Dr Abdul Qadeer Khan Today's Columns

فقیدالمثال ایٹمی ہیروز

DR Abdul Qadeer Khan

فقیدالمثال ایٹمی ہیروز

اپنے پچھلے کالم میں آپ کو میں نے مختصراً اپنے ایٹمی پروگرام کی ابتدا کے بارے میں بتایا تھا۔ اس کالم میں اس تاریخی واقعہ پر مزید تبصرہ کرنا چاہتا ہوں۔
میں 1975 میں کرسمس کے موقع پر چھٹی پر بمعہ بیگم اور دو بچیوں (سات سال اور پانچ سال) کے پاکستان آیا تھا۔ راولپنڈی میں بھٹو صاحب سے ملاقات ہوئی اور جب ان کو بتایا کہ ایک سال میں کچھ بھی کام نہیں ہوا تھا تو اچانک انہوں نے کہا ڈاکٹر صاحب آپ واپس نہ جائیں پاکستان کو آپ کی اشد ضرورت ہے۔ میں نے جواب دیا کہ میں ان کو دوسرے دن جواب دوں گا، اپنی بیگم (ہالینڈ کی شہری) سے مشورہ کروں گا۔ ہم چھٹی پر آئے تھے اور صرف گرمی کے چند کپڑے لے کر آئے تھے۔ میری تمام کتابیں، لٹریچر وغیرہ ہالینڈ میں تھا۔ جب میں نے بیگم سے اس درخواست کا تذکرہ کیا تو ان کا پہلا ری ایکشن یعنی ردعمل یہ تھا کہ یہ ناممکن ہے میرے پاس اعلیٰ ملازمت ہے، عزّت ہے اور جلد ہی پروفیسر بننے والا ہوں، بچیاں وہاں پڑھ رہی ہیں اور ان کے ضعیف والدین وہاں ہیں۔ میں ان کی طبیعت سے واقف ہوں۔ میں نے کہا ٹھیک ہے میں کل انکار کردوں گا۔ یہ سن کر انھوں نے کہا بیٹھ جائو اور تم نے مجھ سے کبھی جھوٹ نہیں بولا بتائو کہ اگر تم یہاں ٹھہر جاتے ہو تو کیا پاکستان کے لئے کچھ مفید کام کرسکتے ہو۔ میں نے کہا بہت مفید کام کرسکتا ہوں اور یہ کام

میرے سوا دنیا کا کوئی شخص پاکستان کیلئے نہیں کرسکتا۔ انھوں نے کہا پھر ہم ٹھہر جاتے ہیں تم یہیں ٹھہرو، میں واپس جاکر والدین کو راضی کرلونگی کہ ہم آتے جاتے رہیںگے اور سردیوں میں وہ ہمارے پاس تین چار ماہ رہ سکتے ہیں۔گھر کا سامان دوستوں کو دے کر اور ضروری سامان، کپڑے وغیرہ، پرسنل چیزیں وغیرہ پیک کرکے روانہ کرکے واپس آجائوںگی۔ ہماری زندگی کا ایک نیا باب شروع ہورہا تھا جس میں غم اور خوشیوں کا ساتھ ہونا تھا۔ ان کی روانگی کے بعد مجھے ایٹمی توانائی کمیشن کا ایڈوائزر لگا دیا گیااور اس وقت کے پسماندہ ترین علاقہ ایف۔8میں ایک خالی چھوٹا مکان دے دیا گیا جبکہ منیر احمد خان ایک وسیع مکان میں ایف ۔6 میں رہتے تھے۔ گھر میں نہ ہی فرنیچر اور نہ ہی پردے وغیرہ، نہ ہی گاڑی دی گئی۔ میں نے تھوڑا ضروری سامان خرید کر کام چلایا۔ اس سال بے حد سخت سردی تھی اور بارشوں اور سردی کا سلسلہ مارچ کے اواخر تک رہا۔ میں نے دو ہیٹر لے کر گزارہ کیا۔ ایک سیکنڈہینڈ مزدا گاڑی 32 ہزار میں لی۔ دفتر، ایئرپورٹ کے عقب میں واقع پرانے ٹوٹے پھوٹے دوسری جنگ عظیم میں بنائے گئے برٹش حکومت کے بنائے گئے گیراجوں میں واقع تھا، وہاں سانپوںاور بچھوئوں کی بھر مار تھی۔ ایک پرانا کنواں تھا جس کے پانی میں پڑوس کے گھروں کی غلاظت شامل تھی اور ناقابل استعمال تھا مگر مجبوراً اس کو استعمال کررہے تھے۔ بیگم اور بچیاں مارچ کے اوائل میں واپس آگئی تھیں، ان کو خالی گھر میں سخت تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ بچیوں کو اسکول میں داخل کرنا بڑا مرحلہ تھا۔ خوش قسمتی سے ایف ۔8 تھری میں ننوں نے ایک کانوینٹ کھول لیا، یہ نہایت صاف ستھرا تھا اور اس میں اچھی تعلیم یافتہ استانیاں تھیں وہاں بچیوں کو داخل کردیا۔ سب سے بڑا ناخوشگوار دھچکہ جون میں لگا کہ مجھے چھ ماہ بعد تین ہزار روپیہ ماہانہ کے کاغذات تھما دیئے گئے۔ ہم پھر بھی خاموش رہے اور کسی سے شکایت نہ کی۔ لیکن کام کا ماحول نہایت خراب تھا اور کسی قسم کی ترقی کے امکانات کا فقدان تھا۔ کچھ افسران ایٹمی توانائی کمیشن کے ساتھ تھے مگر سربراہ ان کے کم تعلیمیافتہ اور اس ٹیکنالوجی سے بالکل بے بہرہ تھے۔ مجھے بہت گھبراہٹ ہونے لگی اور آنے کا مقصد بے سود نظر آنے لگا۔ میں نے منیر احمد خان کو خط لکھا کہ جس طرح حالات ہیں اور کام ہورہا ہے اس میں یہ اہم کام کبھی بھی پایہ تکمیل کو نہ پہنچ پائے گا اور میں ان سے ملنا چاہتا ہوں۔ جب ہفتہ عشرہ تک جواب نہ آیا تو میں نے اس خط کی کاپی کے ساتھ بھٹو صاحب کو ایک خط لکھدیا جس میں حقائق بیان کردیئے اور لکھ دیا کہ میں ان حالات میں اپنا قیمتی وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا اور ہم واپس جانا چاہتے ہیں۔ اس خط نے بھٹو صاحب کو ہلا کر رکھ دیا۔ انھوں نے اپنے ملٹری سیکٹری جنرل امیتاز کو میرے پاس بھیجا اور حقائق دریافت کئے۔ واپس جاکر بھٹو صاحب کو بتائے اور پھر مجھے فون کیا کہ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ و ہ دو دن میں یہ معاملہ حل کردینگے۔
دو دن بعد دوپہر کو مجھے آغا شاہی صاحب کا فون آیا کہ شام پانچ بجے ان کے دفتر (وزارت خارجہ میں) میٹنگ میں شرکت کے لئے آجائوں۔ میں خود اپنی گاڑی چلا کر وہاں پہنچا ، ان کے سیکرٹری خاص فرحت اللہ بیگ صاحب نیچے انتظار کررہے تھے مجھے اوپر لے گئے وہاں جناب اے جی این قاضی (سیکرٹری جنرل خزانہ)، جناب غلام اسحٰق خان (سیکٹری جنرل دفاع)، آغا شاہی صاحب (سیکرٹری جنرل خارجہ) اور وزیر اعظم کے ملٹری سیکرٹری جنرل امتیاز علی موجود تھے۔ مجھ سے انھوں نے حالات کے بارے میں دریافت کیا، میں نے بلا جھجک پورے حالات سے آگاہ کردیا۔ انھوں نے آپس میں مشورہ کرکے مجھے پیشکش کی کہ میں چیئرمین اٹامک انرجی کمیشن کا عہدہ قبول کرکے کام سنبھال لوں، میں نے شکریہ کے ساتھ انکار کردیا کہ یورپ میں لوگ واقف تھے کہ میں سینٹری فیوج کے ذریعہ یورینیم کو افزودہ کرنے کا ماہر ہوں اور میری تقرری وہاں خطرے کی گھنٹی بجا دے گی اور اس ٹیکنالوجی سے متعلق ہر قسم کے سامان پر پابندی لگادی جائے گی۔ جنرل امتیاز نے ڈاکٹر امیر محمد خان کا نام لیا کہ ان کو بنادیا جائے وہ اٹامک انرجی کے پرانے افسر تھے اور اچھی انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے مشہور تھے۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کسی کو بھی بنادیں یہ کام اٹامک انرجی کمیشن کی نگرانی میں ہرگز نہ ہوسکے گا۔ آپ اس اہم پروجیکٹ کو علیحدہ کردیں اور مجھے اس کا سربراہ بنا دیں، ہم نہایت خاموشی اور تیزی سے یہ کام تکمیل تک پہنچا دینگے۔ سب نے سوچا اور کہا آپ کل شام سات بجے یہیں آجائیں ہم اس معاملہ کا فیصلہ کریں گے۔ دوسرے روز پھر میں خود گاڑی چلا کر وزارت خارجہ کی جانب روانہ ہوا۔ تھوڑا اندھیرا تھا اور میں اسلام آباد سے پوری طرح واقف نہ تھا۔ میں ایف ۔8 سے نکل کر مارگلہ روڈ پر آیا اور سیدھا جاکر سیدھے ہاتھ پر مڑ کر اتاترک روڈ پر چلا گیا، میں میریٹ ہوٹل کی جانب نہ مڑا۔ اتاترک روڈ پر آخر تک گیا اور فارن آفس نظر نہ آیا۔ دو چکر لگائے اور بے سود پھر واپس مارگلہ روڈ آیا اور فیصل مسجد کے چوک سے سیدھا زیرو پوائنٹ گیا، وہاں سے آبپارہ سے ہوتا ہوا سیرینا والے کونے سے بائیں جانب مڑ کر فارن آفس پہنچ گیا۔ باہر آغا شاہی صاحب کے سیکرٹری فرحت اللہ بیگ بے چینی سے انتظار کررہے تھے، عمررسیدہ، کالی شیروانی، چست پاجامہ اور ٹوپی ان کا روایتی لباس تھا۔ میں جب اوپر گیا تو سب پریشان تھے کہ شاید میں نے کام کرنے کا ارادہ بدل دیا ہے اور میٹنگ میں نہیں آرہا۔ میں نے انہیں وجہ بتائی تو انھوں نے پوچھا کہ یہ کونسا ڈرائیور ہے جس کو فارن آفس کا علم نہیں، میں نے بتایا کہ وہ ڈرائیور میں ہی ہوں۔ اس پر میں نے دیکھا کہ ان کے چہرے پر ناگوار تاثرات پیدا ہوئے اور انہیں احساس ہوا کہ میرے ساتھ خراب سلوک کیا گیا ہے۔ میں نے بتادیا کہ نہ گاڑی دی گئی ہے اور نہ ہی ڈرائیور اور چھ ماہ کے بعد صرف تین ہزار روپیہ ماہانہ تنخواہ مقرر کی گئی ہے۔ بہرحال چند منٹ کی رسمی بات چیت کے بعد انہوں نے بتایا کہ انہوں نے تجویز مان لی ہے اور اس پروجیکٹ کو علیحدہ کرکے مجھے اس کا سربراہ بنا دیا جائے گا۔ میں نے کہا کہ مجھے آپ نے بالکل آزادانہ طریقہ سے کام کی اجازت دینا ہوگی انھوں نے کہا وہ دوسرے دن اس پر بات کرلیں گے۔ جنرل امتیاز نے آغا شاہی صاحب کے فون سے وزیر اعظم کو اس فیصلہ سے مطلع کیا اور پھر ان کے کہنے پر فون میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ وزیر اعظم کے دریافت کرنے پر میں نے اپنی رضامندی بتادی اور پھر وہی شرط لگائی کہ مجھے روایتی قوانین سے استثنیٰ دے کر کام کی اجازت چاہئے ہوگی۔ وزیر اعظم نے فرمایا کہ وہ جلد میٹنگ بلا کر اس معاملہ پر بات کرینگے۔
دوسرے دن وزارت خزانہ میں جناب اے جی این قاضی صاحب کے دفتر میں ایک میٹنگ ہوئی اور میرے مشورہ پر اس نئے پروجیکٹ کا نام ERL یعنی Engineering Research Laboratories ، انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز رکھ دیا گیا اور میں پروجیکٹ ڈائریکٹر بنا دیا گیا۔ میں نے فوراً پنڈی میں موجود ٹوٹے پھوٹے دفتر کا چارج لے لیا اور وہاں جو چند ساتھی تھے ان کو اس فیصلہ سے آگاہ کردیا۔ سب بے حد خوش ہوئے کہ اب کام صحیح سمت کی جانب چلے گا ۔ چار پانچ دن وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو پنڈی میں اپنے دفتر میں (وہ دفتر جہاں بعد میں جنرل ضیا اور پرویز مشرف نے بیٹھ کر جمہوریت کو قتل کیا) ایک میٹنگ بلائی جس میں جناب اے جی این قاضی، جناب غلام اسحٰق خان، جناب آغا شاہی، جنرل ضیاء الحق (ان سے یہ میری پہلی میٹنگ تھی) اور جنرل امتیاز نے شرکت کی۔ قاضی صاحب نے تمام حالات سے مطلع کیا۔ بھٹو صاحب کے دریافت کرنے پر میں نے کہا کہ میں اس انتظام سے مطمئن ہوں مگر مجھے فری ہینڈ کی ضرورت ہے، آپ کی خفیہ ایجنسیاں ہیں اگر مجھے کسی قسم کی بے ضابطگی کا مرتکب پائیں تو لٹکا دیں۔ بھٹو صاحب مسکرائے اور کہا کوئی کسی کو نہیں لٹکائے گا (وہ بیچارے یہ سوچ بھی نہ سکتے تھے کہ سامنے بیٹھا مولوی ضیاء الحق احسان فراموشی کرکے ان کو جھوٹے مقدمہ میں پھانسی پر لٹکوا دے گا)۔ انھوں نے جو فیصلہ اس وقت کیا اس سے ہم ایٹمی قوّت بننے میں کامیاب ہوئے۔ انھوں نے ان تینوں سینئر ترین سول افسران کا ایک بورڈ بنا دیا جس کی سربراہی قاضی صاحب کے سپرد کی اور ان کو ہدایت کی کہ مجھے ہر قسم کی سہولت دی جائے اور شکایت کا موقع نہ دیا جائے اور یہ کہ ان کو وزیر اعظم کے اختیارات ہیں۔ میری درخواست پر کہ مجھے آرمی کور آف انجینئرز کی ایک ٹیم دیدی جائے کہ کام نہایت ہے اور خاموشی اور تیز رفتاری سے کرنا ہے۔ انھوں نے جنرل ضیاء کو ہدایت کی وہ یہ کام کردیں۔ وجہ پوچھنے پر میں نے بتایا کہ سول ورکس میں بے حد گڑبڑ اور رشوت ستانی ہوتی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ فوجی افسران یہ کام کریں اور اگر وہ گڑ بڑ کرینگے تو جنرل ضیاء ان سے نمٹ لیں گے۔ دوسرے دن صبح 9 بجے میرے دفتر میں بریگیڈیر زاہد علی اکبر خان (بعد میں لیفٹیننٹ جنرل، کور کمانڈر پنڈی، چیئرمین واپڈا)وارد ہوگئے۔ یہ نہایت درازقد، خوبرو اور بڑی قوّت ارادی کے مالک تھے ، ہم بہترین دوست بن گئے اور آج تک ہیں۔یہ اپنے ساتھ نہایت اچھی تجربہ کار ٹیم لائے جس میں کرنل محمود، کرنل جاوید، کرنل اسلم، کرنل سجاول (بعد میں بریگیڈیر) اور میجر سعید بیگ (بعد میں بریگیڈیر) شامل تھے۔ ان افسران نے نہایت اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ہر کام وقت سے پہلے کردیا۔ ان کے بارے میں اور کام کے بارے میں اگلے کالم میں بتائوں گا۔

About the author

Dr Abdul Qadeer Khan

Dr Abdul Qadeer Khan

Dr Abdul Qadeer Khan

Leave a Comment

%d bloggers like this: