خاندان میں شادی اور خطرات

میں نے پچھلے سال 21 مئی، 4 جون اور 25 جون کو اپنے اسی ہر دلعزیز روزنامہ جنگ میں تھیلیسیمیا نامی مہلک و خطرناک بیماری کے بارے میں مضامین لکھے تھے اور یہ بہت مقبول ہوئے تھے۔ قارئین کے ردعمل، ہزاروں پیغامات سے اندازہ ہوا کہ عوام نے ان مضامین میں مہیا کردہ معلومات کو بے حد سراہا تھا۔ اس مسئلے کی اہمیت کی وجہ سے اور ایک اہم خبر قارئین تک پہنچانے کے لئے میں یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ میں آپ کی خدمت میں پچھلے کئی کالموں میں عرض کرچکا ہوں کہ میں میڈیکل ڈاکٹر نہیں ہوں اور صرف نیوکلیئر سائنٹسٹ اور انجینئر ہوں مگر چونکہ میرے کالم کی پہنچ کثیر عوام تک ہے اس لئے میں اہم موضوعات پر کچھ لکھنے کی جسارت کرلیتا ہوں کہ اس کالم کے ذریعے ایک عام آدمی اہم معلومات حاصل کرلے گا۔
میں آج ہماری روایاتی رسوم یعنی خاندان و برادری میں شادیوں کے نہایت مضر اثرات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ ہمارے یہاں خاندانی شادیوں میں سب سے افضل و عام رواج سگے بھانجے بھتیجیوں اور بھانجوں اور بھانجیوں کے درمیان ہے اور انہی شادیوں کے نتیجے میں انکے بچّے لاتعداد مہلک امراض کے شکار ہوجاتے ہیں اور نہ صرف ان کی اپنی زندگی نہایت تکلیف دہ ہوجاتی ہے بلکہ والدین کیلئے بھی یہ ایک سخت اور کربناک امتحان بن جاتا ہے۔
یوں تو اس موضوع پر لاتعداد مضامین شائع ہوچکے

ہیں اور پڑھے لکھے لوگ وِکی پیڈیا اور گُوگل کے ذریعہ بھی اس موضوع پر بہت مفید معلومات حاصل کرسکتے ہیں لیکن یہ ذرائع معلومات ایک عام انسان کی پہنچ سے باہر ہیں ان کیلئے اخبار سب سے آسان اور سستا ذریعہ معلومات ہے۔ میں اس سلسلہ میں دو مضامین پر جو اِس موضوع پر بہت اہم معلومات کے حامل ہیں آپ کی توجہ دلاؤں گا۔
(1)پہلا کالم جناب مظفر علی نے پاکستان ٹو ڈے میں21 فروری 2012ء میں شائع کیا تھا۔ یہ بہت اہم کالم ہے اور اس میں کزن یعنی بھائی بھائی کی اولادوں، بہن بہن کی اولادوں، بھائی بہن کی اولادوں کے درمیان شادیوں کے مضر نتائج کی جانب توجہ دلائی گئی ہے۔ جوں جوں یہ رواج بڑھتا جارہا ہے اتنی ہی آبادی میں مہلک و مضر بیماریاں پھیلتی جارہی ہیں۔ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم خان کی ریسرچ پرمبنی اعداد و شمار کے مطابق جناب مظفر علی نے بتایا ہے کہ ایسی شادیوں کے نتیجے میں نہ صرف 50 فیصد سے زیادہ لوگ پیدائشی (Genetic) بیماریوں کے خطرات سے دوچار ہوسکتے ہیں بلکہ ذہنی، جسمانی اور جنسی بیماریوں کے شکار بھی ہوسکتے ہیں۔ ان بیماریوں میں بہرا پن، اندھا پن، پٹھوں کی بیماریاں ، ذہنی کمزوری یا کند ذہنی، ذیابیطس اور تھیلیسیمیا جیسی خطرناک بیماریاں شامل ہیں۔ یہ بیماریاں کزن کے درمیان شادیوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ اگر لوگ اپنی ہی برادری میں شادیاں کرتے رہیں تو کچھ عرصہ بعد بچے ان کی خطرناک بیماریوں کا شکار ہوسکتے ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق پاکستان میں تقریباً 82 فیصد جوڑے اصلی کزن یعنی فرسٹ کزن ہیں تقریباً 7 فیصد خونی رشتہ دار ہیں 6 فیصد سے زیادہ ایک ہی برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور صرف 4.4 فیصد برادری اور رشتہ داروں سے باہر شادی شدہ ہیں۔ دنیا میں کزن کی شادیوں پر پابندی ہے۔ اس تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ تقریباً 20 فیصد بچے کوئی نہ کوئی جسمانی مرض کا شکار ہوسکتے ہیں۔ پروفیسر اسلم خان کی تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ تقریباً 44 فیصد مریض فرسٹ کزنز کی اولاد تھے اور ان میں بیمار لڑکوں اور لڑکیوں کی تعداد تقریباً برابر تھی،کچھ زیادہ حساس تھے۔ تمام ماہرین کی رائے تھی کہ شادی سے پہلے جوڑوں کا طبی معائنہ لازمی ہونا چاہئے۔
(2)دوسرا مضمون11 فروری 2013ء کو انگریزی اخبار دی ٹیلیگراف میں رِبیکالے فورٹ نے لکھا ہے۔ اس میں انہوں نے انگلستان میں مقیم پاکستانی نژاد باشندوں کے بارے میں نہایت تشویشناک حقائق بیان کئے ہیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ پاکستانی نژاد باشندوں میں50 فیصد سے زیادہ شادیاں سگے کزنز میں ہوتی ہیں اور عام شہریوں کے مقابلہ میں ان کے بچے10 گنا زیادہ جسمانی بیماریوں کے شکار ہو سکتے ہیں۔ ان میں بچوں کی اموات، پیدائشی نقائص، ذہنی کمزوری، اندھا پن ، سننے کی قوت میں کمزوری و خرابی اور کئی اور پیچیدہ بیماریوں کے خطرات موجود ہیں۔ اسی طرح ان بچوں کے اسقاط حمل ہونے کے خطرات بہت زیادہ ہیں اور پھر یہ متاثرہ بچے پانچ سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے فوت ہوجاتے ہیں۔ اس رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تقریباً 700 بچے ہر سال انگلستان میں ان خاندانی شادیوں کی وجہ سے مہلک بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں لیکن پاکستانی اس خطرے کو قبول نہیں کررہے اور اپنی غلط پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
(3)میرے مندرجہ ذیل کالموں کے ردعمل کے طور پر پروفیسر ڈاکٹر گل رحمن صاحب، چےئرمین بریسٹ اینڈ چلڈرن کینسر انسٹیٹیوٹ پشاور نے مجھے ازراہ مہربانی نہایت اہم مقالہ (مضمون) 28 جون 2012ء کو روانہ کیا تھا اس میں اس خطرناک بیماری تھیلیسیمیا کے بارے میں بہت ہی مفید معلومات ہیں۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ فرسٹ کزنز کی شادیوں کے نہایت مضر نتائج اور تھیلیسیمیا جیسے مہلک مرض سے متعلق شائع شدہ مضامین کو ایک کتابچہ کی شکل میں شائع کراکے وسیع پیمانہ پر تقسیم کیا جائے۔
ایک نہایت خوش آئند اقدام وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے پنجاب میں اُٹھایا ہے۔ یہ اس لئے بہت اہم ہے کہ پنجاب کی آبادی پاکستان کی آبادی کی تقریباً 60 فیصد ہے اور یہاں کئے گئے اچھے اقدام کا اثر پورے پاکستان پر اثر انداز ہوتا ہے۔ پنجاب میں تھیلیسیمیا کی روک تھام کیلئے جنگی اصولوں پر ایک مہم چلائی ہے اور اس ٹاسک فورس کے انچارچ ڈاکٹر محمد نوید طاہر ہیں۔ اس پروگرام کا نام پنجاب تھیلیسیمیا پریونشن پروگرام(PTPP) ہے ۔ اس نے پنجاب کے 16/اضلاع میں کام شروع کردیا ہے اور اسکے علاج کی سہولتیں سر گنگا رام اسپتال، چلڈرن اسپتال ملتان،وکٹوریہ اسپتال بھاولپور، ڈی ایچ کیو اسپتال شیخوپورہ، قصور، گوجرانوالہ ، فیصل آباد، ملتان، ویہاڑی، خانیوال، لودھراں، مظفر گڑھ، بھاول نگر، جہلم، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور ہولی فیملی اسپتال پنڈی میں قائم کردی گئی ہیں۔
نہایت ہی افسوسناک بات یہ ہے لاہور میں ایک طرف تو میاں شہباز شریف عوام کی سہولت کی نہایت ہی قابلِ تحسین پروجیکٹ میٹرو بس سروس کا افتتاح کررہے تھے اس وقت ہمارے عوامی خادم ، قائد عوام کے جانشین DHA میں ایک عالیشان محل بنام بلاول ہاؤس کا افتتاح کررہے تھے۔ خبروں میں اس کی قیمت کروڑوں میں نہیں بلکہ اربوں میں بتائی گئی ہے اور اس کی تیاری اور حاصل کئے گئے طریقہ کار کے بارے میں بہت کچھ کہا جارہا ہے۔
پنجاب میں تھیلیسیمیا کی مہم کے علاوہ ملک میں مندرجہ ذیل ادارے اس قابل تحسین کام میں مصروف ہیں۔ (1) پاکستان تھیلیسیمیا ویلفیئر سوسائٹی، ٹیپو روڈ مقابل راولپنڈی میڈیکل کالج۔ فون051-5780749 (2)تھیلیسیمیا فیڈریشن آف پاکستان۔ کاشف اقبال تھیلیسیمیا کےئر سینٹر کراچی۔ فون 021-34981190 (3) پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن PANAH ، پوسٹ بکس AFIC/NIHD, 888 راولپنڈی۔ فون 051-9270642۔ (4) سیال میڈیکل سینٹر کچہری روڈ مقابل شریف پلازہ۔ اس کلینک کے سربراہ میرے عزیز دوست و معروف امریکہ سے تعلیم یافتہ ڈاکٹر عبدالرشید سیال ہیں۔ آپ نے نہایت موثر طریقہ سے لاتعداد تھیلیسیمیا اور کینسر کے مریضوں کا علاج کیا ہے۔ آپ کا موبائل نمبر یہ ہے0321-6326571 اور ای میل ہے arseyal@gmail.com ۔
اللہ تعالیٰ نے مخیر اور ذی فہم پاکستانی حضرات و ڈاکٹروں کو ہدایت دے دی ہے کہ انہوں نے ایسے فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شروع کردیا ہے اور لاتعداد میڈیکل سینٹر، اسپتال وغیرہ تعمیر کردیئے ہیں جہاں ایسے مریضوں کو مفت دوائیں دی جاتی ہیں اور علاج کیا جاتا ہے۔اس قسم کا ایک ادارہ المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کراچی میں ہے جس کے روح رواں پیارے عزیز دوست حاجی حنیف طیب ہیں یہ سابق وفاقی وزیر ہیں۔ اس کے علاوہ اسلام آباد/پنڈی میں بحریہ ٹاؤن میں ملک ریاض حسین نے ایک سینٹر صرف ایسے مریضوں کے لئے بنایا ہے جہاں مفت خون کی تبدیلی کی جاتی ہے اور علاج کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں حضرات کو جزائے خیر دے،آمین۔
عوام کی خوش قسمتی ہے کہ ایسے لاتعداد اور فلاحی ادارے ہر بڑے، چھوٹے شہر میں ہیں۔ ان کاموں میں میمن برادری، بوہری برادری، چنیوٹی برادری، اسماعیلی برادری بہت اہم رول ادا کررہے ہیں۔ ان برادریوں کے قائم کردہ اسپتال کروڑوں غریب عوام کو ضروری طبی سہولتیں مہیا کررہے ہیں۔ اس وقت نہایت فوری ضرورت خسرہ، پولیو، ڈینگی، ٹی بی جیسی وبائی بیماریوں کیلئے جامع پروگرام بنانے کی ہے۔ پنجاب اس معاملے میں دوسرے صوبوں سے بہتر اقدامات کررہا ہے۔ ایک تو یہ کہ یہاں تعلیم یافتہ لوگوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے اور دوم یہ کہ صوبائی حکومت بھی اس معاملے میں کافی سرگرم ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: