Rana Gulzar Ahmed Today's Columns

کماد کے نقصان دہ کیڑے اور انسداد از رانا گلزار احمد ( گل زار نامہ )

Rana Gulzar Ahmed
Written by Rana Gulzar Ahmed

کماد ایک اہم نقد آور فصل ہے جو ہمارے ہاں گندم اور کپاس کے بعد سب سے زیادہ رقبہ پر کاشت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کی چینی ، گڑ اور شکر کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اور گنے کی فصل کو مزید منافع بخش بنانے کے لیے اس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ کماد کی پیداواد میں رکاوٹ کی بنیادی وجہ ضرر رساں کیڑوے اور بیماریاں ہیں ۔جن کی تفصیل درج ذیل ہے ۔ 1۔دیمککماد کاشت کرنے کے بعد فورابعد یہ کیڑے بیج کی آنکھ اور پوریوں کو اندر سے کھا کر کھوکھلا کر دیتے ہیں اور اس میں مٹی بھر دیتے ہیں۔ فصل کے اگاو کے بعد بھی پودوں کو جڑوں اور زیر زمین حصوں کو کھا کر نقصان پہنچاتے ہیں اور متاثرہ پودے سوکھ جاتے ہیں۔ریتلی ،خشک اور نئی آباد زمینوں میںحملہ زیادہ ہوتا ہے۔۔ 2۔ سیاہ بگیہ کیڑا کماد کی مونڈھی فصل کو زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔ماہ اپریل اور مئی میں فصل کی بڑھوتری کے شروع ہی میں حملہ آور ہوتا ہے۔ بالغ اور بچے پتوں کے غلاف کے اندر رہتے ہوئے پتوں کا رس چوستے ہیں۔ متاثرہ فصل کی رنگت زرد ہو جاتی ہے اور پتوں پر گہرے سرخی مائل دھبے بن جاتے ہیں۔ پیداوار پر برا اثر پڑتا ہے۔ خشک سالی میں اس کا حملہ زیادہ ہوتا ہے3۔ کماد کے گڑوویں /بوررزابتدائی تنے کا گڑوواںاس کا پروانہ بھورے رنگ کا ہوتا ہے اس کے منہ کے سامنے دو آگے نکلے ہوئے سیدھے ابھار ہوتے ہیں اور اس کے اگلے پروں کے ؎کناروں پر کالے رنگ کے چھوٹے دھبے ہوتے ہیں جبکہ پچھلے پر سفید رنگ کے ہوتے ہیں۔اور مادہ سفید رنگ کے انڈے چھوٹے پودوں کے پتوں کے اندرونی سطحی پر ڈھیروں کی صورت میں دیتی ہے۔ جس سے سنڈیاں نکل کر اوپ تنے میں سوراخ کر کے سرنگ بناتی ہیں اور بڑھوتری والی شاخ کو کاٹ کر اندر سے سوکھا دیتی ہے۔ یہ کیڑا کماد کی بہار یہ فصل کو زیادہ نقصان پہنچتا ہے اور ابتدائی تنے پر حملہ کر کے اسے بالکل ختم کر دیتا ہے۔چوٹی کا گڑووں ۔پروانے کا رنگ سفید ہوتا ہے ۔ مادہ کے پیٹ کے سرے پر بھورے رنگ کے بالوں کا گچھا ہوتا ہے سنڈی کا رنگ سفید اور پیٹ پر لمبے رخ ایک گہرے بھورے رنگ کی دھاری ہوتی ہے ۔ مارچ سے نومبر تک اس کی 4تا 5نسلیں حملہ آو ر ہوتی ہیں ۔سوگ کو آسانی سے کھینچا جا سکتا ہے نیز نوخیز پتوں پر باریک باریک سوراخ واضح نظر آتے ہیں۔ گنے کی چوٹی کی طرف شاخوں کا گچھا سا بن جاتا ہے۔سردیوں میں یہکیڑاسنڈی کی حالت میں گنے کی چوٹی میں ہوتا ہے۔تنے کا گڑوواں:پروانے کا رنگ بھورا ، اگلے پروں کے باہر کناروں پر سیاۃ دھبوں کی قطار ہوتی ہے۔ سنڈی کا رنگ مٹیالا سفید یا زرد اوجسم کے اوپر بھورے رنگ کی پانچ دھاریاں ہوتی ہیں۔ سردیاں سنڈی کی حالت میں مڈھوں میں گزارتا ہے۔ فروری مارچ میں پروانے نکلتے ہیں اور نومبر تک 5نسلیں جنم لیتی ہیں۔ اپریل سے جون تک حملہ شدید ہوتا ہے۔مئی جون میں سوک دیکھی جا سکتی ہے جو آسانی سے باہر نہیں کھینچی جا سکتی ہے۔ سنڈی جولائی میں تنے میںسرنگیں بناتی ہے اور یہ عمل ستمبر اکتوبر تک جاری رہتا ہے۔ گنے کے پہلو میں شاخیں نکل آتی ہیں ۔خشک سالی میں نقصان زیادہ ہوتا ہے۔جڑ کا گڑوواںپروانے کا رنگ ہلکا زردی مائل بھورا ہوتا ہے۔ جبکہ سنڈی کا رنگ سفید دودھیاں سرکا رنگ زرد بھورا اور جسم جھری دار ہوتا ہے۔یہ کیڑا موسم سرما سنڈی کی حالت میں مڈھوں میں گزارتا ہے۔ اپریل سے اکتوبر تک تین نسلیں پیدا ہوتی ہیں سنڈی زمین کی سطح کے برابر مڈھ کے تنے میں سوراخ کر کے داخل ہوتی ہے اور سرنگ بناتی ہوئی نیچے چلی جاتی ہے۔ پودے کی کونپل کے ساتھ ایک دو پتے مرجھا کر خشک ہو جاتے ہیں اور سوک بھی ظاہر ہوتئی ہے۔ یہ چھوٹی فصل کو زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔ خشک سالی میں نقصان زیادہ ہوتا ہے۔گورداسپوری گڑوواںپروانے کا رنگ مٹیالا بھورا اور اگلے پروں کے کناروں پر سات سیاہ دھبے ہوتے ہیں۔ سنڈی کا رنگ بادامی سر بھورا اور جسم پر لمبائی کے رخ سرخی مائل چار دھاریاں ہوتی ہیں۔ یہ کیڑا نومبر سے مئی تک سنڈی کی حالت میں کماد کے مڈھوں میں گزارتا ہے۔بارش کی آمد کے ساتھ جولائی میں پروانے نکلتے ہیں۔ سنڈیاں گنے کے اوپر والے حصے کی گانٹھ سے تھوڑا اوپر تنے کے چھلکے کو ایک حلقے میں کتر دیتی ہیں اور پھر ایک سپرنگ نما سرنگ بناتی ہیں۔ اس سے اوپر کا حصہ پہلے مرجھا جاتا ہے۔ اور پھر بالکل سوکھ جاتا ہے۔ہوا کے جھکڑ سے یا ہاتھ لگانے سے متاثرہ گنے کا اوپر والا حصہ آسانی سے ٹوٹ کر گر سکتا ہے۔ حملہ عام طور پر ٹکڑیوں کی صورت میں ہوتا ہے۔ لہذا کھیت کے گرد کسی اونچی جگہ پر کھڑے ہو کر نقصان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔4گھوڑا مکھی۔یہ ایک رس چوسنے والا کیڑا ہے جس کے بچے اور بالغ پتوں کی نچلی سطح سے رس چوستے ہیں ان کے جسم سے نکلنے والے مواد کی وجہ سے پتوں کی سطح پر کالے رنگ کی پھپھوندی لگ جاتی ہے۔ جس سے پتوں میں خوراک بنانے کا عمل رک جاتا ہے۔ پودے کمزور ہو جاتے ہیں اور گنے کی بڑھوتری رک جاتی ہیطبعی انسداد۱۔اگر فصل مونڈھی نہ رکھنا ہو تا اس کے مڈھ مارچ سے پہلے پہلے روٹا ویٹ کردیں۔ اس سے تنے جڑ اور گورداسپوری گڑوووں کی سنڈیاں تلف ہو جائیں گی۔۲۔چوٹی کے گڑوویں کے خاتمہ کے لیے 15 فروری سے پہلے حملہ شدہ پودوں کے آگ چھانگ سے دو تین پوریاں نیچے سے کاٹ کر جانوروں کو کھلا دیں۔۳۔اپریل/مئی میں پودوں کے سوک والے تنے زمین کے برابر سے کاٹ کر اکھٹے کر کے دبا دیں۔ اس سے ان میں موجود سنڈیاں تلف ہو جائیں گی۔ ۴۔برداشت کرتے وقت پودوں کو زیر زمین یا کم از کم زمین کے برابر سے کاٹیں ۔ اس سے گورداسپوری ، جڑ اوتنیکے گڑووں کی سنڈیاں کافی حد تک تلف ہو جائیںگی۔۵۔مئی /جون میں فصل کے مڈھوں کے گرد مٹی چڑھائیں ۔ اس سے گورداسپوری کے پروانے مڈھوں سے باہر نکل کر فصل پر حملہ آور نہیں ہو سکیں گے۔ ۶۔فصل کی باقیات کی تلفی کریں، جڑی بوٹیوں سے صاف کریں۔بجائی کے لیے بیماریوں اور کیڑوں سے پاک بیج کا انتخاب کریں۔سموں کو پتوں کے غلا ف اتار کر بجائی کریں۔۷۔سردیوں میں فصل کی کٹائی کے بعد کھوری نہ جلائیں تا کہ اس میں موجود میں کیڑے محفوظ رہیں۔۸۔گوبر کی گلی سڑی کھاد ہی استعمال کریں۔ کچی کھاد کے استعمال سے دیمکحملے کا احتمال بڑھ جاتا ہے۔۹۔کھیت کو زیادہ دیر تک خشک نہ چھوڑیں اور بروقت آبپاشی کریں۔میکانکی انسدادکماد کے کھیتوں میں مارچ تا اکتوبر روشنی کے پھندے لگائیں۔ یہ پروانے تلف کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔کیمیائی انسداد 1۔ دیمک کے انسداد کے لیے راونی کے وقت آبپاشی کے ساتھ کلوروپائری فاس 40-EC بحساب اڑھائی تا تین لیٹر فی ایکڑ فلڈ کریں۔2۔دیمک اور گڑوووں کے انسداد کے لیے کلورو پائی فاس 40-EC بحساب 1250ملی لیٹر یا فیپرونل WDG-80- ٖ ٰٰٖٖفیصد بحساب ٖ30 گرام یا میڈاکلوپرڈ20-SL فیصد بحساب 250 ملی لیٹر یا میڈاکلوپرڈ +فیپرونل فاس WDG-80- ٖ فیصد بحساب 100 گرام فی ایکڑ بوائی کے وقت سموں پر سموں کریں۔3 کماد کے گڑوووں پائریلا اور سفی مکھی کے انسداد کے لیے بوفیوران3 فیصددانے دار بحساب 14,14,8 کلو گرام یا کلو رینٹرا نیلی پرول 0.4 فیصد بحساب 4,4,3یا کلورینٹرا نیلی پرول 0.2 فیصد + تھایا میتھا کسم 0.4 فیصد بحساب 4,4,3 یا فیپرونل 0.3 فیصد+ایمامیکٹن بحساب 8,8,6 یا مونومی ہائیپو 5 فیصد بحساب 14,14,10 کلو گرام فی ایکڑ بالترتیب بجائی کے وقت 45 دن بعد 90تا 120دن بعد ڈال کر پانی لگا دیں۔4 سیاہ بگ کے انسداد کے لیے امیڈاکلوپرڈ +فیپرونل WG-80 فیصد بحساب 60 گرام فی ایکڑ حملہ کی معاشی حد ہونے پر سپرے کریں۔

About the author

Rana Gulzar Ahmed

Rana Gulzar Ahmed

Leave a Comment

%d bloggers like this: