہے بلکہ ہم سیاسی غلاموں جیسی تربیت کرتے ہیں ایسی قیادت کے خواہشمند ہوتے ہیں جو لکھے پڑھے بغیر بس انگوٹھا لگائے اور دستخط کر دے۔ اس ماحول میں کوئی منتخب نمائندہ بھی رائے کا اظہار کرنے سے چھپتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میاں نواز شریف کی جماعت میں اعلانیہ طور پر اداروں کے حوالے سے ان کی تنقید ہر کھلم کھلا گفتگو نہیں کی گئی لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ پوری مسلم لیگ ن ہاتھ باندھ کر میاں نواز شریف کے پیچھے کھڑی ہے۔ لوگ انتظار کر رہے ہیں آخرکار انہیں اس بیانیے کی وجہ سے میاں نواز شریف سے علیحدگی اختیار کرنا ہی پڑے گی۔ ممکن ہے پاکستان ڈیمو کریٹک کے دو تین مزید جلسوں کے بعد لوگ نکلنا شروع ہو جائیں ممکن ہے یہ کام اس سے پہلے شروع ہو جائے لیکن یہ بات طے ہے دسمبر کے تیسرے ہفتے تک صورت حال بدل جائے گی۔ یہ تو نہیں کہتا کی ن میں سے ش نکلے گی یا م الگ جماعت بن جائے گی یا کوئی اور دھڑا سامنے آئے گا لیکن یہ ضرور ہے کہ مسلم لیگ ضرور بن جائے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے ن لیگ کے کم از کم نوے فیصد اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی یہ سمجھتے ہیں کہ میاں نواز شریف کا اداروں کے حوالے سے بیانیہ غلط ہے اور وہ چیف آف آرمی سٹاف اور ایک فوجی کو نہایت اہم سمجھتے ہیں۔ وہ اپنی فوج کی قدر کرتے ہیں، اپنے فوجیوں اور افسران سے محبت کرتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں میاں نواز شریف کے اس بیانیے کو اسی وجہ سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا ممکن ہے جماعت میں سے کچھ لوگ میاں نواز شریف کو سمجھانا شروع کر دیں کوشش ضرور کی جائے گی لیکن میاں نواز شریف کا سمجھنا ذرا مشکل ہے کیونکہ وہ جس راستے پر چل نکلے ہیں اس کے بعد ان کے لیے اس بیانیے کے ساتھ پاکستان میں سیاست کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ ویسے تو پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کو بھی یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اس ساری مشق سے انہیں کچھ بھی نہیں ملے گا۔ اس لیے جس نے سیاست کرنی ہے اسے یہ جان لینا چاہیے کہ عدالتوں میں موجود مقدمات کے بغیر اب آگے بڑھنا ممکن نہیں ہو گا دوسری طرف اداروں کو متنازع بنا کر ذاتی مفادات کے حصول کی حکمت عملی بھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ یہی بات میاں نواز شریف کو بری لگی ہے کہ نہ تو انہیں کرپشن مقدمات سے نجات مل رہی ہے نہ ان کی چوری کو تحفظ دیا جا رہا ہے نہ ان کے لیے مستقبل کا راستہ کھل رہا ہے۔ یہی غم انہیں کھائے جا رہا ہے۔ ہر صورت اقتدار کے نشے نے انہیں الطاف حسین ثانی بننے ہر مجبور کر دیا ہے۔
میاں نواز شریف کا بیانیہ اور انکی سیاست کسی صورت ایک ساتھ نہیں چل سکتی۔ یہ بیانیہ پاکستان کے دفاع کے لیے بھی اتنا ہی خطرناک ہے جتنا کہ بھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی کا ہے اس لیے انہیں کوئی محب وطن پاکستانی اس امپورٹڈ نظریے یا بیانیے کے ساتھ قبول نہیں کر سکتا۔ افواجِ پاکستان نے ملکی سلامتی کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں انہوں نے قیمتی جانوں کا نذرانہ دے کر ملک کی سلامتی کو یقینی بنایا ہے۔ ملک کو دہشت گردوں سے نجات دلائی ہے۔ برسوں کی کوششوں اور شہادتوں سے اپنے اندر چھپے ملک دشمنوں کا صفایا کیا ہے، ملک میں امن بحال ہوا ہے تو ایسے وقت میں میاں نواز شریف اپنے امپورٹڈ بیانیے کے ساتھ نفرتیں پھیلانا اور اداروں میں انتشار پھیلانے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں ان حالات میں ان کے ساتھ کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں کی جا سکتی ان کی اپنی جماعت بھی یقیناً زیادہ دیر تک ایسا رویہ برداشت نہیں کر سکے گی۔ ہم سب کو مل کر اپنی افواج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور ان کے ساتھ مل کر تمام سازشوں کو ناکام بنانا ہو گا۔

About the author

Peerzada M Mohin

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

Leave a Comment

%d bloggers like this: