بازی گروں کا میلہ

فقید المثال اسد اللہ خان غالب # ایک یکتا شخصیت تھے۔ نہ اُن جیسا اُن سے پہلے پیدا ہوا اور نہ ہی دوبارہ پیدا ہوگا۔ آپ نے زندگی کے مختلف پہلوؤں پر اور انسانی نفسیات پر مختصر مگر اعلیٰ شعروں میں دقیق تبصرہ کیا ہے۔ آپ کا مندرجہ ذیل شعر ان لوگوں کے بارے میں ہے جن کے ظاہر اور باطن میں بہت تضاد ہوتا ہے جس طرح ستاروں کی دکھاوٹ اور حقیقت میں بہت فرق ہے:
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا
غالب ایک وسیع القلب اور منکسر المزاج انسان تھے اور دوسروں کی برتری کا فوراً اقرار کرلیتے تھے مثلاً انہوں نے دو اشعار میں میر تقی میر# اور مرزا عبدالقادر بیدل # کی برتری کا یوں اظہار کیا ہے
ریختے کے تم ہی استاد نہیں ہو غالب#
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میربھی تھا
طرزِ بیدل# میں ریختہ کہنا
اسد# اللہ خان قیامت ہے
دیکھئے بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ میں اپنے سیاسی بازی گروں اور دھوکے بازوں کا تذکرہ کرنا چاہ رہا تھا مگر قبل اسکے کہ میں اس خاص حصے کی طرف آؤں آپ کی اجازت سے کچھ تمہیدی باتیں کرنا چاہوں گا کہ کیونکہ یہ اس معاملے میں بہت اہم ضرورت ہے۔ یہ کالم آج کچھ فلسفیانہ طور پر شروع کرکے پھر اپنے صحیح موضوع پر توجہ دوں گا۔
مولانا جلال الدین رومی  کو کون نہیں جانتا۔ ان کا جو منفرد مقام روحانی دنیا

میں ہے وہ تو سب ہی کو پتہ ہے مگر خالص عقلی میدان میں بھی ان کا جواب نہیں۔ پھر کمال ان کا یہ ہے کہ مشکل سے مشکل عقدہ لاینحل نہایت آسان اور عام فہم انداز میں حل کردیتے ہیں۔ اکثر مقامات پر مولانا رومی  کا یہ جوہر دلچسپ کہانیوں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ کسی بھی قسم کے دینی، سیاسی، انفرادی یا اجتماعی، حتیٰ کہ خالص فلسفہ اور طبعیات کے مسائل کو اس طرح سمجھا دیتے ہیں کہ پڑھنے والے کی دلچسپی بھی قائم رہتی ہے اور پیچیدہ سے پیچیدہ مسئلہ اور گہرے سے گہرا قضیہ چٹکیوں میں حل کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں ۔ بات بھی سمجھ میں آجاتی ہے اور پتہ بھی نہیں چلتا کہ وہ ایسے سوال کا جواب دے گئے ہیں جو صدیوں سے بڑے بڑے سقراط، بقراط، ارسطو اور افلاطون کے درمیان موضوع بحث تو رہا مگر جواب آج تک نہ ملا۔ ان کی عظیم الشان تصنیف مثنوی کو ’ہست قرآن در زبان پہلوی‘ بلاوجہ نہیں کہا گیا۔ جن خوش قسمت حضرات کو اس تاریخ ساز اور وجد آفرین کتاب کے مطالعہ کا موقع ملا ہے وہ اس بات کو بخوبی محسوس کرسکتے ہیں کہ مثنوی نہ صرف فارسی زبان میں قرآن کے پیغام کی ترجمانی کرتی ہے بلکہ یہ ایک الہامی کتاب کا درجہ رکھتی ہے۔اس کتاب کا آغاز اس طرح ہوا اور اچانک ہوا، اس کو ذرا ذہن میں رکھیئے! ہوا یہ کہ ایک عرصہ تک مولانا روم  پر یوں کہئے کہ ان غیبی مضامین کا ’نزول‘ ہوتا رہا اور وہ اشعار کی صورت میں ڈھل کر مولانا کی زبان سے جاری ہوتے رہے اس دوران ان کے خاص شاگرد مولانا حسام الدین ان کے اولین مخاطب ہوتے اور جونہی مولانا تازہ اشعار اس مرید کو سناتے ان کے ہونہار شاگرد ان اشعار کو یاد کرتے جاتے پھر ان کو لکھ لیا جاتا تھا، اس طرح مثنوی کے ہزاروں اشعار مولانا پر وارد ہوتے گئے۔ یہاں تک کہ ایک روز یکایک ان مضامین کی آمد بند ہوگئی اور اس طرح بند ہوئی کہ آخری اشعار میں جو مضمون چل رہا تھا وہ بھی ادھورا رہ گیا۔ صدیوں بعد انیسویں صدی میں ہمارے ہندوستان کے ایک عالم ربانی کے حصہ میں یہ اعزاز آیا کہ انہوں نے مثنوی کی خاص طرز پر بقیہ مضمون کی تکمیل کی۔ ان عالم کا نام مفتی الٰہی بخش کاندھلوی تھا۔ مثنوی معنوی نہ صرف مسلمانوں کے ہاں ایک غیر معمولی کتاب سمجھی جاتی ہے بلکہ یہ عظیم روحانی اور ادبی شہ پارہ (World Classics) میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ بھی خیال میں رہے کہ حال ہی میں وفات پانے والے مشہور امریکی پاپ سنگر مائیکل جیکسن بھی مثنوی سے بے حد متاثر ہوئے تھے اور انہوں نے اس کے منتخب اشعار کے انگریزی ترجمہ کو اپنی پسندیدہ موسیقی اور مقبول آہنگ میں گایا بھی تھا۔ اس کے بعد تو امریکہ کے اور امریکہ سے باہر کے نوجوان طبقہ میں مثنوی اور اس کے بلند پایہ مصنف مولانا روم کی دھوم مچ گئی تھی۔ جس جس نے بھی مائیکل جیکسن کے یہ گانے سنے وہ مثنوی کے لافانی اشعار اور مولانا روم  کے دلوں میں اُتر جانے والے افکار سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔
لیکن یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہمارے اپنے بعض ’دانشور‘ حضرات تب ہی اپنے کسی بزرگ کا اعتراف کر پاتے ہیں جب وہ اہل مغرب سے سند پاجائیں۔ جب تک اس ’مستند‘ ذریعہ سے تصدیق نہ آجائے اور یورپ امریکہ میں کسی کا بول بالا نہ ہو تب تک ان کے نزدیک نہ امام غزالی  کی کوئی حیثیت ہے نہ رازی کی، ابن خلدون قابل تذکرہ ہے نہ ابن رشد۔ کیا ہمارے جدید اور جدّت پسند حضرات فارابی، ابن سینا، عمر خیام، جابر بن حیان، ابن الہیشم اور ایسے درجنوں صاحبان علم سے دنیائے فرہنگ کے ذریعے روشناس نہیں ہوئے؟ نہ صرف یہ کہ اپنی شخصیتوں سے تعارف کا ذریعہ ان کے نزدیک صرف مغرب ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ عالم اسلام کی مایہ ناز اور قابل فخر عالمی شخصیتوں کی شاہکار تصنیفات سے بھی ہم میں سے بیشتر لوگ اہل مغرب ہی کے ذریعے تعارف حاصل کرتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ مغرب اور اہل مغرب کی نقّالی کے علاوہ، یہ بھی ہے کہ مغرب کے موجودہ اہل علم نے علمی میدان میں کام بھی بہت کیا ہے اور کچھ شعبوں میں یقینا سبقت دکھائی ہے اگرچہ یورپ اور امریکہ والے ہمارا بیش قیمت علمی، فکری اور تہذیبی ورثہ بھی بہت کچھ چوری کرکے لے گئے ہیں اور اپنے عجائب خانوں میں انہیں سجا کر ایک زمانہ سے داد وصول کررہے ہیں۔ حال ہی میں عراق پر حملے کے بعد جس بڑے پیمانہ پر اس تہذیب و ثقافت، فن و ادب سے مالا مال ملک کو لوٹا گیا ہے اس کی مثال شاید ہلاکو خان اور چنگیز خان بھی پیش نہ کر سکیں اس لئے کہ ہلاکوخان اور چنگیز خان نے کبھی دنیا میں امن و آشتی، انسانی مساوات، عدل و انصاف، ترقی و خوشحالی پھیلانے کا کوئی دعویٰ نہیں کیا تھا نہ ہی وہ لوگ ان خوش کن نظریات کا جھنڈا بلند کرکے اُٹھے تھے وہ تو محض ملک گیری اور جہاں بانی کی خاطر نکلے تھے اور اس راہ میں حائل ہر قوّت کو تباہ کرتے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کبھی اپنی اخلاقی برتری یا تہذیبی بہتری کا دعویٰ نہیں کیا۔ وہ جو کچھ تھے وہی نظر آتے تھے اسی لئے ان کا مقابلہ مشکل مگر اس مقابلے کا راستہ اور طریقہ کار واضح تھا۔ آج تو یہ حالت ہے کہ ہمارا ایک عام جدید تعلیم یافتہ آدمی اگر اپنے گھر سے دینی تربیت نہ پا چکا ہو یا خود اللہ تعالیٰ کی توفیق و ہدایت سے سوچ سمجھ کر اپنی گمشدہ میراث کو دریافت نہ کرچکا ہو اور بقول علامہ اقبال  اپنی خودی کا راز پاکر اس میں مست ِالست نہ ہو گیا ہو، تو وہ خیالات و افکار کی ایسی دنیا میں جا بستا ہے جو غیروں کی دنیا ہے، پھر رفتہ رفتہ وہ ایسے ذہنی چکر میں گرفتار ہوتا ہے کہ اپنے آپ وہی کچھ کہنے لگتا ہے جو ہمارے دشمن ہماری زبان سے سننا چاہتے ہیں، اس طرح کے تہذیبی یتیموں اور ثقافتی بیواؤں کے خواب، ان کے منصوبے، ان کی خواہشات، ان کا ذوق اور شوق، ان کی زبان ، ان کی موسیقی، ان کا ادب، ان کی سیاست، ان کی معاشرت، ان کی تہذیب، ان کا ذوق ِ جمالیات، ان کا رہن سہن اور طور طریقے، ان کے بننے سنورنے کے ڈھنگ، ان کے لباس اور پوشاک، ان کی مجالس، ان کی جلوتیں اور خلوتیں، ان کا طرز ِ تخاطب، اندازِ مزاح اور ان کا سارا مزاج، حتیٰ کہ خود اپنے ملک کے بارے میں ان کی سوچ، اپنے ماضی کی بابت ان کے تصورات، حال کے بارے میں خیالات، ترجیحات اور مستقبل کی منصوبہ بندیاں صد فی صد وہی ہو جاتی ہیں جو ہمارے دشمنوں کا عین مفاد ہوتا ہے اور ہماری اس نقالی کے جملہ معاشی و سیاسی ثمرات وہی لوگ جو ہمارے چھپے اور کھلے دشمن ہیں، سمیٹ کر لے جاتے ہیں بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ لارڈ میکالے کی اسکیم اب بھی رنگ کیا پورا زور دکھا رہی ہے۔
مگر یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے، ظاہر ہے کہ اس کا اصل سبب ہماری اپنی غفلت ہے، دشمن تو اپنا کام کرے گا اور ہمیشہ سے کرتا آیا ہے۔ ہمارے سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم خود کب تک سوئے رہیں گے اور اپنی قیمتی دولت کو گنواتے بلکہ لٹواتے رہیں گے۔ کیا ہم قیامت کے انتظار میں یونہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے۔ آخر سوچئے کہ ہمارا ارادہ کیا ہے، ہماری رضا کیا ہے؟ یا کچھ ارادہ ہی ہمارا نہیں؟ کیا صرف تماشہ دیکھنے کا نام زندگی ہے ؟یا خود اپنی مرضی اور منشا، اپنے ضمیر اور نصب العین کے مطابق دنیا میں سر اُٹھاکر جینے کا نام زندگی ہے؟ کالم کے دوسرے پارٹ میں موجودہ بازی گروں کے بارے میں تبصرہ کروں گا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: