مسلمان اور اسلامی مُملکت

الیکشن کیا آیا ہے کہ واقعی پنڈروا کا بکس ہی کھل گیا ہے۔ سیاسی لیڈروں کی گزشتہ کارستانیوں اور گڑبڑ کے تمام راز فاش ہوگئے ہیں۔ تمام حقائق جان کر انسان کا سر شرم سے جھک جاتا ہے کہ ہمارے لیڈروں کا یہ کردار ہے اور کس طرح انہوں نے غریب عوام کی محنت سے کمائی ہوئی اربوں روپیہ کی دولت آنکھ پر تل آئے بغیر ہضم کر لی ہے، ایک سوچے ساچے سمجھوتے کی خاطر حکمراں، حزب اختلاف اور بیورو کریٹس نے مل کر اس قریب المرگ، کمزور مریض ملک کا خون چوسا ہے اور اس کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔
تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک آزاد عدلیہ اور ایک آزاد الیکشن کمیشن کار فرما ہیں۔ ان دونوں کی کارکردگی نے چوروں، لٹیروں اور جعلسازوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ نتیجتاً انہوں نے تمام آداب کو بالائے طاق رکھ کر غیر مہذبانہ زبان استعمال کرکے دونوں اداروں کو ناجائز تنقید کا ہدف بنا لیا ہے۔ جب سے امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال ہوئی ہے انہوں نے محترم جسٹس فخر الدین جی ابراہیم اور ان کے رفقائے کار کو تنقید کا تختہ مشق بنا لیا ہے۔ ریٹرننگ افسران کے سوالات اگرچہ لاہور ہائی کورٹ نے بھی غیر متعلقہ قرار دے کر ان کو روک دیا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ قانون کی شق 62 اور 63 کے تحت وہ یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں اور کوئی غیر قانونی بات نہیں کر رہے۔ مصیبت یہ ہے کہ یہاں نام نہاد

مسلمان جو سورة فاتحہ بھی نہیں سنا سکتے (اور اس طرح یہ ثابت کرتے ہیں کہ کبھی اپنے آباوٴ اجداد کی مغفرت کی دعا کی سعادت نصیب نہیں ہوئی) وہ مغربی فلسفیوں اور مصنفوں کی کتابوں سے اقتباسات کا حوالہ دے کر ہمیں مرعوب کرنا چاہتے ہیں مگر ان کو یہ سعادت نصیب نہیں ہوتی کہ ہمارے اپنے مذہب اور اس کے اعلیٰ سنہری اصولوں کا بھی تذکرہ کر دیں۔
اس وقت ہمارے روشن خیالوں نے نظریہ پاکستان یعنی آئیڈیالوجی آف پاکستان کو تختہ مشق بنا لیا ہے یعنی وہ اسلام کی تشریح مشرف سے کرانا چاہتے ہیں۔
ہم سب ہی (سب ؟) جانتے ہیں کہ پاکستان ایک علیحدہ ملک کی حیثیت سے اس لئے مانگا گیا تھا کہ ہندوستان میں ہندو اکثریت ہے۔ وہاں وہ ہم پر اپنا طرز زندگی ومذہب تھوپ کر ہمیں معاشی طور پر تباہ کرکے ایک حقیر اقلیت کے طور پر زندہ رکھنا چاہتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قائداعظم محمد علی جناح کی شکل میں ایک فرشتہ خصلت نجات دہندہ،ایک مسیحابھیجا،جنھوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے دلوں میں آگ بھڑکا دی۔ سخت جدوجہداور لاکھوں مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کی قربانی دیکر ہم نے یہ وطن عزیزحاصل کیا۔ پاکستان کے مطالبہ کے پیچھے جو مقصد تھا وہ قائداعظم نے 18 فروری 1948ء کو فرمایا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ پاکستان کا ایک ایسا جمہوری آئین ہوگا جس میں اسلام کے بنیادی اصول شامل ہوں گے۔ان اصولوں کااطلاق آج بھی اس طرح ہو سکتا ہے جیسے 13 سو برس قبل تھا۔ ہمیں جمہوریت کا سبق اسلام اور اس کی روح نے ہی دیا ہے۔انہیں اصولوں نے ہمیں انسانی مساوات، انصاف اور غیر جانبداری سکھائی ہے پاکستان کے لئے آئین کی تشکیل کرتے ہوئے ہمارے سامنے اپنے ماضی کی شاندار روایات ہیں۔ حق کے ہم وارث ہیں۔ پاکستان ایک مذہبی ریاست نہیں بنے گا جس پر کٹھ ملاوٴں کی حکومت ہو۔ قائداعظم کی ہدایت اور عوام کی خواہشات کے مطابق علامہ شبیر احمد عثمانی، سردار عبد الرب نشتر اورڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے اقتدار اعلیٰ، جمہوریت، وفاقی نظام،بنیادی حقوق اور اقلیتی حقوق کے متعلق قرار داد مرتب کی اور لیاقت علی خان کی تحریک پر آئین ساز اسمبلی نے 12 مارچ 1949ء کو اسے منظور کر لیا تھا۔ اس نے پاکستان کی نظریاتی سمت متعین کر دی۔ اس میں دس نکات تھے جس میں چار بہت اہم اور بنیادی نکات یہ تھے کہ (1) تمام کائنات پر حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو حاصل ہے۔اللہ تعالیٰ نے مملکت پاکستان کو اس کے عوام کے ذریعہ جو اقتدار اپنی مقررکردہ حدودمیں عطا کیاہے وہ ایک مقدس امانت ہے۔(2) مسلمانوں کو یہ سہولت دی جائے گی کہ وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو اسلامی تعلیمات اور تقاضوں کے مطابق بسر کر سکیں گے۔اسلامی اصول قرآن اور سنت اور کے تابع ہوں گے۔ (3) عوام کی نمائندہ حکومت جمہوری طرز کی ہو گی اور(4) ملک کے تمام شہریوں کو کسی امتیاز کے بغیر بنیادی حقوق حاصل ہوں گے۔ شہری اپنے سیاسی، مذہبی، سماجی اور معاشی حقوق سے پوری طرح مستفید ہو سکیں گے اور ان حقوق کی ضمانت عدلیہ فراہم کرے گی، وغیرہ وغیرہ۔ بعد میں سپریم کورٹ نے جسٹس حمود الرحمن کی سربراہی میں اس کو دستور کا لازمی حصہ قرار دے دیا۔ اسی طرح 1973ء کے دستور میں آرٹیکل 2 میں اسلام کو ریاست کا مذہب قرار دیدیااوراوپرذکر کردہ قراردادمقاصد کو آرٹیکل2-Aکی شکل میں شامل کر دیا گیا۔
دیکھئے یہ توہیں دستورکے بنیادی اوراہم نکات، مگر ہمارے نام نہاد دانشوروں نے اسلام، قرآن واحادیث نبوی کی بنیادی روح کو تو پس پشت ڈال دیا اور نظریہ پاکستان کی طرح طرح سے اپنی مرضی اور مفاد کی تشریح شروع کر دی گویا قرآن واحادیث کو چھوڑ کر داڑھی اور شلوار کی لمبائی سے مذہب کی تشریح ہونے لگی اور آرٹیکل 62 اور 63 کو بتنگڑ بنا کر ہمیں غیر اہم بحث میں الجھا دیا۔
دیکھئے اہم بات یہاں یہ ہے کہ ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ قرآن اور سنت کی روشنی میں مملکت اور انفرادی شخصیت کی کیا حیثیت ہے۔ ”وہ شخص جو رضاکارانہ طور پر تصدیق کرتا ہے اور شہادت دیتا ہے کہ اللہ ایک ہے اور وہی تمام کائنات کا خالق اور مالک ہے۔ تمام پیغمبروں پر یقین رکھتا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین مانتا ہے اور قرآن مجید کو اللہ کا آخری پیغام تسلیم کرتا ہے،یوم قیامت پر ایمان رکھتا ہے اور اپنے اعمال کی اللہ رب العزت کے سامنے جواب دہی پر ایمان رکھتا ہے، پانچ وقت کی نمازیں ادا کرتا ہے اور روزے رکھتا ہے، زکوٰة دیتا ہے اور اگر استعداد ہو تو زندگی میں کم از کم ایک بار فریضہ حج ادا کرتا ہے، عہد کرتا ہے کہ وہ اپنی زندگی قرآن وسنت نبوی کی ہدایات کے مطابق گزارے گا اور عہد کرتا ہے کہ وہ تمام غلط اور گناہ کے اعمال سے اجتناب کرے گا مثلاً زنا، اغلام، جوا، ناجائز قتل غارت گری،دوسرے کے مال ودولت پر ناجائز قبضہ، یتیم کا مال کھانا، تو ایسا شخص مسلمان ہے۔ مندرجہ بالا بیان کی روشنی میں اور قرآن واحادیث کی روشنی میں ایک مسلمان کی تعریف نہایت آسان ہے اس تعریف میں کسی قسم کا ابہام نہیں ہے۔ آپ کو یہ سمجھنے کے لئے اسلامیات میں جامع الازہر سے پی ایچ ڈی کی ڈگری کی ضرورت نہیں ہے۔ کلام مجید کی ترجمہ کے ساتھ تلاوت اور احادیث کا تھوڑا سا مطالعہ اس کیلئے کافی ہے۔ کم سے کم تعلیم یافتہ افراد بھی مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک ان اصولوں سے واقف ہیں۔ وہ لاکھوں افراد جن کو ہم حج وعمرہ کرتے دیکھتے ہیں ان میں سے اکثریت ایسے ہی سیدھے سادے لوگوں کی ہے۔مسلمان کی تعریف کے بعد آئیے ہم دیکھیں کہ اسلامی مملکت کی کن الفاظ میں تعریف ونشاندہی کی جا سکتی ہے۔ مسلمان کی تعریف کے بعد اسلامی مملکت کی نشاندہی زیادہ پیچیدہ مرحلہ نہیں ہے۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہے کہ وہ تمام شہریوں کی جان ومال کی حفاظت کرے، ان کی عزت، نجی زندگی کے رازوں اور قانون کے اندر اظہار خیال کی حفاظت کرے،اپنی زندگی اسلامی اصول کے مطابق گزارسکے اور حلال وجائز طریقہ سے اپنے تمام نیک مقاصد حاصل کرسکے۔ یہی نہیں بلکہ نظام حکومت نہایت صاف وشفاف اور غیر جانبدارانہ ہو اور انصاف کی فراہمی بلا خوف وخطر وتفریق سب کو یکساں میسر ہو۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا تھا کہ عوام ان کی پیروی کرنے کے اس وقت تک پابند ہیں جب تک کہ وہ اللہ رب العزت کے احکامات پر عمل کریں اور انکی پیروی کریں اس کا سادہ الفاظ میں یہ مطلب ہے کہ اسلامی مملکت اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کی پابند ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی حکومت نے عوام کی رائے اور پسندیدگی اور ناراضگی کو اللہ کے احکامات پر فوقیت دی وہ اسلامی مملکت نہیں رہی۔ مسلمانوں کی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنی مرضی سے کبھی انفرادی حکومت یا تسلط اور ملائیت کو کبھی قبول نہیں کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ عام مسلمانوں کو اسلام کو سمجھنے میں یا احکام الٰہی اور احادیث نبوی کو سمجھنے میں قطعی کوئی مشکل کبھی نہیں آئی۔ دنیا کے کسی گوشہ میں کسی بھی مسلمان سے آپ پوچھیں کہ اچھے مسلمان کی کیا تعریف ہے تو وہ فوراً بتا دے گا۔ یہاں پرابلم خود غرض اور خود ساختہ ماہرین اسلام سے ہے کہ جو انصاف، ایمانداری، شفافیت، سچائی، خلوص، محبت، رحم، فراخدلی وغیرہ کی اسلامی تعلیمات سے بیگانہ ہو گئے ہیں ان کی نظر میں ان جیسے اہم الفاظ اور ان کے معنی نے تمام اہمیت، پاکیزگی کھو دی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورة محمد، آیت ۱۰ میں میں فرمایا ہے۔”کیا یہ (گنہگار) دنیا میں گھومتے پھرتے نہیں دیکھتے ہیں کہ ان سے پیشتر لوگوں (گنہگاروں) کا کیا حال ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت عذاب نازل کیا اور آئندہ بھی ایسے گنہگاروں کا یہی حشر ہوگا“۔ اور سورة ابراہیم، آیت42 میں فرمایا ہے۔” تم یہ گمان نہ کرو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے واقف نہیں ہے۔ اس نے تو تم کو صرف اتمام حجت کے لئے تھوڑی مہلت دی ہے اس دن تک جب تمہاری آنکھیں دہشت وخوف سے پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔عرض یہ کرنا چاہ رہا ہوں کہ اسلامی نظریہ اور دوسرے الفاظ کی موٴشگافیوں میں وقت ضائع کرنے اور پناہ ڈھونڈھنے سے بہتر ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب ترین پیغمبر کے احکامات اور ہدایات پر عمل کرو اور ملک کی حالت اور اپنی آخرت ٹھیک کرو۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: