Allama Tabassum Bashir Owaisi Today's Columns

ایثار، قومِ مسلم کا امتیازی وصف از علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی

Allama Tabassum Bashir

اللہ تعالیٰ کی رضا کے پیش نظر دوسروں کی ضرورت کو اپنی ذاتی حاجت پر ترجیح دینا ایثار کہلاتا ہے ۔ یہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کا تعلق دل اور نیت سے ہے کیونکہ جب کوئی اپنی ضرورت کو پس پشت ڈال کر دوسرے کی ضرورت کو پورا کرتا ہے تو اس وقت اللہ اس سے پوری طرح راضی ہوتا ہے اور اس کا وہ فعل بارگاہ رب العزت میں بڑا مقبول ہوتا ہے ۔اس لئے اسلام میں اس کی بے پناہ فضیلت ہے ۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ایثار کو اہل مدینہ کا و صف قرار دیا ہے کیوں کہ مسلمان جب مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ طیبہ آئے تو وہاں پہلے سے رہنے والوں نے مہاجرین کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا جس میں جذبہ ایثار قدم قدم پر نمایا ں نظر آتا ہے ۔درحقیقت خود ضرورت مند ہوتے ہوئے بھی انہوں نے اپنے مہاجر بھائیوں کی ہر لحاظ سے مدد کی اس لئے اللہ کو ان کا ایثار بہت پسند آیا۔
ایثار اہل تقویٰ کے اوصاف کا خاصہ ہے کیونکہ متقین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اخلاص اور جذبہ ایثار کے تحت اللہ کے دین کو سر بلند کرنے کے لئے اس کی راہ میںخرچ کریں تاکہ اللہ ہر طرح سے راضی ہو۔
جذبۂ ایثار کا تقاضا ہے کہ اللہ کی راہ میں دوسروں کی تکلیف دور کرنے کے لئے قیمتی سے قیمتی چیز دینے سے دریغ نہ کیا جائے اور دنیا کی اشیاء کی محبت رضائے الہٰی میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔
ایثار کے متعلق اللہ تعالیٰ نے بڑے جامع الفاظ میں یوں ارشاد فرمایا ہے ۔لن تنالوالبر حتیٰ تنفقو مما تحبون۔’’جب تک تم اپنی پیاری چیزوں سے خرچ نہ کرو ۔بھلائی ہر گز حاصل نہیں کر سکتے ۔(پارہ 4آل عمران)
اس آیت میںجذبہ ایثار کی تعریف بڑے عمدہ طریقے سے بیان کی گئی ہے کہ انسان اس وقت تک اس خاص نیکی یعنی راستہ کو حاصل نہیں کر سکتا جس سے اللہ کی خاص رحمت اور ولایت کا راز حاصل ہوتا ہے اور وہ ہے اللہ کی راہ میں محبوب اشیاء کا ایثار اس لیے رضائے الہٰی کے لئے پسندیدہ مال و متاع جسم وجان اور جاہ و منصب وغیرہ کے ایثار سے دریغ نہیں کرنا چاہیے ۔
احادیث میں ایثار:ایثار کے بارے میں رسول اکرم ﷺ کے ارشادات گرامی حسب ذیل ہیں ۔
(۱) نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے :’’ بلا شبہ صدقہ (خیرات )اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کر دیتا اور برُی موَت سے بچا تا ہے ۔‘‘ترمذی شریف
(۲) نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے :’’بیوہ عورتوں اور حاجت مندوں کی مدد کے لئے دوڑ دھوپ کرنے والا اجر وثواب میں مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے ۔‘‘مسلم شریف
(۳) رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے :’’بلا شبہ اللہ تعالیٰ بیحد سخی ہے ۔سخاوت کو پسند فرماتا ہے اور عمدہ اخلاق کو پسند فرماتا ہے اور گھٹیا اور نکمے اخلاق کو برا جانتا ہے ۔‘‘بیہقی شریف
(۴) سرکار دو عالم ﷺ کا ارشاد ہے :’’ اے ابن آدم !تیرے لئے ضرورت سے زائد مال کا خرچ کردینا بہتر ہے اور اسے رو کے رکھنا برے نتائج کا حامل ہے ۔‘‘مسلم ۔ترمذی
(۵) رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے :’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے ابن آدم! تو (مستحقین پر راہِ خدا میں) خرچ کر ۔میں تجھ پر خرچ کروں گا۔‘‘(یعنی تیری آمدنی مال و رزق میں فراخی کردوں گا)۔بخاری شریف
(۶) رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے :’’جہنم کی آگ سے بچو! اگر چہ کھجور کے ایک ٹکڑا (کے خیرات کرنے) سے ہی ہو اور اگر یہ بھی میسر نہ ہو تو اچھی بات کہہ کر بچو۔‘‘ بخاری و مسلم
(۷) حضرت بلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا:’’جو رزق تجھے عطا کیا گیا ہے اسے چھپا کر نہ رکھ اور جو کچھ تجھ سے مانگا جائے اس میں بخل سے کام نہ لے‘‘ میں نے عرض کی’’یا رسول اللہ ﷺ یہ کیسے ہو سکے گا؟‘‘فرمایا:’’ یا تو یہ روش اختیار کرنی ہو گی یا جہنم کا ایندھن بننا پڑیگا۔‘‘(طبرانی فی الکبیر ،ابن حبان ،حاکم )
(۸) سرکار دو عالم ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا:’’ صدقہ دو‘‘ ایک شخص نے عرض کی:’’ یا رسول اللہ !(ﷺ)میرے پاس ایک دینار ہے۔؟فرمایا:’’ اس کو اپنی جان پر خرچ کر۔‘‘اس نے عرض کی: میرے پاس ایک اور ہے ۔؟فرمایا :’’اس کو اپنی بیوی پر خرچ کر۔‘‘وہ بولا:میرے پاس ایک اور ہے ۔؟فرمایا:’’ اس کو اپنی اولاد پر خرچ کر۔‘‘اس نے کہا : میرے پاس ایک اور ہے ؟فرمایا:’’اس کو اپنے خادم پر خرچ کر۔‘‘اس نے کہا:میرے پاس ایک اور ہے ؟’’فرمایا :’’اس کی نگاہ تجھے زیادہ ہے ۔ ’’یعنی جہاں اچھا موقعہ دیکھو وہاں خرچ کرو۔(ابو دائود)
(۹) سرکار دو عالم ﷺ کا ارشاد ہے :’’ جس بستی میں کسی شخص نے اس حال میں صبح کی کہ وہ رات بھر بھوکا رہا ۔اس بستی سے اللہ کی حفاظت و نگرانی کا وعدہ ختم‘‘(مسند امام احمد)
ایثارخاصۂ نبوت :حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے آپ کے ایثار کے بارے میں ایک مرتبہ بیان کیا کہ :انک لتصل الرحم وتحمل الکل وتکسب المعدوم و تقری والضیف و تعین علیٰ نوائب الحق۔’’آپ تعلق کو جوڑتے اور ناتواں کا بوجھ اپنے اوپر لے لیتے اور جو چیز ان کے پاس نہ ہوتی وہ لا کر انہیں دیتے مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے مشکل میں حقدار کی مدد کرتے ۔‘‘(بخاری)
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا جذبہ ایثار:حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں غزوہ ٔ تبوک کے موقعہ پر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ :’’لشکر مجاہدین کی تیاری کے لئے چندہ دیں۔‘‘ حضور ﷺ کے اس فرمان سے مجھے نہایت مسرت ہوئی ۔اس لئے کہ ان دنوں میں کافی مالدار تھا ۔میں نے دل میں کہا:’’ آج میں اس کارِ خیر میں ابو بکر رضی اللہ عنہ پر ضرور سبقت لے جائوں گا۔کیونکہ اس سے پہلے میں کبھی بھی ان پر سبقت حاصل نہ کر سکا تھا۔میں خوشی خوشی اپنے گھر آیا اور اپنے تمام مال کا نصف حصہ لیکر حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا۔حضور ﷺ نے فرمایا:’’ اے عمر ! (رضی اللہ عنہ) اپنے گھروالوں کے لئے کیا چھوڑ کر آئے ہو؟‘‘میں نے عرض کی:’’ یا رسول اللہ ﷺ! جس قدر مال لایا ہوں اسی قدر اپنے گھر والوں کے لئے چھوڑ آیا ہوں۔‘‘
دریں اثناء حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی آگئے اور اس شان سے آئے کہ اپنا تمام مال و متاع اور گھر کا سارا سازو سامان اٹھا کر لے آئے تھے ۔حضور اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا:’’اے ابو بکر رضی اللہ عنہ! اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو۔؟‘‘انہوں نے عرض کی :’’یا رسول اللہ ﷺ ! میں اپنے گھر والوں کے لئے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ آیا ہوں۔‘‘
؎ پروانے کو چراغ بُلبُل کو پھول بس صدیق کے لئے خدا کا رسول بس
یہ ماجرا سُن کر میں کہہ اٹھا :’’ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر میں کسی کارِ خیر میں ہرگز سبقت حاصل نہیں کر سکتا۔‘‘(مشکوٰۃ)
حضرت عمر فارو ق رضی اللہ عنہ کا جذبہ ٔ ایثار:مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ نے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو گذارہ کے لئے زمین کے قطعات عطا فرمائے تھے ۔(یہ قطعات زمین فتح خیبر کے بعد جنگ خیبر میں شریک تمام صحابہ میں تقسیم کئے گئے تھے ) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے حصے میں جو زمین آئی اس کا نام’’ثمغ‘‘ تھا ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے زمین کے یہ ’’دونوں قطعات اللہ کی راہ میں وقف کر دئیے اور اس وقف میں یہ شرائط مقرر کر دیں ’’یہ زمین نہ فروخت ہو گی ،نہ ہبہ کی جائے گی ۔نہ وراثت میں منتقل ہو گی۔ جو کچھ اس سے حاصل ہو گا۔وہ فقراء ،ذوی القربیٰ ،غلاموں اور مہمانوں کا حق ہے ۔‘‘(بخاری)
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شان ایثار:جب سرکار دو عالم ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے اور مکہ سے اصحاب رسول بھی ہجرت کر کے آگئے تو میٹھے پانی کی حضور ﷺ اور صحابہ کو بڑی تکلیف تھی۔صرف ایک میٹھا کنواں تھا ۔جس کا نام ’’بیر رومہ‘‘ تھا اور یہ کنواں ایک یہودی کے قبضہ میں تھا ۔وہ اس کا پانی جس قیمت میں چاہتا تھا ۔بیچتا تھا ۔حضور ﷺ نے فرمایا :جو شخص اس کنویں کو خرید کر اللہ کی راہ میں وقف کر دے اسکو جنت ملے گی ۔‘‘ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس کنویں کو خرید کر وقف کر دیا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایثار:ہجرت کے موقعہ پر حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے بستر پر سورہے تاکہ اگر دشمن حضور ﷺ کو قتل کرنے کی کوشش کریں تو وہ آپ ﷺ کی خاطر قربان ہو جائیں ۔ اس وقت حق تعالیٰ اپنے دو مقرب فرشتوں جبرائیل اور میکائیل سے کہہ رہا تھا کہ تمہیں بھی تو میں نے ایک دوسرے کا بھائی بنایا ہے اور ایک کی عمر دوسرے سے دراز تر کی ہے ۔ لیکن تم میں سے کون ہے جو اپنی عمر دوسرے پر نثار کرنے کو تیار ہو؟ ان دونوں نے اپنی اپنی عمر کی درازی کی درخواست کی حق تعالیٰ نے کہا۔تم ایسا کیوں نہ کر سکے جیسا کہ علی رضی اللہ عنہ نے کیا ہے۔ اسے بھی تو میں نے محمد ﷺ کا بھائی ہی بنایا ہے ۔لیکن وہ اپنی جانی قربان کے لئے اپنے بھائی کی جگہ سویا ہوا ہے پس ابھی زمیں پر جائو اور اس کی جان کی حفاظت کرو ۔ چنانچہ وہ دونوں (فرشتے )زمین پر اُتر آئے ۔جبرائیل علیہ السلام ان کے سرہانے اور میکائیل علیہ السلام پائنتی کی طرف کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے واہ وا اے ابو طالب کے بیٹے ! کہ تیری تعریف حق تعالیٰ نے اپنے فرشتوں سے کی اور یہ آیت نازل فرمائی ۔’’اور بعض آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں اپنی جان تک صرف کر ڈالتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کے حال پر نہایت مہربان ہے ۔‘‘

About the author

Allama Tabassum Bashir

Allama Tabassum Bashir

Leave a Comment

%d bloggers like this: