Khalid Masood Khan Today's Columns

پٹواری سے ڈپٹی کمشنر تک از خالد مسعود خان ( کٹہرا )

Khalid Masood Khan
Written by Khalid Masood Khan

حالانکہ مجھے اس بات کا بخوبی علم ہے کہ ان خرابیوں کو بڑھانے یا کم کرنے میں اس عاجز کا نہ کوئی عمل دخل ہے اور نہ ہی کوئی حصہ ہے؛ تاہم پھر بھی پاکستان سے باہر جا کر واپس آتے ہوئے نہ جانے کیوں یہ خوش فہمی سی طاری ہو جاتی ہے کہ جب واپس پاکستان جاؤں گا تو حالات میں کچھ نہ کچھ بہتری کے آثار نظر آئیں گے مگر ہر بار یہ خوش فہمی ایک عظیم قسم کی غلط فہمی ثابت ہوتی ہے۔
جب میں ملک سے باہر گیا تھا تب تک کم از کم میرے بہترین علم کے مطابق صرف پٹواری وغیرہ پیسے دے کر اپنی پوسٹنگ‘ ٹرانسفر کروایا کرتے تھے۔ یہ پیسے کبھی اوپر والے افسران لیتے تھے اور کبھی سیاستدان پکڑ لیتے تھے۔ دو واقعات کا تو میں خود کسی حد تک شاہد ہوں۔ ملتان کے ایک سابقہ ایم پی اے نے ملتان کے ایک مشہور و معروف پٹواری کو فون کیا تو اس کا فون بند ملا۔ پتا کیا تو معلوم ہوا کہ پٹواری مذکورہ ان دنوں بغرضِ عمرہ سعودی عرب میں ہے۔ کاریگر قسم کے ایم پی اے نے کہیں سے اس کا سعودی عرب کا فون نمبر لیا اور اسے کال کی۔ اس نے پٹواری کو کہا کہ وہ اسے موضع ٹبہ مسعود پور میں تعینات کروانا چاہتا ہے۔ پٹواری مذکورہ نے اس ایم پی اے کو کہا کہ حضور! آپ کی محبت ہے کہ آپ اس کمترین کو اس قابل سمجھ رہے ہیں۔ میں نے کل ہی دورانِ عمرہ ہر قسم کی کرپشن سے تائب ہونے کی دعا کی ہے۔ اللہ کا کرم ہے کہ کل میں نے دعا کی اور آج آپ کا فون آ گیا۔ میں واپس آ کر آپ کو ملوں گا پھر آپ دیکھنا میں کس طرح اس موضع کو کرپشن سے پاک کر کے چلاتا ہوں۔ علاقے کے عوام ان شاء اللہ ہر رجسٹری‘ ہر فرد‘ ملکیت اور ہر انتقال کے بلا معاوضہ حصول پر آپ کو دعا دیں گے۔ پٹواری صاحب نے بتایا کہ جب وہ عمرہ سے واپس آ کر ایم پی اے صاحب کو ملے تو انہوں نے اس کو انتہائی بے رخی اور سرد مہری سے کہا کہ میں نے اس موضع کے لیے کسی اور ”مناسب پٹواری‘‘ کا بندوبست کر لیا ہے۔
آپ اس مناسب پٹواری کا حال سن لیں۔ یہ ”مناسب پٹواری‘‘ وہ تھا جس سے ایم پی اے صاحب نے ماہانہ طے کر کے اس موضع میں تعینات کروایا تھا۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے‘ یہ رقم دو لاکھ روپے ماہانہ سے بھی زیادہ تھی جو اس ”مناسب پٹواری‘‘ کے ساتھ طے ہوئی۔ اوپر سے ستم یہ ہوا کہ تمام جھگڑے اور رولے والی زمینوں کی فرد ملکیت‘ رجسٹری اور انتقال وغیرہ کے معاملات ایم پی اے صاحب ڈائریکٹ ڈیل کرنے لگ گئے اور اپنا خاص بندہ بھیج کر پٹواری سے بلا معاوضہ کروانے لگ گئے یعنی جن زمینوں کے معاملات سے پٹواری نے پیسے بنانے تھے وہ تو ایم پی اے صاحب نے اپنے ہاتھ میں رکھ لیے اور جو صاف ستھرے بیع نامے تھے ان سے مہینے میں اتنے پیسے نہیں بنتے تھے جو پٹواری نے اس موضع میں اپنی تعیناتی کے عوض ایم پی اے کو ماہانہ دینے کیلئے طے کیے تھے۔ پٹواری کو تو ہر ماہ پلے سے پیسے ڈالنے پڑگئے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پٹواری ہمیشہ لوگوں کے کڑاکے نکالتا ہے‘ لیکن اس موضع میں پہلی بار ایسا ہوا کہ پٹواری کے کڑاکے نکل گئے اور وہ رو دھو کر کچھ عرصہ تو معاملے کو نبھاتا رہا مگر بعد ازاں وہ کچھ اوپر دے دلا کر اس موضع سے اپنی جان چھڑوا کر نکل گیا حالانکہ یہ بڑا ”پیداواری‘‘ اور پٹواریوں کا فیورٹ موضع تھا اور پٹواری اس موضع میں تعیناتی کیلئے پیسے دے کر آتے تھے۔ یہ پہلی بار تھی کہ کسی پٹواری نے اس موضع سے اپنی جان چھڑوانے کیلئے خرچہ کیا۔
ان دو مثالوں سے ایک بات کا پتا چلا کہ پٹواری حضرات اپنی فیلڈ پوسٹنگ کیلئے پیسے دیتے تھے اور اس ”انجمن امدادِ باہمی‘‘ کے طفیل اوپر سے نیچے تک معاملات ٹھیک چلتے رہتے تھے۔ میرے امریکہ جانے سے پہلے بھی کم از کم میری معلومات کے مطابق پیسے دے کر فیلڈ پوسٹنگ کیلئے سب سے فیورٹ عہدہ پٹواری کا ہوتا تھا اور اس قسم کے سارے قصے پٹواری‘ سب رجسٹرار‘ رجسٹرار اور از قسم تحصیلدار وغیرہ کے گرد گھومتے تھے؛ تاہم امریکہ سے واپسی پر پتا چلا کہ نئے پاکستان میں اب معاملات نے کافی ترقی کر لی ہے اور پیسے دے کر فیلڈ پوسٹنگ حاصل کرنے کا معیار اوپر جاتے جاتے ڈپٹی کمشنر تک کے عہدے پر پہنچ گیا ہے۔ اب اس عاجز کو یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ پٹواری کا ڈپٹی کمشنر سے موازنہ کرے یا ڈپٹی کمشنر کا پٹواری سے۔ اب پٹواری اَپ گریڈ ہو کر ڈپٹی کمشنر کے عہدے کیلئے فی زمانہ رائج ”میرٹ‘‘ کے برابر ہوا ہے یا ڈپٹی کمشنر کا عہدہ ڈاؤن گریڈ ہو کر پٹواری کے ہم پلہ ہو گیا ہے؟
میں نے زندگی میں پہلی بار کسی ڈپٹی کمشنر کو میونسپل پرائمری سکول چوک شہیداں ملتان کے ہیڈ ماسٹر مرحوم خادم کیتھلی کی قائم کردہ تنظیم ”بزمِ غنچۂ ادب‘‘ کے تحت ہونے والیے تین روزہ پروگرام کے دوران تقریری مقابلہ میں دیکھا تھا۔ جہاں وہ بطورِ مہمانِ خصوصی تشریف لائے تھے۔ میں بمشکل چھ سال کا ہوں گا اور تب ابھی اس سکول میں داخل نہیں ہوا تھا‘ بلکہ گھر میں پڑھتا تھا‘ لیکن اپنے بڑے بھائی مرحوم کے ساتھ سکول کے صحن میں خصوصی طور پر لگے ہوئے ٹینٹ کے نیچے ہونے والی ان تین روزہ تقریبات میں آیا تھا۔ مجھے تقریروں کی زیادہ سمجھ تو نہیں تھی لیکن خادم کیتھلی صاحب کی خصوصی دلچسپی‘ اساتذہ کی بھاگ دوڑ اور بچوں کے جوش و خروش کے طفیل یہ تقریبات تب سکول کے اردگرد رہنے والوں کے لیے بھی بڑی دلچسپی کا باعث بن گئی تھیں۔ اس روز تقریری مقابلے کے اختتام پر انعام حاصل کرنے والے طلبہ کو ڈپٹی کمشنر ملتان نے انعامات اور اسناد عطا کیں۔ میں دیگر بچوں کے ساتھ تالیاں پیٹنے والوں میں تھا۔ رات کو اسی ٹینٹ میں رنگا رنگ تقریب ہوئی۔ اس میں بچوں نے
ترانے سنائے‘ ٹیبلو اور خاکے پیش کیے گئے اور محفل موسیقی ہوئی۔ مجھے آج بھی یاد ہے تب ایک نوجوان نے ملکہ ترنم نور جہاں کا گانا ”ہو تمنا اور کیا جانِ تمنا آپ ہیں‘‘ سنایا۔ آنکھیں بند کریں تو لگتا تھا کہ نور جہاں خود گا رہی ہے۔ یہ سانولا سا لڑکا عظیم تھا۔ اس کی آواز آج بھی میرے کانوں میں اسی طرح گونجتی ہے جیسا کہ آج سے پچپن سال پہلے میں نے اس رات سنی تھی۔ تب ڈپٹی کمشنر پرائمری سکولوں کے ایسے فنکشنز میں آیا کرتے تھے۔ بھلے ان کا پروٹوکول اور کروفر آج جیسا نہیں ہوتا تھا۔ ان کے ساتھ بے شک پولیس گارڈ نہیں چلتی تھی۔ ان کی کار پر تب نیلی بتی بھی نہیں جلتی تھی‘ لیکن ان کا رعب و دبدبہ بڑا ہوتا تھا۔ تب ڈپٹی کمشنر کو ”صاحب بہادر‘‘ کہا جاتا تھا۔ ڈپٹی کمشنر واقعتاً ضلع کا حاکم ہوتا تھا اور بڑے منجھے ہوئے افسر کو ڈپٹی کمشنری سونپی جاتی تھی۔ یوں سمجھیں تب کا ہلکے سے ہلکا ڈپی کمشنر بھی آج کے وزیراعلیٰ سے زیادہ عمدہ شخصیت اور صلاحیتوں کا مالک ہوتا تھا۔ میں نے 1965ء میں جب پہلی مرتبہ کسی ڈپٹی کمشنر کو دیکھا تو میری عمر حالانکہ صرف چھ سال تھی مگر مجھے یقین تھا کہ ڈپٹی کمشنر کوئی بہت بڑا آدمی ہوتا ہے۔ یہ تھری پیس سوٹ میں ملبوس شیخ اظہار الحق ڈپٹی کمشنر ملتان تھے۔ بعد میں تو ”لٹ ہی مچ‘‘ گئی۔ ایسے ایسے لوگ اس عہدے پر فائز ہوئے کہ نہ صرف عہدہ ٹکے ٹوکری ہو گیا بلکہ ڈپٹی کمشنر سے وابستہ سارا رعب و دبدبہ اور اس کی شخصیت سے جڑی ہوئی اعلیٰ اقدار بھی رخصت ہو گئیں۔
میاں صاحبان کے دور میں پسندیدہ جونیئر بیورو کریٹس کو اپنی صوابدید پر ڈپٹی کمشنر لگانے کے شوق نے اس عہدے کو مزید بے وقعت کر دیا اوپر سے ترقیاتی فنڈز سے طے شدہ شرح کمیشن نے حالات کا بالکل تختہ ہی کر دیا۔ مگر اس گئے گزرے دور میں بھی کم از کم اس عہدے کی نیلامی کی نوبت نہیں آئی تھی۔ نئے پاکستان میں اس روایت نے کم از کم کچھ تو ”نیا پن‘‘ متعارف کروایا ہے۔ شکریہ خان صاحب!

About the author

Khalid Masood Khan

Khalid Masood Khan

Leave a Comment

%d bloggers like this: