Muhammad Akram Amir Today's Columns

بلدیاتی اداروں کی بحالی، کپتان کی جمہوریت کو پھر خطرہ از محمد اکرم عامر ( کھوج )

Muhammad Akram Amir

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تواکثر ممالک کی ترقی کا راز ان ممالک میں بلدیاتی اداروں کے تحت اختیارات کی عوام میں نچلی سطح پر ہونا ہے، برطانیہ ،امریکہ، فرانس، ملائیشیا، اٹلی، جاپان، ترکی، تائیوان، سمیت دنیا کے درجنوں ممالک کی سیاست کا بغور جائزہ لیا جائے تو ان ممالک کی ترقی میں بلدیاتی اداروں کے نمائندوں کا عوامی مسائل حل کرنے میں اہم کردار ہے، یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیاان ممالک کے سربراہان یا بیوروکریسی ذہنی شعور نہیں رکھتی، جنہوں نے بلدیاتی اداروں کے ذریعے اختیارات عوامی سطح پر منتقل کئے ہیں؟ ایساہرگز نہیں ہے ان ترقی یافتہ ممالک کی بیورکریسی اور سیاستدانوں کو اس بات کا کا بخوبی ادراک ہے کہ اختیارات عوامی سطح پر منتقل کئے بغیر نہ تو ملک ترقی کرسکتا ہے اور نہ ہے،ملک کے باسیوں کوصاف ستھرا ماحول فراہم کیا جاسکتا ہے جس سے ملک کا صحت مند معاشرہ تشکیل پاسکے، اور نہ ہی بنیادی مسائل عوام کی دہلیز پر حل ہو سکتے ہیں، اسی تناظر میں جنرل پرویز مشرف کے عسکری دور میں پرانے بلدیاتی نظام کو تبدیل کرکے ترکی کے طرز کا بلدیاتی نظام پاکستان میں متعارف کرایا گیا تھا اور اختیارات عوامی سطح پر منتقل کئے گئے تھے، اختیارات عوامی سطح پر منتقل ہونے سے جہاں شہری اور دیہی علاقوں کے مکینوں کو بنیادی سہولیات ان کو گھر کی دہلیز پر ملنا شروع ہوگئی تھیں، جس سے نا صرف تھانہ کی سطح پر اندراج مقدمات میں کمی واقعہ ہوئی۔بلکہ عوام کی اکثریت کے مسائل انکے علاقے کے بلدیاتی نمائندے ہی نمٹاتے رہے، پرویز مشرف دور میں متعارف کروائے گئے بلدیاتی نظام سے عوام کی اکثریت بیوروکریسی اور ملک کے بڑے بڑے سیاستدانوں سے دور ہوگئی تھی،جس کی وجہ سے پرویز مشرف کی حکومت کے خاتمے کہ بعد آنے والی حکومتوں نے پرویز مشرف دور کے بلدیاتی نظام میں اپنی ضرورت کے مطابق معمولی تبدیلی بھی کی تاکہ بڑے سیاست دانوں کے ویران ڈیرے آباد ہوپائیں، اس میں بیوروکریسی کا بھی اہم کردار تھا، مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں پنجاب میں پانچ سال کیلئے 2015 میں منتخب ہوکر بوجہ 2017 میں حلف اٹھا کربرسر اقتدار آنے والے بلدیاتی ادارے، میٹروپولیثن کارپوریشز، میونسپل کارپوریشنز،تحصیل میونسپل کمیٹیز، چیئر مین ضلع کونسلز و ان کے نائبین و نمائندوں جن کی اکثریت مسلم لیگ ن سے تعلق رکھتی ہے تبدیلی کی دعویدار کپتان کی حکومت نے یک جنبش قلم ایک آرڈینس کے ذریعے پنجاب کے بلدیاتی اداروں کے ،58ہزار عوامی نمائندگان کو اس وقت گھربھجوا دیا جب ان کے دور حکومت کے دوسال باقی تھی،راقم کی زاتی رائے کے مطابق پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو تحلیل کرنے کی وجہ صوبہ کے اکثریت بلدیاتی اداروں کے سر برہان کی حکومت مخالف جماعت پاکستان مسلم ن سے وابستگی تھی، بلدیاتی کو تحلیل کرکے ایڈمنسٹریٹرز مقرر کئے گئے، اس طرح ایڈمنسٹریٹرز کے کندھوں پر سرکاری عہدہ کے ساتھ بلدیاتی اداروں کی سربراہی کا بوجھ ڈال کر انہیں دو بیڑیوں کا سوار بنا دیا گیا، اور اس طرح پنجاب کی عوام کی اکثریت کاک بال بن کر رہ گئی، جان کی امان پاؤں تو یہ بھی عرض کرتا چلوں کے سندھ،خیبرپختون خواہ،بلوچستان کے بلدیاتی اداروں کے بلدیاتی نمائندوں نے اپنے عہدہ کے دورانیہ کے پانچ سال مکمل کئے،اور اپنے صوبوں میں نہ صرف عوام کو ریلیف دیا بلکہ بڑے بڑے میگا پراجیکٹس پر کام بھی کروایا،پنجاب کے بلدیاتی ادارے محض اسلئے تحلیل کر دیئے گئے کہ ان کے سربراہان کی اکثریت نے سیاسی ذرائع کے مطابق اپنی سیاسی جماعت سے وفاداریاں بدلنے سے انکار کر دیا تھا، بات یہاں ہی ختم نہیں ہوجاتی بزدار سرکار کی ہدایت پر بلدیاتی اداروں کے ذریعے شروع اکثریتی اضلاع میں ترقیاتی کام بھی روک دئیے گئے اورہر بلدیاتی ادارے میں اس علاقے کے پی ٹی آئی کے کرتا دھرتاؤں نے ڈیرے ڈال لئے، اور پھر پنجاب کے بڑے چھوٹے شہروں کا جو برا حال ہوا وہ تادم تحریر موجود ہے، بڑے چھوٹے شہر گندگی سے اٹے پڑے ہیں،پینے کے صاف پانی کے لئے لگائے فلٹریشن پلانٹس کی پنجاب میں81فیصد تعداد خراب پڑی ہے،اورعوام پینے کے صاف پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں،مضر صحت پانی پینے سے پنجاب میں پیٹ اور انتڑیوں کے مریضوں کی تعداد میں طبی ماہرین کے مطابق 2019سے2020تک 52 فیصد اضافہ ہوا ہے، اسی طرح کسی شہری کو اپنی کوئی دستاویز جو پہلے بلدیاتی نمائندے ان کے گھر کی دہلیز پر تصدیق کر دیتے تھے وہ دستاویزات کی تصدیق کرانے کیلئے بھی اب عوام کو سرکاری ملازمین کا رخ کرنا پڑ رہا ہے جبکہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ سرکاری افسر سائل کوکئی کئی ہفتے اپنے دفاتر میں دستیاب نہیں ہوتے اور چھوٹے چھوٹے مسائل کے حل کیلئے عوام سرکاری دفاتر کے چکر لگا لگا کر تنگ آ جاتے ہیں۔
سو بات کہاں سے کہاں نکل گئی بات ہورہی تھی پنجاب کے بلدیاتی اداروں کے 58ہزار عہدہ داران کی جنہیں کپتان کی ہدایت پر ایک آرڈینس کے تحت یک جنبش قلم تحلیل کردیا گیا،جن کے عہدہ کی مدت کے ابھی دوسال باقی تھے،جان کی امان پاؤں تو مسلم لیگ ن کے سے تعلق رکھنے والے بلدیاتی اداروں کے معزول کردئیے گئے کئی سربراہان جن میں میٹروپولیثین کارپوریشن سرگودھا کے مئیر ملک اسلم نوید جس کا شمار میاں نواز شریف کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے، سمیت دیگر کئی بلدیاتی اداروں کے سربراہان کو گرفتار کرکے جیل یاترا کرائی گئی، اسلم نوید سمیت کچھ عدالتوں سے ضمانتیں ہونے رہا ہوچکے ہیں اور کچھ ابھی بھی جیلوں میں ہیں جن کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک یہ ہی نہیں پتہ کہ ان کا جرم کیا ہے، اور وہ کس جرم کی سزا بھگت رہے ہیں؟
سو اس کے باجود مئیرلاہور کرنل مبشر جاوید مئیر سرگودھا ملک اسلم نوید،چیرمین ضلع کونسل، ٹوبہ ٹیک سنگھ فوزیہ خالد وڈائچ، میئر بہاولپورعقیل نجم ہاشمی،چیئر مین ڈسٹرکٹ کونسل ناروال احمد اقبال،مئیر ساہیوال اسدعلی خان،میئر فیصل آباد ملک عبدلرزاق، چیئرمین ضلع کونسل قصور رانا سکندر حیات،چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل لودھراں راجن سلطان، چیئرمین ضلع کونسل گجرانوالہ مظہر قیوم ناہرہ، یوتھ پنجاب کے صدر ملک صدام حسین، سمیت دیگر بلدیاتی اداروں کے سبکدوش ہونے والے عہدے داران نے اپنے حقوق کیلئے عدالت عالیہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا،سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومت، الیکشن کمشن آف پاکستان،اور بلدیاتی اداروں کے عدالت سے رجوع کرنے والے بلدیاتی نمائندوں کے وکلا کے کئی روز تک دلائل سننے کے بعد 25مارچ 2021 کو پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو بحال کرنے کا حکم دے دیا،اور حکومت کے جاری کردہ آرڈینس جس کے تحت پنجاب کے بلدیاتی ادارے معطل ہوئے تھے کو بھی معطل کر دیا ،اس طرح کپتان کے حکم پر بیک جنبش قلم بلدیاتی عہدوں سے فارغ کئے گئے 58ہزار بلدیاتی نمائندوں اور ان کے حامی ووٹرز ،سپوٹرز،حلقہ جات کے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، اور انہیں امید بندھ گئی کہ اب پھر ان کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہونگے، مگر توجہ طلب بات یہ ہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود بلدیاتی اداروں کے ان سربراہان جن کا تعلق حکومت مخالف جماعت سے ہے کو بلدیاتی اداروں کے دفاتر دوبارہ سپرد کرنے سے انکار کردیا، اور بلدیاتی اداروں کے سربراہان کے دفاتر کو تالے بھی لگا دیئے،کئی شہروں میں تو بلدیاتی نمائندوں اور انتظامیہ میں معمولی نوعیت کے جھگڑوں کی اطلاعات بھی ملیں، بلدیاتی اداروں کی بحالی کی جنگ لڑنے والے قافلے کے ترجمان مئیر سرگودھا ملک اسلم نوید نے راقم کو بتایا کہ پنجاب بھر کے بلدیاتی اداروں کے نمائندوں نے 3مارچ کو اپنے اپنے علاقوں میں بلدیاتی اداروں کے باہر اور کھلے مقامات پر اجلاس کئے ہیں جن میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پنجاب کے بلدیاتی اداروں کے سربراہان و ممبران باقاعدہ سابقہ معمول کے مطابق ماہانہ اجلاس منعقد کریں گے اور ان اجلاسوں کی کاروائی اور اجلاسوں میں پاس ہونے والی عوامی فلاح بہبود کے منصوبوں کی سمری عملدرآمد کیلئے متعلقہ افسران کو بھجوائی جائے گی،ان پر عمل درآمد نہ کرنے والے افسران بارے عدالت کو آگاہ کیا جائے گا، ملک اسلم نوید کا مزید کہنا ہے کہ پنجاب بھر میں بلدیاتی نمائندوں کو اجلاسوں سے روکنے کیلئے بزدار سرکار اور بیوروکریسی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے،جس سے پنجاب حکومت کی بدنیتی صاف ظاہر ہے،اس بنا پر بلدیاتی اداروں کے سربراہان اور نمائندگان کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست پر عدالت نے سیکرٹری بلدیات سمیت پنجاب کے دیگر اعلی حکام کو 24جون کو وضاحت کیلئے عدالت طلب کرلیا ہے،پنجاب بھر کے بلدیاتی نمائندے اپنے حق کے لئے ہر مقام پر اپنے جائز موقف کا دفاع کریں گے، کیونکہ ماضی میں ملک کی سیاست میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی جس میں کسی حکومت کے سربراہ کے کہنے پر آرڈینس جاری کرکے بلدیاتی اداروں اور ان کے اتنی بڑی تعداد میں نمائندوں کے ساتھ ایسا ظالمانہ رویہ اپنا کر ان کا استحصال کیاگیا ہو،کیونکہ پنجاب کے بلدیاتی اداروں کے نمائندوں کی مدت ابھی دوسال باقی ہے جسے پورے کرنے کیلئے ہر فورم پر قانونی جنگ لڑیں گے، اور تمام بلدیاتی اداروں کے سربراہان اپنے اپنے اضلاع،تحصیلوں اور اداروں میں باقاعدہ حاضری بھی لگائیں گے، اس ضمن میں رکاوٹ پیدا کرنے والوں کے بارے بھی عدالت کو آگاہ کیا جائے گا، ،اسطرح معزول ہونے سے بحال ہونے کے بعد یعنی 25 مارچ سے ابتک پنجاب کے بلدیاتی اداروں کے سربراہان اور نمائندے اپنی بقیہ دوسال کی مدد پوری کرنے کا عزم کرتے ہوئے ہر فورم پر قانونی جنگ لڑنے میں لگے ہوئے ہیں، وہ اس میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے، اس پر مزید بحث بھی کرنا مناسب نہیں کہ بلدیاتی اداروں کی بحالی کا فیصلہ ملک کی سب سے سپریم عدالت کا ہے، تو پنجاب حکومت کی جانب سے ان احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے پر بلدیاتی اداروں کے سربراہان اور نمائندگان نے اپنے ساتھ ہونے والے پنجاب حکومت کے حسن سلوک بارے عدالت میں توہین عدالت کی رٹ دائر کر رکھی ہے، اس طرح بلدیاتی نمائندوں اور حکومت میں ایک بار پھر قانونی جنگ شروع ہو گئی ہے، اس قانونی جنگ میں کون کامیاب ہوگا اس پر عدالت کے فیصلے سے قبل کچھ کہنا مناسب نہیں؟ تاہم پنجاب کے 58ہزار بلدیاتی نمائندوں اور پنجاب کے کروڑوں عوام ایک بار پھر عدالت کی کی طرف نظریں جمائے ہوئے فیصلے کے منتظر ہیں لیکن راقم یہ بات لکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا کہ پی ٹی آئی حکومت بھی پانچ سال کیلئے برسر اقتدار آئی ہے ،اور اپوزیشن (پی ڈی ایم)جوکہ کپتان اور حکمرانوں کو گھر بھجوانے کیلئے تحریک چلارہی ہے،جس کے جواب میں کپتان اور اس کے کھلاڑی چلا چلا کر کہہ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت کو پانچ سال پورے نہ کرنے دئیے گئے تو ملک میں جمہوریت خطرے میں پڑ سکتی ہے، تو کپتان جی پنجاب کے بلدیاتی اداروں کے نمائندے بھی پانچ سال کیلئے منتخب ہوکر آئے ہیں ان کا کیا قصور ہے کہ انہیں پانچ سال پورے کرنے نہیں دئیے جارہے؟ جبکہ سندھ، بلوچستان ،خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی اداروں کے نمائندوں نے اپنی پانچ سال مدت پوری کی، کپتان جی،راقم کی زاتی رائے کے مطابق اگر پنجاب کے بلدیاتی نمائندوں کو بھی پانج سال مدت پوری کرنے دی جاتی تو نہ صرف آپ کا مورال بلند ہوتا بلکہ عوام کی نظروں میں آپ کی حکومت اور جماعت کے ووٹ بینک اور عزت میں اضافہ ہوتا،اورمقامی سطح پر حل ہونے والے مسائل کے لئے پنجاب کے لاکھوں عوام کو اتنا عرصہ سرکاری دفاتر میں کاک بال نہ بننا پڑتا۔
کپتان جی صبح کابھولا شام کو واپس آجائے تو اسے بھولا نہیں کہتے، اب بھی وقت ہے دل بڑا کریں اور جمہوریت کو تقویت دینے کیلئے پنجاب بلدیاتی اداروں کے نمائندوں کو مدت پوری کرنے دیں،ورنہ اگر ان کی طرف سے بھی تحریک چل پڑی تواپ اور آپ کی جماعت کے کھلاڑی یہ کہنے پر پھر مجبور ہونگے کہ ملک میں جمہوریت کو پھر خطرہ پیدا ہوگیا ہے، باقی سمجھدار کیلئے اشارہ ہی کافی ہے، دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح آپ کی جماعت نے بھی 2023میں یا اس سے پہلے ووٹ حاصل کرنے کیلئے عوامی عدالت میں جانا ہے،تو اس وقت گراس روٹ لیول پر گلی محلہ،اور دیہاتوں کی سطح پر سیاست کرنے والے 58 ہزار یہ نمائندگان اور ان کے حامی لاکھوں نہیں پنجاب کے کروڑوں عوام آپ کی جماعت کے ساتھ کہیں یہی رویہ نہ اپنائیں جو آپ کی حکومت نے ان کے ساتھ روا رکھا ہوا ہے ،اگر ایسی لہر چل پڑی تو کپتان یقین رکھیں کہ آپ کی جماعت کی داستان بھی پنجاب میں اس جماعت کی طرح ہوگی، جو وفاق کی علامت رہی اور تین بار ملک کی حکمران رہی، لیکن اب سندھ تک محدود ہوکر رہ گئی ہے اور اس جماعت نے سینٹ میں اپنا اپوزیشن لیڈر بھی حکومتی سینٹرز کی مدد سے بنوایاہے، حالانکہ یہ جماعت بھی اپنے ہر دور اقتدار میں دعویٰ کرتی تھی کہ اگر انکی جماعت کی حکومت کو گرانے کی کوشش کی گئی تو ہر گھر سے بھٹو نکلے گا، مگر 2018کے انتخابات میں سندھ کے علاوہ دیگر صوبوں میں اس جماعت کے کئی حلقوں میں کسی نے ٹکٹ تک نہیں لیا تھا جس بناء پر پنجاب،بلوچستان خیبرپختونخواہ کے کئی حلقوں میں ملک پر تین بار حکومت کرنے والی جماعت کے امیدوار تک نہیں تھے، حالیہ ضمنی انتخابات اس بات کا عندیہ دے رہے ہیں کہ کہیں آپ کے ساتھ بھی آئندہ انتخابات میں ایسا ہی نہ ہو جائے، اور پی ٹی آئی 2013کی طرح کے پی کے تک محدود رہ کر جیت پائے اور کپتان جی آپ اور کھلاڑی کہتے پھریں کہ کبھی پی ٹی آئی بھی وفاق کی حکمران جماعت ہوتی تھی، اس لئے ابھی وقت ہے انتقامی سیاست کی بجائے ایسی سیاست کریں کہ آپ کی حکومت کو سیاسی تاریخ لکھنے والے مثالی حکومت کے طور پر لکھیں،ورنہ کپتان جی آپ کا شمار بھی سیاسی تاریخ دان اس طرح لکھیں گے کہ موصوف نعرہ تو تبدیلی کا لگا کر برسر اقتدار آئے تھے، لیکن پرانا پاکستان بھی مزید مقروض اور زبوں حالی کا شکار کرکے واپس چلے گئے۔

About the author

Muhammad Akram Amir

Muhammad Akram Amir

Leave a Comment

%d bloggers like this: