ایک ایمان افروز واقعہ

گزشتہ دنوں مولانا روم کا تذکرہ ہوا تھا۔ مولانا روم کے افکار کی بلندی اور گہرائی کا کیا کہنا! یہ ہماری تاریخ کے ان روشن ستاروں میں سے ہیں جن کے افکار عالیہ سے آسمان حکمت و دانش ہمیشہ جگمگاتا رہے گا۔ ہمارے قابل فخر مفکر اسلام، شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ اس زمانہ کے ان لوگوں میں نمایاں ہیں جنہوں نے مولانا روم کے آفاقی پیغام کو اپنی شاعری کے ذریعے آج کے دور میں ایک نئی روشنی عطا کی۔ اسلامی ثقافت کے اس لازوال سرچشمہ کی قدروقیمت کو دلوں میں زندہ کیا اور ہمیں یاد دلایا کہ کیسے کیسے انمول ہیرے ہمارے اپنے ورثہ میں محفوظ ہیں۔ مگر ہم ہیں کہ اپنے گھر کی دولت سے بے خبر اغیار کے افکار کی عظمتوں کے گن گا رہے ہیں، انہی اقوام سے رہنمائی کے طلبگار ہیں جن کی کارستانیوں سے آج ہم اس حال کو پہنچے ہیں۔ ہماری حالت اس احمق اولاد کی سی ہے جن کا باپ بہت سی دولت اور جائیداد چھوڑ کر گیا ہو مگر اسے کچھ خبر نہ ہو کہ کس قدر سرمایہ اس کو ورثہ میں ملا ہے۔ پھر کچھ غاصب لوگ اس بے خبر اولاد کے دل و دماغ پر قابو پالیں اور ان کے سرمایہ پر قابض ہو کر انہیں اپنے اشاروں پر چلانے لگیں۔ یہ بے وقوف انہی کو اپنا خیرخواہ دوست سمجھ کر رہبر و رہنما بنا لیں، ایسی ناخلف اولاد کی جو حالت ہوگی وہی حالت آج ہماری ہے۔ کیا سیاست، کیا معیشت، کیا

ثقافت، کیا تعلیم، ہر شعبہ میں ہمارے سامنے آج اگر کوئی نمونہ ہے تو وہ مغربی سامراجی استعماری نمونہ ہے اس کی نقل کرنے کو ہم عین ترقی سمجھتے ہیں، انہی کے نقش قدم پر چل کر ہم خوشحالی اور خود انحصاری کا راستہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے نہ جانے کہاں جا نکلے ہیں۔ ہر شعبہ زوال کا شکار ہوگیا، سیاست نے تو وہ گند پھیلایا ہے کہ تعفن کے مارے سانس لینا دشوار ہے، تعلیم کاحال دیکھ لیجئے! کیاتھا اور کیا ہوگیا؟گلی گلی کوچہ کوچہ میں تعلیم کے نام پر تجارت ہورہی ہے، تعلیم کے اعلیٰ مقاصد کو پیسہ کمانے کے ادنیٰ کاروبار میں بدل دیا گیا ہے، یہ ایسا کاروبار ہے جو ہر ٹیکس اور پابندی سے مستثنیٰ ہوتا ہے، جو اخبار اٹھا کر دیکھئے اشتہارات کی بھر مار نظر آئے گی، اتنی رقم دو، کاغذ کا ایک ٹکڑا مل جائے گا یہ آپ کو روزگار دلادے گا، جتنی رقم لگاؤ گے اتنی بڑی نوکری مل جائے گی، پھر کھاؤ پیو، عیش کرو یہ ہے ہمارے قومی تعلیمی نظام کا نقشہ اور یہ نقشہ بھی جب ہے جب ڈگری فراہم کرنے والا ادارہ جس کو تعلیمی ادارہ کہا جاتا ہے واقعی اپنے اشتہار میں بیان کردہ وعدے پر پورا اترے یعنی مطلوبہ رقم کی ادائیگی پر وہ اس درجہ کی سند مہیا کردے جو بآسانی کسی کو روزگار دلا سکے ورنہ ہزاروں اسکول، کالج اور نام نہاد جامعات یہ کام بھی نہیں کرتے وہ صرف ضرورت مندوں کی جیب کاٹتے ہیں، بعد میں کسی پر کیا گزرتی ہے اس سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔ سرکاری اداروں کا تو حال ہی نہ پوچھئے، وہاں تو یہ دعویٰ بھی کوئی نہیں کرتا کہ ہماری عطا کردہ اسناد کی دنیا میں کوئی قدر وقیمت بھی ہوگی۔ حال یہ ہے کہ سرکاری جامعات میں سے اکثر کی اسناد ایسی ہوتی ہیں کہ ان کی بنیاد پر دنیا کے بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں داخلہ تک نہیں ملتا، باعزت روزگار تو دور کی بات ہے۔ سرکاری شعبے میں جو رقم تعلیم کے لئے مختص ہوتی ہے ایک تو وہی اس قدر ناکافی ہوتی ہے کہ اس سے سوائے ملازموں کی فوج پالنے کے اور کوئی کام نہیں ہوسکتا۔ پھر جتنی رقم بھی ہوتی ہے وہ بھی بڑی بے دردی سے صرف کی جاتی ہے۔ ہر جگہ نااہل، خوشامدی، سفارشی لوگوں کا راج ہے، کسی جوہر قابل کی تلاش کا کوئی نظام ہم نہیں رکھتے۔ اگر کسی سرکاری ادارہ میں کوئی بھولا بھٹکا قابل آدمی آجائے تو اس پر زمین تنگ ہی رہتی ہے۔ پھر اکثر یہی ہوتا ہے کہ یا تو خود اس فرد ہی کو زنگ لگ جاتا ہے اور وہ بھی ’نمک کی کان میں جاکر نمک ہی بن جاتا ہے‘۔ محض روزگار کی خاطر ملازمت کے دھاگے سے اٹکا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے تمام علمی عزائم فنا ہو کر رہ جاتے ہیں یا پھر جس غیر معمولی ذہین شخص کو یہ صورت گوارہ نہ ہو وہ ہاتھ پاؤں مار کے بیرون ملک کسی باعزت علمی ادارے میں اپنی جگہ بنالیتا ہے اور اس ’قدر شناس‘ قوم کو خیرباد کہہ دیتا ہے۔ ڈاکٹر عطا الرحمن بار بار آواز اٹھا رہے ہیں اور مضامین لکھ لکھ کر حکام اور قائدین کی توجہ دلارہے ہیں مگر یہاں سنتا کون ہے، کس کو پڑی ہے کہ وہ تعلیم کے شعبے کو سنوارنے کا طویل صبر آزما مشن سنبھالے۔ قریب قریب یہی حال ہمارے ان اداروں کا ہے جو دینی مدارس کہلاتے ہیں۔ دین اگر ہماری زندگی کا لازمی عنصر ہے،اس سے ہماری شناخت اور شخصیت وجود میں آتی ہے، اسی کے نام سے دنیا ہمیں جانتی پہچانتی ہے تو اس میں کسی کو کلام نہیں ہوسکتا کہ اعلیٰ معیار کی دینی تعلیم فراہم کرنا ہماری بنیادی قومی ضرورت ہے بلکہ دستور پاکستان کی رو سے یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ”وہ لوگوں کو صحیح اسلامی بنیادوں پر زندگی گزارنے کے قابل بنائے“۔ لیکن یہ وہ شعبہ ہے جس کو ہمارے حکمران طبقے نے مسلسل نظر انداز کیا ہے۔ یورپ اور امریکہ کی اعلیٰ ترین جامعات میں آپ کو ہر جگہ کوئی نہ کوئی فیکلٹی یا شعبہ اسلام اور مسلمانوں کے مطالعہ کے لئے ضرور ملے گا۔ آکسفورڈ، کیمبرج، بون، سوربون، ہارورڈ، شکاگو یہ وہ جامعات ہیں جہاں اسلامی علوم و افکار کے بڑے بڑے ادارے ہیں۔ ہالینڈ کی لیڈن یونیورسٹی میں صدیوں سے ادارہ علوم اسلامیہ کام کرتا ہے اور سیکڑوں کتابیں اسلامی موضوعات پر شائع کر چکا ہے، شاید کچھ لوگوں کو معلوم نہ ہو اسی لیڈن یونیورسٹی سے مشہور ’انسائیکلوپیڈیاآف اسلام‘ بھی شائع ہوتا ہے، اسی جامعہ سے آٹھ ضخیم جلدوں میں حدیث کا جامع اشاریہ بھی شائع ہوا جو کسی بھی اسلامی کتب خانہ کے لئے ایک مفید بلکہ ناگزیر ماخذ ہے۔ مگر عقل حیران ہے کہ ہمارے ہاں جو حضرات تعلیم کے منصوبہ ساز ہیں وہ کیا سوچ کر اسلامی تعلیم کے ادارے بنانے سے بے نیاز ہیں۔ قائداعظم یونیورسٹی میں آج تک کوئی فیکلٹی، ادارہ یا شعبہ اسلام یا عالم اسلام کے مطالعے کے لئے نہیں کھولا گیا۔ نہ کبھی کسی نے ضرورت محسوس کی۔آخر کیوں؟ روم میں اسلام کا مطالعہ ہو، میڈرڈ میں ہو، ڈبلن میں ہو، ڈربن میں ہو، میلبرن میں ہو، ٹوکیو میں ہو، بیجنگ میں ہو مگر اسلام آبادکی پہلی جامعہ قائداعظم میں اس کی ضرورت نہ ہو؟ کیا بات سمجھ میں آتی ہے؟ ذرا غور کیجئے اس مجرمانہ غفلت کا نتیجہ کیا ہے؟ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ سوائے چند معروف اداروں کے، اکثر صورتوں میں انتہائی غیر معیاری سطح پر اسلامی تعلیم کے نام پر کچھ پڑھایا جارہا ہے، نہ کوئی معیار ہے، نہ ان چھوٹے چھوٹے مدارس کے پاس مناسب عمارتیں ہیں نہ کوئی اور وسائل میسر ہیں۔ معاشرہ کے پسے ہوئے پسماندہ اور محروم طبقات کی ان مدارس میں بھرپور نمائندگی ہے۔ ان مدارس کی خدمات سے کسی کو انکار نہیں، یہی کیا کم خدمت ہے کہ ان مدارس کے طفیل لوگ قرآن پڑھ لیتے ہیں، نماز سیکھ جاتے ہیں، تھوڑی بہت حلال حرام کی تمیز کرنے لگتے ہیں، نکاح، طلاق، وراثت وغیرہ کے بارے میں لوگ ان مدارس کے ذریعے معلومات حاصل کر لیتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ذمہ داری یہاں ختم ہوجاتی ہے؟ کیا اسلامی تعلیم کی موجودہ صورت اطمینان بخش ہے؟ ہرگز نہیں! اسلامی تعلیم کا موجودہ معیار برطانوی استعمار کے دور سے بھی کہیں کمتر ہے بلکہ بد سے بدتر ہوتا جاتا ہے اور اس کے ذمہ دار ہم سب ہیں خاص طور پر ہمارے حکمران اور تعلیمی منصوبہ ساز۔
پھر اگر وقتاً فوقتاً ہمارے سامنے ایسے واقعات آتے ہیں کہ دین، مذہب، فرقہ پرستی، روحانیت کے نام پر استحصال اور گمراہی پھیلائی جارہی ہے، مزاروں پر رقص و سرور برپا ہے، پیری فقیری کے پردہ میں رہزنی کا بازار گرم ہورہا ہے، کہیں تعویز گنڈے فروخت کئے جارہے ہیں۔کوئی صاحب جھوٹے خواب سنا کر اپنی سیاست کو چمکا رہے ہیں تو کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہئے کیونکہ مذہب کا میدان ہم نے ہر ایک کے لئے خالی چھوڑا ہے۔جب آپ طب کی تعلیم سے غافل ہوں گے تو عطائیوں کا راج نہیں ہوگا تو کیا ہوگا؟ آج اگر کوئی صاحب دین، مذہب اور روحانیت کی قباؤں میں لپٹ کر دارالحکومت کی فضاؤں پر چھا گئے ہیں، ہزاروں آدمیوں کو اپنا گرویدہ بنا کر اپنے جال میں پھانس لیا ہے اور وافر مقدار میں وسائل خرچ کرکے زمانہ کی لہروں پر سوار نظر آتے ہیں تو تعجب کس بات کا؟ بے شمار لوگ سوال کرتے نظر آتے ہیں اور حیرت سے پوچھتے ہیں کہ آخر اس شخص نے کیا منتر پھونکا ہے ۔
ہزاروں مرد و عورت پورے تین دن اور تین راتوں تک یخ بستہ موسم میں اس شخص کے اشارے پر بیٹھے رہے۔ وجہ اس کی بڑی سادہ ہے، آپ نے دین کا صحیح پیغام لوگوں تک پہنچایا ہی کب تھا کہ لوگ کھوٹے کھرے میں فرق کرتے۔ اگر لوگوں میں دینی جذبہ ہو مگر اس کی رہنمائی کرنے والا کوئی تعلیمی، اصلاحی اور تربیتی منصوبہ نہ ہو تو بتائیے اور کیا نتیجہ برآمد ہوسکتا ہے۔
تمہیدکچھ زیادہ ہی ہوگئی دراصل آج مجھے اپنے مرحوم دوست اور عظیم محب وطن پاکستان کے شیدائی پیر علی مردان شاہ پگاڑا کا ایک ایسا واقعہ سنانا تھا جو ہم سب کے لئے قابل فخر بھی ہے اور قابل تقلید بھی۔ اس کے راوی ہمارے ایک دوست ہیں جو عربی کے لفظ صدیق (یعنی دوست) کے مطابق سچ ہی بولتے ہیں۔ انہوں نے یہ واقعہ تحریک پاکستان کے مشہور رہنما اور قائداعظم کے رفیق مرحوم مولانا ظفر احمد انصاری سے براہ راست سنا تھا، میرے استفسار پر پیر صاحب نے اس کی تصدیق کی تھی۔ واقعہ یہ ہے۔
1960ء کی دہائی کا واقعہ ہے میں (مولانا انصاری مرحوم) اور پیر پگاڑا بیت اللہ کے سامنے حرم میں بیٹھے تھے۔ ہمارے سامنے طواف ہورہا ہے اور ہم باتیں کررہے ہیں۔ اچانک ایک پیر صاحب جو راولپنڈی کے رہنے والے تھے اور صدر ایوب خان مرحوم کے پیر و مرشد بن بیٹھے تھے اور اس دور میں سرکاری حلقوں میں رسائی رکھتے تھے، ہمارے سامنے طواف کرتے کرتے معانقہ کی شکل بنانے لگے۔ پیر صاحب پگاڑا نے ان کو تیز نظروں سے دیکھا اور سخت لہجہ میں آواز دی ، اِدھر آؤ! وہ صاحب آگئے۔ پیر صاحب پگاڑا نے پوچھا کہ کیا حرکت کررہے تھے؟ پیر صاحب کے سوال پر وہ کچھ سراسیمہ ہوگئے پھر دبی زبان سے جواب دیا ’حضور پاک ملاقات کے لئے آئے تھے ان سے معانقہ کررہا تھا‘۔ یہ سنتے ہی پیر پگاڑا مرحوم کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا۔ انہوں نے ان صاحب کا گریبان پکڑ کر زور سے کھینچا اور فرمایا: کم بخت مردود خبیث! تو اللہ کے گھر میں بھی یہ ڈرامہ کرتا ہے، شرم نہیں آتی۔ اس پر ان صاحب کا آدھا دم تو وہیں نکل گیا، زبان گنگ ہوگئی، چند لمحے گم سم رہے اور سہمے ہوئے پیر صاحب پگاڑا کو دیکھتے رہے۔ پیر صاحب نے مجھ سے (مولانا انصاری سے) کہا: مولانا اس مردود کو میں زندہ نہیں چھوڑوں گا جو اللہ کے گھر میں بھی اپنی شعبدہ بازی سے باز نہیں آتا۔ اس پر مجھے تشویش ہوئی کہ یہ تو بڑا گمبھیر مسئلہ بن جائے گا۔ بالآخر میں نے ہمت کرکے پیر صاحب کی شعلہ بار نظروں سے بچ کر آہستہ سے راولپنڈی کے ان صاحب سے کہا: ”توبہ کا دروازہ تو بہرحال ہر وقت کھلا رہتا ہے“۔ اس پر ان کی جان میں جان آئی۔ انہوں نے پیر صاحب پگاڑا کے سامنے کان پکڑے اور توبہ کی کہ آئندہ ایسی حرکت نہیں ہوگی نہ یہاں نہ وہاں۔ اس پر کہیں جاکر پیر صاحب پگاڑا نے ان کو چھوڑا“۔اس واقعے میں جہاں پیر صاحب پگاڑا کے ایک سچے ،کھرے اور غیرت مند مسلمان ہونے کا ثبوت ملتا ہے کہ انہوں نے نتائج کی پروا کئے بغیر کس طرح اپنی اسلامی غیرت کا ثبوت دیا وہاں ہم سب کے لئے آج بڑے سبق پنہاں ہیں۔اللہ تعالیٰ پیر صاحب پگاڑا کو اعلیٰ انعامات سے نوازے اور اس ایک واقعے کے طفیل ان کے درجات بلند فرمائے آمین۔ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: