لاہور تو لاہورہی ہے

لا ہو ریو ں کا لا ہو ر سے محبت کا سب کو ہی علم ہے ان کی یہ محبت پیر س والوں کا پیر س سے اور استنبو ل کے شہر یوں کی استنبو ل سے اور دبئی والوں کی دبئی سے محبت کی طرح ہے ۔ ہر شہری اپنے شہر کا شیدا ئی ہے لیکن لاہو ر کے شہر یوں کی لا ہو ر سے محبت ضر ب المثال ہے اور اس محبت کے اظہا ر کے با رے میں لو گ بہت سے من گھڑت فسانے بھی بنا لیتے ہیں مثلاََ مسجد نبو ی سے لاہو ری نے لا ہور میں دوست کوفون کیا اور گھر والوں کے با رے میں پو چھا اور پھر دوست سے کہا کہ یا ر دا تا دربا ر جا کر میرا سلام ضر ور عر ض کر و ، دا تا صاحب کی بہت یا د آرہی ہے ۔اسی طر ح لا ہوریوں کو اپنے مشہو ر کھا نے بہت یا د آتے ہیں ۔ ایک دو ست بو سٹن ، امر یکہ میں مقیم ہے جب بھی با ت کر و تو داتا صا حب اور لاہوری کھا نو ں کی یا د کا تذکر ہ کر تا ہے ۔
مجھے خو د لا ہو ر بے حد پسند ہے اس شہر نے اپنا مغلیہ کیر یکٹر نہیں کھو یا ۔ آج بھی آپ جو ں ہی ائیر پو رٹ سے قد م با ہر نکا لتے ہیں تو آپ کو اس شہر کی خو بصورتی اور شا ندار پارک ، با غا ت ، درخت اور اچھی صا ف ستھری سڑکیں بے حد مر عو ب کر تی ہیں کیا ہی خوبصورت اور دلکش شہر ہے اور کیا ہی یہا ں کے شہر ی زند ہ دلا ن ہیں۔
لا ہو ر کا ذکر اس لئے چھیڑ بیٹھا کہ میں 2فر وری کو لا ہو ر گیا ۔ کا فی عر صہ سے وہاں سے کئی دعوت نا مے آئے ہوئے تھے ۔ بد قسمتی

سے قومی ائیر لائن نے اپنی روایتی مسا فر دشمنی پالیسی کے تحت اسلا م آبا د سے لا ہو ر کی فلا ئٹ صبح سا ت بجے رکھی ہے اور وہ بھی نہا یت چھو ٹے اور غیر آرام دہ تنگ ATR جہا ز کے ذریعے۔ آپ ہی سو چئے وہ کو نسی ضرورت اور ایمر جنسی ہے جس کیلئے مسا فر وں کو چھ بجے ائیر پو ر ٹ پر حا ضر کیا جا تا ہے اور آٹھ بجے لا ہو ر پہنچا یا جا تا ہے ۔اگر جہا ز آٹھ یا ساڑھے آٹھ بجے روانہ ہو تو بھی انسا ن وہا ں ٹھیک وقت پر پہنچ کر کہیں دفتر وغیر ہ جا سکتا ہے مگر یہ PIAہے۔
بہر حال آٹھ بجے لا ہو ر پہنچا ، کا فی سردی تھی مگر کینٹ میں گیسٹ ہا وٴس جا تے جاتے صا ف ستھر ی سڑکیں اور باغا ت دیکھ کر طبیعت خو ش ہو گئی اور دل سے میا ں شہبازشریف کیلئے دعا ئیں نکلیں۔11بجے ہم DHAمیں سیدآصف ہاشمی کے گھر گئے یہ متروکہ املا ک کے سر برا ہ ہیں۔ مجھے ان سے مل کر بے حد خو شی ہو ئی پرا نے مراسم نکلے اور 35سال پرانی یا دیں تا زہ ہو گئیں ۔ یہ اس وقت اسلا م آبا د میں قیا م پذیر تھے ۔ اور پی پی پی کے سر گرم کا رکن تھے اور بھٹو صا حب مر حوم کے قر یب تھے میرے پا س تشر یف لایا کر تے تھے نفیس انسان ہیں۔ ہم لا ہو ر میں مینار پا کستان کے پاس 200بستر وں پر مشتمل ایک اسپتال فلا حی علاج کیلئے تعمیر کر رہے ہیں وہا ں کچھ زمین ان کے محکمہ کی ہے ہم وہ چیک کر نا چاہ رہے تھے کہ اس پر غلطی سے نا جا ئز قبضہ یا تعمیر نہ ہو جائے۔ انہو ں نے اور انکے صا حبزا دے نے میری اور میر ے سا تھیوں کی خا طر مدارت کی ۔ وہا ں سے ہم ما ڈل ٹا وٴن میا ں شہبا ز شر یف سے ملنے گئے وہ بہت خلوص اور محبت سے ملے میں نے ان کے فر شتہ خصلت بھا ئی عبا س شر یف کی رحلت پر تعزیت کی ۔ میں نے لاہو ر کو خو بصور ت بنا نے اور با غا ت کی تعمیر اور ٹرا نسپورٹ کی سہولتوں کیلئے کئے گئے کا مو ں کی تعر یف کی ۔ وہ بے حد محنتی ہیں اور پنجا ب کے عوام کا دکھ درد ان کے دل میں کو ٹ کو ٹ کر بھرا ہے۔ ایٹمی دھما کو ں کے بعد یہ کہوٹہ تشر یف لائے تھے اور وہا ں پو لی ٹیکنیک انسٹی ٹیو ٹ کیلئے تین کر وڑ روپے کا عطیہ دیا تھا ۔ وہ انسٹی ٹیوٹ اس وقت اس علاقے کا بہترین تعلیمی ادارہ ہے اور پنڈی اور اسلام آبا د کے طلبہ وہا ں داخلہ کی کوشش کر تے ہیں ۔
میاں شہبا ر شر یف سے خوشگوار ملاقات کے بعد ہم سید ھے لاہو ر جیم خا نہ گئے جہا ں نہا یت عزیز دوست اور ہما رے ایٹمی پر وگرام کیلئے سامان کی فراہمی میں نہا یت اہم کر دار ادا کرنیوالے بریگیڈئیر انعام الحق نے لنچ کا بندوبست کیا تھا اور چند نما یا ں شخصیات (صحافی، پروفیسران، ڈاکٹر ، انجینئر وغیرہ ) کو بھی دعوت دی تھی ۔وہا ں عزیز دوستوں اخترعبیداللہ اور خیام قیصرسے اچھی صحبت رہی۔ کھا نا اچھا تھا اور سروس بھی لا جواب تھی۔
وہا ں سے فا رع ہو کر ہم ایک فائیو اسٹار ہوٹل گئے جہا ں اکیڈمی آف فیملی فزیشنز کے فنکشن میں شرکت کی ۔ یہ بہت اہم ادارہ ہے اور نہا یت قا بل تحسین خد ما ت انجا م دے رہا ہے ۔ اس کے ممبران کی تعداد تقر یباََ پا نچ ہزار ہے اور یہ پورے پا کستان کے نما ئند گی کر تے ہیں ۔ تقاریر میں ان کے کام پر روشنی ڈالی گئی اور وہا ں دواساز کمپنیوں کی نما ئش بھی تھی ۔ یہ سینئرڈاکٹر جو نیئر ڈاکٹر وں کو تر بیت بھی دیتے ہیں اور نئی دوائیں بھی استعمال کر نے کا مشورہ اور ہدا یت بھی دیتے ہیں ۔ پرو گرام کی ابتداء ایک ڈاکٹر صا حب نے بہت ہی پیاری آواز میں قرآت سے کی تھی ۔
یہا ں سے فا رع ہو کر ہم ایوان اقبا ل گئے وہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور لوگوں کا جو ش وخروش قا بل دید تھا یہا ں تما م پاکستان سے ہما رے تحریک کے لیڈران اور نما ئندے آئے ہو ئے تھے ۔ میں نے اپنے آمد کا وقت چا ر بجے دیا تھا مگر وہاں محفل کو گرم کر نے کیلئے پروگرام تین بجے شر وع کر دیا گیا تھا میں وقت کا پابند ہوں اور میں نے چا ربجے کا وقت دیا تھا اور پہنچ گیا تھا۔ پروگرام کا آغازمشہو ر قا ری جنا ب ڈاکٹر سراج نے نہایت ہی پیا ری آواز سے سورہٴ رحمٰن کی تلا وت سے کیا تھا اور نعت رسول بھی سنا ئی تھی ۔ میر ی ان سے ملا قا ت کرا ئی گئی اور میں نے شکر یہ ادا کیا ۔ لو گ بہت جذبا تی تھے میں نے ان سے عر ض کیا کہ آپ پچھلے 30بر سوں سے محبت بلکہ بے انتہامحبت کا اظہا ر کر رہے ہیں اور قا ئد اعظم او ر علامہ اقبا ل کے بعد مجھے ملک کا محسن سمجھتے ہیں اب آپ میرا سا تھ دیجئے کہ میں اپنے رفقا ئے کا ر اور آپ کی مدد سے ملک کو مو جو دہ بحران سے نکال کر ایک اسلامی فلا حی مملکت بنا سکو ں۔ آئیے اب عملی محبت اور محب الوطنی کا ثبو ت دیجئے ایسے مو قعوں پر میر ے لئے چلنا پھر نامشکل ہو جا تا ہے عوام بے قا بو ہو جاتے ہیں اور میر ے سیکورٹی عہدیداران کو پریشا نی کا سامنا ہو جا تا ہے ۔
ایوان اقبا ل سے فا رغ ہو کر ہم ایک ٹی وی چینل گئے وہاں میاں عا مر محمود سے ملا قات کی ۔ انہوں نے بے شمار تعلیمی و فلاحی کام شروع کر رکھے ہیں ۔ انہو ں نے اپنے چند رفقاء کے سا تھ مختصر سی بیٹھک کی۔ اس وقت چھ بجنے والے تھے مجھے اسٹوڈیو میں لے گئے۔ جہاں خبروں کے پروگرام کے دوران مجھ پر سوالات کی بوچھا ڑ کر دی گئی ۔ میں نے جو اباََ کہا کہ عوام نے دوسری پا رٹیوں اور دوسرے لیڈران کو موا قع دیئے، مینڈیٹ دیئے مگر وہ عوام کی مشکلات اور مسائل حل کرنے میں کا میا ب نہیں ہو ئے ۔ اب میں درخواست کر رہا ہوں کہ مجھے اور میرے محب وطن قا بل سا تھیوں کو مو قع دیں کہ ہم مسائل حل کر نے کی کوشش کر یں ۔ انہوں نے مجھ سے ماہرین کے نام پوچھے تو میں نے عرض کیا کہ آپ ان کو بلیک لسٹ کرانا چاہتے ہیں ۔ اس وقت جو حالات ہیں ان کو دیکھ کر انسان کو پا رٹی سیاست سے با لا تر ہو کر سوچنا چا ہئے۔ جو شخص بھی قا بل ہو، اچھی شہر ت و مہا رت رکھتا ہواس کو بلا تمیزوامتیا ز ساتھ لے کر چلنا بے حد ضروری ہے۔ میں نے وہاں بتایا نہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ اگرمیاں شہباز شریف کو نا ئب وزیر اعظم کی ذمہ داری دی جا ئے اور پورے ملک میں ڈیولپمنٹ کا چا رج دیا جا ئے تو وہ یہ کا م نہا یت خو ش اسلوبی اور احسن طریقہ سے انجام دے کر ملک کی حالت بد ل سکتے ہیں ۔ محنتی ہیں ، عقل وفہم بھی ہے اور وژن بھی ہے ۔ وزارت عظمٰی کیلئے میاں نو از شر یف کا نام زیر غو رآتا ہے انہیں پنجا ب کی حکو مت اور وفا قی حکو مت کے تجربے ہیں۔ حالات نے تجر بہ کار بنا دیا اور یقیناً پچھلی غلطیا ں نہ دہرائیں گے۔ مگر ان کے ساتھ بڑا المیہ یہ ہے کہ ان کو غلط مشیروں اور سا تھیوں نے گھیر رکھا ہے۔ پہلے بھی ان سے غلط فیصلے کرائے اور اب بھی کرا رہے ہیں ۔ تا زہ تر ین مثال اسلام آبا د میں دھر نے کی ہے ۔ آپ کو یہ تما م معاملات پچھلے بر سوں میں پا رلیمنٹ میں اُٹھا نا چا ہئے تھے۔ اب آپ طا ہر القادری کے نقل خو ر سمجھے جا رہے ہیں ۔ یہاں اس وقت با ت گھما پھرا کر کرنے کی نہیں ہے ان مشکل ونازک حالات میں اگر اللہ تعالیٰ مجھے صدارت کا منصب عطا کر ے تو میں قا بل تجر بہ کا ر تعلیمیا فتہ، ایما ندار پاکستانیوں کی مدد سے اس ملک کی حالت بد لنے کی صلاحیت رکھتا ہوں ۔ مجھے صر ف تقریباً چا ر ہفتے ایک مرکزی قیادت کیلئے اور آٹھ سے بارہ ہفتے صوبائی قیادتوں کیلئے درکا ر ہونگے ۔ میں پا کستانی ہوں مجھے اس ملک سے اور عوام سے محبت ہے میں نے پہلے بھی نا قا بل مثال خدمات انجام دی ہیں اور اب بھی کر سکتا ہوں ۔ میں یہا ں کے حالات سے پوری طرح واقف ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے کی طر ح اگر مجھے وسیلہ بنا دیا تو میں آپ کو ما یو س نہیں کرو ں گا ۔ میرا اپنے رب اور عوام کی صلاحیتوں پر پو را بھروسہ ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: