Khadim Hussain Today's Columns

کالا باغ ڈیم کی تعمیر، نسلوں کی بقاء کا مسئلہ از خادم حسین

Khadim Hussain
Written by Todays Column

ملک میں پانی کی کمی کے باعث ڈیموں میں موجود پانی کی مقدار کم ہوگئی ہے ۔نئے ڈیموں کی بروقت تعمیر نہ ہونے سے پانی کا مسئلہ سنگین سے سنگین تر ہوتا جارہا ہے سندھ حکومت نے پانی کی کمی کا ذمہ دار پنجاب کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کے حصے کا پانی پنجاب کو دیا جارہا ہے جبکہ پنجاب نے یہ الزام مسترد کرتے ہوئے پانی کی منصفانہ تقسیم کی بات کی ہے اور انسپکٹرز کی تعیناتی کی تجویز دی ہے بہرحال پانی کے مسئلہ پر صوبوں کے درمیان چیقلش بڑھتی جارہی ہے ۔واپڈا حکام کے مطابق بڑے ڈیم نہ بنائے گئے تو توانائی کے بحران کے نتیجے میں نقصانات کے اعدادوشمار خوفناک حد تک بڑھ جائیں گے ، پانی ذخیرہ کرنے کی مناسب سہولیات کی عدم دستیابی کی بناء پر ہرسال 8ئ33ملین ایکڑ فٹ سے زائد پانی سمندر میں گر کر ضائع ہو رہا ہے ، بڑے آبی ذخائر میں سے کالاباغ ڈیم ہی وہ واحد آبی ذخیرہ ہے جس کی تعمیر سب سے آسان اور فوری طور پر قابل عمل ہے ، جو جلد تعمیر ہونے والے آبی منصوبوں میں شامل ہے ،کالا باغ ڈیم اپنا کام شروع کر دے تو 3600 میگا واٹ بجلی حاصل ہو گی اور 6 ملین ایکڑ فٹ پانی بھی میسر ہو گا -پاکستان میں صدر جنرل ایوب خان کے دور حکومت کے بعد کوئی ڈیم نہیں بنے۔جہاں تک واپڈا حکام کی طرف سے پانی کے بحران کے سنگین ہونے کی وارننگ کا تعلق ہے ، قوم یہ وارننگ گزشتہ کئی سالوں سے مسلسل سن رہی ہے ،مگر مجال ہے ، بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کے مخالف حلقوں کے کانوںپر جوں تک رینگی ہو ، واپڈا کی طرف سے جو وارننگ دی جاتی رہی ہے ، اب اس کے مضمرات باقاعدہ سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں ، صنعتی استعمال کے لیے پاکستان توانائی کے بحران میں مبتلا ہو چکا ہے ، دنیا بھر میں یہ روایت موجود ہے کہ جب اس ملک کے ماہرین اپنی حکومتوں یا ذمہ داران کو کسی خطر ے کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں تو وہ ممالک اور ان کی حکومتیں مفاد عامہ کے لیے ماہرین کی وارننگز کو انتہائی سنجیدگی سے لیتی ہیں ،اور پیشگی منصوبہ بندیاں کر لی جاتی ہیں مگر افسوس کہ پاکستان میں اس ضمن میں رویے انتہائی افسوسناک حد تک غیر سنجیدہ پائے گئے ہیں ، گزشتہ چند سالوں سے ماہرین چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ پاکستان پانی اور توانائی کے بدترین بحران کی طرف بڑھ رہا ہے ، ورلڈ بنک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے ان 17 ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں پانی کا بحران شدید ترین ہے اور جس کی بناپر نظام زندگی معطل ہو کر رہ سکتا ہے ،مگر مذکورہ سنگین صورت حال سے نبرد آزما ہونے کے لیے کوئی حکمت عملی تا حال کاغذوں اور مشوروں سے آگے نہیں بڑھ سکی -یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کا مسئلہ سیاست بازی اور جھوٹی انائوں کے زد پر ہے ، ہمیں یہ تلخ اور افسوسناک حقیقت سے پالا پڑتا ہے کہ 21 ویں صدی میں بھی صوبائیت پرستی کا زہر کسی نہ کسی شکل میں وفاق پاکستان کی رگوں میں موجود ہے ، اور یہ ” زہر ” تازہ دم خون پیدا کرنے کی راہ میں اس طرح حائل ہے کہ وفاق پاکستان کا معاشی جسم روز افزوں بیمار اور لاغر ہو رہا ہے ، مگر کوئی ایسا مسیحا موجود نہیں جو اس کا علاج کرسکے ، 60 کی دہائی میں ایک فوجی حکمران ایوب خان نے منگلا اور تربیلا ڈیم تعمیر کرکے معیشت کا پہیہ گھمایا مگر آج 4 دہائیاں گزر گئیں اس کے بعد کوئی بڑا ذخیرہ تعمیر نہ کیا جاسکا ،سیاستدانوں کے ایک حصے نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو اپنی ضد بنا لیا اور دوسرے حصے نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو روکنا زندگی اور موت کے مسئلے سے جوڑ دیا ، 85 ء کے بعد بننے والی ہر سیاسی حکومت نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا عزم ضرور ظاہر کیا مگر تعمیر تک نوبت نہ پہنچ سکی ،12 -اکتوبر 99 ء کے بعد صدر پرویز مشرف نے بڑے زور شورکے ساتھ کالا باغ ڈیم سمیت مزید 4 بڑے ڈیم تعمیر کرنے کا اعلان کیا اور انتہائی پرعزم ہو کر کہا کہ ” وہ پاکستان کو خود کشی نہیں کرنے دیں گے ” صدر پرویز مشرف اور ان کی حلیف مسلم لیگ کی سابق حکومت نے صدر مملکت کے اس اعلان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جدوجہد ضرور کی مگر اس جدوجہد کو ثمر بار نہ ہونے دیا گیا ،یہاں تک کہ پارلیمنٹ کی سطح پر دو کمیٹیاں تشکیل دی گئیں ، ایک تکنیکی کمیٹی اور ایک سیاسی کمیٹی ، دونوں کمیٹیوں نے تندہی کے ساتھ اپنا ہوم ورک مکمل کیا مگر تمام ترمخلصانہ مساعی کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ، پوری قوم کو آبی ذخائر کی بحث میں شامل کیا گیا مگر پوری قوم کی متفقہ سوچ کو نظر انداز کرکے چند سیاسی انتہا پسندوں اور صوبائت پر یقین رکھنے والے سیاستدانوں نے انتہائی سخت رویہ اختیار کیا اور بڑے آبی ذخائرکی تعمیر کا معاملہ الجھادیا گیا،تاہم ایک واٹر ویژن کا اعلان ضرور کیا گیا جس کے تحت 2016 ء تک پانچ بڑے ڈیمزبنانے کا اعلان کیا گیا ، اور اسی واٹر ویژن کے تحت جو پہلا ڈیم بنانے کا وعدہ کیا گیا اس کا نام دیا میر بھاشا ڈیم تھا۔ ڈیموں کی افادیت سے دنیا بھر میں انکار نہیں کیا جاتا لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ایک مخصوص لابی جو غیر ملکی آقائوں کے اشاروں اور پے رول پر ہونے کی وجہ سے آبی ذخائر کی نہ صرف مخالفت کرتی ہے بلکہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے جیسے خدانخواستہ تمام صوبوں کے عوام ڈیموں کی مخالف ہوں حالانکہ حقیقت میں چند افراد کا ٹولہ ہے جو غیر ملکی آئی پی پیز کے کاروبار کے تحفظ و فروغ کے لئے ڈیموں کی مخالفت کرتا ہے۔ ملک کی بنیادی ضرورت ہے کہ جلد ازجلد بڑے ڈیم تعمیر کئے جائیں۔ چند لوگ اپنی محدود سوچ و صوبائی لسانیت کی بنیاد پر اپنے غیر ملکی آقائوں کی خوشنودی حاصل کرنیکی مذموم کوشش کررہے ہیں۔ ہمارا قومی فریضہ ہے کہ ڈیموں کی افادیت سے محب وطن 20کروڑ عوام کو آگاہ کیا جائے ۔ ہر سطح پر ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ کہ کالا باغ ڈیم سمیت بڑے آبی ذخائر کی افادیت و ضرورت سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے جب تک چھوٹے بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کو اولین ترجیح نہیں دی جاتی اس وقت تک ملک میں سستی بجلی اور وافر پانی دستیاب نہیں ہوسکتا۔ حکومت زیادہ سے زیادہ چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعمیر کوترجیح دے۔ مہنگی بجلی (تھرمل پاور) سے مہنگائی میں کسی بھی صورت کمی نہیں آسکتی بلکہ فرنس آئل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا چلاجارہا ہے جس سے عالمی مارکیٹ میں ہماری مصنوعات کی قیمتیں زیادہ ہونے کی وجہ سے انڈسٹری تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ ہم نے جس طرح تھرمل منصوبے غیر ملکی کمپنیوں سے لگوائے اسکے بجائے اگر ہم غیر ملکیوں سے B.O.T.کی بنیاد پر چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کراتے تو ملک کی تقدیر بدل چکی ہوتی۔ جو ڈیم 20سال پہلے 5ارب میں بن سکتا تھا آج وہ 100ارب میں بنے گا۔ ہمارے حکمرانوں نے تو وہ پروجیکٹ لگائے جن میں انہیں بھاری کمیشن ملا۔ اسی لئے شاید ڈیم نہیں بنے کہ ان منصوبوں میں کمیشن کا امکان کم تھا۔اگر B.O.T. کی بنیاد پر موٹرو یز بنائے جاسکتے ہیں تو چھوٹے بڑے ڈیم کیوں نہیں بنائے جاسکتے؟ ہم نے سستی بجلی اور وافر پانی کی دستیابی کو اولین ترجیح رکھ کر زرعی و صنعتی انقلاب لانے کے بجائے زرعی زمینوں پر رہائشی کالونیاں بنانا شروع کردیں۔ یاد رکھیں کہ رہائشی کالونیاں زرعی زمینوں پر تعمیر کرکے ہم نے ملک کا نقصان ہی کیا ہے۔ رہائشی کالونیاں یا صنعتی زون تو غیر آباد بنجر زمینوں پر بننے چاہئیں۔ آباد‘ ذرخیز زمینوں کا غیر زرعی استعمال ملک کو خوراک کی شدید قلت کی جانب گامزن کر رہا ہے اور ساتھ ساتھ ماحولیات کے معاملے میں بھی ملک خطرات کا شکار ہوتا چلا جارہا ہے۔کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے قبل سندھ میں خیرپورمیرس‘ سہون شریف‘ جامشورو سمیت 3 چھوٹے ڈیم بنانے کی ضرورت ہے۔ اور جب یہ تینوں چھوٹے ڈیم بن کر پانی سے بھرجائیں گے تو سندھ کی سال بھر کی ضرورت کا پانی سندھ میں ہی موجود ہوگا اور فصل ربیع و فصل خریف میں سندھ اپنی ضرورت کے مطابق پانی ان 3چھوٹے ڈیموں سے لیتا رہے گا۔ اسکے بعد کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا آغاز کیا جائے اور پھر سندھ کو کسی صورت اعتراض نہیں کرنا چاہئے۔شمس الملک کا نام سنتے ہی ذہن میں کالا باغ ڈیم کا نام آجاتا ہے کیونکہ ان کی وجہ شہرت ہی کالا باغ ڈیم ہے اور کالا باغ ڈیم کے سب سے بڑے حمایتی ہیں اور وہ یہ حمایت اعداد و شمار اور دلائل کی قوت سے لیس ہوکر کرتے ہیں۔ شمس الملک کا تعلق خیبرپختونخواہ سے ہے اور وہ واپڈا کے سابق چیئرمین‘ کالا باغ ڈیم کے پروجیکٹ ڈائریکٹر اور سابق نگراں وزیراعلٰی خیبر پختونخواہ بھی رہے۔ اس لئے انکی رائے کو بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ شمس الملک کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سب سے بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں ایسے لوگ سب سے زیادہ بولتے ہیں جو سب سے کم جانتے ہیں۔ یہ المیہ ہے اس قوم کا۔ اس قوم کی بدقسمتی ہے کہ قومی نوعیت کے اس اہم منصوبے کے ساتھ بھی یہاں یہی سلوک روا رکھا گیا ہے کالا باغ ڈیم ایک ایسا منصوبہ ہے جو پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا ضامن ہے اور اس ڈیم کا قیام آج بھی اتنا ہی ناگزیر ہے جتنا اس کے آغاز میں بلکہ موجودہ توانائی بحران میں اسکی ضرورت اور بڑھ گئی ہے۔ ہندوستان کی جانب سے پاکستان کا پانی بند کیا گیا تو ان دونوں ممالک کے درمیان تصفیے کے لئے ورلڈ بینک نے فیصلہ کروایا اور کالا باغ ڈیم بنانے کا فیصلہ ہوا۔ اس کے لئے فنڈز بھی رکھے گئے۔ کالا باغ ڈیم بہترین پروجیکٹ ہے۔ جب کالا باغ ڈیم کی فزیبلٹی بن گئی تو کہا گیا کہ اس پر اتفاق رائے نہیں ہے اس لئے اس کا متبادل ڈھونڈا جائے گا۔پنتیس سال گزر جانے کے باوجود اس کا متبادل نہیں ملا اور نتیجہ یہ ہے کہ لوڈشیڈنگ سے کارخانے بند اور عوام بے روزگار ہوگئے۔ پچھلے پچاس سال میں چین نے 22 ہزار ڈیم بنائے ہیں‘ امریکہ نے ساڑھے چھ ہزار ڈیم بنائے ہیںاور بھارت نے ساڑھے چار ہزار ڈیم بنائے ہیں۔ اگر ایک ڈیم سے اتنا مسئلہ ہوتا تو امریکہ سپر پاور نہ ہوتا‘ چین شکست و ریخت سے دوچار ہوجاتا۔ باقی دنیا ڈیم بناکر ترقی کر رہی ہے لیکن ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ ایک ڈیم بنانے سے خدانخواستہ پاکستان ٹوٹ جائے گا‘ حیرت و افسوس کا مقام ہے۔ڈیموں کی تعمیر اشد ضروری ہے اس سے سستی بجلی پیدا ہوگی اور یقینی طور پر مہنگائی میں کمی آئیگی۔ صنعتوں کو وافر سستی بجلی ملنے سے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں مسابقت کی جاسکے گی اور وافر سستی بجلی ہونے سے نئی انڈسٹری قائم ہوگی جس سے بے روزگاری میں یقینی طور پر کمی واقع ہوگی اور عوام کا معیار زندگی بلند ہوگا۔ اسی طرح زراعت کو سستی بجلی ملنے سے کسان خوشحال ہوگا اور ڈیموں کے باعث وافر پانی کی دستیابی سے پاکستان کی لاکھوں ایکڑ ہموار غیر آبادزمین بھی آباد ہوجائیگی اور ملک میں زرعی وصنعتی انقلاب برپا ہوگا۔

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: